No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ناول “”روح رایان””
از زرش نور
قسط نمبر ۴
یشال گھر پہنچی تو وہ بہت تھک چکی تھی ایک تو سارا اتنا سخت کام اور اوپر سے نوکری سے نکالے جانے کا خوف وہ تھکن اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا تھی۔ سالار نے اس کا چہرہ دیکھتے ہی اس سےپوچھا۔
کیا ہوا یشی آج بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو؟
کچھ نہیں تھکی ہوئی تو نہیں ہوں ۔
آچھا! اس نے کچھ سوچا اور پھر بولا تم کام کیا کرتی ہو وہاں ؟
کام ۰۰۰۰۰۰۰ وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر سالار کے دیکھنے پر بولی کام وہی جو یہاں کرتی تھی ۔
سالار نے مطمئن ہو کر سر اثبات میں ہلا دیا۔
بھیا کل سنڈے ہے کل میں نیدی لوگوں کے ساتھ فانہ فوڈ سٹریٹ جاؤں گی ۔آپ چلیں گے؟
نہیں آپ لوگ جانا مجھے کچھ کام ہے۔
اوکے۔
وہ چاروں اس وقت گہری سوچ میں ڈوبے ہوۓ تھے یشال نے انہیں اپنے کام کی نوعیت اور باس کے رویے کےبارے میں بتایا۔
تم ریزائن کر دو حسن نے اسے مشورہ دیا۔
نہیں چھوڑ سکتی۔
تم اسے اپنے پیار کے جال میں پھنسا لو۔نیدی نے اپنا نادر مشورہ دیا۔
یہ لو جی ان کی سنو تم تو نہ ہی بولو اسے جواب گرپیت نے دیا تھا۔اور یشال گرپیت سے اتفاق کرتی تھی۔
آچھا چھوڑو آپ لوگ ان باتوں کا ۔
چلو کچھ اور باتیں کرتے ہیں میں نے اپنے ساتھ آپ لوگوں کو بھی پریشان کر دیا۔
حسن انڈیا جا رہا ہے۔نیدی نے بتایا۔
آچھا کب جا رہے ہو؟
جمعہ کو۔
تمہاری بہن کی شادی ہے نہ؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
حسن غور سے یشال کو دیکھ رہا تھا ۔ نیدی جو کے حسن کے برابر بیٹھی ہوئی تھی حسن کو چٹکی کاٹی۔
حسن نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
یشال اور گرپیت اس وقت انڈیا میں ہو رہے کسان احتجاج کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
نیدی نے آہستہ آواز میں حسن کو کہا لگتا ہے انڈیا تو جا رہے ہو لیکن دل یہی چھوڑےجا ر ہے ہو۔
حسن نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اس کی ڈارک براؤن آنکھوں میں جگنو سی چمک تھی ۔
یشال نیدی نے یشال کو پکارا تو وہ اور گرپیت دونوں اس کی طرف متوجہ ہوۓ ۔ یشالیہ حسن کہہ رہا ہےاس کی اتنی سی بات پہ ہی حسن کا سانس رک گیا وہ زور سے کھانسنے لگا۔گرپیت نے جلدی سے اسے پانی دیا حسن نے پانی پیتے ہوۓ نیدی کو آنکھوں سے منع کیا۔
نیدی کی بات درمیان میں ہی رہ گئی۔
سالار یشال کے جانے کے بعد اس دن والے ہوٹل میں آیا اس نے ریسیپشن پر موجود آدمی سے اس دن ٹکرانے والے آدمی کا حلیہ بتا کر اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
تھوڑی دیر وہ وہاں بیٹھا رہا جب جانے کے لئے مڑا تو اس نے اپنے پیچھے والے ٹیبل پر ایک آدمی کو منہ کے آگے ٹوپی رکھے بیٹھا ہوادیکھا۔سالار ہوٹل سے باہر تھوڑا سا آگے جا کر ایک گاڑی کی اوٹ میں ہو کر کھڑا ہو گیا۔تھوڑی ہی دیر کے بعد اس نے مطلوبہ آدمی کو باہر نکلتے دیکھا۔وہ آدمی بہت احتیاط سے آگے بڑھ رہا تھا تھوڑا سا آگے جا کر وہ ایک درخت کی اوٹ میں ہو گیا وہاں سے وہ سالار کو نظر نہیں آ رہا تھا۔
سالار ابھی سوچ ہی رہا تھا کے وہ اب کیا کرے اس نے اس آدمی کو درخت کی اوٹ سے نکل کر آگے بڑھتے دیکھا جب وہ تھوڑا آگے بڑھ گیا تو سالار بھی گاڑی کی اوٹ سے نکل آیا اور اپنے اور اس آدمی کے درمیان تھوڑا فاصلہ رکھ کر آگے بڑھنے لگا۔ تھوڑا آگے جا کر وہ دائیں طرف مڑ گیا دائیں طرف ایک زیر تعمیر عمارت تھی وہ اس کے اندر چلا گیا سالار بھی اس کے پیچھے اندر داخل ہوا لیکن اندر جا کر اسے وہ آدمی کہیں نظر نہیں آیا اسے دوسری منزل پر تھوڑی روشنی نظر آئی وہ احتیاط سے آگے بڑھنے لگا دوسری منزل کی آخری سیڑھی پر پہنچ کر اس نے جھانک کر دیکھا لیکن وہ حیران رہ گیا وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ سالار ادھر ادھر دیکھنے لگا لیکن اسے کہیں کوئی نظر نہیں آیا اب اسے اس جگہ سے عجیب خوف سا محسوس ہوا وہ جانے کے لئے مڑا لیکن تبھی کسی نے اس کی کنپٹی پر پسٹل رکھی۔ سالار سمجھ گیا کے اسے پھنسایا گیاہے۔سالار ہاتھ اوپر اٹھا کر اس شخص کی طرف مڑا تو دیکھ کر حیران رہ گیا وہ اور کوئی نہیں احمر تھا۔
تم سالار کے منہ سے حیرت سے بس اتنا ہی نکلا۔
ہاں میں ! میں جانتا تھا کے تم مجھ تک پہنچ جاؤ گے اس لئے میں نے سوچا کیوں نہ تمہیں خود ہی خاطر تواضع کے لئے لے آؤں ۔
تم نے یہ سب کیا اور پھنسا مجھے دیا ۔
اا خالی عمارت میں اس کا قہقہہ گونجا تم جیسے بیوقوفوں کو میں نوکری پر رکھتا ہی اسی لئے ہوں ۔تم کوئی پہلے شخص تو نہیں ہو تم سے پہلےبھی بہت آۓ لیکن تم پہلے شخص ہو جسے رونی نے چھوڑ دیا ورنہ با قی سب تو جیل میں چکی پیس رہے ہیں۔میرے پاس زیادہ باتوں کا وقت نہیں ہے اب تم کلمہ پڑ لو ۔اس نے اپنی پسٹل کا رخ سالار کی طرف کیا اور پسٹل پر دباؤ ڈالا لیکن اس سےپہلی ہی ایک لات احمر کے ہاتھ پر پڑھی اور اس کے ہاتھ سے پسٹل دور جا گرا ۔احمر آنے والے کو دیکھا تو اس کا سانس رک گیا وہ رونی تھا۔
رونی دیکھو یہ یہاں آج پھر کسی سے ملنے آیا تھا میں نے اسے یہاں پیسے لیتے پکڑ لیا تو یہ مزاحمت کرنے لگا۔
آچھا پھر تو میں خود اس سے حساب چکتا کرتا ہوں ۔رونی نے لفظ چبا چبا کر بولے اور سالار کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔
سالار نے اسے جوابا ایک مسکراہٹ پاس کی اور ہاتھ جھاڑتا ہوا جا کر رونی کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
مسٹر احمر اس بار نہیں اس بار آپ ہمارے جال میں پھنسے ہیں ۔
احمر کا حیرت سے منہ کھل گیا۔
جاننا چاہو گے کیسے؟
جاننے سے پہلے ان سے ملو یہ ہے ہیرا بیسٹ فرینڈ سالار حیات اور اس بار انہوں میری مدد کی تم جیسے گیڈر کو پکڑنے کے لئے۔
سالار کچھ لوگ حیات نہیں واہیات ہوتے ہیں اور تا حیات ہوتے ہیں یہ بات رونی نے سالار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہی۔مجھے تو تم پر کافی عرصے سے شک تھا اس بار میں نے بھی پلاننگ کر لی تمہیں پکڑنے کی اور ہاں تمہارا ساتھی وہ نیچے رسیوں میں جکڑا پڑا ہے اور تھوڑی دیر میں یہاں پولیس بھی آتی ہوگی ۔یہ کام تو ہم دو تین دن پہلے ہی کر لیتے لیکن سالار کی بہن کی وجہ سے رہ گیا۔میں اس دن سالار کے گھر بھی اسی لئے گیا تھا جب تم اندر نہیں گئے تھے کیونکہ تم تو مطمئن تھے نہ کے سب کچھ تمہاری پلان کے مطابق ہو رہا ہے۔
سالار یار شکریہ بہت بہت۔
نہیں یار شکریہ کی کیا بات ہے۔
یار میری وجہ سے تمہارے گھر میں بھی سب پریشان ہوۓ ہیں ۔
آچھا کل ماشہ کے فلیٹ پر آنا وہاں مغدادکی برتھ ڈے ہے اس نے تمہیں بھی انوائٹ کیا ہے اور اپنی بہن کو بھی لانا۔
چلو سہی ہے پھر کل ملتے ہیں ۔
اوکے گڈ نائٹ۔
