Rooh E Rayan By Zarish Noor Readelle50110 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
ناول “” روح رایان””
از قلم زرش نور
قسط نمبر ۲۱
ہلٹن ہوٹل کی لابی میں اس وقت ایک ٹیبل پر بیٹھے ہوۓ سالار رایان کا انتظار کررہا تھا۔
اسی وقت ایک سائیڈ سے بھاگنے کے انداز میں رایان آیا۔
سوری یار میں لیٹ تو نہیں ہو گیا؟؟
سالار نے اسے گھور کر دیکھا۔کیوں لیٹ آےہو؟؟
رایان نے ہاتھ سے سر کھجایا۔وہ یار میں یشال کو بھی ساتھ لایا ہوں تو اسے پہلے ہوٹل کے روم میں چھوڑ ا ہے اور پھر تمہارے پاس آیا ہوں۔
اب کی بار سالار بالکل سیریس ہو گیا! رایان تم جانتے ہو نہ ہم یہاں کس لئے آۓ ہیں؟؟
رایان نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہمارے جیسے لوگ فیملی نہیں بناتے اور تم ! وہ چپ ہو کر رایان کو دیکھنے لگا اور پھر چلتا ہوا رایان کے قریب آیا۔
رایان اگر اب کی بار میرئ بہن کو کچھ ہوا تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔
یار اسے کچھ ہوا تو میں زندہ رہوں گا تو تم مجھے کچھ کہو گے نہ۔
سالار کو اب اس پر غصہ آ گیا ۔وہ اس پر ایک قہر برساتی نظر ڈال کر آگے بڑھ گیا۔
رایان بھی اس کے پیچھے چل دیا۔
ہلٹن ہوٹل کے اس ہال میں اس وقت پاکستان کے حساس اداروں کے بہت سے نامور لوگ موجود تھے۔
یہاں پر آج بہت سے گم نام ہیروز موجود تھے ۔جو وطن عزیز کی حفاظت کے لئےگم نامی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔
میٹنگ میں سب کو ان کے فرائض سونپے گئے۔
سالار اور رایان کو بتایا گیا کے ان دونوں نے کشمیر جانا ہے ۔جہاں مجاہدین کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ایک ٹریننگ کیمپ کو ختم کرنا تھا ۔
رایان آپ اپنا بزنس پاکستان شفٹ کر لیں کیو نکہ آپ پر سی آئی اے کو شک ہو گیا ہے۔وہ آپ کے خلاف شواہد اکٹھے کر رہے ہیں اس لئے ہم چاہتے ہیں آپ پہلے ہی چوکنے ہو جائیں۔
جیسے آپ کا حکم سر۔
اوکے ویلڈن رایان حیدر ! ہمیں امید ہے آپ کسی کے ہاتھ نہیں آئیں گے۔
یس سر۔
سالار اسی دن واپس سنگا پور لوٹ آیا تھا۔جبکہ رایان اور یشال دو دن کے بعد آج واپس لوٹے تھے۔
رایان گھر پہنچا تو جینیفر اس کا انتظار کر رہی تھی۔
تم کب آئی؟؟رایان نے اسے چبھتے ہوۓ لہجے میں پوچھا۔
وہ کچھ گڑبڑا گئی۔بس ابھی!
کیسے آنا ہوا۔
رایان ہم کہیں باہر چل کر بات کر سکتے ہیں؟؟
یس شیور !کیوں نہیں
یشال میں جلدی واپس آ جاؤں گا۔
یشال نے چونک کر رایان کو دیکھا کیونکہ وہ تو جینیفر کی خوبصورتی میں کھوئی ہوئی تھی۔
کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟؟
جی جی ۔۔۔۔۔آپ جائیں ۔۔میں ٹھیک ہوں۔
اوکے اللہ حا فظ ! رایان نے یشال کے گال پر کس کرتے ہوۓ کہا۔یشال نے شرم سے سر جھکا لیا ۔
رایان نے اس کی طرف ایک بھر پور نظر ڈالی اور باہر کی طر ف چل دیا۔
وہ دونوں اس وقت ریکس بار میں بیٹھے ہوۓ تھے ۔جینیفر نے اپنے لئے ڈرنک منگوایا ۔
تمہارے لئے بھی منگواؤں ؟؟
نہیں میں ایسے شوق نہیں رکھتا۔
جینیفر ساتھ میں ایک سیگریٹ بھی سلگایا۔
اب بولو جینیفر کیا بات ہے ؟؟ رایان نے بیزار سا ہو کر بولا۔
رایان مجھے تمہاری مدد چاہئے دراصل میرا بواۓ فرینڈ ہے وکی اسے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے اگر تم دے سکو تو۔
کتنے پیسے چاہئیں ؟؟ اس نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا۔
ایک لاکھ ڈالر ۔۔۔۔۔
اوکے اسے بلاؤ پہلے میں اس سے ملوں گا پھر میں کچھ سوچتا ہوں۔
اوکے کب ملو گے؟؟ جینیفر خوش ہو گئی۔
جب تم مجھے اس سے ملاواؤ گی۔
اوکے کل شام کو ہی مل لیتے ہیں ۔
ٹھیک ہے ۔کل شام کو میں جو جگہ بتاؤں گا وہاں آ جانا تم لوگ۔
اوکے! اب میں چلتا ہوں۔
جینیفر اور وکی اس وقت ایک ہی روم میں تھے وہ کل کے لئے پلاننگ کر رہے تھے۔
وکی ایک بہت ہی شاطر ایجنٹ تھا ۔بہت سوچ بچار کے بعد اسے اس کام کے لئے چنا گیا تھا۔
وکی کا کام یہ تھا کے وہ رایان سے مل کر اسے کسی خفیہ جگہ پر لے جائے۔وہاں رایان سے تمام معلومات لے کر اسے ختم کر دیا جاۓ۔
وہ کل پوری پلاننگ کے ساتھ جانا چاہتے تھے ۔ایک آدمی رایان کے گھر سے نکلنے سے لے کر مطلوبہ مقام تک اس کا پیچھا کرے گا۔
وکی ایک ماہر فائٹر تھا ۔وہ بلیک بیلٹ تھااس کے ساتھ ساتھ وہ باکسنگ کا بہت آچھا کھلاڑی تھا۔وہ آج تک اپنے کسی مشن میں ناکام نہیں ہوا تھا۔اس کی کامیابی کا تناسب ۱۰۰ تھا۔
لیکن اس بار کیا ہونے والا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔
رایان گھر پہنچا تو یشال سیڑھیوں پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ رایان اس سے ایک سیڑھی پہلے بیٹھ گیا۔
روح رایان کیا سوچ رہی ہیں اس نے بہت محبت سے پکارتے ہوۓ کہا۔
یشال نے نظر بھر کر رایان کی طرف دیکھا۔رایان میں آپ کی محبت سے انجان ہی ٹھیک تھی ۔اب جب آپ گھر سے باہر ہوتے ہیں ایک دھچکا لگا رہتا ہے کوئی آپ کو مجھ سے چھین نہ لے۔
رایان نے گھوم کر یشال کو دیکھا میری جان آج تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے۔میرے لئے آپ کی اتنی فکر میں کہیں بے ہوش ہی نہ ہو جاؤں۔
اب کی یشال کا موڈ خراب ہو گیا اور وہ اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔
رایان یشال کی باتوں کو سوچتا کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا۔جیسے کسی ان دیکھی چیز کو ڈھونڈ رہا ہو۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ ایک گہری سانس لیتے ہوۓ اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
وہ اندر آیاتو یشال الماری میں منہ دہے کچھ ڈھونڈ رہی تھی ۔وہ اپنی مطلوبہ چیز لے کر مڑی تو رایان کو اپنے پیچھے کھڑے پایا۔
راستہ دیں رایان۔یشال روکھے پھیکے لہجے میں بولی۔
تم ہر راستہ مجھ سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔
اس لئے راستہ مانگا مت کرو بلکہ خود بنایا کرو۔
مجھے ابھی آپ سے بات نہیں کرنی؟؟
آچھا مجھے تو تمُ سی ہی بات کرنی ہے وہُ اپنے اور اس کے درمیان کے فاصلے کو ختم کرتے ہوۓ بولا۔
ایک احساس تیرے دل میں جگانے کے لئے
بات کرتے ہوۓ مر جائیں تو کیسا ہو گا ؟
یشال نے جلدی سے اپنا ہاتھ رایان کے منہ پر رکھ دیا اور شکایتی نظروں سے رایان کو دیکھا۔
رایان نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔اور یشال بھی ناراضگی بھلا کر اس کی بانہوں میں سما گئی۔
رایان نے جینیفر کو ریکس بار میں ہی بلایا۔ رایان جب گھر سے نکلا تو اس سے فاصلہ رکھ کر ایک گاڑی اس کی نگرانی کرتی ہوئی ساتھ ساتھ چلی۔
رایان جب بار میں پہنچا تو وکی اور جینیفر پہلے سے وہاں موجود تھے۔
وہ لوگ باتوں مشغول تھے تبھی ایک دم سے بار کی تمام لائیٹس آف ہو گئیں تبھی رایان کی پسلی کے ساتھ اسے سخت سی چیز محسوس ہوئی۔
کھڑے ہو جاؤ اور چلتے رہو۔
رایان کھڑا ہو گیا اور ان تقلید میں چل پڑا۔
❤️❤️😍❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
اگرآپ کو یہ ناول پسند آ رہا ہے تو لائک کے ساتھ ساتھ اپنی قیمتی آراء سے بھی آگاہ کریں
