No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ناول “” روح رایان””
از🖋زرش نور
قسط نمبر ۹
رونی کو دیکھ کر وہ دونوں کھڑے ہو گئے۔
رایان حیدر کیا بکواس کر رہے ہو تم سالار کی آنکھوں میں اس وقت خون اترا ہوا تھا۔
جو تم سن رہے ہو وہی کہہ رہا ہوں ۔رایان سالار کے روبرو ہو کر بولا۔
سالار حیات تم جانتے ہو میں اپنی چیزیں کسی قیمت پر بھی حاصل کر کے رہتا ہوں۔
وہ چیز نہیں میری بہن ہے ایک جیتی جاگتئ انسان ۔سالار پھنکار کے بولا وہ اس وقت غصے میں پاگل ہو رہا تھا۔
سالار حیات وہ میری زندگی ہے اور تم نے میری زندگی کسی اور کو دینے کا فیصلہ کر لیا۔تم کیا چاہتے ہو میں خاموش رہتا۔سن لو تم دونوں یشال حیات اب رایان حیدرکی ہے ۔
میں اسے سب کچھ بتا دوں گا رایان حیدر تم نےہم سب کے ساتھ ساتھ اسے بھی بے وقوف بنایا ۔
جی اسے اپنا بنانے کے لئے۔
حسن خاموشی سے وہاں سے نکل گیا اور اس نے اپنے آنسو کو بہنے دیا کیونکہ وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا۔وہ اب کسی کی بیوی بن چکی تھی۔
میں نے تم سے دھوکہ کیا ہے یشال کے ساتھ بھی اور مجھے اس بات کا احساس ہے اسی لئے میں رات کے اس پہر یہاں تمہارے پاس موجود ہوں۔
رایان حیدر چلے جاؤ یہاں سے۔
لیکن سالار میں!
چلے جاؤ یہاں سے رایاں ۔سالار نے اسے بات مکمل کرنے نہیں دی اور دروازہ کھول کر خود منہ دوسری طرف کر کے کھڑا ہو گیا۔
رایان تھوڑی دیر اس کی پشت کو دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے نکل گیا۔
سالار نے اس کے نکلتے ہی زور سے دروازہ بند کیا اور پاس پڑا کرسٹل واز اٹھا کر زور سے فرش پر دےمارا ایک چھنکےکی آواز کے ساتھ وازکئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔
رایان فجر کے وقت کمرے میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا یشال جاۓ نماز پر بیٹھی تھی رایان نے ایک نظر اس پر ڈالی اور واش روم میں گھس گیا وہ باہر آیا تووہ قرآن مجید ہاتھ میں لئے بیٹھی تھی۔رایان سٹڈی میں چلا گیا نماز ادا کر کے وہ وہاں پر پڑے صوفے پر ہی سو گیا۔اس کی آنکھ کسی کے ہلانے پر کھلی اس نے آنکھ کھولی تو پاس کھڑی یشال کو دیکھ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔یشال نے موبائل اس کی طرف بڑھایا کسی کی کال آ رہی ہے ایک ہی نمبر سے کافی دفعہ کال آ چکی ہے۔
وہ موبائل لے کر کال بیک کرنے لگا جب تک یشال اس کے پاس ہی کھڑی رہی وہ بہت محویت سے اسے دیکھ رہی تھی سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس بازو کہنیوں تک فولڈ کیے ہوۓ پیشانی پر بکھرے بال آنکھوں میں نیند کی خماری رایان نے بات کرتے کرتے یشال کی طرف دیکھا تو وہ سٹپٹا گئی اور باہر کی طرف نکل گئی ۔رایان کے ہونٹوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ رینگ گئ۔
وہ بات کر کے اپنے کمرے میں آفس کے لئے تیار ہونے چلا گیا یشال اسے کمرے میں نظر نہیں آئی وہ تیار ہو کر اپنا لیپ ٹاپ اٹھاۓ نیچے لاؤنج میں ہہنچا تو معمول کے مطابق ملازم نے اس کے ہاتھ سے اس کی فائلز اور لیپ ٹاپ گاڑی میں رکھنے کے لئے لے گیا وہ تھوڑی دیر کھڑا ادھ ادھر دیکھتا رہا پھر کچن کی طرف بڑھ گیا اور دیکھ کر حیران ہوا وہ چولہے کے آگے کھڑی پراٹھے بنا رہی تھی۔یہ تم کیا کر رہی ہو؟
سر میں نے میم کو منع کیا تھا۔ باورچی نے اپنی صفائی دی۔یشال نےاسے چپ رہنے کے لئے کہا اورخود
رایان کی طرف مڑ کر بولی ںاپنے گھر میں بھی کچن کا کام خود ہی کرتی تھی اگر یہ میرا گھر نہیں ہے تو میں چھوڑ دیتی ہوں اس نے ساتھ میں چولہا بند کر دیا۔
اوکے جیسے تمہاری مرضی میں جا رہا ہوں آفس سے پہلے ہی لیٹ ہو گیا ہوں۔
رکئے ناشتہ بنا ہوا ہے کر کے جائیے اس نے ساتھ ہی باورچی کو ناشتہ ٹیبل پر لگانے کے لئے بولا اور رایان کے ساتھ کچن سے باہر نکل آئی۔
سامنے ہی سالار کھڑا تھا۔
بھیا آپ یشال بھاگنے کے انداز میں اس تک پہنچی اور اس کے گلے لگ گئی۔
سالار کے تیور دیکھ کر رایان کے دل کو کچھ ہوا اسےلگا کے وہ ابھی یشال کو سب کچھ بتاۓ دے گا ۔
سالار آیا تو اسی لئے تھا لیکن یہاں اپنی بہن کو خوش وخرم دیکھ کر اس بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کرے۔
آپ ٹھیک وقت پر آۓ ہیں بھیا آئیں ساتھ ہی ناشتہ کرتے ہیں۔یشال سالار کا ہاتھ پکڑ کر اسے ڈائنگ ٹیبل تک لے گئی رایان بھی ان کے پیچھے گیا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ یشال سالار اور رایان دونوں کو باری باری کوئی نہ کائی چیز دیتی جا رہی تھی۔اور سالار سوچ رہا تھا کے اس کی بہن کی زندگی میں اب سالار کے ساتھ ساتھ رایان بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔یشال کو خوش دیکھ کر سالار کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ یشال کو کچھ بتاتا۔یشال کو سالار کے ساتھ باتوں میں مصروف دیکھ کر رایان اٹھ کھڑا ہوا میں چلتا ہوں مجھے آفس کے لئے دیر ہو رہی ہے۔ یشال نے مسکرا کر سالار کو اللہ حفظ کہا اور پھرسے سالار کی طرف متوجہ ہوگئی۔
رایان کا آفس جانے کا دل تو نہیں کر رہا تھا ۔اسے سالار کی طرف سے ڈر ہی تھا کہ کہیں وہ یشال کو ساتھ ہی نہ لے جائے۔
وہ الجھا ہوا آفس پہنچا تو اس کی سیکریٹری میگی نے اسے بتایا کے سالار آفس آیا تھا اور ایک لفافہ رایان کی طرف بڑھایا یہ آپ کے لئے دے گئے ہیں۔رایان نے میگی کو جانے کے لئے بولا اور خود وہ لفافہ چاک کر کےدیکھا تو اس کی توقع کے عین مطابق اس میں سالار کا استعفی تھا۔رایان استعفی ہاتھ میں لئے تھوڑی دیر کچھ سوچتا رہا اور پھر اس نے یشال کو کال کی ۔
ہیلو یشال کیا کر رہی ہو۔
کچھ نہیں۔
سالار ہے یہاں ۔
جی نہیں !
اوکےاللہ حافظ۔
اس کے بعد اس نے سالار کا نمبر ملایا اور اسےآفس آنے کے لئے بلایا۔
لیکن رایان میں استعفی دے چکا ہوں اب میرا وہاں کیا کام۔
سالار تم رولز کے مطابق استعفی نہیں دے سکتے کیونکہ تم نے جو کنٹریکٹ سائن کیا تھا اس کے مطابق اگر تم خود یہ نوکری چھوڑو گے تو تمہیں پانچ لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔رایان نے سالار کو استعفئی واپس لینے کے لئے آخری پتہ پھینکا اور وہ کار آمد رہا۔
رایان حیات مجھے افسوس ہے میں نے تمہارے ساتھ دوستی نبھاتے ہوۓ یہ کیوں بھول گیا کے تمُ جتنے اچھے دوست اور اس سے کہیں گنا برے دشمن۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
