Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ناول “”روح رایان””

از 🖋زرش نور

قسط نمبر ۲۰

جینیفر رایان کے گھر سے نکل آئی گاڑی میں بیٹھ کر اس نے کسی انجان نمبر پر کال کی ۔سر یہ پلان کامیاب نہیں ہو سکتا ۔وہ شادی کر چکا ہے۔وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے۔اسے اس کے سامنے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔پھر بھی میں کوشش کروں گی لیکن آپ پلان بی تیار رکھیں۔

ڈاکٹر یشال کو چیک کر کے چلا گیا تھا اس نے بتایا کے ڈرنے کی کوئی بات نہیں معمولی سا فیکچر ہے وہ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جائے گی۔لیکن رایان کو چین نہیں تھا وہ ہر آدھے گھنٹے کے بعد آفس سے کال کر کے پوچھ رہا تھا ۔

کیسی ہو زیادہ درد تو نہیں ہو رہا؟؟

جی میں ٹھیک ہوں مجھے بالکل بھی درد نہیں ہو رہا ہے ۔اور آپ اب مجھے کال نہیں کریں گے بلکہ صرف کام کریں گے اور اب شام کو گھر آئیں گے تو ہی بات ہوگی۔

اوکے میڈم جو آپ کا حکم۔۔

فی امان اللہ


سالار اس وقت چینگی ائیر پورٹ سے باہر آ رہا تھا۔وہ پاکستان سے ڈائریکٹ فلائٹ سے یہاں پہنچا تھا۔ائیرپورٹ سے نکل کر اس نے کیب کی اور اپنے اپارٹمنٹ میں پہنچا اپنا سامان اپارٹمنٹ میں رکھنے کے بعد وہ رایان کے آفس کے لئے نکل آیا۔

رایان اسے بہت گرمجوشی سے ملا سالار نے رایان سے یشال کے باری میں پوچھا ۔۔

سالار نے رایان کو بتایا کے انہیں کل کوالمپور کے لئے نکلنا ہے۔ہلٹن ہوٹل میں ہماری میٹنگ ہے اور ہمیں صبح صبح نکلنا ہے ۔کیونکہ ہم ٹرین سے چلیں گے ۔

رایان نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

سالار بھی وہاں سے یشال سے ملنے کے لئے نکل آیا۔

ؔ***
شنگریلا ہوٹل لندن کے اس کانفرنس روم میں اس وقت ایک خاص میٹنگ جاری تھی۔اس میٹنگ کا مقصد دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرتے مسلمانوں پر نظر رکھنا ہوتا ہے۔اس میٹنگ میں اس وقت تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے یہودی مالک بیٹھے تھے۔اوراس بار ان لوگوں نے پانچ لوگوں کی فہرست تیار کی تھی ۔جن پر انہیں نظر رکھنی تھی۔ان میں سے ایک کا تعلق ترکی جبکہ دو کا تعلق انڈونیشیاہ ایک کا تعلق تاجکستان سے تھا اور نمبر ایک پر جو شخص انہیں سب سے طاقتور اور شاطر لگا تھا اس کا تعلق بظاہر تو سنگاپور سے تھا لیکن اس کی جڑیں پاکستان سے ملتی تھی۔پاکستان تو ویسے بھی یہودیوں کے لئے ایک ہاٹ کیک تھا ۔۔اسی لئے انہوں نے نمبر ون پر اس شخص کو رکھا تھا جسے دنیا رایاان حیدر کے نام سے جانتی تھی۔

اس کام کے لئے ان لوگوں نے سب سے پہلے اس کی کلاس فیلو اور گرل فرینڈ جینیفر سے رابطہ کیا تھا۔

لیکن وہ کچھ زیادہ پر امید نہیں تھے ۔کیونکہ وہ دو ماہ پہلے شادی کر چکا تھا وہ بھی بہت عجیب طرح سے اوراتنے دنوں میں وہ جان چکے تھے کے وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہے۔

اس کی بیوی کو راستے سے ہٹانے کے لئے ان لوگوں نے احمر کو جیل سے نکالا لیکن معجزاتی طور پر رایان جاۓ وقوعہ پر پہنچ گیا اور اسے بچا لیا۔

رایان کے ساتھ ساتھ ان کی نظر سالار پر بھی تھی کیونکہ وہ ایک آئی ایس آئی سپاۓ تھاُ۔

رایان اور سالار پر انہیں شک تب ہوا جب ان دونوں نے پچھلے کچھ عرصے سے یکے بعد دیگرے ترکی ،پاکستان،اور ملائشیاہ کے بہت سے دورے ایک دو دن کے فرق سے ساتھ ساتھ کیے۔

رایان کے بارے میں شبہ تھا کے وہ کشمیری مجاہدین کی مالی امداد کرتا ہے ۔اور پاکستان میں اس کی مجاہدین کے کمانڈر عثمان احمد سے ملاقات ہو چکی ہے۔

اب طے یہ پایا تھا کے اس کے بارے میں ٹھوس معلو مات حاصل کریں گے اگر یہ دونوں اس معاملے میں ملوث ہوۓ تو پھر ان کے بارے میں کاروائی کی جاۓ گی۔


یشال کل تیار رہنا ہم لوگ کوالمپور جائیں گے۔

آچھا کس وقت جانا ہے؟؟

سویرے نکلنا ہے۔

اوکے!!وہ کہہ کر باہر کی طرف چل دی۔

او ہیلو کیا اوکے؟؟کدھر چل دیں آپ؟؟

میں نیچے جا رہی ہوں مجھے ابھی نیند نہیں آرہی۔۔۔۔

تو مجھے کون سا نیند آ رہی ہے۔۔

آپ تو سونے لگے ہیں نہ ؟؟یشال نے حیران ہو کر اسے پوچھا جو بیڈ پر لیٹا تھا اور اب اٹھ کر یشال کے پاس پہنچ آیا تھا۔

میڈم ہم آپ کی وجہ سے روم میں آۓ ہیں۔

میری وجہ سے کیوں؟؟یشال نے بھی آج رایان کو تنگ کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔

رایان نے اس کی باتوں سے جھنجھلا کر اسے اپنے حصار میں لے لیا ۔
جی تو آپ کیا کہہ رہی تھیں اب بولیں؟؟

یشال کو تو مانو سانس ہی رک گئی ۔رایان سے آتی اس کی کلون کی خوشبو ،اس کے سر گوشیاں اس کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی۔

رایان نے دل چسپی سے اس کی بند آنکھوں اور کانپتے جسم کو دیکھا۔

یار میں بندے نہیں کھاتا جو تم اتنا کانپ رہی ہو۔ یشال نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں اور رایان کی گرفت ڈھیلی محسوس کر کے اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ بنا لیا۔

رایان بھی پیچھے ہو کر بازو سینے پر لپیٹ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی۔

میرے دل میں اتر سکو تو شاید جان لو
کتنی خاموش تم سےمحبت کرتا ہے کوئی

اس نے جزب کے عالم میں شعر کہا۔


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️