Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ناول ” روح رایان”

از🖋زرش نور
قسط نمبر۳

یشال کے جانے کے بعد رونی نے احمر کو بلایا ! احمر سالار کی کیا نیوز ہے؟سر وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔
اوکے چلیں پھر وہ شرٹ پہنتے ہوۓ بولا۔
جی سر!
احمر اور وہ وہاں پہنچے تو سالار نڈھال سا بیٹھا ہوا تھا رونی کو دیکھ کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
رونی ایک چئیر لے کر سالار کے سامنے بیٹھ گیا اور ہاتھ سے سالار کا سر اونچا کر کے بولا ! اب جلدی سے بولو۔
سر میں میٹنگ ختم کر کے جب گھر جا رہا تھا تو باہر نکلتے ہوۓ ایک شخص مجھ سے ٹکرایا تھا اس کی اور میری فائلز نیچے گری تھیں اسی وقت اس شخص نے ہی فائل اٹھائی ہے۔ سر آپ جا کر دیکھ سکتے ہیں میرے کیبن میں وہ فائل پڑھی ہے ۔ میں نہیں جانتا تھا کے یہ نقلی فائل میرے پاس آ گئی ہے۔
احمر اس کا کچھ کھانے کو دو اور اسے اس کے گھر پہنچا دو۔
مسٹر سالار کہیں بھاگنے کی کوشش نہیں کرنا معمول کے مطابق آفس آنا اور ابھی میں خود انوسٹیگیٹ کروں گا مجھے ابھی تم پر یقین نہیں ہے ۔لیکن میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں کیونکہ تمہاری بہن مجھ تک پہنچی ہے ۔ میں نہیں چاہتا کےوہ کل کسی اور تک پہنچے تمہیں بازیاب کروانے کے لئے۔
وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور تھوڑا سا آگے جا کر مڑا اور بولا گھر جا کر کیا کہو گے کہاں تھا اتنے دن؟
سالار نے اس کی طرف دیکھا اور اس کی بات سمجھ کر اثبات میں سر ہلایا کے میں ہینڈل کر لوں گا۔


احمر چھوڑ آۓہو سالار کو ؟
جی سر۔
اس پر نظر رکھنااور تمہیں جو دوسرا کام سونپا تھااس کا کیا ہوا؟
سر وہ ہماری ہی کمپنی کی ایک برانچ میں ورکر ہے۔
ہے؟
مطلب سر ہیں!
اوکے ! آگے
سر ان کے تین دوست ہیں وہ تینوں انڈین ہیں ان میں ایک لڑکی اور دو لڑکے ہیں۔
اور بواۓ فرینڈ؟
نہیں سر سالار بہت سخت طبعیت کا ہے اس معاملے میں وہ اسے زیادہ کہیں نہیں جانے دیتا ۔
اوکے!کون سی برانچ میں کام کرتی ہے؟
سیونتھ سکاۓ سر۔
عفان کی برانچ میں ۔
یس سر!
اوکے عفان کو پتہ چلے بغیر مینجر سے بات کر کے اسے مین برانچ میں شفٹ کر دو۔
میں سالار کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتا اور سالار کو عفان والی برانچ میں بھیج دو۔
اوکے سر!


سالار گھر پہنچا تو وہاں نیدی بھی موجود تھی۔یشال بھاگ کر سالار کے گلے لگی اور رونا شروع کر دیا سالار کی اپنی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔
بھیا آپ کہاں تھے اتنے دن گڑیا میں کسی کام سے شہر سے باہر گیا تھااور میرا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا میرا موبائل بھی ٹوٹ گیا تھا اس لئے میں تم سے کونٹکٹ نہیں کر سکا۔
یشال اور پریشان ہو گئی وہ سالار کو پکڑ کر بیڈ روم تک لے کر گئی اور پھر اس نے دو دن اسےُآفس نہیں جانےدیا۔اور خود بھی نہیں گئی دوسرے دن سالار آفس کے لئے تیار ہوا تو اسے زبردستی واپس کمرے میں لے کر گئی سالار نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کے اس کاجانا بہت ضروری ہے۔
*لیکن وہ نہیں مانی اور سالار کے نمبر پر رونی کی کال آئی تو سالار سے یشال نے فون کھینچ لیا۔
ہیلو!
جی سر میں سالار مصطفی کی بہن بات کر رہی ہوں وہ دو دن تک آفس نہیں آئیں گے ان کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اگر آپ نے انہیں کام سے نکالنا ہے تو نکال دیں لیکن وہ کام پر نہیں آئیں گے ۔
اوکے رونی نے مختصر جواب دے کر کال ڈسکنکٹ کر دی ۔ اس نے سالار کو وارن کرنے کے لئے کال کی تھی لیکن کال یشال نے اٹھائی۔


کال ڈسکنکٹ کر کے رونی نے احمر کو بلایا۔
احمر میں نے تمہیں کہا تھا کے تم نے سالار کی نگرانی کرنی ہے ۔
جی سر اس کام پہ میں نے ایک خاص آدمی لگایا ہوا ہے ۔
اوکے پھر شام کو ہم سالار کے گھر چلیں گے۔
اوکے سر۔


شام کو گھنٹی کی آواز پر سالار نے دروازہ کھولا تو اس نے سوچا کے نیدی ہو گی لیکن آگے رونی اور احمر کو دیکھ کر وہ حیران اور پریشان ہوگیا۔
سر آپ؟
راستہ دو گےاندر آنے کے لئے۔
جی سر سالار دروازے سے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔
احمر اندر نہیں آیا۔
کچن کے دروازے پر کھڑی یشال رونی کو دیکھ کر حیران ہوئی۔
سر یہ میری چھوٹی بہن ہے اور یشال یہ میرے باس ہیں ۔
جی بھیا میں جانتی ہوں انہیں ۔
رونی نے ایک نظر یشال پر ڈالی اور سالار سے بولا اب آپ بہتر لگ رہے ہیں مسٹر سالار کل سے آفس آ جائیے گا ۔
جی سر۔
وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی کھڑا کھڑا واپس چلا گیا۔
جانے سے پہلے اس نے ایک خاص نظر یشال پر ڈالی لیکن یشال اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔

دوسرے دن سالار آفس پہنچا تو اسے بتایا گیا کے اسے دوسری برانچ میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔اس نے برانچ کا نام پوچھا تو وہ مطمئن ہو گیا کے چلو وہاں یشال بھی ہے۔لیکن یہ خوش فہمی اس کی جلد ہی ختم ہو گئی جب دوسرے سالار نے تیار ہوتے ہوئے یشال سے کہا یشال آج ساتھ ہی چلیں گے میں اب جس برانچ میں تم ہوتی ہو اسی برانچ میں میں بھی اب جاؤں گا۔
لیکن بھیا میں اب اس برانچ میں نہیں جاؤں گی کیونکہ مجھے تو مین برانچ میں شفٹ کر دیا گیا ۔
کب ؟سالار نے حیرانگی پوچھا۔
کل ہی بھیا۔
اب سالار کا صبر جواب دے گیاوہ یشال کو چھوڑنے کے بہانے آیا اور سیدھا رونی کے آفس پہنچا۔
مسٹر رایان سوری جو بھی معاملہ ہوا ہے وہ آپ کے اور میرے درمیان ہوا ہے آپ میری فیملی کو درمیان میں نہ لائیں تو بہتر ہے ۔
نہیں میں اور میری بہن یہاں سے استعفی دے دیں گے۔سالار بہت غصے میں تھا اس وقت۔
رایان آرام سے اٹھ کر سالار کے پاس آیا مسٹر سالار میں آپ پر بہت بھروسہ کرتا تھا اسی لئے آپ میرے ساتھ کام کر رہے تھی۔اگر یہ حرکت آپ نے نہیں بھی کی تب بھی آپ جانتے ہیں آپ کی وجہ سے میرا کتنا نقصان ہوا ہے اگر آپ یہاں سے استعفی دیں گے تو کیا خوشی خوشی پاکستان چلے جائیں گے۔میں آپ کو ساری زندگی یہاں کی جیل میں زندگی بھیک مانگتے رہیں گے۔اب آپ جا سکتے ہیں یہاں سے۔
سالار بہت بےبس ہو کر وہاں سے نکل آیا۔


سالار لانچ کے بعد سائیڈ ایریا پر آیا کچھ نئی مشینری آئی تھی وہی دیکھنے کے لئے۔وہ جہاں جہاں سے گزر رہا تھا سب لوگ کھڑے ہو رہے تھے لیکن ایک ٹیبل کے پاس سے گزرتے ہوۓ وہ ٹھٹھک کر رک گیا۔وہ یشال تھی جو دوسری طرف مڑی کوئی سکرو ٹائیٹ کر رہی تھی۔ سالار نے اسے یہاں لیبر پر رکھا تھااور کام بھی بہت مشکل تھا۔وہ چلتا ہوا یشال کے پاس آیا۔ مس کیا کر رہی ہیں آپ یہاں ؟
جی کام
جی وہ مجھے بھی نظر آ رہا ہے۔کیا کام کر رہی ہیں جی یہ سکرو ٹائیٹ کر رہی ہوں۔ مس میڈی آپ آئیں یہاں یہ سکرو آکر ٹائیٹ کریں۔
وہ آئی اور ایک منٹ میں وہ کام کر کے چلی گئی تھی۔یشال نے شرمندہ ہو کر سر جھکا لیا۔
آپ کا کیا نام ہے؟
جی یشال۔
اوکے۔
احمر مس یشال کو کام کرنا نہیں آتا اگر ایک ہفتے میں انہوں نے کام نہ سیکھا تو انہیں فائر کر دیں۔
یشال حیران تھی یہ کیا چیز ہے۔
وہ یہ جاب کھونا بھی نہیں چاہتی تھی نیدی سے اسے پتہ چل گیا تھا کے سالار کو اب بہت کم تنخواہ مل رہی ہے۔اس لئے وہ سالار پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️