Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ناول “” روح رایان””
از🖋 زرش نور
قسط نمبر ا
وہ اس وقت تیز تیز قدموں کے ساتھ چل رہی تھی وہ آفس کے لئے لیٹ ہو رہی تھی۔ اسے اس کمپنی میں کام کر تے ہوۓ ابھی ایک ماہ ہوا تھا۔ اس لئے وہ کسی قسم کی کو تائی کر کے یہ جاب کھونا نہیں چاہتی تھی۔
وہ ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی جہاں پر الیکٹرونکس کی اشیاء تیار کی جاتی تھی اس کا کام روزانہ کی بنیاد پر بننے والی چیزوں میں استعمال ہونے والے چھوٹے بڑے پرزوں کی روزانہ کی فائل تیار کرنی ہوتی ہے۔ اس لئے یہاں چھٹی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں پر اسے جاب اس کی ایک انڈین دوست نیدی سیکسینا کی وجہ سے ملی ہے جو کے یہاں پچھلے سات سال سے کام کر رہی ہے۔


یشال کیسا رہا آج کا دن ؟؟
بس یار ٹھیک تھا ایک تو میں صبح صبح لیٹ ہو گئی ہوں اوپر سے مینیجر کی ڈانٹ بھی کھائی۔
چلو خیر کوئی بات نہیں جہاں کام کرتے ہیں وہاں ایسی چھوٹی موٹی باتیں تو برداشت کرنی پڑھتی ہیں نہ۔
ہمم کہہ تو تم صیح رہی ہو۔
جلدی چلو نیدی سالار بھیا گھر پہنچ چکے ہیں اور میں نے ان کے لئے کھانا بھی بنانا ہے۔
اوکے چلتےہیں ۔ اب اپنا سالار نامہ نہ کھول دینا۔
یشال کھلکھلا کر ہنس دی نیدی تم سالار بھیا سے جیلس ہوتی ہو۔
یہ لو جی تم میرا بواۓ فرینڈ تھوڑا ہی ہو جو میں تم اور اس سے جیلس ہوں گی۔
میں نہ سہی سالار بھیا تو ہو سکتے ہیں نہ۔
توبہ کرو تمہارے بھائی نے تمہارے منہ سے یہ سب سن لیا نہ تو ہماری خیر نہیں وہ تو تمہیں ہمارے ساتھ پتہ نہیں کیسے بیٹھنے دیتا ہے تو۔
نہیں جی سالار بھیا بہت آچھے ہیں اور جیسا تم ان کا نقشہ کھینچ رہی ہو وہ ایسے بالکل بھی نہیں ہیں۔
ہاں جی ایک دن میں گئی تھی تم لوگوں کے فلیٹ پر دروازہ کھول کر روکھا پھیکا سا پوچھتا ہے۔
جی کس سے ملنا ہے آپ کو؟
جب میں نے تمہارا نام لیا تو مجھے سر سے پاؤں تک اےسے دیکھنے لگا جیسے میں کوئی چڑیل ہوں۔
یشال نے ہنسنا شروع کر دیا!
پتہ ہے مجھے کیا کہہ رہے تھے؟
کیا؟
یشی تم نے کب سے ایسی دوستیں بنانا شروع کی ہیں۔
پھر تم نے کیا کہا۔
میں نے کہا آچھی بھلی تو ہے بےچاری بس تھوڑی سی بونگی ہے۔
نیدی کو پہلے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آئی جب آئی تو اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل سے یشال کو مارنا چاہا لیکن یشال پہلے ہی سمجھ گئی تھی اس نے اس کے نشانہ لگانے سے پہلے ہی بھاگنا شروع کر دیا۔
یشال بھاگتے ہوۓ کسی سے ٹکرائی اور اسےایسے لگا جیسے کسی پتھر سے سر پھوڑ لیا ہو۔
اگلا بندہ بھی بہت ہی کوئی کھڑوس تھا بولا میڈم ہوش سے یہ آپ کا گھر نہیں ہے جو ادھر ادھر ٹکراتی پھر رہی ہیں۔
میرا گھر نہیں ہے تو آپ کا بھی گھر نہیں ہے روڈ ہے یہ اور یہاں جس کاجیسے دل کرے گا وہ چلے گایشال نے بھی کوئی لحاظ کیے بنا کہا۔
رونی اس وقت جلدی میں تھا نہیں تو وہُ اس لڑکی کا دماغ ٹھکانے لگاتا۔
تھوڑا سا آگے جا کر پلٹا اور اپنی جیب سے ایک ماسک نکال کے اس کی طرف بڑایا ۔ ماسک پہن کے باہر نکلو کرو لڑکی۔
یہ کہہ کے وہ چلا گیا! اور ماسک یشال نے جلدی سے پہن لیا ۔
اپنی گاڑی میں بیٹھ کر رونی نے ایک نظر اپنے سائیڈ مرر میں اس لڑکی پر ڈالی اور بولا جلد ہی دوبارہ ملیں گے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️