Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ناول “”روح رایان””

از🖋 قلم زرش نور

قسط نمبر ۱۳

وہ بہت غصے میں وہاں سے نکلا ریش ڈرائیو کرتے ہوۓ گھر پہنچا اور ادھر ادھر دیکھے بغیر سیدھا اپنے کمرے میں پہنچا اپنا کوٹ اتار کر اس نے زور سے زمین پر پٹخا ٹائی کا ناٹ ڈھیلی کی اور غصے سے کمرے میں ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا ۔اس زیادہ غصہ یشال پر تھا جس نے ایک بار بھی نہیں کہا کے وہ اپنے گھر جانا چاہتی ہے۔وہ ٹیرس پر آگیا اس نے سیگریٹ سلگایا اور ٹیرس کی ریلینگ پر دونوں بازو رکھ دئیے ۔اس کا دماغ اس وقت کھول رہا تھا وہ ایک کے بعد ایک سیگریٹ سلگاتا گیا ۔اس کا دماغ اس وقت منفی سوچوں کی آماہ جگا بنا ہوا تھا۔


یشال سالار کے ساتھ گھر آگئی اسے راستے میں ہی ماشہ کی کال آئی تھی اور اس کے پوچھنے پر یشال نے اسے بتایا کے وہ سالار کے ساتھ آ گئی ہے ۔تو وہ خاموش ہو گئی خاموشی کا یہ سلسلہ جب زیادہ طویل ہونے لگا تو یشال نے ہی ماشہ کو پکارا۔
یشال تم رایان کے ساتھ جاتی تو آچھا ہوتا۔
وہ سالار کی موجودگی کی وجہ سے خاموش رہی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
یشال تم مجھے سن رہی ہو۔”ماشہ کی آواز ماؤتھ پیس میں گونجی۔”

جی میں سن رہی ہوں۔

یشال تم نے اسے بتایا تھا کے تم سالار کے ساتھ جاؤ گی۔

نہیں !

اوکے میں کل دن کو آوں گی تمہاری طرف تم اپنا خیال رکھنا۔

اس کی کال کے بعد سے یشال کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا کے پتہ نہیں وہ کتنا ناراض ہو گا۔اس دو تین بار موبائل لیا رایان کو کال کرنے کے لئے لیکن اسے ہمت نہیں ہو رہی تھی۔


اگلی صبح یشال کی آنکھ دس بجے کھلی اس نے سب سے پہلے موبائل دیکھا اسے یقین تھا کے رایان کی کال آئی ہو گی۔
لیکن موبائل بغیر کسی نوٹیفیکشن سے اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ہاسپٹل میں وہ رات رہ کر جاتا تھا لیکن پھر بھی اس وقت تک وہ دو بار کال کر کے پوچھ چکا ہوتا تھا ۔یشال کا دل افسردگی سے بھر گیا۔
رایان شاور لے کر نکلا تو اس نے اپنا سیل فون اٹھایا تو ماشہ کی مسڈ کال آئی ہوئی تھی ۔وہ جلدی میں تھا اس لئے آفس کے لئے نکل گیا ۔وہ آفس میں پہنچا تو میگی نے اسے بتایا کے ناشہ اس کے آگس میں اس کا انتظار کر رہی ہے۔

آفس میں داخل ہو کر اس نے ماشہ کو سلا م کیا اس کے سر پر بوسہ دے کر وہ اپنی سیٹ ہر بیٹھ گیا۔
کیسی ہو؟
ٹھیک ہوں ۔تم کیسی ہو؟
میں بھی ٹھیک ہوں۔
کدھر سے آرہے ہو ابھی؟
گھر سے۔وہ مختصر جواب دے رہا تھا وہ اس کے آنے کا مقصد جانتا تھا۔
سالار کی طرف نہیں گئے؟
نہیں!
کیوں !
ماشہ کوئی اور بات کرنی ہے میں نے ایک میٹنگ کے لئے نکلنا ہے۔
ٹھیک میں جا رہی ہوں لیکن رایان محبت میں انا نہیں ہوتی ۔وہ اس کا بھائی ہے وہ اسے انکار نہیں کر سکتی۔اسے تمہاری ضرورت ہے۔
مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔وہ جانتی ہے میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا اسی لئے دونوں بہن بھائی میری برداشت کا امتحان لے رہے ہیں ۔
رایان بعد میں بات کریں گے ابھی تم غصے میں ہو۔
آج کے بعد اس موضوع پر بات نہیں ہو گی۔
رایان وہ بہت بڑے حادثےسے گزری ہے۔

اب کی بار رایان ٹھنڈا پڑ گیا۔
اس کی تکلیف کا ہی اندازہ تھا ورنہ میں دیکھتا سالار اسے کیسے لے کے جاتا ہے۔
تم شام کو اس کے پاس جاؤ گے نہ۔
اور کہاں جاؤں گا وہ رہ سکتی ہے میرے بغیر لیکن میں نہیں رہ سکتا۔وہ بےبسی سے بولا۔
اب کی بار ماشہ مسکرا دی۔
چلو پھر میں چلتی ہوں۔
سنو تم گھر کیوں نہیں آئی؟ ادھر آفس میں چلی آئی۔
میں نہیں چاہتی تھی پھر تم میری وجہ سے ایک اور چھٹی کرو۔
اوکے وہ مسکرا دیا۔
اسے چھوڑنے پارکنگ تک آیا اور اسے گاڑی میں بٹھا کر پھر واپس گیا۔


یشال نے آج بہت دنوں کے بعد شاور لیا اس کے کپڑے رات کو ہی ڈرائیور لا کر دے گیا تھا وہ بہت غصے میں تھا لیکن پھر بھی اسےاس کی ضرورتوں کا خیال تھا۔یشال نے اس کے لائے ہوۓ کپڑوں میں سے ہی ایک پنک کلر کا گاؤن پہنا گیلے بال کھلے چھوڑ دئیے تھے۔وہ آکر لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ گئی جہاں اوپن کچن میں سالار ڈنر تیار کر رہا تھا ۔سالار نے ایک نظر یشال کے مسکراتے چہرے پر ڈالی اور پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔تبھی ڈور بیل کی آواز پر سالا ر اپنا کام درمیان میں ہی چھوڑ کر گیا ۔اس نے دروازہ کھولا تو آگے نیدی کھڑی تھی۔بلیک قمیض شلوار میں بلیک دوپٹہ گلے میں ڈالے سالار کی کچھ ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگا جو اس کے دروازہ کھولنے پر کنفیوژ سی لگ رہی تھی۔سالار دروازہ کھول کر ایک طرف کو ہٹ گیا۔نیدی اندر آئی اور یشال کی طرف بڑھ گئی۔
کیسی طبعیت ہے تمہاری؟
میں بہتر ہوں۔
نیدی نےکچن کی طرف جاتے سالار کی چوڑی پشت کو دیکھا جو بےنیاز سا واپس اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا۔

نیدی ایک لمبی سانس لی اور پھر سے یشال کی طرف متوجہ ہو ئی۔
رایان سر آۓ ہیں۔نیدی کی اس بات پر سالار نے اس ایک گھوری سے نوازا اس کے بس میں ہوتا تو ابھی اس لڑکی کو اٹھا کر باہر پھینک دیتا۔
یشال نے نفی میں سر ہلایا۔
تبھی دروازے پر دوبارہ سے بیل ہوئی سالار جانے کے لئے مڑا تو اس سے پہلے ہی نیدی کھڑی ہو گئی میں دیکھتی ہوں کو ن ہے۔
اس نے دروازہ کھولا تو آگے رایان تھا۔
ہیلو سر۔
ہیلو کیسی ہیں آپ؟
جی فائن سر وہ رایان سے ہمیشہ سے ہی بہت مرعوب تھی۔
وہ اندر آیا تو پہلی نظر یشال پر پڑی اور اسے اپنے لاۓ ہوۓ لباس میں ملبوس دیکھ کر وہ ساری خفگی بھول گیا۔
سالار کی نظر جب رایان پر پڑی تو اس کا ہلک تک کڑوا ہو گیا۔وہ جیسے کل یشال کو لے کر آیا تھا اس کا خیال تھا اب رایان جیسا انا والا بند ادھر کا رخ نہیں کرے گا ۔لیکن سالار یہ نہیں جانتا تھا کے جہاں محبت ہوتی ہے وہاں اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے۔
رایان نے یشال کو مخاطب نہیں کیا لیکن اس کے برابر آکر بیٹھ گیا۔اور اپنے موبائل میں بزی ہو گیا جبکہ یشال کا سارا دھیان اب اس کی طرف تھا کہ ابھی وہ کوئی بات کرے گا۔لیکن لگ رہا تھا رایان کے لئے اس وقت اپنے موبائل سے زیادہ ضروری اور کوئی چیز نہیں ہے۔
آخر یشال نے ہی بات کا آغاز کیا۔
کیسے ہیں آپ ؟
رایان کے ہاتھ ایک پل کے لئے رکے اس نے ابرو اٹھا کر یشال کو دیکھا اور طنزیہ بولا آپ کے سامنے ہوں ٹھیک ہوں تبھی یہاں ہوں۔
یشال کی برداشت ختم ہو گئی اس نے اس سے پہلے کبھی بھی اس سے ایسے بات نہیں کی تھی۔اسکی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہنے لگے۔
مجھے روتی ہوئی عورتیں بہت بری لگتی ہیں۔
یشال نے اسے شکایتی نظروں سے دیکھا ۔رایان کے دل کو کچھ ہوا ۔
لیکن آج وہ بہت بے رحم بنا ہوا تھا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا عورتوں کا بہترین مشغلہ ہے۔
اوکے اپنا خیال رکھنا میں چلتا ہوں۔
اللہ حافظ !یہ کہہ کر وہ یشال کی طرف دیکھے بغیر وہاں سے نکل گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️