Rooh E Rayan By Zarish Noor Readelle50110 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
ناول “”روح رایان””
از 🖋زرش نور
قسط نمبر ۲۲ لاسٹ ایپیسوڈ
رایان کے دونوں بازو پیچھے لے جاکر باندھ دئیے گئے۔زینے اترتے ہوۓ اسے احساس ہو گیا کے وہ اسے اسے بار تہہ خانے میں لے جا رہے ہیں ۔
نیچے لے جا کر اسے کرسی کے ساتھ باندھ دیا گیا۔یہاں پر تھوڑی تھوڑی روشنی تھی جینیفر نے لائٹ جلائی بہت تیز روشنی کی وجی سے رایان کی آنکھیں چندھیا گئیں ۔اسے روشنی سے مانوس ہونے میں تھوڑا وقت لگا۔
رایان نے دیکھا اس کے سامنے وکی بغیر شرٹ کے کرسی پر بیٹھا تھا اس نے ہاتھ میں بیلٹ اٹھائی ہوئی تھی۔وہ کسرتی جسم کا مالک تھا اسے دیکھ کے پہلا احساس یہی ہوتا تھا جیسے وہ ایک باڈی بلڈر ہے۔
اس نے چبھتی ہوئی نظروں سے رایان کی طرف دیکھا تمہارے بارے میں سنا تھا تم بہت شاطر آدمی ہو لیکن تم اتنی آسانی سے میرے چنگل میں پھنس گئے ۔یہ بات مجھے کچھ ہضم نہیں ہو رہی۔
رایان نے جینیفر کی طرف دیکھا۔جینیفر یہ تمہارا بواۓ فرینڈ ہے۔رایان نے وکی کے سوال کا جواب دینے کی بجاۓ جینیفر سے سوال کیا۔
جینیفر نے رایان کے سوال کا جواب دینے کی بجاۓ وکی سے مخاطب ہوئی۔
وکی کام ختم کرو اس کا پھر ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔
وکی نے اثبات میں سر ہلایا۔
رایان حیدر تم اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤ گےخود ہی یا پھر دوسرا طریقہ استعمال کریں۔
پہلے تم لوگ اپناتعارف تو کرواؤ تم لوگ ہو کون؟؟
ہم جو بھی لیکن تمہارے دوست تو نہیں ہیں بس تمہارے لئے اتنا جاننا کافی ہے ۔
اوکے جیسےمرضی تم لوگوں کی۔اتنی دیر میں رایان کرسی سے باندھی گئیں رسیاں کھول چکا تھا۔ہاتھوں پہ باندھی رسیاں تو اندھیرا کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ اس نے پہلے ہی کھول لیں تھیں۔
اوکے جیسے تمہاری مرضی رایان حیدر ہم تمہارے بارے میں تمام معلومات ہم حاصل کر لیں گے لیکن افسوس تب تک تم اس دنیا میں نہیں ہو گے۔
اس کے ساتھ ہی وکی نے اپنی سائلنسر لگی پسٹل نکالی اور رایان کے سر کا نشانہ لیا لیکن اس سے پہلے ہی رایان اس کے ہاتھ سے پسٹل جھپٹتے ہوۓ اس سے تھوڑا فاصلے پر موجود تھا۔یہ سب کچھ بس کچھ سیکنڈز میں ہوا تھا۔رایان نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی اپنے ہاتھ میں موجود رسی وکی کے ہاتھوں پر پھینکی اور کھڑے ہو کر گرتی ہوئی پسٹل کیچ کر لی۔
رایان نے پسٹل ہاتھ میں آتے ہی اپنے کان پر ہاتھ رکھا اور بولا “اندر آ جاؤ۔”
وکی اور رایان اس کی بات پر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
اب وکی سر آپ زرا یہ سیٹ سنبھالیں اس نے پسٹل کے ساتھ اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
اور ساتھ ہی زینے سے نیچے سالار آیا اس نے آتے ہی وکی کو دھکیل کر کرسی پر بیٹھایا اور پسٹل نکال کر بولا۔
رایان وقت نہیں ہے جلدی سے ان کا کام تمام کرو ۔
وکی بالکل بے بس ہو گیا وہ ان دو کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اس نے اپنے ملک کے ساتھ وفاداری کو ترجیح دی اور اپنے منہ میں موجود کیپسول نگل لیا۔اگلے ہی پل وہ تڑپتا ہوا نیچے گرا اور اس کے منہ سے جھاگ سی نکلی اور وہ دار فانی سے کوچ کر گیا۔
رایان اب کی بار جینیفر کی طرف مڑا۔
جو کے ڈری سی ایک سائیڈ پر کھڑی تھی۔
رایان ختم کرو اس لڑکی کو اور نکلو یہاں سے۔رایان نے سالار کی طرف دیکھا ۔
نہیں سالار اس کا اس کے حال پر رہنے دو زندگی کے میدان میں دوبارہ کبھی اگر یہ ہمارے راستے میں آئی تو اس کا پکا انتظام کروں گا۔
تم ہوش میں ہو رایان؟؟
جی سالے صاحب ہوش میں ہوں۔
کیا ہے کے میری بیوی جو ہے نہ اس کے حسن سے بہت متاثر ہوئی ہے۔اس لئے میں اسے چھوڑ رہا ہوں ۔
تم پاگل ہو رایان !یہ کہہ کر سالار دھپ دھپ کرتا وہاں سے نکل گیا۔
آج سالار اور رایان پورے ایک ماہ کے بعد کشمیر سے واپس پاکستان لوٹے تھے ۔ان دونوں نے ہیڈ کوارٹر میں اپنی رپورٹ پیش کی اور پھر اپنے گاؤں کی طرف چل پڑے ۔
رایان اور سالار حویلی میں پہنچے تو حویلی روشنیوں میں نہائی ہوئی تھی ۔رایان اور یشال کی ولیمے کی تقریب رکھی گئی تھی۔
رایان کو دھچکا تب لگا جب اسے اس کے کمرے کی بجاۓ مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا۔
رایان تلملا کر رہ گیا لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
دوسرادن شام میں ریان اور یشال کی دعوت ولیمہ کی تقریب حویلی کے صحن میں رکھی گئی ۔جس میں صرف قریبی عزیزوں مدعو کیا گیا۔ یشال کو رایان کے برابر لا کر بٹھایا گیا تو رایان نے بہت کوشش کی کے وہ یشال کی ایک جھلک دیکھ سکے لیکن اس کا بڑا سا گھونگھٹ نکالا گیا تھا اور ساتھ میں فارحہ سنتری کے فرائض ادا کر رہی تھی۔
آخر اللہ اللہ کر کے رات کو بارہ بجے سب مہمانوں سے فارغ ہو کر رایان اپنے کمرے کے پاس پہنچا تو وہاں ایک اور امتحان تھا ابھی جہاں فارحہ کچھ دوسری کزنز کے ساتھ دروازے میں ایستادہ تھی۔
بھیا اگر کمرے میں جانا ہے تو پہلے میرا نیگ نکالو ساتھ ہی پتہ نہیں کس کونے سے ماشہ اور مازیہ بھی نکل آئیں ۔
جی اور ہمارا بھی رایان نے حیران ہو کر ماشہ کو دیکھا۔
ماشہ تم میری طرف نہیں ہو؟؟
نہیں رونی آج تو میں کسی ایک طرف بھی نہیں ہوں آج میں اپنی طرف ہوں۔
رایان نے اس کی بات پر مسکراتے ہوۓ پاکٹ سے کارڈ نکالا اور فارحہ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
سب نے حیران ہو کر رایان کی طرف دیکھا ۔اور ماشہ بولی رونی کنگال ہو جاؤ گے۔
وہ بولا اب تو راستہ چھوڑ دو ۔
وہ لاگ جلدی سے راستے سے ہٹ گئیں وہ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے مڑا بات سنو تم لوگ یہ صدقہ ہے میری بیوی کا جس کی حقدار تم لوگ ٹھری ہو۔
وہ تینوں اشتعال کے ساتھ رایان کی طرف بڑھیں لیکن رایان اس سے پہلے ہی وہاں سے غائب ہو چکا تھا۔
ؔؔؔؔؔؔؔ**
وہ کمرے میں دخل ہوا تو پورے کمرے میں گلاب کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
رایان بے قرار ہو کر بیڈ کی طرف بڑھا اور ساتھ ہی یشال کا گھونگھٹ الٹ دیا۔وہ ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے میں قیامت لگ رہی تھی۔
یار مجھے بیچارے کو قتل کرنا کا ارادہ ہے کیا۔
اس کی بات پر یشال نے پلکیں اٹھا کر را یان کو دیکھا اور مسکرا کر بولی آپ تو ہماری زندگی ہیں آپ کی جان ہم لےسکتے ہیں۔
ی
رایان نےُاس کی کلائیوں میں کنگن ڈالے اور یشال کے دونوں ہاتھ چوم لئے۔
اگر تو وجہ نہ پوچھے تو ایک بات کہوں
بن تیرے اب ہم سے جیا نہیں جاتا
اورآج رایان حیدر مکمل ہوگیا تھایشال کا ساتھ پا کر۔
The end
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
