Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ناول “” روح رایان””
از🖋زرش نور
قسط نمبر ۱۱

یشال آج گھر سے تو ماشہ کے گھر کے لئے نکلی تھی ۔لیکن تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد گاڑی میں کوئی خرابی ہو گئی۔ڈرائیور گاڑی سے نیچے اترا تو اس کے ساتھ ہی یشال بھی گاڑی سے اتر آئی ۔جب تک ڈرائیور گاڑی ٹھیک کرتا یشال اپنے آس پاس دیکھنے لگی ۔روڈ کے دونوں اطراف قد آوردرخت تھے ہوا کے زور سے درختوں کے پڑپڑانے سے بہت ہی ڈراؤنی آواز پیدا ہو رہی تھی ۔یشال کو خوف سامحسوس ہوااس نے اپنے آس پاس سے دھیان بٹانے کے لئے سالار کا نمبر ملایا ۔
تھوڑی دیر کے بعد ماؤتھ پیس سے سالار کی خوشگوار آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
کیسی ہو گڑیا؟
میں ٹھیک ہوں ۔آپ کیسے ہیں؟
میں بھی ٹھیک ہوں۔کیا ہو رہا ہے؟

کچھ نہیں ماشہ کے گھر کے لئے نکلی تھی لیکن راستے میں گاڑی خراب ہو گئی ہے۔
کہاں ہو میں لینے آ جاؤں؟سالار کی فکرمندی میں ڈوبی آواز سنائی دی۔
نہیں بھیا ڈرائیور ہے ۔
تم رونی کو بتا کر نکلی ہو گھر سے؟
نہیں بھیا ! میں ماشہ کے گھر جا رہی ہوں تو بتانا کیسا۔
بتا کر اور پوچھ کرجایاکرو یشال ۔
اوکے جی آئندہ سے پوچھ کے جایا کروں گی۔
تبھی یشال کے پاس سے ایک گاڑی تیز رفتاری سے گزری اور تھوڑا آگے جا کر رک گئی۔تبھی یشال کو احساس ہوا کے وہ یہاں اکیلی ہے اس نے ڈرائیور کو تلاش کرنے کے لئے نظریں دوڑائی لیکن وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا۔یشال کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑ گئی۔اس نے دیکھ دور تک روڈ بالکل خالی تھی ہوا کے زور سے درختوں کا شور سائیں سائیں کی آواز ماحول کو کچھ اور پراسرار بنا رہی تھی۔
تبھی یشال نے آگے کھڑی گاڑی سے ایک آدمی کو نکلتے دیکھا اس نے منہ پر مکمل سیاہ ماسک چڑھایا ہوا تھا۔
اسے دیکھ کر یشال لڑکھڑا کر الٹے قدموں چلنے لگی۔
دوسری سائیڈ پر سالا ر ماؤتھ پیس پر پاگلوں کی طرح ہیلو ہیلو کر رہا تھا لیکن یشال کے ہاتھ سے موبائل گر چکا تھا۔
نقاب پوش شخص تیزی سے یشال کی طرف بڑھ رہا تھا یشال نے اسے بڑھتا دیکھا تو اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے دوسری سمت میں بھاگنا شروع کر دیا۔سیاہ میکسی کے ساتھ سر پر سفید حجاب کیے شانوں کے گرد بڑی سی سیاہ چادر لپیٹے وہ پاگلوں کی طرح بھاگ رہی تھی لیکن تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ کسی وجود کے ساتھ ٹکرائی اس نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو وہ اس کا ڈرائیور تھا جو کمینگی سے مسکرا رہا تھا۔
ؔ**
سالارموبائل پر ہیلو ہیلو کرتا ہوا رایان کے پاس پہنچا جو کے میٹنگ روم میں تھا ۔رایان جلدی باہر آؤ ضروری بات کرنی ہے۔
رایان نے سالار کے چہرے پر پریشانی اور فکرمندی دیکھی تو جلدی سے باہر آ گیا۔
سالار نے رایان کو سب کچھ بتایا تو رایان اپنے آفس کی طرف بھاگا جلدی سے اپنا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھائی اور بھاگتا ہوا لفٹ میں داخل ہوا ساتھ ہی اس نے پولیس کو بھی کال کی ۔گاڑی میں بیٹھ کراس نے اندھ دھند گاڑی ماشہ کے گھر کی طرف جانے والے راستے پر ڈال دی ۔سالار ہونٹ بھینچے بیٹھا تھا بار بار اپنے موبائل کو بھی دیکھ رہا تھا۔
بلیک مرسڈیز فراٹے بھرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔گاڑی میں موجود دونوں افراد کی جان جس میں تھی اس کی سانسیں ٹوٹ رہیں تھی۔
آخر بیس منٹ کی مسافت کے بعد انہیں گاڑی تو مل گئی لیکن گاڑی کے آس پاس کسی زی نفس کا نام ونشان نہیں تھا۔سالار نے اونچی آواز میں یشال کو پکار رہا تھا۔

آخر کوئی آواز نہ پا کر وہ پنجوں کے بل نیچے بیٹھ گیا اور چھوٹے بچوں کی طرح اس نے رونا شروع کر دیا۔
رایان ہونٹ بھینچے ضبط سے سرخ آنکھیں لئے اپنے اطراف میں دیکھ رہا تھا۔وہ گاڑی کی پچھلی سائیڈ کی طرف گیا تو ٹھٹھک کر رک گیا گاڑی سے تھوڑا سا فاصلے پر اسے خون نظر آیا جیسے کسی کو زبح کیا گیا ہو۔وہ وس سمت بھاگا لیکن تھوڑا سا آگے جا کر نشان ختم ہو گئے تھے۔وہ واپس اسی جگہ پر پہنچا اور آہستہ آہستہ گاڑی کی طرف بڑھنے لگا گاری کی ڈگی سے بلیک چادر کا کونہ باہر نکلا ہوا تھا۔رایان نے کانپتے ہاتھوں سے ڈگی کھولی تو اندر کا منظر دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔خون میں لت پت نیم مردہ حالت میں پڑی تھی وہ اس کا گلے کسی تیز دھار آلے سے کاٹا گیا تھا۔رونی نے آگے بڑھ کر اسے جلدی سے اپنے بازو پر اٹھا لیا اور اپنی گاڑی کی طرف بھاگا۔اس نے چیخ کر سالار کو بلایا سالار بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا گاڑی کی پچھلی سیٹ پر اسے ڈال کر وہ ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بھاگا۔سالار جب گاڑی میں بیٹھا تو یشال کی حالت دیکھ کر سکتے میں چلا گیا پھر اسے بازو میں بھر کر پاگلوں کی طرح رونے لگا۔یشی آنکھیں کھولو اپنے بھیا سے بات کرو نہ تھوڑی دیر پہلے تو تم بالکل ٹھیک تھی یشی …..یشی پتر…..
اس کی حالت پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔


سالار آئی سی یو کے باہر بینچ پر ٹوٹا بکھرا بیٹھا تھا ماشہ عفان نیدی گرپیت اور حسن بھی موجود تھا ۔سب کے ہونٹوں پر بس اس کے لئے دعا جاری تھی۔

لیکن اگر یہاں کوئی نہیں تھا تو وہ تھا رایان حیدر اس نے یشال کو ڈاکٹرز کے سپرد کیا اور کھڑا تھوڑی دیر دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔


مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص تھا
مرشدوہ ایک شخص بھی تقدیر لے اڑی

رایان اس وقت مسجد میں بیٹھا تھا اس نے نماز ادا کی اور پھر دعا کےلئے ہاتھ اٹھاۓ
اے میرے غفور ورحیم رب حضرت موسی علیہ سلام اور ان کی قوم کو فرعون سے بچانے والے رب حضرت یوسف علیہ سلام کو کنویں میں محفوظ رکھنے والے رب حضرت یونس علیہ سلام کو مچھلی کے پیٹ میں محفوظ رکھنے والے رب حضرت عیسی علیہ سلام کو زندہ اوپر اٹھا لینے والے رب پتھر میں کیڑے کو خوراک پہنچانے والے رب ساری زندگی کے گناہوں کو ایک توبہ پر معاف کر دینے والے رب اے میرے اب تو بہت غفور و رحیم ہے تیری بارہ گاہ رحمت میں کسی چیز کی کمی نہیں اے میرے رب میں تجھ سے اس کی زندگی مانگتا ہوں میرے رب میرے گناہوں کی سزا مجھے اس کی صورت میں نہ دینا ۔اسے کوئی ہوش نہیں تھا وہ کتنے گھنٹے مسجد میں بیٹھا رہا۔
صبح کی نماز پڑھ کر وہ مرے قدموں کے ساتھ ہاسپٹل میں داخل ہوا تو سب سے پہلے ماشہ نے اسے خوشخبری سنائی کے وہ اب ٹھیک ہے۔ڈاکٹرز نے بتایا ہے کےوہ اب خطرے سے باہر ہے۔


❤️❤️❤️❤️❤️❤️🖋🌄🌄