Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ناول “” روح رایان””

از 🖋زرش نور

قسط نمبر ۱۶

یشال کی آنکھ کھلی تو اس نے محسوس کیا اس کا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں ہے۔وہ گھبرا کر جلدی سے اٹھی لیکن اس کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ کسی کی بانہوں میں تھی ۔یشال کو لگا اس کی سانس رکنے لگی ہے اس نے ہمت کر کے دوسری طرف موجود انسان کے چہرے سے لحاف ہٹایا تو حیرت زدہ رہ گئی۔وہ کافی دیر اس کے چہری کو دیکھتی رہی اس نے آنکھیں موندی ہوئیں تھیں۔

نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا۔اس نے آنکھیں بند کیے بھی اس کی نظروں کی تپش محسوس کر لی تھی۔

اس کی بات سن کر یشال نے جلدی سے اپنی پلکوں کی جالر گرا دی۔وہ اسے کیسے بتاتی کے اس نے کتنی بار خواب میں دیکھا کے وہ اس کے اتنے ہی قریب ہے۔

رایان نے آنکھیں کھولی تو وہ اپنی سوچوں میں گم تھی ۔رایان نے اپنی گرفت ڈھیلی کی اور اسے آزاد کر دیا۔یشال تھوڑی دیر اسے دیکھتی رہی اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ گئی ۔اس نے اٹھ کر ایک بار پھر رایان کی طرف دیکھا کیوں کہ اس کا دوپٹہ سامنے صوفے پر پڑا تھا اور اسے رایان کے سامنے بغیر دوپٹے کے بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔وہ جلدی سے اٹھی اور بھا گنے کے انداز میں اپنے دوپٹے کے پاس پہنچی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو رایان اسے ہی دیکھ رہا تھا۔یشال اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی ہو گئی اور واش روم میں گھس گئی۔
رایان نے مطمئن ہو کر پھر سے آنکھیں موند لیں ۔یشال نے رایان کی پسند کی مطابق وائٹ کلر کی قمیض ساتھ وائٹ ہی ٹراؤز اور ساتھ بڑا سا بلیو کلر کا دوپٹہ رکھا۔وہ فریش ہو کر باہر آئی تو تب بھی رایان کی آنکھیں بند تھی یشال نے سوچا وہ سو رہا ہے تو وہ باہر نکل گئی۔
گھر میں سب بہت خوش تھے اس کے آنے کا سن کر دادا جی چاچی فاریہ سب بہت خوش تھے لیکن وہ نہیں جانتے تھے کے رایان حیدر اتنی جلدی معاف کرنے والوں میں سے نہیں ہے۔

وہ سب لوگ لاؤنج میں اس کا انتظار کر رہے ۔تبھی وہ سیڑھیوں سے اترتا دیکھائی دیا۔بلیک قمیض شلوار پر ہاف وائٹ شادر رکھے بڑی متانت سے چلتا ہوا نیچے آیا۔
رومانہ بیگم فاریہ کھڑی ہو گئیں اس نے پاس آ کر دونوں کو سلام کیا۔
تبھی سالار اس کے قریب آیا رایان یہ میرے دادا جان ہیں اور تمہارے بھی ۔رایان نےے سالار کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

رایان تم میرے چاچو کے بیٹے ہو مجھے یہ بات اس دن تمہارے آفس میں پتہ چلی تھی جب میں پہلی بار تمہارے آفس گیا تھا۔
رایان کی آنکھوں میں لگ رہا تھا خون اتر آیا ہے۔
یشال تم میرے ساتھ چل رہی ہو ؟
یشال نے جلدی سے سالار کی طرف دیکھا۔
سالار نے اسے اثبات میں سر ہلایا اور یہ بات رایان سے چھپی نہیں رہی۔
علی حسن صاحب رایان کو روکنے کے لئے آگے بڑھے لیکن سالار نے انہیں روک دیا۔
دادا جان وہ ابھی غصے میں ہے۔
سالار نے یشال کو اشارے سے جلدی سے جانے کے لئے بولا۔
وہ باہر آئی تو ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی ہوئی تھی ۔رایان کو اس پر یشال پر بھی بہت غصہ تھا کہ آج بھی وہ سالار کی اجازات کے بغیر اس کے ساتھ نہیں آئی۔
وہ گاڑی میں بیٹھی تو رایان نے سرخ آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔تمہارا پاسپورٹ تمہارے پاس ہے۔
یشال نے اثبات میں سر ہلایا وہ اس کی آنکھوں سے خائف ہو رہی تھی ۔جن میں اس کی لئے بھی بہت غصہ تھا۔

وہ سیدھا ہوٹل آیا وہاں سے اس نے فون پر سیٹیں بک کروئی انہیں شام سات بجے کی فلائٹ میں سیٹیں ملیں تھی۔
یشال بیڈ کے ایک کونے پر بیٹھ گئی ۔رایان نے چادر گلے سے نکال کر بیڈ پر پھینکی ۔وہ غصے میں کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔
یشال خائف سی چپ چاپ بیٹھی رہی۔
رایان نے ایک قہر بھری نظر یشال پر ڈالی۔اسے اس وقت بہت غصہ تھا اگر اس وقت وہ کوئی بات اس سے کرتی تو پتہ نہیں اس نے کیا کرنا تھا ۔لیکن وہ بالکل خاموش تھی۔
ؔ****
صبح کے چار بجے وہ لوگ ائیرپورٹ پہنچے ۔گھر پہنچتے پہنچتے انہیں پانچ بج گئے۔
گھر پہنچ کر یشال نماز پڑھنے کے لئے کمرے میں چلی گئی ۔رایان لاؤنج میں بیٹھا سیگریٹ پہ سیگریٹ پیتا رہا۔
یشال نماز پڑھ کر آئی تو اس کے ہاس بیٹھ کر اس کے ہاتھ سے سیگریٹ لینا چاہا رایان نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔یشال نے ہمت کر کے دوبارہ ہاتھ بڑھایا تو اب کی بار رایان ہاتھ نہیں جھٹک سکا۔اس نے شکایتی نظروں سے یشال کو دیکھا۔
سوری ! یشال نے بےچارگی سے کہا وہ جانتی تھی وہاس وقت بہت تکلیف میں ہے۔
رایان نے اسے گلے لگا لیا۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔
رایان نے دروازہ کھولا تو سامنے ملازم کھڑا تھا۔
سر سیکیورٹی والے بتا رہے ہیں باہر پولیس آئی ہے۔
رایان نے انگلی سے اپنی پیشانی مسلی اور دروازہ بند کر کے واپس یشال کے پاس آیا۔
دیکھو پریشان نہ ہونا میں جلدی واپس آؤں گا اور کچھ بھی ہو جاۓ گھر سے باہر نہیں نکلنا اس نے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔


اس وقت تمام ٹی وی چینلز پر ایک ہی نیوز چل رہی تھی ۔مشہور بزنس مین رایان حیدر کو قاتلانہ حملے کے شبے میں گرفتا ر کر لیا گیا ہے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️