Rooh E Rayan By Zarish Noor Readelle50110 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
ناول “”روح رایان””
از قلم زرش نور
قسط نمبر ۱۸
جج صاحب نے رایان کو با عزت بری کر دیا جب کے اگلی پیشی میں موری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ۔احمر پر فرد جرم عائد کرتے ہوۓ اسے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا۔
احمر جب عدالت سے باہر نکلا تو راہداری میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ رایان کھڑا تھا۔
اس کے پاس سے گزرتے ہوۓ احمر رکا اور بولا رایان حیدر تیار رہنا میں واپس آؤں گا۔
رایان نے ایک ابرو اٹھا کر رایان کی طرف دیکھا اور اس کے اور اپنے درمیان موجود دو قدموں کا جو فاصلہ تھا اسے ختم کرتے ہوۓ بولا احمر عدیل خان اس بار میں نے کچی گوٹیاں نہیں کھیلی ۔میں تمہیں جیل کی سلاخوں سے باہر آنے دوں گا تو تم کچھ کرو گے۔
پولیس احمر کو لے کر آگے بڑھ گئی۔رایان بھی باہر نکل آیا اس نے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوۓ پولیس انسپکٹر کو وکٹری کا نشان بنایا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔
رایان گھر پہنچا تو لاؤنج میں ہی یشال کو بیٹھا پایا۔رایان نے ملازمہ کو پانی لانے کے لئے بولا اور خود یشال کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔
رایان نے یشال کی طرف دیکھا تو وہ رایان پر نظریں جماۓ بیٹھی تھی۔
کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے ؟ رایان نے مذاق میں کہا۔
نہیں دیکھ رہی ہوں دھوکے باز لوگوں کے چہرےکیسے ہوتے ہیں؟
یشال ! رایان کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا۔
کیوں ! شوکڈ ہو گئے۔یشال نے ہنستے ہوۓ کہا۔اس کی آواز میں ایک کاٹ تھی۔
تم اس وقت ہوش میں نہیں ہو۔۔
ہوش میں تو میں ابھی آئی ہوں۔۔
کیا دھوکہ کیا ہے میں نے تمہار ے ساتھ۔
رایان یہ بات کرتے ہوۓ بھول گیا کے اس نے اس رشتے کی بنیاد ایک دھوکے پر رکھی ہے۔
میں شادی کے ان سات مہینوں میں آپ کے سامنے نظریں نہیں اٹھا سکی کے آپ میرے محسن ہیں۔میں ایک ایسی لڑکی ہوں جس کی بارات نہیں آئی اور آپ جیسے مہان آدمی نے مجھ سے شادی کر کے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔اور ۔۔۔۔۔۔۔آج مجھے پتہ چلا ہے کے وہ احسان نہیں وہ تو دھوکہ تھا ۔کھیلے ہیں آپ میری زندگی کے ساتھ اتنے لوگوں کی موجودگی میں آپ تھے وہ جنھوں نے میرا اور میرے بھائی کا سر جھکایا تھا۔
دیکھو یشال میں اس سب کے لئے تم سے اور سالار دونوں سے معافی مانگتا ہوں۔
لیکن میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا میں تمہیں کسی اور کاہوتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتا تھا۔وہ اٹھ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا یشال کے پاس پہنچا۔ اس نے یشال کے ہاتھ پکڑنے چاہے۔
یشال نے بہت زور سے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے۔
رایان نے ایک کوشش اور کی اور پھر سے اسے کندھوں سے تھامنا چاہا۔
مجھے اپنے یہ منحوس ہاتھ مت لگانا مسٹر رایان۔۔
اب کی بار رایان کے ماتھے پر سلوٹیں بڑھی ۔اس نے دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے۔۔۔آچھا نہیں تو تم کیا کر لوگی۔
میں ابھی کے ابھی جا رہی ہوں یہاں سے۔
آچھا کہاں جاؤ گی!!رایان اب کی بار صوفے پر بیٹھ گیا۔
جہاں بھی جاؤں گی آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ کہہ کر وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی اپنا سامان لینے کے لئے۔
اور وہ نہیں جانتی تھی کے رایان بھی یہی چاہتا تھا کے وہ کمرے میں جاۓ۔
اس کے کمرے میں جانے کے بعد رایان بھی اس کے پیچھے کمرے میں پہنچا۔وہ زور وشور سے الماری سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ میں ڈال رہی تھی۔رایان نے اپنی واچ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ۔پھر شوز اتارنے کے لئے صوفے پر بیٹھ کر اور ساتھ ساتھ یشال کی کاروائی بھی ملاحظہ کر رہا تھا۔
ویسے اتنا بھاری بیگ تم لے کے کیسے جاؤ گی۔اس وقت کوئی گاڑی مل جاۓ گی۔کیونکہ میں تو بہت تھکا ہوا ہوں اور باقی ڈرائیور تو اس وقت گھر میں کوئی نہیں ہے۔
رایان نے بہت سوچتے ہوۓ یشال سے سوال کیا۔
یشال نے دانت پیس کر رایان کو دیکھا لیکن بولی کچھ نہیں ۔
رایان آگے بڑھا اور جا کر الماری کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا ۔جس میں سے یشال کپڑے نکال رہی تھی اور غور سے یشال کو دیکھنے لگا۔
یشال اس کی نظروں سے کنفیوژ ہونے لگی۔مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ ہٹیں یہاں سے۔
میں کیوں ہٹوں ۔
اپ کہیں اور دیکھیں مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں۔
رایان نے اس کی اس بات پر بہت مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی ۔
وہ تپی تپی سرخ چہرہ لئے دونوں ہاتھوں کی ل انگلیوں کو باہم پھنساۓ جا کر بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی۔
رایان نے اس کے پاس جا کر اس کا بیگ اٹھا کر نیچے رکھا اور اس کے پاس اپنے لئے جگہ بنائی۔
یشال نے جلدی سے اٹھنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی اس کا بازورایان کے ہاتھ میں تھا۔رایان نے اسے کھینچ کے واپس پہلے والی جگہ پر بٹھایا۔
دیکھو یشال میں جانتا ہوں میں نے غلط کیا ہے۔لیکن اس وقت مجھے یہ سب کچھ صیح لگ رہا تھا۔پھر بھی میں تم سے معافی مانگتا ہوں اور میں سالار سےبھی معافی مانگوں گا۔اور بھی جس کسی سے تم کہو گی اس سے بھی ۔
اب کی بار اس نے یشال کا کھلتا ہوا چہرہ دیکھا ۔اور وہ پہلے سے جانتا تھا کے وہ کیا کہنے والی ہے۔
وہ پوری اس کی طرف مڑی! ٹھیک ہے میں آپ کو معاف کر دوں گی لیکن اس سے پہلے آپ کو میری بات ماننی پڑے گی ۔
بولو۔۔ وہ نہیں جانتی تھئ کے سامنے بیٹھا ہوا شخص کوئی عام آدمی نہیں تھا ۔وہ کڑوڑں کا بزنس کرتا تھا ۔اور مول تول میں تو وہ کسی کو بھی آگے نہیں ہونے دیتا ۔لیکن یہاں وہ مجبور تھا کیونکہ یہ اس کی کوئی بزنس ڈیل نہیں تھی بلکے اس کی محبوبہ بیوی کی خوشی تھی جو اس کی روح میں بستی تھی۔
یشال نے رایان کی طرف دیکھا۔پھر آپ کو دادا جی اور چاچو کو معاف کرنا پڑے گا۔ چاچو تو اب اس دنیا میں ہی نہیں ہیں انہیں چار سال ہو گئے ہیں فوت ہوۓ ۔
اس کی پہلی بات رایان کی سوچ کے مطابق تھی اس کی دوسری بات سن کر رایان کو دھچکا لگا۔اس کا باپ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔اس کی آنکھ سے آنسو خودبخود نکلنے شروع ہو گئے اور وہ نہیں جانتا تھا کے جس شخص سے ساری زندگی نفرت کا رشتہ جوڑتا رہا آج اس کے مرنے کا سن کر دل کیوں دکھا تھا۔وہ اٹھا اور ٹیرس کی طرف بڑھ گیا۔اس نے اپنے آنسؤں کو بہنے دیا۔
تھوڑی دیر کے بعد یشال باہر آئی رایان نے اسے دیکھ کر اپنے آنسو صاف کر لئے لیکن وہ اس کے آنسو پہلے ہی دیکھ چکی تھی۔وہ آ کر خاموشی کے ساتھ رایان کے سینے سے لگی اور اسے اپنی طرف سے ایک حوصلہ دیا سالار نے بھی اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️😍😍😍
