Rooh E Rayan By Zarish Noor Readelle50110 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ناول “”روح رایان””
از 🖋زرش نور
قسط نمبر ۱۲
حد درجہ طوفان خیزی ،دل میں امڈ کر آنے والے شدید پر خوف،ہراساں کر دینے والے اندیشوں سے بالآخر اسے چھٹکارا حاصل ہوا۔وہ اپنی اندرونی کیفیات پر قابو پا کر آگے بڑھا اور آئی سی یو کے دروازے کے شیشے کے پار اسے دیکھنے لگا جو مختلف مشینوں میں جکڑی ہوئی تھی ۔رایان کی بائیں آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور اس کی ہلکی سی شیو میں کہیں چھپ گیا۔ماشہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو رایان نے اس کی طرف دیکھا ماشہ نے اسے تسلی دینے والے انداز میں سر ہلایا۔رایان نے ماشہ کواپنےبازوں کےحلقے میں لے لیا۔
پورے دو دن کے بعد وہ ہوش میں آئی تھی
لیکن وہ ابھی کچھ بھی کھا پی نہیں سکتی تھی وہ بول بھی نہیں رہی تھی۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا کے اسے بولنے میں تکلیف ہوتی ہے اور جب تک اس کا زخم صیح سے تیار نہیں ہو جاتا وہ ہاسپٹل میں ہی رہے گی۔
رایان جب بھی اس کے سامنے جاتا تو اسے محسوس ہوتا جیسے وہ اسے پہچانے کی کوشش کر رہی ہے۔سالار کے ساتھ اس کا رویہ نارمل تھا لیکن باقی سب کو اجنبی نظروں سے دیکھتی تھی۔
ہاسپٹل میں ایک دن سالار اس کے ساتھ رات کو رکتا تھا اور ایک رات رایان باقی سب بھی آتے رہتے تھے حسن اس دن کے بعد پھر نہیں آیا۔آج بھی رایان گھر سے سوپ وغیرہ لے کر ہاسپٹل پہنچا ڈاکٹرز نے اب اسے تھوڑا تھوڑا کھانے کے لئے کچھ دینے کو کہا تھا اس لئے وہ گھر سے اس کے لئے اس کی پسند کی چیزیں لے کر آتا تھا لیکن وہ بہت کم ہی کھاتی تھی۔
کیسی ہو ؟ رایان نے اس کے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔
اس نے گردن اثبات میں ہلا دی۔
بس جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ پھر ہم اپنے گھر چلیں گے۔
سالار نے رایان کو آتے دیکھ کر پہلے ہی یشال کے سر کا بوسہ لے کر وہاں سے نکل گیا تھا۔رایان کے ساتھ اس کی بات چیت ابھی بھی بند تھی۔رایان آفس سے سیدھا ادھر ہی آیا تھا باقی کھانے کی چیزیں اسے ڈرائیور نے لا کر دی تھیں ۔وہ واش روم سے وضو کر کے باہر نکلا اور جاۓ نماز بچھا لی وہ اب تسلسل سے نماز ادا کرتا تھا۔یشال اسے بہت غور سے اسے نماز پڑھتا دیکھتی رہی تھی۔اس نے بھی اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر لیا تھا۔جاۓ نماز فولڈ کرتے ہوۓ رایان نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے نظریں پھیر لیں ۔وہ ہلکا سا مسکرایا اور کرسی گھسیٹ لر اس کے پاس بیٹھ گیا اس نے اس کا ہاتھ پکڑا تو یشال نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور غصے سے رایان کی طرف دیکھا۔وہ اکثر اس کے ساتھ ایسے ہی اجنبیوں والا برتاؤ کرتی تھی۔رایان مسکرا کر پیچھے ہو گیا اس نے ایک پیالے میں سوپ ڈالا اور واپس پہلے والی جگہ پر آ کر بیٹھ گیا اس نے چمچ میں سوپ بھر کر اس کی طرف بڑھایا تو اس نے غور سےاس کی طرف دیکھا اور سوپ پی لیا وہ ساتھ رومال سے اس کا منہ بھئ صاف کرتا جا رہا تھا۔
رایان نے ہاسپٹل میں اس کے لئے سخت سیکیورٹی کا انتظام کیا تھا کوئی بھی شخص دروازے کے باہر کھڑے گارڈز کی چیکنگ کے بغیر نہیں آ سکتا تھا۔وہ جان گیا تھا کے اس سب کے پیچھے جو بھی تھا وہ یشال کی زریعے اسے تکلیف دینا چاہتا تھا۔رایان یشال کے ٹھیک ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔اس کے بعد اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کے وہ بہت برا حال کرے گا ان لوگوں کا جن لوگوں نے اس کی یشال کی اس حالت کے زمہ دار تھے وہ انہیں پاتال سے بھی ڈھونڈ کر نکال لے گا۔اپنی سوچوں میں گم اسے پتہ ہی نہیں چلا کب اس کی آنکھ لگ گئی وہ اسی چئیر پر سو گیا۔رات کو بےآرامی کی وجہ سے اس کی آنکھ کھلی تو اس کی پہلی نظر یشال پر ہی پڑی وہ بڑی فرصت سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔رایان کے مسکرانے پر اس نے نظریں پھیر لیں۔
اس کے گلے کی پٹی روزانہ چینج ہو رہی تھی رایان نے دیکھا زخم باہر سے تیار ہو گیا تھا لیکن اس کی گردن پر نشان ایسے تھا جیسے گلے پر ہار بن گیا ہو وہ اپنی گردن کو ادھر ادھر نہیں موڑ سکتی تھی ۔آج سنڈے تھا تو سب لوگ ہی ہاسپٹل میں اس سے ملنے آۓ تھے سالار اس کے ساتھ بیڈ پر ہی بیٹھا ہوا تھا۔ماشہ عفان مغداد گرپیت نیدی رایان سب اس وقت ہاسپٹل کے اس کمرے میں موجود تھے۔یشال نے اشارے سے ماشہ سے مغداد کو مانگا ماشہ نے مغداد کو اس کو دیا تو وہ لپک لپک کر رایان کی طرف بڑھ رہا تھا۔رایان مغداد کو لے کر یشال کے پاس ہی بیڈ پر جگہ بنا کر بیٹھ گیا ۔مغداد غور سے یشال کو دیکھ رہا تھا یشال نے ہاتھ سے اس کے گال کو پکڑنا چاہا تو وہ رایان کے گلے لگ گیا اور یشال کا ہاتھ رایان کے گال سے جا ٹکرایا اور وہ سالار کی موجودگی کی وجہ سے شرم سے پانی پانی ہو گئی۔رایان نے اس کی شرمندگی کو مٹانے کےلئےمغداد کو لے کر باہر نکل گیا۔یشال نے اس کے جانے کے بعد سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو نظر سیدھی نیدی پر پڑی اس نے آنکھ مار کر رایان کی طرف اشارہ کیا جو کے مغدا کے ساتھ باتوں میں مصروف دروازے سے باہر نکل رہا رایان کے آفس میں آج کل کام کا بہت بوجھ تھا ایک تو رات کو اس کی نیند پوری نہیں ہو رہی تھی اور ساتھ میں کام کی زیادتی کی وجہ سے اسے گھر جانے کا وقت ہی نہیں مل رہا تھا اسے جو کچھ بھی منگوانا ہوتا وہ ڈرائیور سے ہی منگوا لیتا آفس میں ہی ۔آفس سے وہ سیدھا ہاسپٹل جا رہا تھا اور صبح وہاں سے آفس کے لئے نکل آتا۔سالار کی کوئی طبعیت خراب تھی اس لئے وہ خراب طبعیت کے باوجود دن کا بیشتر وقت ہاسپٹل میں یشال کے ساتھ گزار رہا تھا۔ آج رایان ہاسپٹل پہنچا تو ڈاکٹر یشال کی ڈریسنگ کر رہی تھی ۔رایان کو دیکھ کر لیڈی ڈاکٹر نے دمائل پاس کی ۔رایان نے بھی جوابی مسکراہٹ پاس کی اور ایک سائیڈ پہ رکھی چئیر پر بیٹھ گیا ۔ یشال نے کن اکھیوں سے رایان کو دیکھا جو بلیک ڈریس پینٹ پر وائٹ شرٹ پہنے اپنا کوٹ اپنے بازوں پر ڈالے ماتھے پر بکھرے ہوۓ بال بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ کسی کے بھی دل میں اتر سکتا تھا ۔ڈاکٹر یشال کی ڈریسنگ کر کے فارغ ہوئی تو اس نے رایان کو ایک بار پھر دیکھا لیکن رایان یشال کو دیکھ رہا تھا ۔وہ اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ رہا تھا ۔وہ غور سے ڈاکٹر کو دیکھ رہی تھی ڈاکٹر کے رایان کو دیکھنے پر اس نے جلدی سے رایانُ کی طرف دیکھا رایان کو اپنی طرف دیکھتے پا کر اس نے نظریان چرا لی ۔ڈاکٹر کے باہر جانے کے بعد وہ چئیر سے اٹھ کر یشال کے پاس آیا اور جھک کر اس کی ڈریسنگ دیکھنے لگا ۔یشال نے جلدی سے اپنا دوپٹہ صیح کیا جو کے ڈریسنگ کروانے کی وجہ سے اس نے اپنی گود میں رکھا ہوا تھا۔رایان دلچسپی سے اس کی حرکات نوٹ کر رہا تھا ۔یشال نے اب تھوڑی تھوڑی باتیں بھی شروع کر دی تھیں اور رایان نے ڈاکٹر سے اجازات لے لی تھی کے وہ اسے گھر لے کر جا سکتا ہے۔
اس نے آج آفس سے چھٹی لے لی تھی گھر سے اس نے ملازمہ کو بھی بلا لیا تھا ۔سارا سامان گاڑی میں رکھواکر اس نے یشال کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑے ہونے میں مدد کی وہ ابھی کھڑی ہوئی ہی تھی کے سالار اندر داخل ہوا اور آگے بڑھ کر یشال کو تھام لیا۔رایان نے یشال کا ہاتھ چھوڑ دیا یشال نے رایان کو دیکھا تو اس نے نظریں پھیر لیں ۔
میں یشال کو اپنےاپارٹمنٹ میں لے کے جاؤں گا اس نے رایان کو مخاطب کیےبغیر انفارم کیا ۔یشال رایان کے ساتھ جانا چاہتی تھی لیکن وہ سالار کو بھی انکار نہیں کر سکتی تھی۔اب کی بار رایان نے اک امید سے یشال کی طرف دیکھا اور اس کی خاموشی پر اپنا کوٹ ایک بازو سے دوسری بازو پر منتقل کرتا ہوا وہاں سے نکل گیا یشال اس کی پیٹھ کو دیکھتی رہ گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
