Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ناول “”روح رایان “”
از🖋 زرش نور
قسط نمبر ۱۰

رایان اور یشال ماشہ کے پرزور اصرار پر آج سینٹوسہ ائسلینڈ آۓ تھے۔یہاں پر سنگاہ پور کا مشہور مجسمہ بھی ہے جس کا سر ایک شیر کا جب کے اس کی جسمات ایک مچھلی سی ہے۔وہ دنوں یہاں پہ پانی کے اندر بنے ایک کرسٹل ایریا میں بھی گئے جہاں سے انہیں مارلین شارکس اور دوسری پانی کی مخلوق کو دیکھ کے ایسا لگتا تھا کے وہ آپ کی طرف آ رہی ہیں لیکن یہاں مچھلیاں ایک ایکوریم میں نہیں تھیں بلکہ آپ ایک ایکوریم میں تھے۔ایک بار تو ایک بڑی شارک بہت تیزی کے ساتھ دور سے آتی دیکھائی دی یشال جو کہ بہت غور سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے آنکھیں بند کر لیں اور رایان کی بازو کو اس قدر زور سے پکڑا کے اس کے بازومیں اس کے ناخن لگنے کی وجہ سے خون کی ننھی بوندیں نکل آئی ۔یشال کو ایسے دیکھ کر وہ سمجھ گیا کے وہ یہاں ڈر رہی ہے تو وہ اسے وہاں سے لے آیا۔گاڑی میں بیٹھ کر رایان نے اپنی شرٹ کے کف اوپر کر کے اپنا بازو دیکھا تو وہاں اچھا خاصہ زخم بنا ہوا تھا۔یشال نے دیکھا تو اسے شرمندگی سی ہوئی۔رایان نے اگمینٹن نکالی اور خود ہی لگانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔یشال نے دیکھا تو اس کے ہاتھ سے لے لی اور خود لگانے لگی اس کے قریب آنے پر رایان سامنے دیکھنے لگا ۔
اب ٹھیک ہے؟یشال نے اس سے پوچھا۔
اس نے ایک نظر اپنے بازو پر ڈالی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
اب کہاں چلیں ؟
گھر ہی چلتے ہیں ۔ یشال نے سر جھکاۓ جواب دیا۔
رایان نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بھول ہی گیا کے اسے کیا کہنا تھا ۔وائٹ قمیض شلوار پر بڑا سا وائٹ دوپٹہ رکھے پلکوں کی جھالر گراۓ بڑی بڑی آنکھیں ہلکا سا میک اپ کیے وہ اسے دیکھتا کہیں اور ہی نکل گیا اپنی بےخودی میں اسے پتہ ہی نہیں چلا کے وہ کب یشال کی طرف جھکتا چلا گیا ہوش میں تب آیا جب یشال کی بند آنکھیں اور لرزتی پلکیں دیکھیں تو وہ جھکااوریشال والی سائیڈ کا دروازہ کھول کر واپس بند کیا۔یشال نے جھٹ سے آنکھیں کھولی اور رایان کی طرف دیکھا رایان نے اسے اشارے سے بتایا تمہاری سائیڈ والا دروازہ کھلا تھا۔وہ شرم سے نظریں جھکا گئیں اور رایان دلچسپی سے اس کے بدلتے رنگ دیکھنے لگا۔

؀سکون قلب بھی تم سے ہے سکوں جان بھی تم ہو
تعجب ہے کے سینے میں جہاں دل تھا،وہاں تم ہو

رایان نے بہت جزب کے عالم میں شیر کہا اور یشال نےاس کی آواز میں خماری محسوس کر کے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔
رایان نے ایک بھرپور نظر یشال پر ڈالی اور گاڑی سٹارٹ کر لی۔


اس کی آنکھ فجر کے وقت کھلی تھی رات کو رایان اسے گھر ڈراپ کر کے کہئں چلا گیا تھا۔وہ بیڈسے اتر کر ننگے پاؤں کھڑکی تک گئی اور پردے پیچھے کرتے ہوۓ کھڑکی کے دونوں پٹ کھول دئے۔اندھیرے کی وجہ سے باہر کوئی چیز ابھی واضح نہیں تھی۔
وہ وضو کر کے جاۓ نماز پر کھڑی ہوئی اور بہت خشوح وخضوع کے ساتھ نماز ادا کی نماز کے بعد اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھاۓاور آنکھیں بند کر لیں۔رایان کابہترین سیکیورٹی گار ڈ چینگ یانگ کو نامعلوم افراد گولی مار کر فرار ہوگئے تھے ۔وہ ساری رات ہاسپٹل میں اس کے پاس ہی رہا تھا۔ابھی وہ گھر پہنچا تو یشال کو جاۓ نماز ہر بیٹھے دیکھا تو حیران ہوا وہ اتنی جلدی اٹھ گئی تھی۔یشال دعا ختم کر کےاٹھی تو رایان کو دروازے میں کھڑے دیکھا۔
آپ کب آۓ؟
بس ابھی رایان نے آگے بڑھ کر اپنا کوٹ صوفے پر رکھا اور وہاں ہی بیٹھ گیا ۔یشال نے اس کا کوٹ اٹھایا اور ہینگر کر کے الماری میں لگا دیا۔
آپ کے لئے چاۓ لاؤں؟
نہیں میں تھوڑی دیر سونا چاہوں گا۔
وہ اثبات میں سر ہلا کر باہر نکل گئی۔
رایان کی آنکھ دس بجے کے قریب کھلی وہ تیار ہو کر نیچے آیا تو یشال صوفے پر موبائل لئے بیٹھی تھی اس نے بلیو جینز پررائل گرین ٹاپ پہنا ہوا تھا۔رایان کو ایسی ڈرینگ بہت بری لگتی تھی اس کا مو ڈ خراب ہو گیا اسے ایسے لباس میں دیکھ کر۔وہ اس سے کوئی بھی بات کیے بغیر وہاں سے چلا گیا۔یشال اسے جاتا دیکھ کر حیران ہوئی پھر خود سے ہی ہم کلام ہوئی۔” اگنور کرنا تو ان کا پرانا کام ہے۔”


رایان آفس پہنچا تو اسے سالار اپنے کیبن میں نظر آیا رایان اپنے آفس میں جانے کی بجاۓ اس کے پاس چلا آیا۔سالار نے اسے دیکھ کے بھی اپنا کام جاری رکھا وہ تھوڑی دیر اس کے بات کرنے کا انتظار کرتا رہا پھر خود ہی بات کا آغاز کیا۔آچھا ہوا تمہیں دیکھ تم نے عقلمندی کا ثبوت دیا ہے دوبارہ جوائن کر کے۔سالار نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔آج ایک میٹنگ میں چلنا ہے اور تم میرے ساتھ چل رہے ہو۔میں نے آج اپنی بہن سے ملنے جانا ہے میں کہیں نہیں جا رہا ۔سالار اسے زچ کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ خود ہی اسے یہاں سے نکال دے۔
اوکے ہم پہلے میٹنگ میں چلیں گے پھر وہاں سے گھر یہ کہہ کر وہ کیبن سے نکل گیا۔
سالار نے اس کے جانے کے بعد کرسی کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا لی اور سوچنے لگا یہ چاہتا کیا ہے کوئی تو اس کا پلان ہے۔
تبھی سالار نے زینگ جو کے رایان کے قریبی لوگوں میں سے تھا اسے رایان کے آفس سے نکلتے دیکھا۔ویسے تو وہ رایان کے ولا میں سیکیورٹی کا ہیڈ تھا اور آج یہاں کیوں آیا ہے سالار کسی گہری سو چ میں ڈوب گیا۔
رایان اور سالار میٹنگ اٹینڈ کر نے کے بعد وہ ایک بڑے مال آۓ تھے جو کے یہاں کی مشہور جگہ آرچرڈ روڈ کے نام سے مشہور تھی وہاں پر موجود لیگیسی مال تھا۔رایان کافی دیر کے بعد لوٹا تو وہ کافی ساری شاپنگ کے ساتھ تھا اور ساری لیڈیز شاپنگ تھی۔
وہ لوگ گھر پہنچے تو یشال بے صبری سے ان کا انتظار کر رہی تھی۔سالار کے گلے لگ کر اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی اور سالار بے چین ہو گیا۔
رایان دونوں بہن بھائی کے محبت کے مظاہرے سے اکتا کر خود اپنے کمرے میں فریش ہونے کے لئے بڑھ گیا۔
وہ سیڑھیوں سے اتر رہا تھا تبھی اس کے کانوں میں سالار کی آواز پڑی یشی تم خوش تو ہونہ !!جی بہت خوش ہوں ۔
کھانا کھانے کے بعد دونوں کے بہت اصرار کے بعد بھی سالار نہیں رکا ۔اس کے منع کرنے کے باوجود رایان اسے چھوڑنے آیا۔
سالار گاڑی سےاتر کر دو قدم چلنے کے بعد پلٹا اور رایان کو دیکھ کر بولا۔مسٹر رایان اب کون سی پلاننگ کر رہے ہو۔میں اب تمہارے جھانسے میں آنے والا نہیں ہوں ۔اور آگے بڑھ گیا۔
رایان نے گاڑی آگے بڑھا لی اورسالار کے اتنے ٹھیک اندازہ لگانے پر مسکرا دیا۔
وہ گھر پہنچا تو یشال کو نماز ادا کرتے دیکھ کر خود ٹیرس پر آگیا اس نے سیگریٹ نکالا اور ہونٹوں میں دبا لیا ۔
بات سنیں !
یشال کی آواز پر رایان نے ہاتھ میں موجود سیگریٹ نیچے پھینک کے اس کے اوپر جوتا رکھ لیا۔یشال اسے سیگریٹ پیتا دیکھ چکی تھی۔وہ پورا اس کی طرف پلٹا۔
جی بولو۔
وہ میں نہ سالار بھیا کے ساتھ پاکستان جانا چاہ رہی ہوں اگر آپ کی پرمیشن ہو تو۔وہ سر جھکاۓ بولی اور رایان کا سارا موڈ ایک دم غارت کر گئی۔
کیوں جانا ہے رایان نے چھبتے ہوۓ لہجے میں پوچھا۔
یشال نے اس کا لہجہ محسوس کیا تو اچنبھا سے اسے دیکھنے لگی۔
وہ بھیا بتا رہے تھے کے دادا جان کی طبعیت خراب ہے تو اس لئے۔
تم سالار کو بولو وہ چلا جاۓ اور ہم کچھ دنوں تک ساتھ چلیں گے۔
وہ سر ہلا کر اندر کی طرف مڑ گئی رونی بھی اس کے پیچھے چلا آیا ۔اس نے صوفے پر موجود شاپنگ بیگ یشال کی طرف بڑھاۓ اور بولو مجھے اس طرح کی ڈریسنگ پسند نہیں ہے اگر تم چاہو تو کر سکتی ہو میں تمہیں فورس نہیں کروں گا بٹ میں نے تمہارے لئے کچھ شاپنگ کی ہے یہ دیکھ لو اور اگر تم چاہو تو میری پسند کا لباس پہن لو۔

یشال نے اس کے ہاتھ سے بیگ لئے تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے کے کیا پتہ کس طرح کے ڈریسز ہوں گے لیکن کھول کر دیکھنے ہر اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب اس نے فل سلیویس والے گاؤنز دیکھے جو مختلیف رنگوں میں تھے اور بہت پیارے تھے۔
مجھے قمیض شکوار بہت آچھے لگتے ہیں لیکن یہاں میں نے ڈھونڈیں ہیں لیکن نہیں ملے۔
ہم پاکستان چلیں گے تو وہاں سے لے کر آئیں گے اگر تم چاہو تو۔
یہ بھی اگر تم پہنو تو ویل اینڈ گڈ نہیں تو کسی ملازمہ کو دے دینا۔
یشال آگے بڑھی اور خوشی سے رونی کے گلے لگ گئی اور رایان تو حیران ہی رہ گیا۔
یشال کے شکریہ کہنے پر اس نے اسے اپنے بازوں کےحلقے میں لے لیا اور اپنے لب اس کے بالوں میں رکھ دیے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️