Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Last Episode)
Rasam e Wafa by Khanzadi
اذنان نا سمجھی سے زویا کی طرف دیکھنے لگ پڑا۔۔کیا مطلب۔۔۔میں ایسا مزاق کیوں کروں گا۔۔ہمارا نکاح ہوا ہے۔۔ابھی کچھ دن پہلے میں ایسا مزاق میں نہی کہ رہا۔۔۔اذنان حیران تھا زویا کے اس بچگانہ سوال پر۔۔۔
آپ سے کس نے کہ دیا ہمارا نکاح ہوا ہے۔۔۔ہمارا نکاح تو روحان سے ہوا ہے۔۔۔زویا غصے سے بولی۔۔اس کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔مجھے جانے دیں۔۔۔زویا گاڑی سے باہر نکلنے ہی لگے تھی کہ
اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔۔۔اذنان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر زویا ڈر گئی۔۔۔زویا یہاں بیٹھو میں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔زویا چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔
اس کے بعد اذنان نے زویا سے کوئی بات نہی کی۔۔اور نہ ہی زویا نے کوئی بات کی۔۔۔اذنان نے گاڑی زویا کے گھر کے سامنے روک دی۔۔زویا گاڑی سے باہر نکل گئی۔۔اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے۔۔۔
زویا۔۔۔اذنان نے آواز دی تو زویا پلٹی۔۔۔یہ بھی آپکا ہے۔۔اذنان پھولوں والی ٹوکری زویا کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔تو زویا نے وہ ٹوکری پکڑ لی اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
اذنان نے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ دی۔۔گھر پہنچتے ہی اذنان بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔یہ کیا ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔زویا کو ابھی تک پتہ ہی نہی کہ ہمارا نکاح ہو چکا ہے۔۔وہ یہی سمجھ رہی ہے کہ اس کا نکاح روحان سے ہوا ہے۔۔
ابھی بات کرنی پڑے گی مجھے زویا سے۔۔اذنان گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔اس نے پھر سے گاڑی زویا کے گھر کی طرف موڑ دی۔۔
گھر پہنچ کر زویا کی ماما کو سلام کرتے ہوئے اذنان زویا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔بنا ناک کیے کمرے میں داخل ہو گیا۔۔زویا لیپ ٹاپ پر جھکی بیٹھی تھی۔۔تبھی اذنان کمرے میں داخل ہوا تو جلدی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔
میجر اذنان یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔آپ ایسے کیسے میرے کمرے میں آ سکتے ہیں۔۔بنا ناک کیے۔۔۔زویا جلدی سے اپنا سکارف ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔۔
اذنان زویا کی طرف بڑھا۔۔۔اپنی بیوی کے کمرے میں داخل ہونے کے لیے مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہی ہے۔۔۔اذنان نے زویا کو بازو سے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔۔۔زویا کیا واقعی تمہے نہی پتہ کہ تمہارا نکاح کس سے ہوا ہے۔۔۔
اذنان زویا کی طرف غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔زویا ڈرتے ہوئے بولی روحا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ زویا کچھ اور بولتی۔۔اذنان چلایا۔۔۔انف از انف زویا۔۔ہائے یو کین سو کیئر لیس۔۔۔
آئندہ روحان کا نام نہ آئے تمہاری زبان پر۔۔۔تمہارا نکاح مجھ سے ہوا ہے۔۔۔میجر زویا اذنان۔۔۔مائینڈ اٹ۔۔۔!!! اذنان غصے سے کہتا زویا کا بازو چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
زویا ابھی بھی کچھ سمجھ نہی پائی تھی۔۔سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھانے لگی تو غلطی سے ہاتھ پھولوں والی ٹوکری پر لگ گیا۔۔۔زویا نے ٹوکری اٹھائی تو نیچے ایک کارڈ گرا ہوا تھا۔۔جو ٹوکری میں سے گرا تھا۔۔۔
زویا نے کارڈ اٹھایا تو اس پر سوری لکھا تھا۔۔۔اذنان کو کیسے پتہ چلا کہ یہ پھولوں والی ٹوکری میری ہے۔۔زویا کے دماغ میں دھماکہ ہوا۔۔کیا واقعی میرا نکاح اذنان سے ہوا ہے۔۔۔
زویا کی نظر سامنے پڑے البم پر پڑی۔۔۔اس نے البم کھول کر دیکھا تو اس کے نکاح کی تصویریں تھیں۔۔زویا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔کیونکہ اس کے ساتھ روحان نہی اذنان تھا۔۔
پھر اس کی نظر ساتھ پڑے انویلپ پر پڑی۔۔اس نے کھول کر دیکھا تو اس میں نکاح نامہ تھا۔۔جس پر زویا اور اذنان کا نام لکھا تھا۔۔جیسے جیسے پڑھتی گئی۔۔زویا حیرت کے سمندر میں ڈوبتی گئی۔۔۔
تو کیا یہ سب سچ ہے۔۔اسے سمجھ نہی آ رہی تھی کچھ وہ ایسے سمجھ رہی تھی جیسے کوئی خواب ہو۔۔۔اس سمجھ نہی آ رہی تھی کہ وہ اس بات پر خوش ہو یا پھر دکھی۔۔
اوہ گاڈ اتنی بڑی غلطی کیسے ہو سکتی ہے ہم سے ہمارا دماغ کہاں گم تھا نکاح کے وقت۔۔۔زویا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔اور کسی نے بتانا بھی ضروری نہی سمجھا ہمیں۔۔۔
اوہ۔۔۔ڈیڈ کچھ کہ رہے تھے اس دن نکاح سے اگلے دن کہ سب کچھ اتنی جلدی جلدی میں ہوا۔۔۔تب بھی ہمیں کچھ سمجھ نہی آئی۔۔کہ جلدی جلدی تو کچھ بھی نہی ہوا۔۔۔سب کچھ تو بہت آرام سے تہ ہوا تھا۔۔
اوہ۔۔۔تو ڈیڈ اذنان کے بارے میں پوچھ رہے تھے ہم سے کہ ہم اس رشتے سے خوش ہیں یا نہی۔۔اوہ۔۔۔بہت بڑی غلطی ہو گئی۔۔۔اب کیسے ٹھیک ہو گا سب۔۔اذنان تو بہت ناراض ہو گے۔۔۔
زویا نے جلدی سے روحان کو فون لگایا۔۔۔۔دوسری بیل پر ہی روحان نے فون اٹھا لیا۔۔اسلام و علیکم۔۔روحان فون اٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔کیسے یاد کر لیا مجھ غریب کو۔۔روحان ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔
روحان کی آواز میں درد سا محسوس ہوا زویا کو روحان جیسے خود کو خوش ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔زویا کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔۔
روحان تم نے کیوں کیا ایسا جب کہ تم تو مجھ سے سچی محبت کرتے تھے۔۔۔تو پھر اتنی بڑی قربانی۔۔؟؟؟؟ کیسے کیا تم نے یہ سب مجھے آج ہی پتہ چلا کہ ہمارا نکاح اذنان سے ہوا ہے۔۔۔کیسے ہو گیا یہ سب۔۔۔زویا ایک ساتھ ہی کئی سوال پوچھ گئی۔۔سلام کا جواب دیے بغیر۔۔
کیونکہ میں نے عشق کیا تھا محبت نہی۔۔۔اور عشق کبھی مکمل نہی ہوتا۔۔۔محبت کی ہوتی تو شاید ایسا نہ کر پاتا۔۔۔یہ سب میں نے محبوب کی خوشی کے لیے کیا۔۔۔
وہ کہتے ہیں نہ۔۔۔محبت حاصل کرنے سے اچھا ہوتا ہے کہ محبوب کی محبت سے محبت کی جائے۔۔۔تمہاری محبت اذنان تھا۔۔۔یہ بات مجھے نکاح سے ایک دن پہلے پتہ چلی۔۔۔
اس رات جب تم چھت پر اذنان سے فون پر بات کر رہی تھی اس کے بعد کی ساری باتیں سنی میں نے۔۔۔میں دو محبت کرنے والوں کے درمیان آ گیا تھا۔۔اذنان کی آنکھوں میں تمہارے لیے محبت دیکھ چکا تھا میں۔۔۔
اسی رات میں اذنان کے گھر گیا۔۔وہ اسلام آباد میں نہی تھا۔۔۔یہی تھا۔۔۔مجھے اس طرح اچانک اپنے سامنے دیکھ کر اذنان حیران ہو چکا تھا۔۔۔میں نے اذنان سے کہا کہ میں انوائٹ کرنے آیا ہوں۔۔نکاح کے لیے۔۔۔
جیسے کہ میں نے سوچا تھا۔۔۔اذنان نے آنے سے صاف انکار کر دیا۔۔۔یہ کہ کر مجھے ابھی ضروری مشن پر جانا ہے۔۔اسی لیے کل نہی آ سکوں گا۔۔۔میری طرف سے مبارک ہو تمہیں اور زویا کو بھی مبارکباد دے دینا بہت ضبط سے اذنان کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
آپ نہی آئیں گے تو نکاح کیسے ہو گا۔۔۔بھلا دولہے کے بغیر نکاح کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔میں بھی اذنان کے پیچھے پیچھے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔۔میری بات پر اذنان نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔۔۔کیا مطلب۔۔۔؟؟؟؟
مطلب یہ کہ کل آپ کا نکاح ہے زویا سے۔۔۔میں نے دل پر پتھر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
میری بات پر اذنان مسکرا دیا۔۔۔اچھا مزاق کر لیتے ہو لیکن میرا ابھی مزاق کا کوئی موڈ نہی ہے اور ایسا مزاق مجھے پسند بھی نہی ہے۔۔۔اذنان میری بات کو سمجھے بغیر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔
نہی یہ مزاق نہی ہے میجر اذنان میں ایسا مزاق نہی کرتا اگر یہ سب سچ مجھے آج پتہ نہ چلتا تو۔۔۔۔میری بات پر اذنان حیران ہوتے ہوئے میری طرف دیکھنے لگ پڑا۔۔۔کیسا سچ۔۔۔؟؟
یہی کہ آپ زویا سے محبت کرتے ہیں۔۔۔اور زویا بھی آپ سے محبت کرتی ہے۔۔آپ دونوں زیادتی کر رہے ہیں اپنے ساتھ۔۔۔کہتے ہیں نہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا۔۔۔میں ابھی زویا سے ملنے گیا تھا۔۔۔
تو زویا کو آپ سے بات کرتے ہوئے سنا۔۔۔مجھے یہ تو نہی پتہ کہ آپ دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی۔۔لیکن اس کے بعد میں نے زویا کو آپ کا نام لیتے ہوئے روتے ہوئے سنا۔۔۔مجھ میں ہمت ہی نہی تھی کہ زویا کی طرف بڑھوں۔۔۔
اسی لیے چپ چاپ وہاں سے واپس آپ کے پاس آ گیا۔۔زویا بہت محبت کرتی ہے آپ سے۔۔۔وہ تو اس انتظار میں تھی کہ آپ اظہارِ محبت کریں گے۔۔لیکن آپ نے ایسا نہی کیا۔۔۔
اسی لیے کچھ انا کہ لیں یہ ضد کہ لیں۔۔۔کچھ ایسا ہی تھا جو زویا نے میرا پرپوزل ایکسیپٹ کر لیا۔۔۔زویا کے دل میں اپنے لیے کوئی جزبات نہی محسوس کیے میں نے۔۔۔اسی لیے آج اپنی غلطی کا احساس ہوا مجھے۔۔۔
وہ میں ہی ہوں جو آپ دونوں کے درمیان آ گیا۔۔ورنہ شاید آپ زویا سے اظہارِ محبت کر چکے ہوتے۔۔۔ابھی بھی دیر نہی ہوئی ابھی کچھ نہی بگڑا۔۔۔اس سے پہلے کے دیر ہو جائے اور تین زندگیاں برباد ہو جائیں۔۔میں نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔۔۔
آپ نکاح کی تیاری کریں۔۔۔کل آپ کا نکاح ہے زویا سے۔۔۔میں نے اذنان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
یہ سب کچھ اتنا آسان نہی ہے جتنا تمہیں لگ رہا ہے روحان۔۔۔اذنان پریشان ہوتے ہوئے بولا۔۔۔
نہی سب کچھ بہت آسان تھا میرے لیے۔۔۔زویا کے گھر والوں سے میری بات ہو گئی ہے انہیں کوئی اعتراض نہی بلکہ وہ لوگ تو خوش ہیں۔۔وہ چاہتے ہیں ہمیں بس زویا کی خوشی چاہیے۔۔۔
اور اپنے گھر والوں کو میں خود سمجھا لوں گا۔۔آپ بس نکاح کی تیاری کریں۔۔۔میری ساری فیملی اس نکاح میں شامل ہو گی۔۔اب چلیں جلدی شاپنگ کرنے چلیں۔۔۔
لیکن زویا کا کیا۔۔۔پہلے مجھے زویا سے بات کرنی پڑے گی۔۔اذنان پریشان ہوتے ہوئے بولا۔۔۔
نہی ابھی نہی زویا کو سرپرائز ملے گا کل میں نے کہا تو اذنان مسکرا دیا۔۔۔اور پھر ہم لوگ شاپنگ کے لیے چلے گئے۔۔۔نکاح کے بعد اذنان کو بھیجا تھا میں نے بالکونی سے لیکن تم نے اس کی کوئی بات سنی ہی نہی۔۔۔
اس کی بات سنے بغیر اسے کمرے سے باہر نکال دیا تم نے۔۔۔وہ یہی بات بتانے ہی تو آیا تھا۔۔۔جانتا تھا تم ناراض ہو گی اس سے۔۔۔اسی لیے تمہیں سوری کہنے کے لیے آیا تھا اذنان لیکن تم نے اس کی بات سنی ہی نہی۔۔۔۔
اور اب یہ کیا تمہیں آج پتہ چلا ہے کہ تمہارا نکاح مجھ سے نہی اذنان سے ہوا ہے۔۔۔نکاح کے وقت کہاں گم تھی۔۔۔؟؟ خیر اب جو بھی ہونا تھا ہو گیا۔۔۔اب جتنی جلدی ہو سکے منا لو اذنان کو کہی دیر نہ ہو جائے۔۔۔
ہممم تم ایسا کرو مجھے اذنان کے گھر کا ایڈریس سینڈ کر دو جلدی ابھی۔۔۔مجھے اس سے ملنے جانا ہے۔۔۔اپنی غلطی کی معافی مانگنی ہے۔۔۔تب سے چپ زویا اب بولی تھی۔۔۔
اوکے میں سینڈ کرتا ہوں۔۔۔بیسٹ آف لک۔۔۔۔کہتے ہوئے روحان نے فون بند کر دیا۔۔
جیسے ہی روحان کا میسیج آیا۔۔۔زویا فوراً گاڑی نکال کر نکل پڑی۔۔۔موم آوازیں دیتی رہ گئی۔۔۔زویا رکو تو سہی کھانا تو کھاتی جاو۔۔۔ابھی تو گھر آئی ہو۔۔۔پھر جا رہی ہو۔۔۔لیکن زویا ان کی بات سنے بغیر گاڑی بھگا کر لے گئی۔۔۔۔
اذنان کے گھر کے باہر پہنچ کر ڈور بیل بجائی۔۔۔کچھ ہی دیر میں اذنان نے دروازہ کھول دیا۔۔سامنے زویا کو دیکھ کر اذنان حیران رہ گیا۔۔۔بنا کچھ بولے اذنان سائیڈ پر ہٹ کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
زویا نے اندر آ کر دروازہ بند کر دیا۔۔اذنان زویا کو مکمل طور پر انداز کرتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔زویا اذنان کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔۔اذنان وہاں سے دوسری طرف چلا گیا۔۔۔زویا پھر سے اس کے سامنے آ گئی۔۔۔اذنان کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔
زویا اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئی اور اذنان کے سامنے آ گئی پھر سے اس سے پہلے کے اذنان وہاں سے آگے بڑھتا زویا اذنان کے گلے لگ گئی۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔ہم جانتے ہیں ہماری غلطی بہت بڑی ہے۔۔لیکن معاف کرنے والا بڑا ہوتا ہے۔۔۔
پلیز ہمیں معاف کر دیں۔۔۔زویا رو رہی تھی۔۔۔اذنان کا دل پگھل چکا تھا اس نے دونوں بازو زویا کے گرد پھیلا دئے۔۔۔میں نے معاف کیا میجر زویا اذنان۔۔۔اذنان زویا کو خود سے الگ کرتے ہوئے زویا کی ناک کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔
آوچ۔۔۔۔زویا درد سے چلا اٹھی۔۔۔میجر اذنان ناک چھوڑیں میرا۔۔۔نہی۔۔۔میجر اذنان نہی کڑوا کریلا بولو۔۔۔اذنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔اور زویا کی ناک چھوڑ دی۔۔۔آپ ہیں ہی کڑوے کریلے۔۔کہتے ہوئے زویا نے کچن کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔
اچھا میں کڑوا کریلا ہوں۔۔تو تم کیا ہو۔۔کڑوی کریلی ہاہاہاہا کہتے ہوئے اذنان کا قہقہ بلند ہوا۔۔اور زویا پہلی بار اذنان کو اس طرح ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔کیا ہوا۔۔؟؟ زویا کو مسلسل اپنی طرف دیکھتے پایا تو اذنان بول پڑا۔۔
نہی کچھ نہی ہم تو بس یہ دیکھ رہے تھے کہ آپ ہنستے ہوئے کتنے اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔اذنان زویا کی طرف بڑھا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر بولا۔۔۔۔میری یہ ہنسی اور خوشیاں سب آپ کی وجہ سے ہیں۔۔ورنہ میں تو زندگی سے بہت دور جا چکا تھا۔۔۔
میری زندگی میں خوشیاں واپس لانی والی تم ہی ہو۔۔بس یونہی میری زندگی کو خوشیوں سے مہکاتی رہنا۔۔۔زویا اذنان۔۔۔آج میں سچے دل سے اقرارِ محبت کرتا ہوں مجھے محبت ہے زویا اذنان سے جو میری شریک حیات ہے۔۔کہتے ہوئے اذنان نے زویا کو گلے سے لگا لیا۔۔
زویا نے پر سکون ہو کر اذنان کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر گئی۔۔۔ہمیں بھی محبت ہے میجر اذنان یعنی کڑوے کریلے سے۔۔کہتے ہوئے زویا ہنس دی اذنان بھی مسکرا دیا۔۔چلو اب گھر چلتے ہیں ہم ابھی صرف نکاح ہوا ہے رخصتی نہی ہوئی۔۔کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا۔۔
ہممم زویا کی بات پر اذنان مسکرا دیا۔۔۔ٹھیک ہے دھیان سے جانا میجر زویا اذنان گھر پہنچ کر میسیج لازمی کر دینا۔۔۔
اوکے کڑوے کریلے۔۔۔۔کہتے ہوئے زویا نے باہر کی طرف دھوڑ لگا دی۔۔۔اور اذنان مسکراتے ہوئے دروازہ بند کر کے اندر آ گیا۔۔
دو ماہ بعد اذنان اور زویا کی شادی ہوئی دھوم دھام سے دونوں اپنی نئی زندگی میں بہت خوش تھے۔۔۔شادی سے دو سال بعد اللہ نے ان کو دو جڑواں بچوں ایک بیٹی اور بیٹے سے نوازا۔۔۔دونوں کی زندگی مکمل ہو چکی تھی۔۔۔
دونوں کا مشن آج بھی وطن کی خاطر قربان ہونے کا تھا۔۔وطن کے لیے محبت میں کوئی کمی نہی آنے دی انہوں نے۔۔دونوں اب بھی ساتھ ساتھ مشنز پر نکلتے ہیں۔۔اور کامیاب ہو کر واپس آتے ہیں۔۔۔
ردا نے اذنان کی ساری جائیداد واپس کر دی تھی۔۔اسد سے اس نے طلاق لے لی تھی۔۔۔اب اس کی زندگی میں کوئی خوشی باقی نہی رہی تھی۔۔سب کچھ اپنے ہاتھوں سے کھونے کا غم اسے جینے نہی دیتا تھا۔۔۔
اذنان نے اپنی ساری جائیداد زویا کے نام کروا دی۔۔زویا اور اذنان کی جوڑی کو لوگ رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں آج بھی۔۔۔اذنان کے لیے زویا کی محبت آج بھی ویسی ہی ہے۔۔۔ان کے پیار میں کوئی کمی نہی آئی۔۔
روحان نے نیہا کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔اور نیہا اسے اور کیا چاہہے تھا۔۔اس نے جھٹ سے ہاں کر دی اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔۔۔
اب کی بار جانم باری یہ ہماری ہے۔۔
دونوں کو ہی ایک ساتھ رسمِ وفا یہ نبھانی ہے۔۔
ختم شدہ۔۔۔
