Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489

Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Last updated: 30 January 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Wafa

by Khanzadi

Novel code: NovelR50489

زویا تیار نہی تھی اس آفت کے لیے لڑکھڑاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔
یہ مردانہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں آپ نے دیکھا نہی وہ کیسے گھور رہا تھا آپ کو۔۔۔اذنان غصے سے بولا۔۔
کبھی آپ کو مجھ سے پرابلم ہوتی ہے۔۔۔کبھی میرے کپڑوں سے آخر آپ چاہتے کیا ہیں۔۔۔اگر اسی طرح چلتا رہا نہ تو میں آپ کے ساتھ کام نہی کر سکوں گی۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔میں سر سے بات کرتی ہوں ابھی۔۔
کہتے ہوئے زویا آگے کو بڑھی۔۔۔اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اذنان کے سینے سے ٹکرا گئی۔۔جب میں بات کر رہا ہوں۔۔تو دوبارہ ایسے میری بات درمیان میں چھوڑ کر جانے کی ہمت نہی کرنا۔۔۔سرخ آنکھوں کے ساتھ وہ زویا کو گھورتے ہوئے بولا۔۔
ابھی کے ابھی میرے ساتھ چلیں آپ کو کچھ کپڑے لے کر دیتا ہوں۔۔۔کہتے ہوئے اس نے زویا کو چھوڑ دیا۔۔
کیوں پہنوں میں آپکی مرضی کے کپڑے آپ ہوتے کون ہیں۔۔مجھ پر حکم چلانے والے۔۔۔زویا بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔۔
اذنان واپس مڑا۔۔۔میں آپ کا کچھ نہی لگتا۔۔۔لیکن آپ جب تک میرے ساتھ ہو۔میری زمہ داری ہو آپ۔۔اس لیے چپ چاپ جیسا میں کہوں ویسا کریں۔۔میں آپ کا سینیئر ہوں۔۔میری بات ماننا آپ کا فرض ہے۔۔۔
اب چلیں میرے ساتھ۔۔۔زویا کو بازو سے پکڑتے ہوئے کیب کروا کر شاپنگ مال میں لے گیا۔۔۔
زویا اس دوران کچھ نہی بولی اس کا ایسے مرد سے پہلی بار سامنہ ہوا جس نے اس کے کپڑوں کے بارے میں تنقید کی تھی۔۔ورنہ آج سے پہلے تو کسی نے ایسا نہی کہا تھا اسے۔۔۔
اذنان نے اس کے لیے۔۔۔کچھ ڈھیلے ڈھالے ٹاپس اور جینز خریدیں۔۔اور دو تین سکارف بھی۔۔
اذنان نے اسے ایک ڈریس تھمایا اور چینج کرنے کو کہا۔۔زویا چپ چاپ چینج کرنے چلی گئی۔۔
باہر آئی تو پہلی بار خود کو لیڈیز کپڑوں میں دیکھ کر مسکرادی۔۔اور سکارف گلے میں ڈالے باہر آ گئی۔وہ تو لیڈیز کپڑے پہننا پسند ہی نہی کرتی تھی۔۔ہمیشہ پینٹ شرٹس ہی پہنتی تھی۔۔اور اسے کوئی روکنا والا بھی تو نہی تھا۔۔جو اسے اچھے برے کی تمیز سکھاتا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *