Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Wafa (Episode 02)

Rasam e Wafa by Khanzadi

اب تک سب کچھ پلان کے مطابق ہی ہو رہا تھا۔۔جیسا انہوں نے سوچا ویسا ہی ہوا تھا۔۔۔اذنان نے زیشان کے سامنے جان بوجھ کر ایکٹنگ کی تا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ چلنے کی آفر کرے۔۔

اور اس مشن میں وہ دونوں کامیاب ہو چکے تھے۔۔۔

میجر اذنان اب آگے کیا کرنا ہے۔۔۔زویا کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کر کے بولی۔۔۔

ہمم میجر زویا آپ خود کیوں نہی سوچ لیتی کہ آگے کیا کرنا ہے۔۔۔اذنان شرارت سے بولا۔۔

مجھے تو پتہ ہے میں تو آپ کو سمجھا رہی ہوں کیونکہ آپ کو سمجھ نہی آنی کے آگلا سٹیپ کیا ہے۔زویا آنکھیں سکیڑتے ہوئے بولی۔۔

اذنان زویا کی بات پر مسکرا دیا۔۔اوہ رئیلی۔۔؟؟

جی میجر اذنان صاحب عرف کڑوا کریلا۔۔کڑوا کریلا زویا نے آہستہ آواز سے کہا تو اذنان کو سمجھ نہی آئی۔۔اور ہنس دی۔۔

اذنان کو کچھ بڑبڑانے کی آواز آئی لیکن سمجھ نہی آئی۔۔

اذنان نے گھورا تو زویا کی ہنسی کو بریک لگی۔۔اوکے سر یہ رہی میری لوکیشن ٹریکر ڈیوائس اس لاکٹ میں۔۔زویا نے اپنا لاکٹ اذنان کےسامنے کرتے ہوئے گلے میں ڈال لیا۔۔۔اور سر آپکا نمبر۔۔۔اذنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

وہ کس لیے مس زویا۔۔۔؟؟ اوہ اچھا اچھا۔۔۔یاد آنے پر اذنان جلدی سے بولا۔۔اپنا فون دیں۔۔اس نے زویا کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔

زویا نے اپنا فون اذنان کو تھما دیا۔۔۔اذنان نے زویا کے فون سے اپنا نمبر ڈائیل کر کے فون زویا کی طرف بڑھا دیا۔۔یہ لیں سیو کر لیں میرا نمبر۔۔

زویا نے اپنا فون لیا اور اذنان کا نمبر سیو کرنے لگ پڑی۔۔میجر اذنان۔۔ننہہہی۔۔۔کڑوا کریلا۔۔۔لکھ کر سیو کر کے مسکرا دی۔۔

کیا ہوا یہ بار بار آپ کھی کھی کیوں کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔۔۔اذنان زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔

وہ کیا ہے نہ سر اس کو کھی کھی نہی ہنسنا مسکرانا کہتے ہیں۔۔جو کہ آپ کی ڈکشنری میں لکھا ہی نہی ہے۔۔پتہ۔نہی زندگی میں آپ کبھی ہنسے بھی ہیں یا نہی۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔

میری ڈکشنری کو جاننے کی ضرورت نہی آپ کو۔۔میری ڈکشنری سے دور ہی رہیں آپ تو زیادہ بہتر ہے۔۔میں اپنا کام بہت سیریس ہو کرکرتا ہوں۔۔ہنسی مذاق مجھے پسند نہی۔۔۔اذنان کہتے ہوئے اپنے بیگ کی طرف بڑھ گیا۔۔

اپنا بلیو ٹوتھ آن رکھیں۔۔جیسے ہی وہ یہاں آئیں مجھ سے کنیکٹ ہو جانا ہے آپ نے۔۔۔اور زرا سا بھی شک ہو تو دبوچ لینا اسے دوسرا موقع نہی دینا۔۔کہتے ہوئے اذنان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

اور زویا کندھے اچکاتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی کتاب لے کر۔۔اذنان کو گئے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا۔۔ابھی تک واپس نہی آیا تھا۔۔زویا اکیلی بور ہو رہی تھی۔۔

تبھی دروازہ ناک ہوا۔۔۔زویا سمجھی اذنان ہے۔۔اس نے جلدی سے دروازہ کھولا لیکن باہر زیشان کھڑا تھا۔۔۔۔۔

ہائے۔۔۔میں نے سوچا آپ سے پوچھ لوں کچھ چاہہے تو نہی آپ کو۔۔ویسے آپ کے ہسبینڈ نظرنہی آ رہے۔۔کہتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔

آپ بہت خوبصورت ہیں۔۔۔مس۔۔۔نام کیا ہے آپ کا۔۔۔؟؟

الوینہ۔۔۔مائی نیم از الوینہ۔۔۔زویا نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔۔اسے اچھا نہی لگا ذیشان کا اس طرح کمرے میں گھسنا۔۔۔

ہممم نائس نیم۔۔بیوٹی فل۔۔بلکل آپ کی طرح آپ کا نام بھی بہت پیارا ہے۔۔۔زیشان زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔

تھینکس۔۔زویا مسکراتے ہوئے اپنے فون کی طرف بڑھی۔۔اور باتوں باتوں میں اذنان کا نمبر ڈائل کر دیا۔۔

ویسے آپ یہاں کس سلسلے میں آئے ہیں۔۔۔میرا مطلب آپ کے ہسبینڈ کی جاب ہے یہاں یا پھر ویسے ہی انجوائے کرنے آئیں ہیں آپ لوگ۔۔۔زیشان زویا کیطرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔

ہم بس کچھ دنوں کے لیے آئے ہیں۔۔گھومنے پھرنے کے لیے کچھ دن بعد واپس چلے جائیں گے۔۔۔زویا نے نا چاہتے ہوئے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔

ویسے مجھے لگتا ہے آپ کی شادی آپ کی مرضی کے خلاف ہوئی ہے۔۔۔مسکراتے ہوئے بولا۔۔

زویا اس کے سوال پر گھبرا گئی۔۔۔کیا مطلب ہے آپکا جلدی سے بولا۔۔۔

میرا مطلب آپ دونوں میں مجھے کچھ خاص انڈرسٹینڈنگ نہی نظر آ رہی۔۔۔ایسے لگتا ہے کہ آپ خوش نہی ہیں۔۔۔

نہی آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ہم بہت خوش ہیں۔۔۔ہمارے ہسبینڈ بہت محبت کرتےہیں ہم سے بس ظاہر نہی کرواتے۔۔

زویا۔۔۔۔تبھی زویا کو اذنان کی آواز آئی بلیو ٹوتھ میں۔۔زویا آپ مجھے سن رہی ہیں۔۔

ہممم زویا نے آہستہ سے جواب دیا۔۔یہ اس کا اشارہ تھا اذنان کو۔۔کہ میں آپ کو سن رہی ہوں۔۔۔

ہمم اوکے زویا اس کو ایسا شو کرو جیسے آپ خوش نہی ہو میرے ساتھ۔۔میرا مطلب اس شادی سے۔۔۔

اب کیا بتاو آپ کو سب کو یہی کہتی ہوں۔۔لیکن اندر سے میں کتنی دکھی ہوں آپ کو بتا نہی سکتی۔۔بہت ظلم کرتے ہیں۔۔مجھ پر یہ ۔۔۔مجھ پر ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں۔۔۔زویا اب روتے ہوئے بتا رہی تھی۔۔۔

اذنان کو اس کی ایکٹنگ پر حیرانگی ہورہی تھی۔۔وہ ایسے بتا رہی تھی جیسے وہ دونوں سچ مچ کے میاں بیوی ہو۔۔اور میں اس پر ظلم کرتا ہوں۔۔

ہم تو پچھتا رہے ہیں۔۔اس وقت کو جب ہم ان سے ملے تھے۔۔۔نہ ہم ان سے ملتے نہ ہماری دوستی ہوتی اور نہ ہی بات شادی تک پہنچتی۔۔زویا روتے ہوئے بتا رہی تھی۔۔

ارے ارے آپ روئے نہی۔۔مجھے تو پہلے ہی شک ہو گیا تھا۔۔ائیرپورٹ پر دیکھا تھا میں نے آپ لوگوں کو۔۔۔آپ کے ہسبینڈ اچھا بے ہیو نہی کر رہے تھے آپ کے ساتھ۔۔۔

آپ پریشان نہ ہو مانہ کہ آپ سے غلطی ہوئی لیکن اس غلطی کو سدھارا بھی جا سکتا ہے۔۔۔وہ زویا صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔

مطلب۔۔۔؟؟؟زویا نا سمجھی کے عالم میں بولی۔۔۔

مطلب آپ ڈائیوورس لے لیں ان سے۔۔۔اور کوئی اچھا سا جیون ساتھی چن لیں اپنے لیے۔۔

ایک طلاق یافتہ لڑکی سے کوئی شادی نہی کرتا کہی اچھے کی خواہش میں اپنی زندگی برباد نہ کر لو۔۔۔اگر ہم ایسا کر بھی لوں۔۔تو کون کرے گا ہم سے شادی۔۔۔زویا روتے ہوئے بولی۔۔

آپ پریشان کیوں ہوتی ہیں۔۔۔میں ہوں نہ میں کرو گا آپ سے شادی۔۔۔اس کی بات پر اذنان کا خون کھول اٹھا۔۔۔آپ سوچنا ضرور اس بارے میں۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔

لیکن میں تو آپ کے بارے میں جانتی تک نہی۔۔آپ کون ہیں۔۔کیا کام کرتے ہیں۔۔۔اور آپ کا بیک گراونڈ کیا ہے۔۔۔زویا نے جواب دیا۔۔

ڈونٹ وری سب بتا دوں گا پہلے آپ میرے بارے میں سوچیں تو سہی۔۔۔دروازہ کھولنے کی آواز آئی تو زیشان جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

اذنان کمرے میں آیا۔۔ویل ڈن مس زویا۔۔۔کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔

اور کسی کا نمبر ملایا۔۔اور باتیں کرنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔وہ پریشان تھا۔۔۔اسے ذیشان کے بارے میں کوئی سراغ ہاتھ نہی لگ رہا تھا۔۔

بچوں کہاں ہو سکتے ہیں۔۔۔آخر بچوں کو کہاں چھپایا ہو گا اس نے۔۔۔اذنان کچھ سوچتے ہوا فون بند کر کے اٹھا اور اردگرد کا جائزہ لینے لگ پڑا۔۔لیکن کوئی سراغ ہاتھ نہی آیا۔۔

یہاں کچھ نہی ہے۔۔میں سب کچھ چیک کر چکی ہوں۔۔اس کمرے میں کوئی خفیہ راستہ نہی ہے سر۔۔اذنان کو کمرے کا جائزہ لیتے دیکھ زویا بول پڑی۔۔

ہمم اب یہ گھر سے کہی باہر جائے تو ہم گھر کی تلاشی لے سکیں گے۔۔اذنان کا اشارہ ذیشان کی طرف تھا۔۔

بچوں کے اغوا کا سلسلہ جو چل رہا تھا آج کل تو خفیہ ذرائع سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ ذیشان اس معاملے میں انوالو ہے۔۔لیکن ثبوت نہ ملنے پر کوئی ایکشن نہی لیا جا سکا اس کے خلاف۔۔

اسی لیے یہ مشن میجر اذنان اور میجر زویا کو سونپ دیا گیا۔۔۔

سر میں نے ان کو کسی سے بات کرتے ہوئے سنا کہ رہے تھے۔۔کہ ایک گھنٹے تک ملتے ہیں۔۔پھر بتاتے ہیں۔۔کیا کرنا ہے۔۔مجھے تو لگتا ہے۔۔وہ بچوں ہی کی بات کر رہے تھے۔۔کیوں نہ ہم ان کا پیچھا کریں۔۔۔

ہمم ویل ڈن مس زویا۔۔آپ واقعی ہی بہت ٹیلنٹڈ ہیں۔۔۔مجھے نہی پتہ تھا۔اذنان بیٹھتے ہوئے بولا۔۔

سر یہ ہماری تعریف تھی۔۔یا انسلٹ زویا آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولی۔۔

آپ خود سمجھ دار ہیں۔۔سمجھ جائیں۔۔اذنان لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے بولا۔۔۔

زویا دانت پیستے ہوئے بیٹھ گئی۔۔سر ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ آپ خود میری تعریف کریں گے۔۔زویا نے دل میں سوچا۔

ایسا کبھی نہی ہو گا۔۔اذنان نے جواب دیا۔۔۔

کیسا۔۔۔؟؟ زویا جلدی سے بولی۔۔

وہی جو آپ سوچ رہی ہیں۔۔کہ میں آپ کی تعریف کرو گا۔۔اذنان نظریں لیپ ٹاپ پے جمائے بولا۔۔

زویا حیران ہو گئی۔۔۔کہ اس نے تو کچھ بولا ہی نہی پھر سر کو کیسے پتہ چلا۔۔لیکن سر میں نے تو ایسا کچھ کہا ہی نہی۔۔

تو میں نے کب کہا کہ آپ نے ایسا کہا۔۔۔آپ نے کہا نہی لیکن سوچا تو ہے نہ۔اذنان نے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔۔

اس سے پہلے کہ زویا کچھ کہتی دروازہ بند ہونے کی آواز پر دونوں چونک گئے۔۔

لگتا ہے وہ چلے گئے سر۔۔۔آپ کو ان کے پیچھے جانا چاہیے۔۔۔

ہمم اذنان لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔۔لیکن پھر واپس آیا۔۔زویا اپنا خیال رکھنا آپ نہ جانے مجھے کتنا ٹائم لگ جائے آپ کمرے سے باہر مت نکنا۔۔

ڈونٹ وری سر۔۔۔زویا نے کہا تو اذنان باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔

اور اذنان کے باہر نکلتے ہی زویا پورے گھر کی تلاشی لینے میں مصروف ہو گئی۔۔۔

اذنان نے ہڈ میں اپنا چہرہ چھپا لیا اور آنکھوں میں سن گلاسز لگائے ذیشان کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔لیکن وہ اس سے کافی فاصلے پر تھا۔۔

کچھ دور جا کر ذیشان رکا اور اپنا فون نکال کر کسی کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔بات کر کے فون بند کر دیا۔۔

چند سیکنڈ بعد ایک لڑکی ذیشان کے پاس آئی اور اس سے ہاتھ ملایا اور مسکراتی ہوئی اسے اندر لے گئی ریسٹورنٹ میں۔۔

اذنان بھی ان کے پیچھے اندر چلا گیا۔۔۔اندر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔۔اذنان ان کے قریبی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا۔اور ان کی باتیں سننے کی کوشش کرنے لگ گیا۔۔۔

آپ تو جانتے ہیں۔۔یہ کام اتنا آسان نہی ہوتا بہت مشکلوں سے اس کام کو سر انجام دیتا ہوں۔۔اور اتنی محنت کا پھل بھی نہ ملے تو کیا فائدہ پھر۔۔ذیشان بول رہا تھا۔۔

اب تم زیادہ ہی نکھرے کر کر رہے ہو۔۔۔پانچ لاکھ سے زیادہ میں نہی دے سکتا۔۔اگر منظور ہے تو ٹھیک ہے۔۔ورنہ جیسے تمہاری مرضی۔۔۔سامنے والا شخص کہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

وہ اٹھا تو لڑکی جلدی سے اٹھ کھڑی ارے سر آپ بیٹھیں تو سہی میں بات کرتی ہوں ان سے بی ریلیکس۔۔۔اس لڑکی نے کہا تو وہ آدمی پھر سے بیٹھ گیا۔۔

اس کام میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔اگر کسی کو زرا سا بھی شک ہو گیا نہ تو ساری زندگی سلاخوں کے پیچھے گزر جائے گی میری۔۔میں تو بس اتنا کہ رہا تھا کہ کچھ تو کومپرومائیز کریں میرے ساتھ۔۔۔اس طرح ناراض ہونے والی کیا بات ہے۔۔ذیشان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔

اوکے چھ لاکھ۔۔۔اس سے زیادہ ایک روپیہ نہی دوں گا میں۔۔وہ آدمی جلدی سے بولا۔۔یہ لو چیک جا کر کیش کروا لینا۔۔۔اور میرا مال جلدی پہنچا دینا۔۔

تھینکس۔۔ذیشان نے چیک اٹھا کر پرس میں رکھتے ہوئے کہا۔۔آپ بے فکر ہو جائیں آپ کا مال آپ کو کل مل جائے گا۔

اوکے۔۔۔خدا حافظ کہتے ہوئے وہ آدمی وہاں سے چلا گیا۔۔اور وہ لڑکی ذیشان کی طرف دیکھ کر آنکھ دبا کر مسکرا دی۔۔۔

کیسے کیسے لوگ لاتی ہو یار۔۔۔کڑوڑوں کا بزنس کرتے ہیں۔۔۔اور پیسے نکالنے کو دل نہی کرتا ان کا۔۔ذیشان بولا۔۔۔

اپنا دماغ ٹھنڈا رکھا کرو کام بند کرواو گے کسی دن اگر ایسا چلتا رہا تو۔۔کتنی بار کہا ہے عقل سے کام لیا کرو لیکن تمہیں تو سمجھ ہی نہی آتی کسی بات کی۔۔وہ لڑکی غصے سے ذیشان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

بی کول بے بی۔۔۔تم اپنا موڈ مت خراب کرو پلیز۔۔تم تو یہاں بیٹھی رہتی ہو۔۔کسٹمر بنانےہوتے ہیں تم نے تو بس لیکن مجھے بہت مشکلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔۔اپنی جان ہتھیلی پے رکھ کر کرنا پڑتا ہے یہ کام۔مجھے۔۔۔

اور ملتا کیا ہے۔۔۔جو پیسے دیتے ہیں وہ بھی پاکستانی کرنسی کے مطابق۔۔۔اس معاملے میں بہت تیز ہیں یہاں کے لوگ اپنے ملک کی کرنسی کے دیں تو مزہ آئے نہ۔۔۔پیسے دیتے وقت جان نکل جاتی ہے۔۔اور مال ان کو اچھا چاہیے۔۔۔ذیشان غصے سے بولا۔۔۔

اور اوپر سے تم بھی شروع ہو جاتی ہو تم مجھے ہی غلط ثابت کرتی ہو۔۔کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے تم میری نہی ان کی سائیڈ کی ہو۔۔۔ذیشان منہ بناتے ہوئے بولا۔۔۔

میں یہ سب تمہارے لیے ہی کرتی ہوں۔۔۔مجھے کوئی شوق نہی ہے ان لوگوں کا ساتھ دینے کا یہ میرا رویہ ہی ہے جو وہ لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔۔ورنہ جیسے تم بات کرتے ہو ایک بھی کسٹمر نہ آئے تمہارے پاس۔۔وہ لڑکی بولی۔۔

خیر چھوڑو سب کچھ اب یہ بتاو مال کب تک پہچانا ہے۔۔۔ابھی فون پے فون کرے گا یہ بڈھا مجھے۔۔وہ جان چھڑاتے ہوئے بولی۔۔۔

ابھی ایک دو دن لگ جائیں گے گھر میں کچھ لوگ آئے ہوئے ہیں۔۔ذیشان بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔

کون لوگ آئے ہوئے ہیں گھر پے۔۔۔اور تم نے مجھے بتایا بھی نہی۔۔۔وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔

کوئی خاص نہی بس ایک پاکستانی فیملی ہے۔۔ائیرپورٹ پر ملے تھے۔۔۔ان کے فلیٹ کا مسلہ۔تھا تو ان کو اپنے ساتھ لے آیا میں۔۔۔۔

واٹ وہ چلائی۔۔۔تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔اور اب ان کو فلیٹ میں اکیلا چھوڑ کر آ گئے ہو۔۔۔اگر کچھ پتہ چل گیا تو کیا ہو گا۔۔اندازہ ہے تمہیں۔۔۔انتہائی بے وقوف ہو تم۔۔۔۔

ڈونٹ وری میں بے وقوف نہی ہوں۔۔۔میں کبھی گھاٹے کا سودا نہی کرتا۔۔وہ لڑکی بہت دکھی ہے۔۔۔اس کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہا ہوں میں اگر ہاتھ لگ گئی تو بڑے کام کی چیز ثابت ہو سکتی ہے۔۔آنکھ دباتے ہوئے بولا۔۔

مطلب۔۔۔وہ لڑکی بولی۔۔۔

مطلب یہ کہ اپنے شوہر سے طلاق لے لے وہ اور مجھ سے شادی کر لے۔۔۔ہاہاہاہا ہنستے ہوئے بولا۔۔۔پھر بہت خوبصورت ہے وہ بہت پیسہ ملے گا اس کا۔۔۔کہتے ہوئے بے باقی سے ہنس دیا۔۔

اور وہ لڑکی بھی ہنس دی۔۔اور ساتھ ہی دونوں وہاں سے اٹھ کر چل پڑے دونوں۔۔

اذنان کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی غصے سے اس کا دل کر رہا تھا ابھی اس ذلیل انسان کو ختم کر دے۔۔لیکن ابھی وہ ایسا نہی کر سکتا تھا۔۔بہت مشکل سے اس نے خود کو کنٹرول کیا۔۔۔اور واپس فلیٹ کی طرف چل پڑا۔۔

زویا سارے فلیٹ کی تلاشی لے چکی تھی بس ایک کمرے کو چھوڑ کر۔۔جو ذیشان کا کمرہ تھا۔۔۔زویا نے جلدی سے ہئیر پن نکالی اور دروازے کا لاک کھول کر اندر داخل ہو گئی۔۔۔کمرے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہی ملا۔۔فریج کھولا تو زویا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی پورا فریج نشہ آور میڈیسنز اور انجیکشنز سے بھرا پڑا تھا۔۔۔ہممم یہاں واقعی ہی کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔۔زویا نے جلدی سے فریج میں پڑی میڈیسنز کی پکچر لی۔۔۔

ابھی پیچھے مڑی ہی تھی۔۔کہ اس کے ہاتھ سے اچانک اس کا فون نیچے گر گیا۔۔۔لیکن یہ کیا فرش پر فون گرنے کی آواز کچھ اور ہی تھی۔۔جیسے کوئی لکڑی کی چیز پر گرا ہو فون۔۔۔زویا تیزی سے پیچھے ہٹی اور فرش پر ہاتھ مارا تو وہاں سے فرش واقعی ہی لکڑی کا تھا۔۔۔

زویا نے تیزی سے وہاں سے کارپٹ اٹھایا تو کارپٹ کے نیچے لکڑی کا ایک ڈھکن سا تھا۔۔زویا نے اس ڈھکن کو اوپر اٹھانے کے لیے ابھی ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے پیچھے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔اور اسے کمرے سے باہر دھکا دیا جلدی سے۔۔۔

اور کمرے سے تیزی سے باہر نکلا دروازہ بند کرتے ہوئے۔۔۔اس کے کمرے کی طرف لے کر بھاگا اس کو تیزی سے۔۔۔یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ زویا کو سنبھلنے کا موقع ہی نہی ملا۔۔۔اور زویا اس شخص کا چہرہ نہ دیکھ سکی آنکھوں پر گلاسز کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔

زویا ایک دم تیزی سے مڑی اپنی گن ہاتھ میں پکڑے۔۔کون ہو تم اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمیں ہاتھ لگانے کی۔۔تبھی وہ شخص مڑا۔۔اور آنکھوں سے گلاسز اتارے تو زویا نے گن واپس موڑ لی کیونکہ۔سامنے اذنان کھڑا تھا۔۔

اور تبھی دروازہ کھولنے کی آواز آئی اور ذیشان اس لڑکی کو ساتھ لیے اپنے کمرے کی طرف جاتے دکھائی دیا کھڑکی میں سے۔۔

اوہ تو یہ بات تھی۔۔زویا جلدی سے بولی۔۔اذنان غصے سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔

میں نے منع کیا تھا کہ کمرے سے نہی نکلنا آپ وہاں کیا کر رہی تھی۔۔۔اگر آپ کو وہ وہاں دیکھ لیتا تو۔۔اذنان غصے سے بولا۔۔

تو ہم اسے وہی دفن کر دیتے میجر اذنان۔۔۔ہم کوئی عام لڑکی نہی ہیں۔۔۔جو ڈر جائیں گی۔۔۔دشمن کو سنبھالنا آتا ہے ہمیں۔۔۔۔آپ بے فکر ہو جائیں۔۔۔۔یہ دیکھیں ہم یہ کر رہے تھے وہاں۔۔۔زویا نے اپنا فون اذنان کی طرف بڑھا دیا۔۔۔

اور سارا معاملہ اذنان کی سمجھ میں آ گیا۔۔ویل ڈن مس زویا لیکن ہمیں جلد بازی سے کام لینا چاہہے۔۔۔اگر میں ٹائم پر نہی پہنچتا تو معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا۔۔۔

آپ وہاں نیچے کیا کر رہی تھی۔۔۔۔۔

وہاں ایک دروازہ تھا۔۔۔جو کہ شاید طے خانہ ہے۔۔مجھے لگتا ہے اس نے بچوں کو وہی قید کر رکھا اور یہ میڈیسنز اور انجیکشنز ان بچوں کے لیے ہی ہیں۔۔تا کہ وہ ہوش میں نہ آ سکیں۔۔۔

اوکے اس کو گھر سے باہر نکلنے دی۔۔۔پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔۔اذنان بولتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔یہ کھانا کھا لیں آپ میں آپ کے لیے لےکر آیا ہوں۔۔۔آپ کمرے میں نظر نہی آئی تو میں آپ کو دیکھنے وہاں چلا آیا کیونکہ کمرے کا دروازہ بند تھا۔۔

ٹھیک ہے۔۔آپ نہی کھائیں گے کھانا۔۔زویا نے پوچھا۔۔

نہی مجھے بھوک نہی ہے۔۔۔اذنان نے لیپ ٹاپ آن کرتے ہوئے کہا۔۔

ہمیں اکیلے کھانا کھانے کی عادت نہی ہے۔۔۔آپ کو ہمارے ساتھ کھانا پڑے گا۔۔زویا نے واش روم کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔۔۔آپ ہینڈ واش کر لیں۔۔

زویا باہر آئی تو اذنان ابھی بھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔۔۔میجر اذنان پہلے کھانا کھا لیں۔۔زویا نے کہا تو اذنان اسے گھورتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کر کے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔

واپس آیا تو زویا کھانا ٹیبل پر رکھے اذنان کا انتظار کر رہی تھی۔۔اذنان حیران تھا اس لڑکی کی اپنائیت پر۔۔۔جو غیر ہوتے ہوئے بھی اس کے لیے پریشان ہو رہی تھی۔۔جانتی تھی کہ صبح سے کچھ کھایا نہی میں نے انکار کرنے پر خود بھی کھانا کھانے سے انکار کر رہی تھی۔۔اذنان نے اب پہلی دفعہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔۔اذنان کے آتے ہی اس نے کھانا شروع کر دیا۔۔۔وہ کھانا کھانے میں مصروف تھی۔۔

لیکن اذنان کی نظریں اس کے چہرے پرٹکی تھیں۔دیکھنے میں بہت معصوم تھی۔۔اج تک بہت لڑکیاں دیکھی تھی اس نے لیکن زویا ان سب سے الگ تھی۔معصوم سا چہرہ گہری جھیل سی آنکھیں سنہری بال۔۔اذنان تو جیسے اس کے چہرے میں کھو سا گیا تھا۔۔۔

اذنان کی نظریں خود پر محسوس ہوئی تو زویا نے اذنان کی طرف دیکھا۔۔۔تو زویا کے دیکھنے پر وہ نظریں پھیر گیا۔۔

آپ کھانا کیوں نہی کھا رہے۔۔زویا کھانا کھاتے ہوئےبولی۔۔

کھانے لگا ہوں۔۔۔کہ کر اذنان کھانے میں مصروف ہو گیا۔۔۔

کھانے سے فارغ ہوئے تو اذنان بیڈ پر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔۔۔اور زویا سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔تبھی زویا کو فون آیا۔۔۔

اور وہ فون پر مصروف ہو گئی۔۔ڈونٹ وری موم آئی ایم فائن۔۔آپ پریشان نہ ہوا کریں۔۔اب ہم بچی تو نہی ہیں۔۔۔جو آپ ڈرتی رہتی ہیں۔۔۔ہمارے وطن پر ہماری جان بھی قربان۔۔۔جس راہ پر آپکی بیٹی نکل پڑی ہے۔۔۔اب آپ کو ڈرنے کی بجائے ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیا پتہ کب شہید ہو جاوں۔۔۔کہتے ہوئے مسکرا دی۔۔

اس کی بات پر اذنان نے زویا کی طرف دیکھا۔۔وہ ہنستے ہوئے بہت معصوم لگ رہی تھی۔۔اذنان کو حیرانگی ہوئی اس معصوم سی لڑکی کے جذبات جان کر۔۔

میں واقعی غلط تھا۔۔۔اس لڑکی کے بارے میں یہ کوئی عام لڑکی نہی ہے۔۔دل میں سوچا اور مسکرا دیا۔۔۔زویا باتیں کرتے کرتے سو گئی۔۔۔اذنان لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھ کر لائٹ بند کر کے سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔

اب انہیں کل تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔ذیشان کے گھر سے باہر نکلنے کا تب ہی کچھ کر سکیں گے وہ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *