Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 18)
Rasam e Wafa by Khanzadi
زویا کو یہاں آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔۔لیکن ابھی تک اس کے سامنے کسی نے بھی کوئی ایسی حرکت نہی کی جس سے زویا کو اندازہ ہو چکے کہ آخر کون ہے جو اس لڑکی کو مارنا چاہتا ہے۔۔۔
نرس روم میں آتی اور اس لڑکی کی ساری ڈیٹیلز فائل میں لکھتی انجیکشن لگاتی اور کمرے سے نکل جاتی۔۔۔ابھی تک اس لڑکی کی باڈی میں کوئی امپروومنٹ نہی ہوئی تھی۔۔۔
زویا یونہی اس کے پاس گھنٹوں بیٹھی رہتی اور اس کی طرف دیکھتی رہتی۔۔۔شاید سمجھ سکے کہ کس تکلیف سے گزر رہی ہے وہ۔۔۔اس دوران زویا اپنی زندگی کو بھول چکی تھی۔۔
وہ تو بس اس لڑکی کو زندگی کی طرف واپس آتے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔زویا کھڑکی میں سے پردہ ہٹا کر باہر دیکھتی ہے تو اچانک اس کی نظر دور کھڑی نرس اور ڈاکٹر اسد پر پڑتی ہے۔۔
جو ڈرتے ڈرتے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے۔۔۔ایک انجیکشن نرس سے لے کر اسے دوسرا انجیکشن اپنی جیب میں سے نکال کر تھما دیتے ہیں۔۔۔اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔
لیکن نرس کمرے میں آ جاتی ہے۔۔۔زویا اس کو مشقوق نظروں سے دیکھتی ہے۔۔لیکن کوئی ردِعمل ظاہر نہی کرتی۔۔۔ریلیکس بیٹھی رہتی ہے۔۔۔نرس انجیکشن لگاتی ہے اور کمرے سے باہر نکلنے ہی لگتے ہے۔۔
کہ زویا اس سے ٹکرا جاتی ہے۔۔۔اور انجکشن کی خالی بوتل نیچے گر کر ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔نرس گھبرا جاتی ہے۔۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔۔ہکلاتے ہوئے بولتی ہے۔۔زویا سمجھ جاتی ہے۔۔کہ کچھ تو غلط ہو رہا ہے۔۔
اٹس اوکے۔۔۔کیا نام ہے آپ کا۔۔زویا سائیڈ پر ہٹتے ہوئے فائل کی طرف بڑھ جاتی ہے۔۔ایسے ظاہر کرتی ہے جیسے اسے کوئی انٹرسٹ ہی نہ ہو۔۔۔
ہما۔۔۔۔نرس ہکلاتے ہوئے بولتی ہے۔۔۔میں یہ کانچ ابھی صاف کر دیتی ہوں۔۔۔نرس جلدی سے کانچ اٹھانے کے لیے جھکی۔۔۔اس کے چہرے پر ڈر زویا واضح دیکھ چکی تھی۔۔
نہی نہی تم چھوڑ دو۔۔۔سوئپر کو بھیج دو وہ صاف کر دے گا۔۔۔کہی تمہارا ہاتھ نہ زخمی ہو جائے۔۔۔زویا آگے بڑھتی ہوئی بولی تو نرس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔وہ جلدی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔
اور جلدی سے سویئپر کو ساتھ لے کر آئی اور کانچ صاف کروا کر باہر چلی گئی۔۔۔زویا لا پرواہی سے صوفے پر بیٹھی رہی جیسے اسے کوئی انٹرسٹ ہی نہ ہو۔۔ان کے جاتے ہی زویا نے ہاتھ میں پکڑا بوتل کا ٹکرا دیکھا۔۔
جس پر انجیکشن کا نام واضح پڑھا جا سکتا تھا۔۔۔اوہ تو یہ بات ہے۔۔۔زویا جلدی سے ڈاکٹر نبیل کے کمرے کی طرف بڑھی لیکن وہ کمرے میں تھے ہی نہی۔۔۔تو زویا واپس آ گئی۔۔۔
اوہ۔۔میرا فون۔۔۔اگر میرا فون میرے پاس ہوتا تو ابھی ڈاکٹر نبیل کو فون کر دیتی۔۔۔فون یاد آنے پر زویا کو پھر سے یاد آ گیا کہ کیسے اس کا فون خراب ہوا تھا۔۔۔سوچتے ہی زویا کا سر چکرانے لگ پڑا۔۔
زویا نے جلدی سے بیگ سے ٹیبلیٹ نکال کر کھا لی۔۔اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔زویا کمزور نہی پڑنا چاہتی تھی۔۔اسی لیے جلدی سے پین کلر لے کر آنکھیں موندے صوفے پر سر رکھ دیا۔۔
کچھ دیر بعد پھر سے زویا ڈاکٹر نبیل کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔ڈاکٹر نبیل زویا کو کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئے۔۔کیا ہوا۔۔۔؟؟ وہ جلدی سے زویا کی طرف بڑھے۔۔۔
زویا نے وہ انجیکشن کا ٹوٹا ہوا کانچ۔۔۔ڈاکٹر نبیل کے سامنے رکھ دیا۔۔۔یہ دیکھیں زرا ڈاکٹر نبیل۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔ڈاکٹر نبیل کانچ کو دیکھتے ہوئے بولے۔۔یہ تو نیند کا انجیکشن ہے۔۔۔یہ کہاں سے ملا آپ کو۔۔ڈاکٹر نبیل حیرانگی سے بولے۔۔۔۔
یہی وجہ ہے جو اس لڑکی کو ہوش میں نہی آنے دے رہا۔۔۔آہستہ آہستہ اسے ختم کر رہا ہے۔۔۔۔مجرم نے سوچا دھیرے دھیرے ختم کیا جائے تا کہ کسی کو شک نہ ہو۔۔
اور جانتے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟ کون ہے اس سب کے پیچھے۔۔۔؟؟ ڈاکٹر اسد۔۔۔آپ کے چھوٹے بھائی۔۔۔۔زویا ایک ایک لفظ چبا کر بولی۔۔۔
نہی ایسا نہی ہو سکتا۔۔۔وہ ایسا کیوں کرے گا۔۔۔اس کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے اس لڑکی سے۔۔۔شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔۔۔۔وہ ایسا کیوں کرے گا۔۔
نہی ڈاکٹر نبیل ہمیں کوئی غلط فہمی نہی ہوئی۔۔۔ہم نے خود دیکھا ان کو نرس سے انجیکشن لے کر ایکسچینج کرتے ہوئے۔۔۔ہم اب رنگے ہاتھ پکڑیں گے ان کو۔۔۔بس شام تک کا انتظار کریں اب آپ۔۔۔
زویا کہتے ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔اور ڈاکٹر نبیل وہی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔۔۔یہ تم کیا کر رہے ہو نبیل۔۔۔ایسا کیسے کر سکتے ہو تم۔۔۔اب جو بھی ہو میں اس معاملے میں بولنے والا نہی ہوں۔۔۔
اب زویا شام ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔۔زویا ابھی کمرے میں آئی ہی تھی کہ ایک تقریباً دس سالہ بچہ کمرے میں داخل ہوا ہاتھ میں۔۔پھولوں کی ٹوکری پکڑے ہوئے۔۔
زویا سے ہاتھ ملاتے ہوئے ٹوکری زویا کو تھما دی۔۔۔زویا مسکرا دی۔۔۔یہ کیوں دے رہے ہیں آپ ہمیں زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔
یہ مجھے ایک انکل نے دیئے ہیں کہ آپ کو دے دوں۔۔بچہ باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
نہی بیٹا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔یہ کسی اور کے لیے ہو گا۔۔آپ یہ واپس لے جائیں۔۔زویا ٹوکری واپس بچے کو تھمانے کی کوشش کی لیکن بچہ جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔۔۔
نہی یہ آپ کے لیے ہی ہے۔۔۔آپ کا نام زویا ہے نہ۔۔بچہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
جی ہمارا نام زویا ہے۔۔لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا۔۔۔زویا حیران ہوئی بچے کے منہ سے اپنا نام سن کر۔۔
یہ آپ کے لیے ہی ہے۔۔۔کہتے ہوئے بچہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔اور ہاں وہ انکل کہ رہے تھے مجھے ڈھونڈنا ہے تو اپنا دل میں ڈھونڈ لینا۔۔دوبارہ کمرے میں آتے ہوئے بولا۔۔۔اور دھوڑ لگا دی۔۔۔
زویا جلدی سے باہر کی طرف لپکی۔۔۔لیکن باہر کوئی نہی تھا۔۔۔زویا واپس اندر آ گئی۔۔پھولوں کو دیکھنے لگ پڑی۔۔۔تب ہی اس کی نظر پھولوں کے درمیان پڑے فون پر پڑی۔۔۔
زویا نے جلدی سے فون اٹھایا تو یہ بلکل اس کے فون کے جیسا تھا۔۔لیکن میرا فون تو خراب ہو گیا تھا۔۔۔زویا کو یاد آیا تو اس نے جلدی سے سارے کانٹیکٹس دیکھے تو یہ سارے کانٹکٹس اسی کے تھے۔۔
زویا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے غور کیا کہ یہ نیو فون ہے۔۔۔بکل اس کے فون جیسا۔۔۔زویا نہ سمجھی کے عالم میں فون کو تک رہی تھی۔۔ایسا کون کر سکتا ہے۔۔۔
اوہ ہمم یہ کام ڈیڈ کا ہی ہو سکتا ہے۔۔وہ جانتے ہیں۔۔۔ہمیں ہمارا فون بہت اچھا لگتا تھا اسی لیے یہی لے کر گفٹ بھیج دیا۔۔تھینکس ڈیڈ۔۔یو آر بیسٹ۔۔مسکراتے ہوئے زویا نے میجر اظہر کا نمبر ملایا۔۔
کچھ دیر بعد انہوں نے زویا کی کال اٹینڈ کر لی۔۔۔اسلام و علیکم۔۔۔زویا کی چہکتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔۔۔
وعلیکم اسلام وہ بھی مسکراتے ہوئے بولے۔۔۔کیسے یاد آ گئی ڈیڈ کی آج۔۔۔مسکراتے ہوئے بولی۔۔
تھینکس ڈیڈ۔۔۔زویا چہکتے ہوئے بولی۔۔۔
تھینکس فار واٹ۔۔۔؟؟؟؟ میجر اظہر حیرانگی سے بولے۔۔۔
تھینکس فون کے لیے۔۔۔ڈیڈ۔۔۔تھینک یو سو مچ۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔
کونسا فون۔۔۔؟؟؟ میجر اظہر حیرانگی سے بولے۔۔۔؟؟؟
ابھی جو آپ نے بھیجا ہے۔۔۔ہمارا فون پانی میں گر گیا تھا تو آپ نے سیم ویسا ہی فون ہمیں گفٹ کر دیا۔۔
نہی میں نے تو کوئی فون نہی بھیجا آپ کو۔۔۔میجر اظہر نے جواب دیا۔۔
تو پھر کس نے بھیجا ہے زویا حیرانگی سے بولی۔۔۔
ہممم اب آپ کی زندگی میں کوئی اور بھی شامل ہو چکا ہے۔۔۔بیٹا جن کو ہماری طرح ہی آپ کی ضرورتوں کا خیال ہے۔۔۔۔۔مسکراتے ہوئے انہوں نے فون بند کر دیا۔۔۔میں ابھی مصروف ہوں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔
زویا حیرانگی کے عالم میں فون ہاتھ میں پکڑے بیٹھی تھی۔۔روحان نے بھیجا ہے یہ فون۔۔۔زویا کو اس بات پر کوئی خوشی محسوس نہی ہوئی تھی۔۔اس نے پھولوں والی ٹوکری اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دی۔۔
شام ہوئی تو نرس کمرے میں داخل ہوئی۔۔ابھی وہ انجیکشن لگانے ہی لگی تھی کہ زویا نے اس کے ہاتھ سے انجیکشن پکڑ لیا۔۔اور خالی بوتل بھی۔۔۔زویا کے اس ردِعمل پر نرس گھبرا کر پیچھے ہٹی۔۔
لائیں یہ انجیکشن میں لگا دوں گی۔۔۔آپ زرا ڈاکٹر نبیل کو بلوا دیں۔۔۔زویا نرم لہجے میں بولی۔۔تو نرس کمرے سے نکل گئی۔۔۔
ڈاکٹر نبیل کو ساتھ لیے کمرے میں آئی تو۔۔۔زویا نے ڈاکٹر نبیل کی طرف اشارہ کیا انجیکشن دیکھنے کا۔۔۔
ڈاکٹر نبیل نے انجیکشن دیکھا تو ان کے ہوش اُڑ گئے۔۔وہ غصے سے نرس کی طرف بڑھے۔۔لیکن زویا نے ان کو روک دیا۔۔۔
یہ انجیکشن کس نے دینے کو کہا آپ کو اس پیشنٹ کو دینے کے لیے۔۔۔؟؟ زویا نے نرم لہجے میں پوچھا تو نرس رو پڑی۔۔۔
دیکھو آپ کو کچھ نہی ہو گا۔۔۔بس سچ بتا دیں۔۔زویا نے کہا تو نرس بول پڑی۔۔
یہ انجیکشن مجھے ڈاکٹر اسد نے دیا تھا۔۔۔وہ مجھے روز زبردستی یہ انجیکشن ایکسچینج کرنے کو کہتے ہیں۔۔۔اگر میں نے ان کا کام نہی کیا تو وہ مجھے جاب سے نکال دیں گے۔۔
اسی لیے مجھے ان کا کام کرنا پڑتا تھا۔۔اور میں ایک غریب اور بیوہ عورت ہوں۔۔مجبوراً مجھے یہ کام کرنا پڑتا تھا۔۔اگر یہ جاب چلی جاتی تو میں اپنے بچوں کے سکول کی فیس نہی دے پاتی۔۔۔
وہ روتے ہوئے سب بتا رہی تھی۔۔۔تبھی زویا کو ایسے لگا جیسے دروازے کے باہر کوئی ہے۔۔۔زویا آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔تو باہر ڈاکٹر اسد ان کی باتیں سن رہے تھے۔۔
زویا نے دروازہ سارا کھول دیا۔۔۔تو ڈاکٹر اسد نے تیزی سے وہاں سے دوڑ لگا دی۔۔۔زویا نے بھی ان کے پیچھے دوڑ لگا دی۔۔۔وہ پارکنگ کی طرف بڑھ گئے۔۔۔زویا پارکنگ ایریا میں پہنچی تو اسے ڈاکٹر اسد کہی دکھائی نہی دیے۔۔
زویا وہی گاڑی سے ٹیک لگائے سانس بحال کرنے لگ پڑی۔۔تبھی زویا نے گاڑی کے شیشے میں دیکھا تو ڈاکٹر ہاکی پکڑے زویا کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔وہ زویا پر حملہ کرنے ہی والے تھے کہ کسی نے ہاکی زویا کی طرف بڑھنے سے روک لی۔۔۔
زویا وہاں سے ہٹ چکی تھی۔۔۔سامنے اذنان کھڑا تھا۔۔ڈاکٹر کے لباس میں۔۔۔زویا کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔۔۔اذنان کو سامنے دیکھ کر۔۔۔
اذنان نے ایک کک ڈاکٹر اسد کے پیٹ میں ماری تو وہ پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے زمین بوس ہو گیے۔۔زویا اپنی گن تان چکی تھی۔۔
اذنان نے مسکراتے ہوئے۔۔۔۔ہاتھ ہلاتے ہوئے۔۔۔زویا کی طرف اشارہ کیا۔۔زویا رخ موڑ گئی۔۔۔۔۔
اذنان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اتنی بے رخی اچھی نہی ہوتی۔۔اذنان زویا کے سامنے آتے ہوئے بولا۔۔۔
تبھی ڈاکٹر نبیل وہاں پہنچے تو اذنان جلدی سے پیچھے ہٹا۔۔
