Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 07)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 07)
Rasam e Wafa by Khanzadi
اگلے دن زویا یونیورسٹی پہنچی تو نیہا اسے دیکھ کرجلدی سے آگے بڑھی۔۔۔ہائے ایمن کہتے ہوئے زویا کے آگے آ کھڑی ہوئی۔۔رانیہ نے اسے دیکھ کر منہ بنایا۔
ہمم کیسی ہو نیہا آج بھی ہمارے ساتھ بیٹھو گی نہ۔۔؟؟زویا نےمسکراتے ہوئے پوچھا۔۔
نہی نہی میرے فرینڈز واپس آ گئے ہیں۔۔۔آو تمہیں ملواوں اپنے فرینڈز سے کہتے ہوئے نیہا آگے بڑھ گئی۔۔
یہ رابیعہ ہے۔۔اس نے ایک لڑکی کی طرف اشارہ کیا تو اس نے زویا سے ہیلو کہتے ہوئے ہاتھ ملایا۔۔
اور یہ احد ہے۔۔پاس کھڑے لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔احد نے زویا کی طرف ہاتھ بڑھایا تو زویا نے اس سے ہاتھ ملا لیا۔۔
اور یہ ہیں۔۔روحان ملک ان سے تو آپ واقف ہی ہیں۔۔نیہا کہتے ہوئے مسکرا دی۔۔اور سب کلاس کی طرف بڑھ گئے۔۔
کلاس میں جاتے ہی۔۔روحان نیہا پر چڑ دھوڑا۔۔یہ سب کیا تھا۔۔۔؟؟ تمہاری ایمن سے دوستی کب ہوئی؟؟
۔۔کس سے پوچھ کردوستی کی ہے تم نے اس سے۔۔۔ایک ساتھ اس نے کئی سوال کر ڈالے۔۔۔
کول ڈاون روحان کل تم سب چھٹی پر تھے تو تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔اس میں اتنا ہائپر ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔تم بھی حد کرتے ہو۔۔
تم جانتی ہو اس کے ساتھ میری دشمنی چل رہی ہے۔۔اور تم میری دوست ہوتے ہوئے اس کے ساتھ دوستی کر رہی ہو۔۔۔
ارے چھوڑو یار بس رسمی سی دوستی ہے۔۔میری کونسی وہ بیسٹ فرینڈ ہے تم کہو تو بات بھی نہ کرو گی دوبارہ اس سے۔۔۔کہتے ہوئے نیہا مسکرا دی۔۔اور باقی تینوں بھی مسکرا دیے۔۔۔
ویسے ہے کون یہ لڑکی پہلے کبھی نہی دیکھی۔۔۔احد بولا۔۔
تم تو دو مہینوں سے غائب تھے پچھلے مہینے ہی آئی ہے یہ لڑکی۔۔۔ایمن صفدر نام ہے اس کا۔۔۔نیہا نے جواب دیا۔۔
ہممم بیوٹی فل۔۔۔۔نام بھی پیارا ہے۔۔۔بلکل اسی کی طرح۔۔۔احد مسکراتے ہوئے بولا۔۔
تم تو دور ہی رہنا اس سے تمہارے ٹائپ کی نہی ہے۔۔تم سے بات نہی کرے گی وہ دوستی کرنا تو دور کی بات ہے۔۔۔روحان منہ بناتے ہوئے بولا۔۔
ڈونٹ وری ایسی کوئی لڑکی آج تک پیدا نہی ہوئی جو احد کو انکار کر سکے۔۔۔دیکھنا کیسے اشاروں پر نچاتا ہوں اس کو آنکھ دبا کر کہتے ہوئے بے باقی سے ہنس دیا۔۔اور باقی سب بھی ہنس دیے سوائے روحان کے۔۔
وہ جانتا تھا ایمن اس سے دوستی نہی کرے گی۔۔اتنی دیر میں سر ارحم کلاس میں داخل ہوئے تو لیکچر سٹارٹ ہو گیا۔۔۔وہ لوگ لیکچر نوٹ کرنے میں مصروف ہو گئے۔۔
زویا آج بھی کلاس سے جا چکی تھی۔۔۔اذنان کے آنے سے پہلے۔۔۔اذنان کو اس کی کمی محسوس ہوئی۔۔۔۔
جانتا تھا زویا کو اس نے ہرٹ کیا ہے۔۔۔اب اتنی آسانی سے ماننے والی نہی تھی وہ۔۔۔
اذنان لیکچر ختم کر کے ایک نظر احد پر ڈالتے ہوئے کلاس سے نکل گیا۔۔۔
ابھی آفس میں گیا ہی تھا کہ ارمان آفس میں داخل ہوا۔۔میجر اذنان۔۔احد بٹ واپس آ چکا ہے۔۔۔اب نیکسٹ کیا کرنا ہے۔۔۔
ہممم ییس میں نے دیکھ لیا تھا کلاس میں اسے۔۔
اذنان نے کہا۔۔۔یہ لوگ کوئی عام عادمی نہی ہے۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے مسٹر بٹ کے بارے میں انفارمیشن کلیکٹ کرنے میں لگا ہوں۔۔۔لیکن کوئی سرا ہاتھ نہی لگ رہا۔۔
یہاں تک کہ کوئی اس کے خلاف آواز اٹھانے میں۔۔۔
اس کا اسسٹنٹ شہباز کو بھی میں نے بہت کوشش کی کہ اس کے خلاف ساتھ دے میرا۔۔۔لیکن وہ بھی ساتھ نہی دے رہا۔۔
اب تو میجر زویا ہی کچھ کر سکتی ہیں۔۔۔۔ارمان بولا۔۔۔میجر زویا کی دوستی ہو چکی ہے نیہا سے اب آہستہ آہستہ نیہا کے ذریعے احد سے بھی دوستی ہو جائے گی۔۔
ایک بار میجر زویا اعتماد میں لے لیں۔۔۔احد کو پھر کام آسان ہو جائے گا۔۔۔
ویسے زویا ہے کہاں۔۔۔اذنان نے ارمان سے پوچھا۔۔؟
وہ تو کلاس میں نہی تھی۔۔ان کی طبیعت ٹھیک نہی تھی شاید اسی لیے کلاس سے باہر چلی گئی۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے۔۔۔اذنان نے جواب دیا۔۔۔
نیکسٹ لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے میں چلتا ہوں۔۔۔میجر اذنان۔۔۔کہتے ہوئے ارمان باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔
اور اذنان سوچوں میں گم ہوتا چلا گیا۔۔اسے سمجھ نہی آ رہا تھا کہ اب زویا کو کس طرح منایا جائے۔زویا اتنا زیادہ ناراض ہو جائے گی یہ تو میں نے سوچا ہی نہی تھا۔۔
اس نے ہمت کرتے ہوئے فون اٹھا کر زویا کا نمبر ملایا۔۔کافی دیر تک فون کرتا رہا لیکن زویا نے کال پک نہی کی۔۔
اذنان نے میسیج کیا۔۔۔میٹ می ان مائی آفس زویا۔۔۔
کافی دیر انتظار کرنے پر زویا کا کوئی ریپلائی نہی آیا۔۔۔تو اذنان اپنا فون اٹھائے باہر نکل گیا۔۔۔
زویا کلاس میں بھی نہی تھی۔۔اذنان زویا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کینٹین کی طرف بڑھ گیا۔۔۔وہاں دور ایک ٹیبل پر اسے زویا رانیہ اور علی کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔۔
وہ چلتا ہوئے ٹیبل تک گیا تو۔۔وہ تینوں اذنان کو وہاں دیکھ کر دھنگ رہ گئے۔۔۔علی اور رانیہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔سر آپ یہاں آئیں بیٹھیے نہ۔۔
علی جلدی سے آگے بڑھا۔۔جب کہ زویا وہی ڈھیٹ بنے بیٹھی رہی۔۔
وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی۔۔جیسے اس نے اذنان کو دیکھا ہی نہی۔۔۔
نو تھینکس۔۔۔اف یو ڈونٹ مائینڈ مجھے آپ کی فرینڈ سے کچھ بات کرنی ہے اکیلے میں۔۔۔اذنان علی اور رانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
شور سر ہمیں کوئی پرابلم نہی سر۔۔۔۔رانیہ نے جواب دیا۔۔اور علی کو ساتھ لیے وہاں سے چل پڑی۔۔
ان کے جاتے ہی اذنان زویا کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔زویا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ابھی مجھ سے ملیں آفس میں۔۔
ؐزویا نے کوئی جواب نہی دیا۔۔۔وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی . جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔۔۔
اذنان بہت مشکلوں سے ظبط کیے بیٹھا تھا۔۔زویا میں نے آپ سے کچھ کہا ہے۔۔اگر دو منٹ میں آپ میرے آفس نہی آئی تو۔۔۔اچھا نہی ہو گا۔۔
کہتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔۔۔اور اپنے آفس میں زویا کا انتظار کرنے لگ پڑا۔۔۔
پانچ منٹ بعد زویا کمرے میں داخل ہوئی اپنا بیگ ٹیبل پر رکھا اور چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔کیا کام ہے جلدی بولیں۔۔اور بھی کام ہیں ہمیں۔۔۔کہ کر منہ موڑ گئی۔۔۔
میں نے بس یہ بتانے کے لیے بلایا تھا۔۔آپ کو کہ میں یہ مشن چھوڑ کر جا رہا ہوں ابھی۔۔۔آپ اور ارمان مل کر اس کیس کو سولو کر لینا۔۔کہتے ہوئے اذنان کمرے سے نکل گیا۔۔۔
