Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Wafa (Episode 08)

Rasam e Wafa by Khanzadi

اذنان کے جانے کے بعد زویا نا سمجھی کے عالم میں وہی بیٹھی رہی اس میں ہمت ہی نہی رہی کچھ بولنے کی۔۔اذنان کو روکنے کی۔۔۔وہ بت بنی کرسی پر بیٹھی رہی۔۔

یہ کیا ہو گیا۔۔۔اس کو ابھی تک اپنے کانوں پر یقین نہی آ رہا تھا۔۔میجر اذنان اس مشن کو چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔کچھ دیر وہی بیٹھی رہی پھر ہمت کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔اپنا بیگ اٹھایا۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔

بیگ اٹھا کر باہر جانے کے دروازہ کھولا ہی تھا۔۔کہ سامنے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے دونوں ہاتھ باندھے۔۔۔اذنان کھڑا تھا۔۔اسے دیکھتے ہی زویا کے آنسو اور تیزی سے نکلنا شروع ہو گئے۔۔

زویا نے سائیڈ سے ہو کر وہاں سے نکلنا چاہا تو اذنان اس کے سامنے ہو گیا۔۔اس نے دوسری سائیڈ سے نکلنا چاہا تو اذنان پھر سے سامنے آ گیا۔۔۔زویا واپس کمرے میں چلی گئی روتے ہوئے۔۔

اور جا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔۔سر ٹیبل پے رکھ کر بے بسی سے رو پڑی۔۔تب ہی اذنان کمرے میں آیا۔۔اس کے ساتھ والی کرسی بیٹھ گیا۔۔۔زویا میری طرف دیکھو۔۔اس کے پاس ہو کر بولا۔۔

زویا نے سر اوپر اٹھایا۔۔۔۔تو اذنان مسکرا دیا۔۔۔اور گھٹنوں کے بل زویا کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔پرنسس۔۔۔کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا تو زویا ہنس پڑی اذنان کو ایسے کانوں کو ہاتھ لگائے دیکھ کر۔۔۔

اس کے ہنسنے پر اذنان بھی ہنس دیا۔۔۔ہممم سوری ایکسیپٹڈ۔۔۔۔؟؟؟ اس نے زویا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوا کہا۔۔تو زویا نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔

اور اذنان مسکراتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔۔زویا ابھی بھی ہنس رہی تھی۔۔۔اذنان اس کو ہنستے دیکھ کر اس کی ہنسی میں کھو سا گیا۔۔۔زویا مسلسل ہنس رہی تھی۔۔۔اور اذنان اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔

اذنان کو اپنی طرف اس طرح دیکھتے دیکھا تو زویا کی ہنسی کو بریک لگی۔۔میں چلتی ہوں۔۔میری کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔کہتے ہوئے زویا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس کرسی پر بٹھا دیا۔۔

اب ناراض تو نہی ہیں۔۔نہ مجھ سے اذنان زویا کی طرف بہت پیار سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔زویا اس کی آنکھوں سے جھلکتی محبت دیکھ کر نظریں جھکا گئی۔۔اور سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔

ہممم تو فرینڈز۔۔۔اذنان نے ہاتھ زویا کی طرف بڑھایا۔۔۔زویا نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔اور بولی فرینڈز۔۔۔تو دونوں مسکرا دیے۔۔۔

چلیں کم ازکم اسی بہانے ہمیں آپ کے چہرے پر مسکراہٹ تو دیکھنے کو ملی۔۔۔ورنہ ہم تو سوچ سوچ کر ہی پاگل ہو جاتے کہ پتہ نہی آپ مسکراتے ہوئے کیسے لگتے ہو گے۔۔زویا اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے بولی۔۔۔

اذنان اس کی بات پر بس مسکرا دیا۔۔زویا نے دل ہی دل میں اذنان کے لیے دعا مانگی۔۔۔اللہ کرے آپکی یہ مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہے آمین۔۔ہم چلتے ہیں۔۔رانیہ اور علی ہمارا انتظار کر رہے ہو گے۔۔۔پریشان نہ ہو جائیں کہیں۔۔

ٹھیک ہے جائیں۔۔۔اور اپنا خیال رکھا کریں۔۔احد سے زرا بچ کے رہنا آپ۔۔۔کوئی بھی مسلہ ہو مجھے میسیج کر دینا ہے۔۔میں فوراً پہنچ جاو گا۔۔۔اذنان نے سیریس ہوتے ہوئے کہا تو زویا ٹھیک ہے کہ کر مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔۔

اور اذنان مطمئن سا ہو کر کرسی پر سر ٹکا گیا۔۔۔زویا کی ناراضگی اس سے برداشت نہی ہو رہی تھی۔۔پتہ نہی کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا۔۔جیسے یہ لڑکی مجھے پھر سے زندگی کی طرف واپس لا رہی ہے۔۔مسکرانے پر مجبور کر دیا اس نے مجھے۔۔۔سوچتے ہوئے اذنان پھر سے مسکرا دیا۔۔۔

زویا باہر آئی تو رانیہ اور علی باہر کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ایمن مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھی۔۔کیا ہوا۔۔۔سب ٹھیک ہے نہ ایمن۔۔سر نےتمہیں آفس کیوں بلایا۔۔

کچھ نہی وہ اسائمنٹس کا مسلہ تھا۔سر نے مجھے وارن کرنے کے لیے بلایا تھا کہ اگر نیکسٹ ٹائم ایسا ہوا تو دونوں کو کلاس سے آوٹ کر دیں گے۔۔اور یہی نہی پرنسپل سے بھی شکایات لگے گی ہماری۔۔

اب تو مجھے اپنی اسائمنٹس خود ہی بنانی پڑیں گی یار۔۔ایمن مسکراتے ہوئے بولی۔۔

شکر ہے اللہ کا میں تو سمجھا کوئی سیریس بات ہے۔۔ہم تو ڈر ہی گئے تھے۔۔۔علی جلدی سے بولا۔۔اچھا اب چلو کینٹین میں کچھ کھاتے ہیں۔۔بہت بھوک لگی ہے یار۔۔علی بولا تو تینوں کینٹین کی طرف چل پڑے۔۔

بڑی بلش کر رہی ہو کیا بات ہے۔۔رانیہ نے ایمن کو کہنی مارتے ہوئے بولی۔۔؟؟ کیا مطلب۔۔۔؟؟ زویا ڈرتے ہوئے بولی جیسے اس کی کوئی غلطی پکڑی گئی ہو۔۔ مطلب یہ کہ جس کو ڈانٹ پڑی ہو اس کو تو اداس ہونا چاہیے۔۔۔

لیکن تم تو مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔اور ویسے بھی اسائمنٹ ہم دونوں کی سیم تھیں۔۔؟؟تو تمہے نہی لگتا سر کو ہم دونوں کو بلا کر وارن کرنا چاہیے تھا۔۔

لیکن سر نے مجھے تو ایک بار بھی نہی بلایا۔۔۔رانیہ بھنویں اچکاتے ہوئے بولی۔۔۔تو زویا کے چھکے چھوٹ گئے۔۔اسے سمجھ نہی آ رہی تھی کہ رانیہ کو کیا جواب دے۔۔۔

زویا خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔۔اسائمنٹ والی بات تو پرانی تھی۔۔۔یار میں دو دن سے لیکچر اٹینڈ نہی کر رہی تھی نہ تو آج سر نے مجھے کینٹین میں دیکھ لیا اسی لیے مجھے بلا لیا آفس میں۔۔

تم یہ کیسی کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔میری دوست ہو یا دشمن۔۔وہ مجھے کیوں بلائیں گے آفس۔۔میرے کونسے جاننے والے ہیں وہ۔۔زویا ناراض ہوتے ہوئے بولی۔۔

تو رانیہ مسکرا دی۔۔۔اچھا یار سوری۔۔مجھے کوئی غلط فہمی ہو گئی تھی شاید۔۔۔اپنا موڈ خراب مت کرو۔۔ رانیہ بولی تو ایمن مسکرا دی۔۔تب ہی علی تینوں کے لیے کھانا لے کر آ گیا۔۔اور وہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔

کھانا کھا کر جانے ہی لگے تھے کہ سامنے سے احد آتا دکھائی دیا۔۔ہائے گائز۔۔۔اس نے سب کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔۔رانیہ اور علی نے اس کی طرف دیکھ کر شکل بنائی۔۔۔

ایمن نے ان دونوں سے کہا تم لوگ چلو کلاس میں آتی ہوں۔۔ایمن نے کہا تو رانیہ اور علی کندھے اچکاتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گئے۔۔

آئیں بیٹھیں۔۔۔احد زویا کے لیے چیئر باہر نکالتے ہوئے بولا۔۔تو زویا نہ چاہتے ہوئے بھی مسکراتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔احد بھی سامنے والی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔۔

زویا نے بیگ میں سے اپنا فون نکال کر اذنان کا نمبر ڈائل کر دیا۔۔کینٹین میں بہت کم سٹوڈنس رہ گئے تھے۔۔زویا کو تھوڑا خوف محسوس ہوا۔اور پھر سامنے کوئی عام انسان بھی تو نہی تھا۔۔۔احد بٹ۔۔

اذنان نے کال پک کر لی۔۔۔لیکن زویا بولی نہی۔۔۔اگر ہم کینٹین کی بجائے کلاس روم میں چل کر بات کریں۔۔تو زیادہ اچھا رہے گا۔۔۔احد۔۔

زویا کے الفاظ پر اذنان کو سمجھ آ گئی کہ وہ کینٹین میں ہے۔۔احد کے ساتھ۔۔

نہی میں آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔ایمن اسی لیے یہی روک لیا آپ کو۔۔۔احد نے جواب دیا۔۔

جی بولیں کیا کہنا تھا آپ کو۔۔؟؟ زویا خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔۔وہ اس کے سامنے اپنا ڈر ظاہر نہی کرنا چاہتی تھی۔۔۔جلدی یہاں سے جانا چاہتی تھی۔۔جلدی یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔۔

اب جو ایک دو سٹوڈنس تھے وہ بھی جا چکے تھے۔۔کینٹین کے جس حصے میں وہ لوگ بیٹھے تھے۔۔کینٹین سٹاف بھی نہی تھا وہاں۔۔اب تو زویا سچ میں پریشان ہو چکی تھی۔۔

چاہے بہادر تھی۔۔لیکن تھی تو ایک لڑکی ہی نہ۔۔۔کبھی کبھی زندگی میں کچھ ایسے موڑ بھی آ جاتے ہیں۔۔کہ بہادر لڑکی بھی گھبرا جاتی ہے۔۔

میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔۔مجھ سے دوستی کرو گی۔۔۔احد نے اپنا ہاتھ زویا کی طرف بڑھایا۔۔۔

زویا اس کی بات پر سوچ میں پڑ گئی۔۔لیکن میں تو ایک مڈل کلاس سی لڑکی ہوں۔۔آپ مجھ سے کیسے دوستی کر سکتے ہیں۔میں آپ کے لیول کی نہی ہوں۔۔زویا جلدی سے بولی۔۔۔

تو احد نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا مسکراتے ہوئے۔۔ہمممم آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں۔۔۔میں ایسا انسان نہی ہوں۔۔میرے لیے یہ سٹینڈرز کچھ معنی نہی رکھتے جس سے دوستی کرتا ہوں۔

اسے سچے دل سے قبول کرتا ہوں۔۔۔اس طرح کی باتیں میں نہی سوچتا۔۔اس لیے تم بھی میری طرف سے اپنا دل صاف رکھو۔۔اور میری دوستی کو قبول کرو۔۔

اس نے پھر سے اپنا ہاتھ زویا کی طرف بڑھایا۔۔زویا نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔۔اور اس کا ہاتھ تھامنے ہی والی تھی۔۔کہ اذنان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔

آپ دونوں یہاں اکیلے کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟ تو زویا کی جان میں جان آئی۔۔

اذنان کو دیکھتے ہی احد نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔کککچھ نہی سر ہم تو بس یونہی باتیں کر رہے تھے۔۔میں تو بس جانے والا تھا۔۔یہ اپنے فرینڈز کا ویٹ کر رہی تھیں تو ان کو کمپنی دینے کے لیے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔احد نے اذنان کو دیکھتے ہی وہاں سے دوڑ لگا دی۔۔

اور زویا اور اذنان مسکرا دیئے۔۔۔چلیں آپ کو چھوڑ دوں کلاس تک۔۔۔اذنان نے کہا تو زویا اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔

زویا کے کلاس میں جاتے ہی اذنان وہاں سے چل پڑا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *