Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 04)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 04)
Rasam e Wafa by Khanzadi
ایک مہینے بعد۔۔۔۔
ایمن جلدی چلو کلاس کے لیے دیر ہو گئی تو سر بہت ڈانٹیں گے۔۔سر ارحم بہت غصے والے ہیں۔۔اگر ہم لیٹ گئے تو پوری کلاس کے سامنے ڈانٹیں گے۔۔تم تو ایک ہفتہ بعد آئی ہو۔
تمہے پتہ نہی ہے سر کا دو دن پہلے نئے سر آئیں۔۔اور تمہاری اسائمنٹ تو تیار ہے نہ سر کام کے معاملے میں کوئی کومپرومائز نہی کرتے۔۔رانیہ جلدی جلدی چلتے ہوئے بول رہی تھی۔۔
ڈونٹ وری اسائمنٹ ریڈی ہے۔۔تھینکس تم۔نے میل کر دی تھی۔۔ایمن نے جواب دیا۔۔اور دونوں کلاس روم میں داخل ہو گئی۔۔
کچھ دیر بعد سر آ گئے کلاس میں۔۔سب بچے کھڑے ہو گئے۔۔۔
ایمن کی نظر جب سر پر پڑی تو وہ گرتے گرتے بچی۔۔یہ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔سوچتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔
جو سٹوڈنس کل نہی آئے تھے وہ کھڑے ہو جائیں۔۔ایمن جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اور ہاتھ کھڑا کیا۔۔کلاس میں اور کوئی سٹوڈنٹ نہی کھڑا ہوا سوائے ایمن کے۔۔
سر کی نظر جب ایمن پر پڑی تو ایسے ظاہر کیا جیسے ان کو پہچاننے میں کوئی غلطی ہوئی ہو۔۔
اپنی عینک ٹھیک کرتے ہوئے بولے۔۔۔کیا نام ہے آپکا۔؟
ایمن صفدر۔۔ایمن نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
آپ مسکرا کیوں رہی ہیں۔۔سر ارحم نے غصے سے کہا تو ایمن کی ہنسی کو بریک لگی۔۔اور سارے سٹوڈنس ایمن کی طرف دیکھنے لگ پڑے۔
ایم سوری سر۔۔۔بس ایسے ہی۔۔۔ایمن نے سب کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔
نیکسٹ ٹائم آپ مجھے کلاس میں غیر حاضر نظر نہ آئیں۔۔اگر دوبارہ ایسا ہوا تو آپ کلاس میں نہی بیٹھ سکیں گی۔۔۔
اوکے سر۔۔۔ایمن جلدی سے بولی۔۔
ناو سٹ ڈاون۔۔۔سر نے کہا تو ایمن جلدی سے بیٹھ گئی۔۔سر نے لیکچر سٹارٹ کر دیا۔۔
لیکچر ختم ہوا تو سر نے سب سٹوڈنس سے اپنی اسائمنٹس جمع کروانے کو کہا۔۔
تو سب سٹوڈنس نے باری باری اپنی اسائمنٹس جمع کروا دیں۔۔
ایک سٹوڈنس ساری اسائمنٹس اٹھا کر سر کے روم میں چھوڑ آیا۔۔اور سر کلاس سے باہر نکل گئے۔۔ایک نظر ایمن پر ڈالتے ہوئے۔۔
سر کے کلاس سے باہر نکلتے ہی کلاس میں ہلچل سی مچ گئی۔۔سب سٹوڈنس باتوں میں لگ گئے۔۔تب ہی ایمن کا کلاس میٹ علی ایمن کے پاس آیا۔۔
ایمن کہاں تھی پچھلے ایک ہفتے سے۔۔۔؟؟
تم سے مطلب۔۔۔جواب رانیہ کی طرف سے آیا۔۔؟
علی تپ گیا۔۔میں نے تم سے پوچھا بھی نہی۔۔۔
سمجھی۔۔
بس کرو تم دونوں جب دیکھو لڑنے کو تیار رہتے ہو۔کبھی تو آرام سے بات کر لیا کرو۔۔ایمن بولی تو دونوں چپ ہو گئے۔۔
ایمن کیا ہوا تمہیں پریشان کیوں ہو۔۔اور سر تمہاری طرف کیوں دیکھ رہے تھے ایسے لگ رہا تھا کہ تم دونوں جانتے ہو ایک دوسرے کو۔۔رانیہ ہنستے ہوئے بولی۔۔
ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے علی نے کہا تو دونوں ہنس پڑے۔۔۔بچ گئی تم ویسے ایمن سر بہت ہیوی فائن کرتے ہیں چھٹی والے کو۔۔تمہیں کیوں نہی کیا فائن۔۔علی مسکراتے ہوئے بولا۔۔
ایمن نے دونوں کو گھورا۔۔۔ایسی کوئی بات نہی ہے۔۔میں سر سے آج فرسٹ ٹائم ملی ہوں۔۔اور رہی بات فائن کی تو ہو سکتا ہے۔۔آج میرا فرسٹ ٹائم تھا۔۔نیکسٹ ٹائم معاف نہی کریں گے۔۔۔
ایگزیکٹلی۔۔۔تبھی پیچھے سے روحان کی آواز آئی تو تینوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور ایمن کے ماتھے پر بل پڑ گئے اسے دیکھ کر۔۔وہ ایمن کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔
ایمن نے اسے گھورا اور وہاں سے اٹھ کر باہر کی طرف چل دی۔۔رانیہ اور علی بھی اس کے پیچھے چل پڑے۔۔۔
اور ریحان لب بھینچ کر رہ گئی۔۔۔یونی کی ساری لڑکیاں اس پے فدا تھیں۔۔۔اس سے بات کرنے کو ترستی تھی۔۔۔اور ایک یہ تھی۔۔ایمن صفدر جو اسے لفٹ نہی کرواتی تھی۔۔۔
کب تک بھاگوں گی مجھ سے۔۔ایک دن تمہیں اپنا بنا لوں گا۔۔تم مجھ سے بچ جاو گی یہ تمہاری بھول ہے۔۔تم نے مجھے۔۔روحان ملک کو اگنور کیا۔۔انجام اچھا نہی ہو گا۔۔دل ہی دل میں سوچتا اپنے غصے کو کنٹرول کرتا وہاں سے اٹھ گیا۔۔
کیا ہو گا اگر تم اس بیچارے سے تھوڑی بات کر لو تو۔۔بیچارہ تمہارے پیچھے پیچھے پھرتا رہتا ہے اور تم اسے لفٹ نہی کرواتی ہو۔۔۔رانیہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔
ایمن نے اسے غصے سے گھورا میں یہاں پڑھنے آتی ہو۔۔مجھے کوئی ضرورت نہی ہے اس سے بات کرنے کی۔۔اور وہ تو پاگل ہے اپنا ٹائم ویسٹ کر رہا ہے یہاں۔۔مجھے اس میں کوئی انٹرسٹ نہی ہے۔۔
پوری یونی کی لڑکیاں مرتی ہیں اس پر اور ایک تم ہو جس پر وہ مرتا ہے۔۔رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔
تم پاگل ہو۔۔ہم یہاں پڑھنے کے لیے آتے ہیں کسی پر مرنے کے لیے نہی۔۔ایمن نے رانیہ کا کان پکڑ کر کہا اور تم سدھر جاو ادھر ادھر دھیان دینا بند کرو اور اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔۔۔کہ کر اس کا کان چھوڑ دیا۔۔
تبھی علی اپنے لیے اور ان دونوں کے لیے جوس لے کر آیا۔۔۔یہ لو بھئی انجوائے کرو گرلز۔۔۔
تھینکس کہتے ہوئے دونوں نے اپنا اپنا گلاس پکڑ لیا۔
۔یہ کس خوشی میں۔۔۔رانیہ نے جوس پکڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ہممم یہ ٹریٹ ہے۔۔۔علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔
کس بات کی ٹریٹ ایمن نے پوچھا۔۔
دوستوں کے پیسوں سے کچھ کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔۔کہتے ہوا اس نے رانیہ کے سامنے اس کا والٹ لہرایا۔۔تو رانیہ کے ہوش اڑ گئے۔۔
علی کے بچے آج تمہیں چھوڑوں گی نہی میں کہتے ہوئے علی کے پیچھے بھاگی۔۔اور علی بچاو بچاو کہتے ہوئے آگے کو بھاگا۔اور ایمن کا قہقہ بلند ہوا۔۔
تبھی ایمن کی نظر سامنے پڑی تو سامنے کوئی کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔ایمن نے دیکھا تو اس نے نظریں پھیر لی۔۔اور جلدی سے وہاں سے نکل گیا۔۔
جب علی اور رانیہ بھاگ بھاگ کر تھک گئے تو ایمن کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔۔۔یہ لو رانیہ اپنے پیسے ناراض مت ہونا۔۔میں تو بس مزاق کر رہا تھا۔۔
رانیہ نے چھیننے کے انداز میں علی کے ہاتھ سے پیسے پکڑے اور اپنے بیگ میں رکھ دیے اور منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔۔
رانیہ اب کیا ہوا پیسے دے تو دیے علی نے یار اب معاف کر بھی دو۔۔اس بیچارے کو۔۔ایمن نے کہا تو رانیہ مسکرا دی۔۔۔
ایک شرط پر معاف کروں گی۔۔اگر یہ ہمیں لنچ ٹائم بریانی کھلائے گا تو۔۔رانیہ علی کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
علی نے اسے گھورا وہ کس خوشی میں۔۔۔یہ جوس بھی میرے پیسوں کا ہے میری کونسی کمیٹی نکلی ہے۔۔جو تم لوگوں کو بریانیاں کھلاتا پھروں۔۔
تو ٹھیک ہے نکلو یہاں سے۔۔۔دوبارہ یہاں نظر مت ڈالنا ہم تم سے سارے رشتے ختم کرتے ہیں۔۔رانیہ ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔
ایمن اور علی کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔ارے بس بس بہت ہو گیا اب سمیٹو تم دونوں یہ سب لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔ایمن جلدی سے بولی۔۔
نہی نہی پہلے آج فیصلہ ہو گا۔۔۔بریانی یا پھر دوست کیا چاہیے علی کو اسے بتانا ہی ہو گا۔۔رانیہ ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔
جو حکم ملکہ عالیہ آپ کو بریانی مل جائے گی۔۔۔ابھی چلیں کلاس میں لیکچر سٹارٹ ہو گیا نہ تو سر نے ہمارا قورمہ بنا دینا ہے وہ بھی بینگن والا۔۔
اور مجھے بھینگن کا قورمہ نہی کھانا۔۔۔علی نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا تو تینوں کا قہقہ بلند ہوا۔۔۔
بینگن کا قورمہ نہی ہوتا بھرتا ہوتا ہے۔۔۔رانیہ نے کہا تو تینوں ہنستے ہوئے کلاس روم کی طرف بڑھ گئے۔۔
لنچ ٹائم پر علی دونوں کو کینٹین لے گیا۔۔اور بریانی منگوائی۔۔اور کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔تب ہی روحان وہاں آ گیا اور ایمن کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔۔
واو پارٹی چل رہی ہے یہاں تو۔۔۔ہممم بہت اچھے ٹائم پر اینٹری ماری ہے میں نے۔۔۔اس نے کہا تو علی نے اسے گھورا۔۔۔تمہارا یہاں کوئی کام نہی جاو یہاں سے۔۔علی اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔
ریلیکس بڈی۔۔۔میں کوئی دشمن تو نہی ہوں تم لوگوں کا اگر تھوڑی دیر مجھے ساتھ بٹھا لو گے تو کیا ہو جائے گا۔۔روحان گاڑی کی چابی انگلی پر گھماتے ہوئے بولا۔۔
مجھے تو یہ سمجھ نہی آتی تم لوگوں کو مسلہ کیا ہے مجھ سے۔۔۔جب دیکھو تب کاٹ کھانے کو پڑتے ہو۔۔۔۔۔روحان کا انداز غصے بھرا تھا۔۔
علی ابھی بولنے ہی والا تھا۔۔۔کہ ایمن نے سر ہلا کر کچھ بھی نہ بولنے کا اشارہ کیا۔۔۔ایمن اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اور ساتھ ہی علی اور رانیہ بھی۔۔اٹھ گئے اور دوسرے ٹیبل پر بیٹھنے کے لیے چل پڑے۔۔
روحان ایک دم ایمن کے سامنے آ گیا اور اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا۔۔ایمن گرتے گرتے بچے۔۔۔ایمن رک جاو پلیز آخر کب تک ایسا چلے گا۔۔میں دوستی کرنا چاہتا ہوں تم سے۔۔۔
ایمن کا ہاتھ اٹھا۔۔۔اور روحان کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ لگا۔۔۔سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گیے۔۔روحان کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔اپنی اس بے عزتی پر۔۔۔
لیکن بولا کچھ نہی ایمن وہاں سے چل پڑی تو رانیہ اور علی بھی مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑے۔۔
اور روحان وہی اپنے گال پر ہاتھ رکھے کچھ دیر کھڑا رہا اسے یقین نہی ہو رہا تھا کہ کسی لڑکی نے اسے تھپڑ مارا ہے۔۔۔کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد وہ وہاں سے چل پڑا۔۔
وہ تینوں گاڑدن میں جا کر بیٹھ گئے۔۔۔کیا یار سارا موڈ خراب کر دیا اس روحان نے۔۔علی غصے سے بولا۔۔
خیر جو بھی ہوا۔۔۔ایمن کا تھپڑ بہت کمال کا تھا۔۔۔رانیہ بولی تو۔۔۔علی اور رانیہ ہائی فائی کرتے ہوئے ہنس دیے۔۔۔ہاہا یہ تھپڑ اسے نہی بھولے گا۔۔
آج کے بعد کسی بھی لڑکی کو ہاتھ لگانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔۔رانیہ بولی۔۔۔
اچھا چھوڑو یہ سب چلو بریانی کھاتے ہیں۔۔آ جاو ایمن۔۔رانیہ نے کہا تو ایمن نے کھانے سے انکار کر دیا۔۔
اب چھوڑو یار اس کی عادت ہے۔۔۔امید ہے آج کے بعد ہمارے راستے میں نہی آئے گا وہ۔۔آج اچھا سبق سکھایا تم نے اسے۔۔۔چلو اب شروع کرو ٹھنڈی ہو گئی تو دل نہی کرے گا کھانے کو۔۔
اچھا لاو۔۔ایمن نے کہا تو تینوں مسکرا دیے۔۔۔اور بریانی کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔۔
یونی سے واپسی پر تینوں واپس ہوسٹل چلے گئے۔۔
روحان نے گھر جاتے ہی کمرے کی ساری چیزیں توڑ پھوڑ دی۔۔۔شور کی آواز سن کر ارمان۔۔روحان کا جڑوا بھائی وہاں آ گیا۔۔۔
یہ سب کیا کر رہے ہو ریحان کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔بس کر دو یہ حرکتیں موم گھر میں نہی ہیں۔۔اگر وہ یہ سب دیکھ لیتی تو بہت دکھ ہوتا ان کو۔۔
اب بچے نہی رہے تم بند کرو یہ سب کچھ۔۔ارمان اسے جھنجوڑتے ہوئے بولا۔۔
تم دور رہو مجھ سے تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی۔۔زیادہ اچھا بننے کی ضرورت نہی ہے۔۔سب جانتا ہوں میں تمہارے بارے میں۔۔۔روحان غصے سے ارمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔
اس لڑکی کو تو میں چھوڑوں گا نہی سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو۔۔۔اس نے مجھے روحان ملک کو تھپڑ مارا۔۔۔اس نے سامنے پڑا گلدان شیشے میں دے مارا۔۔سارا شیشہ ٹوٹ کر بکھر گیا۔۔۔
اس کی ہمت کیسے ہوئی۔۔۔لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر۔۔ترستی ہیں کہ میں ان سے بات کروں اور ایک یہ ہے۔۔ایمن صفدر جس سے میں خود بات کرنا چاہتا ہوں۔۔اور یہ مجھے اگنور کرتی ہے۔۔
کیونکہ وہ باقی لڑکیوں جیسی نہی ہے۔۔۔پاگل ہے وہ لڑکیاں جو تمہارے پیچھے پیچھے پھرتی ہیں۔۔۔اپنا ٹائم ضائع کرتی ہیں۔۔جنہیں نہ اپنی عزت کا خیال ہے نہ ماں باپ کی عزت کا۔۔
وہ ان لڑکیوں جیسی نہی ہے۔۔۔وہ اچھے گھر کی لڑکی ہے۔۔اس کو اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال ہے۔۔۔اپنا اچھا برا سمجھتی ہے وہ۔۔ارمان اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔۔
اور تم یہ بتاو مجھے وہاں پڑھنے جاتے ہو یا لڑکیوں سے دوستی کرنے جاتے ہو۔۔جس دن پاپا کو تمہاری حرکتوں کا پتہ چل گیا نہ اچھا نہی ہو گا۔۔دن رات ایک کر کے وہ ہمارے لیے محنت کر کے پیسے کماتے ہیں۔۔۔
ہمیں پڑھا رہے ہیں۔۔تا کہ ہمارا مستقبل بہتر بن سکے۔۔لیکن تمہیں تو کسی کی پرواہ نہی ہے۔۔تمہیں بس اپنی اناہ پیاری ہے۔۔ بس لڑکیوں کو ساتھ لیے پھرتے ہو۔۔۔اب بس بہت ہو گیا مجھے ڈیڈ کو بتانا پڑے گا تمہاری حرکتوں کے بارے میں۔۔۔ارمان کہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
جو مرضی کرو جسے چاہے بتا دو۔۔۔مجھے کسی کی پرواہ نہی مجھے بس ایمن صفدر سے بدلہ لینا ہے۔۔چھوڑوں گا نہی میں اسے کہتے ہوئے بیڈ پر گر گیا۔۔۔
اگلے دن وہ تینوں کلاس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔کہ ارمان ان کے پاس آیا۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔۔اس نے کہا تو تینوں نے مڑ کر دیکھا۔۔
جی ایمن نے جواب دیا۔۔۔وہ کل جو کچھ ہوا۔۔روحان نے آپ کے ساتھ بدتمیزی کی اس کے لیے میں اس کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔۔ارمان نظریں جھکائے بولا۔۔۔
آپ کو سوری کرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔۔اس میں آپ کی کوئی غلطی نہی آپ بس ان کو سمجھا دیں کہ دوبارہ میرے راستے میں نہ آیے۔۔ایمن بولی
ایگزیکٹلی بڈی ہماری تم سے کوئی دشمنی نہی تو تو اپنا دوست ہے یار۔۔علی جلدی سےبولا۔۔کب تک اس کی غلطیوں کی معافی مانگتے پھرو گے۔۔۔اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔۔
آو بیٹھو ہمارے ساتھ۔۔۔علی نے کہا تو ارمان علی کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔اور باتوں میں مصروف ہو گئے۔۔تب ہی روحان کلاس میں داخل ہوا۔۔۔ارمان کو ان کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر سیخ پا ہو گیا۔۔لیکن بولا کچھ نہی۔۔۔ایک نظر ان پر ڈالتے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔
سر ارحم کلاس میں آئے اور لیکچر سٹارٹ ہو گیا۔۔سب لیکچر سننے میں مصروف ہو گئے۔۔۔لیکچر ختم ہونے کے بعد سب کو ان کی اسائمنٹس واپس کر دی سر نے سوائے ایمن اور رانیہ کے۔۔۔
ایمن صفدر۔سر ارحم نے اس کا نام لیا تو ایمن جلدی سے کھڑی ہو گئی۔۔۔جی سر۔۔۔
آپ پانچ منٹ میں میں میرے آفس میں پہنچیں۔۔۔سر ارحم بول کر کلاس روم سے باہر نکل گئے۔۔۔اور ایمن نے کندھے اچکا دیے۔۔۔پوری کلاس ایمن کی طرف دیکھنے لگ پڑی۔۔۔
ایمن اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے سر ارحم کے آفس کی طرف چل پڑی۔۔۔ہو گئے شروع۔۔
