Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Wafa (Episode 14)

Rasam e Wafa by Khanzadi

زویا بہت دیر تک اذنان کو فون ملاتی رہی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔۔آخر کار وہ فون سائیڈ پر رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔اس کے دل میں عجیب سے وسوسے آ رہے تھے۔۔

سمجھ نہی پا رہی تھی۔۔اذنان کو ہوا کیا ہے۔۔کیوں وہ اس کی کال اٹینڈ نہی کر رہا۔۔پہلے سوچا مصروف ہو گا۔۔پھر خود ہی اس بات پر سر ہلا دیا۔۔اتنے مصروف تو نہی ہو سکتے کہ میری کال اٹینڈ نہ کر سکیں۔۔

کچھ دیر بعد اذنان گھر واپس آیا تو فون کی طرف دھیان گیا۔۔سکرین آن کی تو زویا کی پچاس سے زیادہ مس کالز تھیں اس کے فون پر۔۔۔ساڑھے بارہ کا ٹائم تھا۔۔اذنان نے زویا کو کال کی یہ سوچتے ہووئے کہ کہی کوئی ایمر جنسی نہ ہو۔۔

پہلی بیل پر ہی زویا نے کال اٹینڈ کر لی۔۔۔اذنان حیران رہ گیا۔۔زویا اب تک جاگ رہی ہے۔۔اسلام و علیکم زویا کی چہکتی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔

وعلیکم اسلام۔۔۔خیرئت تھی آپ کی اتنی زیادہ کالز آئی ہوئی تھیں۔۔میں زرا ضروری کام سے باہر گیا ہوا تھا۔۔ابھی گھر لوٹا تو فون چیک کیا۔۔

جی سب خیریت ہے۔۔میجر اذنان بس ایسے ہی آپ ہم سے ملے بغیر ہی یونیورسٹی سے واپس آ گئے۔۔تو ہمیں فکر ہو رہی تھی آپ کی۔۔ہم نے سوچا آپ خود رابطہ کریں گے۔۔لیکن آپ نے کوئی رابطہ نہی کیا۔۔اسی لیے ہم نے خود فون کر دیا۔۔

لیکن آپ کال اٹینڈ نہی کر رہے تھے۔۔تو ہم پریشان ہو گئے۔۔اسی لیے کافی دیر سے فون کر رہے تھے آپکو۔۔ہم معزرت کرتے ہیں اگر آپ کو پریشان کیا ہم نے تو۔۔

نہی ایسی کوئی بات نہی۔۔۔اس میں معزرت کرنے والی کونسی بات ہے۔۔مجھے ارجینٹلی کہی جانا تھا اسی لیے یونیورسٹی سے آپ سے ملے بغیر ہی وہاں سے نکل آیا۔۔

ہممم۔۔ہمیں آپ کو ایک ضروری بات بتانی تھی۔۔اسی لیے فون کیا۔۔زویا ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔۔

جی کہئے۔۔کیا بات کرنی تھی۔۔۔اذنان تھکا تھکا سا بولا۔۔۔

وہ آج یونیورسٹی میں روحان نے ہمیں پرپوز کیا۔۔وہ ہم سے شادی کرنا چاہتا ہیں۔۔۔زویا ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔

زویا کے منہ سے روحان کا نام سنتے ہی اذنان کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔۔۔۔ہمم یہ تو اچھی بات ہے۔۔بہت خوشی ہوئی یہ سن کر مجھے۔۔روحان بہت خوش رکھے گا آپکو۔۔

باقی جیسے آپ کو مناسب لگے۔۔یہ آپ کی زندگی ہے کیسے گزارنی ہے آپ زیادہ بہتر جانتی ہیں۔۔اذنان بول کر چپ ہو گیا۔۔۔

دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔۔آپ خوش ہیں میرے اس فیصلے سے ایک دوست ہونے کے ناطے پوچھ رہی ہیں ہم۔۔۔کچھ دیر بعد زویا ہمت کر کے بولی۔۔

جی میں خوش ہوں آپ دونوں کے لیے۔۔کہ کر اذنان نے جلدی سے فون بند کر دیا۔۔وہ زویا کے سامنے کمزور نہی پڑنا چاہتا تھا۔۔۔

فون بند ہوا تو زویا آنکھیں موندے لیٹ گئی۔۔نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔نہ جانے کیوں وہ اداس ہو چکی تھی۔۔اذنان کی باتوں سے اسے اندازہ ہو چکا تھا۔۔کہ اذنان خوش ہے اس رشتے سے۔۔

اگلے دن اذنان نے اپنی تڑانسفر ایپلیکیشن جمع کروا دی اور گھر واپس آ گیا۔۔وہ کچھ دن آرام کرنا چاہتا تھا۔۔۔زویا سے اس کی دوبارہ ملاقات نہی ہوئی تھی۔۔اور نہ دونوں نے ایک دوسرے کو کال کی تھی۔

زویا کسی مشن کے لیے جا چکی تھی۔۔۔جبکہ ایک ہفتے بعد اذنان کا ٹرانسفر لیٹر آ چکا تھا۔۔اس نے اپنی ٹرانسفر اسلام آباد کروا لی تھی۔۔زویا بھلانے کی وہ دن رات کوشش کرتا تھا۔۔

دن تو جیسے تیسے گزر جاتا تھا۔۔۔لیکن رات ہوتے ہی زویا کی یادیں اسے گھیر لیتی تھیں۔۔۔آج اسے اسلام آباد آئے ہوئے ایک مہینہ گزر چکا تھا۔۔لیکن اس کے لیے تو جیسے ایک سال گزرنے کے برابر تھا۔۔

زویا مشن سے واپس آئی تو سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔اذنان کو بہت بار کال کی اس نے لیکن اس کا نمبر آف تھا۔۔پھر ارمان سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ تو یہاں ہے ہی نہی۔۔۔

زویا گھر میں داخل ہوئی تو اسے ڈرائنگ روم سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔۔لیکن زویا نظر انداز کرتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ابھی کمرے میں پہنچی ہی تھی۔۔کہ اس کی ماما کمرے میں داخل ہوئی۔۔

زویا بہت اچھے ٹائم پر آئی ہیں آپ۔۔جلدی نیچے چلیں آپ کے ڈیڈ آپ کو بلا رہے ہیں۔۔

ڈیڈ گھر پر ہیں۔۔؟؟ امیزنگ۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔چلیں۔۔۔زویا ان کو ساتھ لیے نیچے آ گئی۔۔

سامنے روحان ارمان اور ان کے پیرنٹس کو دیکھ کر زویا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔وہ ان کو سلام کرتے ہوئے مام کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔

یہ ہیں ہماری بیٹی زویا۔۔۔ماما نے اس کا تعارف کروایا۔۔۔

جی ماشااللہ بہت پیاری بچی ہے۔۔ہمیں فخر ہے روحان کی پسند پر۔۔۔روحان کی ماما روحان کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے بولی۔۔

ان کی بات پر زویا نے نظریں اٹھا کر روحان کی طرف دیکھا ساری بات اس کی سمجھ میں آ گئی۔۔۔

تو پھر ہمیں اجازت دیں بہن جی۔۔باقی آپ لوگ آپس میں مشورہ کر لیں جو دن آپ کو مناسب لگے نکاح کے لیے۔۔

جی بلکل ہم انتظار کریں گے۔۔اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے میجر صاحب کب کی ڈیٹ رکھنی ہے ہمیں بتا دینا آپ ہم آ جائیں گے دولہے کو لے کر۔۔روحان کے پاپا بولے۔۔

نکاح کی بات سن کر زویا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔اسے وحشت ہو رہی تھی اس ماحول سے۔۔نکاح۔۔۔۔؟؟اتنی جلدی اس بارے میں تو ہم نے سوچا ہی نہی تھا۔۔۔روحان سے بات کرنی پڑے گی۔۔

شام کو مام ڈیڈ اس کے کمرے میں آئے۔۔زویا بیٹا آپ کو کوئی اعتراض تو نہی ہے نہ اس رشتے سے۔۔ہم آپ کے سگے ماں باپ تو نہی۔۔۔ہم نہی چاہتے آپ کے ساتھ کوئی زیادتی ہو۔۔۔جو بھی ہو گا آپ کی مرضی کے مطابق ہی ہو گا۔۔۔

مام کی بات پر زویا جلدی سے آگےبڑھی۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ لوگ۔۔آپ ہی میرے مام ڈیڈ ہیں۔۔دوبارہ ایسا کبھی نہی کہنا آپ لوگ۔۔۔آپ دونوں کو پورا پورا حق ہے میری زندگی کے متعلق فیصلہ کرنے کا۔۔

زویا مام کے گلے لگ کر رو دی۔۔۔کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔۔۔اچھا بھئی میں تو چلتا ہوں۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔جلدی ملاقات ہو گی۔۔۔زویا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔۔

زویا چاہ کر بھی ان کو انکار نہ کر سکی۔۔۔اب بات ماں باپ کی عزت پر آچکی تھی۔۔اسی لیے اب زویا کے لیے انکار کی کوئی گنجائش نہی تھی۔۔۔اور اذنان بھی تو پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔تو زویا انکار بھی کس کے سہارے کرتی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *