Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Wafa (Episode 16)

Rasam e Wafa by Khanzadi

صبح ہو چکی تھی۔۔بارش بھی تھم چکی تھی۔۔اذان کی آواز پر زویا اٹھ کر نیچے چلی گئی۔۔فریش ہو کر نماز پڑھنے چلی گئی۔۔۔نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔۔۔

یااللہ جو آپکا فیصلہ ہے مجھے منظور ہے۔۔اگر روحان کا ساتھ میری قسمت میں لکھا ہے تو ہمیں آپ کا یہ فیصلہ قبول ہے۔۔یااللہ ہمیں ہمت دے تا کہ ہم اپنے ماں باپ کا مان رکھ سکیں۔۔۔زویا کی آنکھوں سے آنسو جاری تھی۔۔آمین کہ کر چہرے پر ہاتھ پھیر کر جائے نماز سمیٹ کر کچن میں چلی آئی۔۔

ماما کو سلام کیا۔۔۔اور کافی کے انتظار کرنے لگ پڑی۔۔۔زویا کو دیکھ کر مسز اظہر مسکرا دی۔۔۔زویا کو کافی کا مگ تھما کر ناشتہ بنانے میں مصروف ہو گئی۔۔۔موم ڈیڈ نہی آئے ابھی تک۔۔؟؟

کافی کا مگ تھامتے ہوئے زویا نے پوچھا۔۔۔

نہی ابھی فون آیا تھا ان کا کہ رہے تھے جلدی آ جائیں گے۔۔آپ اپنا ڈریس وغیرہ سیٹ کر کے رکھ لیں۔۔۔

روحان سے بات ہوئی آپ کی۔۔موم نے پلٹ کر پوچھا۔۔؟؟

نو مام۔۔۔ہمیں اچھا نہی لگتا ابھی بات کرنا۔۔۔جب رشتہ بن جائے گا تب بات کر لیں گے۔۔۔زویا نے بے زار سے لہجے میں جواب دیا۔۔۔

ہممم ٹھیک ہے ویسے بھی آج رشتہ بن جائے گا آپ کا روحان سے۔۔بہت اچھا لڑکا ہے ہم جان گئے ہیں۔۔بہت محبت کرتا ہے آپ سے۔۔بہت خوش رکھے گا آپ کو۔۔۔انشااللہ۔۔۔۔۔

زویا ان کی بات پر پھیکا سا مسکرا دی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اس کا فون بارش میں بھیگنے کی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔۔فون آن کیا لیکن نہی ہوا۔۔زویا نے فون بیڈ پر پھینک دیا۔۔

کچھ دیر بعد میجر اظہر گھر آ چکے تھے۔۔اور نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔۔۔مہمان بھی آنا شروع ہو چکے تھے۔۔۔زویا ابھی تک اپنے کمرے میں ہی بیٹھی تھی۔۔۔

خآ

رانیہ اور علی بھی آ چکے تھے۔۔دونوں زویا سے مل کر بہت خوش ہوئے۔۔۔بہت چھپی رستم نکلی تم تو میجر زویا علی نے کہا تو زویا پھیکا سا مسکرا دی۔۔اور دیکھو ہمارے سامنے کبھی بات تک نہی کرتی تھی روحان سے۔۔

اور اب دیکھو۔۔۔نکاح کر رہی ہیں میڈم صاحبہ۔۔رانیہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔۔۔زویا حیران تھی ان دونوں کو یہاں دیکھ کر اس نے تو بلایا ہی نہی تھا ان کو نکاح پر۔۔۔۔

ویسے تم لوگوں کو کیسے پتہ چلا نکاح کا۔۔۔؟؟ زویا دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

ارے واہ واہ تم نے کیا سوچا نہی بلاو گی تم تو ہمیں پتہ نہی چلے گا۔۔۔۔رانیہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔علی اور زویا اس کی حرکت پر ہنس دیے۔۔۔

بس کرو اب یہ نوٹنکی۔۔۔علی رانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو رانیہ نے اسے گھورا۔۔۔۔ہمیں روحان نے انوائٹ کیا ہے تمہیں تو زحمت نہی کی بلانے کی۔۔۔

نہی ایسی بات نہی ہے۔۔۔۔میں بلانے ہی والی تھی میرا فون پانی میں گر گیا تھا۔۔۔آن نہی ہو رہا تھا۔۔اسی وجہ سے بات نہی ہو سکی۔

چلو چھوڑو یہ سب آو جلدی تیار کروں تمہیں مہمان آنے والے ہیں۔۔۔علی تم جاو اب یہاں سے۔۔۔رانیہ نے کہا تو علی کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔اور رانیہ نے زویا کو ڈریس تھما کر چینج کرنے کو کہا۔۔۔

زویا ڈریس اٹھائے چینج کرنے چلی گئی۔۔وآووو بہت اچھی لگ رہی ہو زویا۔۔۔تم تو سمپل بھی اس پنک ڈریس میں بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔رانیہ نے سچے دل سے زویا کی تعریف کی۔۔۔

کچھ دیر میں رانیہ نے زویا کو تیار کر دیا۔۔۔زویا بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔رانیہ نے زویا کی نظر اتاری اور سچے دل سے اپنی دوست کی خوشیوں کی دعا مانگی۔۔

مسز اظہر کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔زویا کو دیکھ ماشااللہ کہتے ہوئے زویا کو پیار کیا۔۔۔زویا بیٹا روحان اور اس کے گھر والے آ چکے ہیں۔۔۔اگر آپ کی اجازت ہو تو نکاح شروع کریں۔۔۔۔

زویا کو اس وقت ایسے لگا جیسے اس کے لیے موت کا پیغام آیا ہو۔۔۔رانیہ نے ہلایا تو ہوش میں آئی اور سر ہاں میں ہلا دیا۔۔مسز اظہر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔اور نکاح خواں اور میجر اظہر کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔

رانیہ نے زویا کو گھونگٹ اوڑا دیا۔۔۔نکاح شروع ہو گیا۔۔۔زویا نہ تو کچھ سمجھ پا رہی تھی نہ ہی سن پا رہی تھی۔۔۔زویا نا سمجھی کے عالم میں نکاح قبول کر کے نکاح نامے پر سائن کر چکی تھی۔۔۔۔

نکاح ہو چکا تھا۔۔۔۔زویا سفیان خان سے زویا روحان ملک بن چکی تھی۔۔۔زویا کو روحان کے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا۔۔۔لیکن زویا کو ہوش ہی کہاں تھی۔۔وہ ساری دنیا سے بے خبر سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔

اسے پتہ ہی نہی چلا کب نکاح شروع ہوا۔۔کب ختم۔۔۔کب اسے روحان کے ساتھ لا کر بٹھایا گیا۔۔اور کب واپس کمرے میں لا کر بٹھا دیا گیا۔۔رانیہ اسے کمرے میں چھوڑ کر مبارک باد دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

کچھ دیر یونہی صوفے پر بیٹھے رہنے کے بعد زویا چینج کرنے کے لیے الماری کی طرف بڑھی ہی تھی۔۔کہ نظر سامنے بالکونی میں پڑی۔۔۔سامنے اذنان بلیک پینٹ کوٹ پہنے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا گلدستہ اٹھائے مسکرا رہا تھا۔۔

پہلے تو زویا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہی آیا۔۔۔پھر بے یقینی کے عالم میں اذنان کی طرف بڑھی۔۔وہ واقعی ہی اس کے سامنے تھا۔۔زویا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔

اذنان نے پھول اس کی طرف بڑھائے۔۔۔آئی ایم سوری۔۔زویا۔۔۔بہت بہت مبارک ہو۔۔۔اذنان مسکراتے ہوئے بول رہا تھا۔۔

زویا تو جیسے ہوش میں ہی نہی تھی۔۔۔اذنان کے ہاتھ سے گلدستے کھینچتے ہوئے فرش پر پھینک دیا۔۔چلے جائیں یہاں سے۔۔۔دوبارہ کبھی میرے سامنے مت آنا۔۔۔میجر اذنان

زویا نے اذنان کو دھکا دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکال دیا اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔اذنان حیران تھا زویا کے اس رویے پر۔۔یہ سب اتنا اچانک ہوئےکہ وہ سنبھل نہ سکا۔۔۔اور کمرے سے باہر جا کھڑا ہوا لڑکھڑاتے ہوئے۔۔

وہ نہی جانتا تھا کہ زویا ایسے بی ہیو کرے گی۔۔۔جلدی سے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔آئی ایم سوری زویا۔۔پلیز اوپن دی ڈور۔۔۔اذنان نے ہلکے سے دروازہ ناک کیا۔۔۔لیکن زویا نے دروازہ نہی کھولا۔۔

کچھ دیر وہی کھڑا دروازہ ناک کرتا رہا لیکن زویا نے دروازہ نہی کھولا تو آخر کار ہار مانتے ہوئے وہاں سے چل پڑا۔۔۔جانتا تھا زویا بہت ضدی ہے دروازہ نہی کھولے گی۔۔

اذنان کے کمرے سے جاتے ہی زویا پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔میں آپ کو معاف نہی کروں گی۔۔۔آپ سے نفرت کرتی ہوں میں۔۔۔میجر اذنان۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *