Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 19)
Rasam e Wafa by Khanzadi
ڈاکٹر نبیل نے آتے ہی ڈاکٹر اسد کو بازو سے کھینچتے ہوئے کھڑا کیا۔۔اور ایک تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا۔۔شرم نہی آئی تمہیں یہ سب کرتے ہوئے۔۔میرا نام نام مٹی میں ملا دیا۔۔
ڈاکٹر اسد سر جھکائے کھڑے تھے۔۔تبھی نرس بھاگتے ہوئے آئی۔۔سر وہ پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے۔۔نرس نے کہا تو ڈاکٹر نبیل ڈاکٹر اسد کو ساتھ بازو سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے۔۔اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔
زویا اور اذنان بھی پیچھے پیچھے چل پڑے۔۔۔کمرے میں داخل ہوئے تو اذنان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ وہ لڑکی کوئی اور نہی رِدا تھی۔۔
ردا اذنان کو دیکھ چکی تھی۔۔۔اذنان رج موڑ چکا تھا۔۔وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے کچھ جانتا ہی نہ ہو۔۔
ردا اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔ایک نظر ڈاکٹر اسد پر ڈالی۔۔اور رخ موڑ گئی۔۔اذنان تم یہاں کیسے۔۔۔میں نے تمہیں کہاں کہاں نہی ڈھونڈا۔۔شکر ہے تم مل گئے مجھے۔۔۔
اس لڑکی کے منہ سے اذنان کا نام سن کر زویا نے ایک دم اذنان کی طرف دیکھا۔۔اسی وقت اذنان زویا کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔زویا کو اپنی طرف دیکھتے دیکھا تو نظریں پھیر گیا۔۔
ہن۔۔۔ہمیں کیا لگے یہ اذنان کی زندگی کا معاملہ ہے۔۔زویا باہر کی طرف جانے لگی تبھی اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔۔۔
زویا رک گئی۔۔۔نہ جانے کیوں۔۔اسے اس وقت رکنا ہی پڑا۔۔زویا حیران تھی۔۔اذنان نے مجھے کیوں روک لیا۔۔
ردا رونوں ہاتھ جوڑ کر اذنان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔اذنان مجھے معاف کر دو۔۔میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا۔۔تمہیں گھر سے بے گھر کیا۔۔تمہاری ساری جائیداد اپنے نام کروا لی۔۔۔
اور دیکھو یہ کیا ہوا میرے ساتھ۔۔۔وہی دولت میری دشمن بن گئی۔۔جیسے میں نے تمہارے ساتھ کیا۔۔۔تمہاری بیوی ہو کر کسی اور سے معاشقہ نبھایا۔۔ویسے ہی آج میرے ساتھ ہوا ہے۔۔
میرے شوہر نے کسی اور کے لیے مجھے مارنے اور دولت ہتھیانے کے لیے یہ سب کھیل کھیلا۔۔
اذنان بلکل چپ کھڑا تھا۔۔اس نے ردا کی کسی بات کا کوئی جواب نہی دیا۔۔۔زویا بھی اس سارے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔یہ لڑکی اذنان کی بیوی۔۔۔زویا کو کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا۔۔۔
اور جانتے ہو۔۔میرے شوہر کون ہیں۔۔۔یہ ڈاکٹر اسد۔۔ردا ڈاکٹر اسد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔یہی ہیں وہ جن کی خاطر میں نے تمہیں چھوڑا۔۔اور آج یہی میری جان کے دشمن نکلے۔۔
تینوں نے حیرت انگیز طور پر ڈاکٹر اسد کی طرف دیکھا۔۔
تم سے طلاق لینے کے بعد میں نے اسد سے شادی کر لی۔۔شادی کے دو ماہ تو بہت اچھے گزرے اس کے بعد مجھے اس کی سچائی آہستہ آہستہ نظر آنے لگی۔۔
ایک سال بعد مجھے پتہ لگا کہ یہ پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور دو بچوں کا باپ ہے۔۔میں ناراض ہو کر واپس گھر آ گئی۔۔۔میں نے سوچ لیا تھا کہ اس سے طلاق لے لوں گی۔۔
ایک بٹے ہوئے شخص کے ساتھ میں زندگی نہی گزار سکتی تھی۔۔میرا لیا ممکن نہی تھا اب اس کے ساتھ زندگی گزارنا۔۔لیکن اس نے میرا پیچھا نہی چھوڑا۔۔روز گھر آ جاتا تھا مجھے منانے۔۔
ماما بھی اب اسے معاف کر چکی تھی۔۔وہ نہی چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی پر پھر سے طلاق کا داغ لگے۔۔اسی لیے وہ چاہتی تھیں کہ ردا جلد سے جلد اپنے گھر واپس چلی جائے۔۔۔
ماما نے بھی مجھے ہی غلط کہا اور کہا کہ اپنے گھر واپس چلی جاو۔۔آخر کب تک تم یہاں بیٹھی رہو گی۔۔۔اگر تم نے طلاق لے لی تو تم برباد ہو جاو گی۔۔کوئی شادی نہی کرے گا تم سے۔۔
اور کل کو تمہارے بھائیوں کی بھی شادی ہو جائے گی تو ان کی بیویاں تمہیں برداشت نہی کریں گی۔۔اور میرا کیا ہے آج ہوں کل نہی۔۔تو کس کے سہارے زندگی گزارو گی۔۔۔
آخر کار امی کے بار بار سمجھانے پر مجھے ہار ماننی پڑی۔۔اور میں واپس آ گئی اس کے ساتھ۔۔۔لیکن اس کے بعد میری زندگی آسان نہی تھی۔۔بات بات پر اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا۔۔
میری زندگی بہت مشکل ہو چکی تھی۔۔مجھے گھر میں قید کر رکھا تھا اس نے مجھے۔۔۔میں سمجھ گئی تھی۔۔یہ مکافاتِ عمل ہے۔۔۔شاید یہ سب میرے کیے کا ہی پھل ہے۔۔
میں نے تم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔۔لیکن تمہارا نمبر بند تھا۔۔۔اور میں نے اپنی کچھ فرینڈز سے بات کی تمہارے بارے میں پتہ لگانے کی لیکن تمہارے بارے میں کچھ نہی پتہ چل سکا۔۔۔
ایک دن اسد نے مجھے اپنی دوست سے مجھے تمہارے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھ لیا۔۔۔میں فون پر اپنی دوست سے بات کر رہی تھی۔۔کہ اچانک اسد گھر واپس آ گیا۔۔
اس نے مجھ سے اس دن فون بھی چھین لیا۔۔اور بات پر مجھے تمہارے نام پر غصہ نکالتا رہتا مجھ پر۔۔۔میں نے آخر کار ایک دن میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئی۔۔
ماما میری حالت دیکھ کر گھبرا گئی۔۔۔اب وہ بھی میرے حق میں تھیں۔۔۔ہم نے وکیل سے رابطہ کیا خلا کے لیے۔۔لیکن اسد مجھے طلاق دینے کو تیار ہی نہی تھا۔۔
پھر میں دانی کی شادی کی شاپنگ کر کے واپس گھر جا رہی تھی۔۔ابھی گاڑی سے نکلی ہی تھی کہ سامنے سے ایک تیز رفتار گاڑی آئی مجھ سے ٹکرائی۔۔اور اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہی تھا۔۔
میرے مرنے کے بعد میری ساری دولت اس کے نام ہونے والی تھی۔۔اسی لیے تو وہ یہ سب کچھ کر رہا تھا۔۔لیکن اللہ نے میری سانسیں بڑھا دی تھیں۔۔اسی لیے اس کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی۔۔میں بچ گئی۔۔
ڈاکٹر نبیل جلدی سے ڈاکٹر اسد کی طرف بڑھے۔۔۔کیا یہ سب سچ ہے اسد۔۔؟؟ غصے سے بولے۔۔
جی۔۔۔ڈاکٹر اسد نے بس ایک لفظ میں جواب دیا۔۔اور سر جھکا گیا۔۔۔
شرم آ رہی ہے مجھے تمہے اپنا بھائی کہتے ہوئے۔۔جو کچھ تم نے اس لڑکی کے ساتھ کیا ہے۔۔اس کی سزا تو تمہیں مل کر رہے گی۔۔کہتے ہی ڈاکٹر نبیل نے اپنا فون نکال کر پولیس کو فون کیا۔۔
آئی ایم سوری ردا۔۔۔پلیز مجھے اس بار معاف کر دو تمہیں طلاق چاہیے نہ۔۔میں دے دوں گا لیکن پلیز مجھے پولیس کے حوالے مت کرو۔۔معاف کر دو مجھے۔۔۔میرے بچوں کا سوچوں۔۔
کاش تم نے اپنے بچوں کا سوچا ہوتا۔۔جو اپنی بیوی بچوں کا نہ ہو سکا۔۔وہ میرا کیا بنے گا۔۔یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ اب میں تمہیں معاف کروں گی۔۔سوچوں کیا ہو گا جب تمہاری بیوی اور بچوں کے سامنے تمہاری حقیقت آئی گی۔۔
جب تم برباد ہو گے تو تمہے پتہ چلے گا کیسے تم نے مجھے برباد کیا تھا۔۔میری ہنستی بستی زندگی میں اذنان کے بارے میں نفرت کا بیج بو کر۔۔اور دولت کی حوس پیدا کر کے تم نے مجھے برباد کر دیا۔۔۔
پولیس آئی اور ڈاکٹر اسد کو گرفتار کر کے لے گئی۔۔ڈاکٹر نبیل کمرے سے نکل گئے۔۔
ردا نے پھر سے اذنان کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔۔ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا اذنان۔۔میں تمہاری ساری جائیداد تمہے واپس کرنا چاہتی ہوں۔۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔۔شاید تمہاری بددعا لگ گئی مجھے۔۔ردا رو رہی تھی۔۔
نہی ردا میں نے تمہیں کبھی بددعا نہی دی تھی۔۔اذنان آخر کار بول پڑا۔۔۔میں نے تو ہمیشہ تمہارے حق میں دعا ہی مانگتا رہا ہوں۔۔یہ سب تو تمہیں تمہاری غلطیوں کی سزا ملی ہے۔۔
اب گزرے وقت پر پچھتانے کے سوا کچھ نہی تمہارے پاس۔۔کاش تمہے یہ احساس پہلے ہی ہو جاتا۔۔لیکن تمہاری آنکھوں پر بس پیسے اور محبت کی پٹی بندھی تھی۔۔
محبت بھی بہت قسمت والوں کو ملتی ہے۔۔اذنان زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔زویا نظریں پھیر گئی۔۔اور باہر کی طرف بڑھنے لگی ہی تھی تبھی اذنان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔
ان سے ملو ردا۔۔یہ ہیں میجر زویا اذنان۔۔کچھ دن پہلے ہی نکاح ہوا ہے ہمارا۔۔۔بہت جلد شادی ہونے والی ہے ہماری۔۔۔
اذنان کی بات پر زویا نے نظریں اٹھا کر چونک کر اذنان کی طرف دیکھا۔۔وہ کچھ بول نہ سکی بس اذنان کی طرف دیکھتی رہ گئی۔۔
ردا رشک بھری نظروں سے زویا کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہی تھی جو اذنان کے ہاتھ میں تھا۔۔یہ ہاتھ میرا بھی ہو سکتا تھا۔۔لیکن میں نے خود ہی اپنے ہاتھ سے سب کچھ گنوا دیا۔۔مسکراتے ہوئے آنکھیں موند گئی سر بیڈ کی ٹیک سے لگائے۔۔
اذنان مسکراتے ہوئے زویا کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن زویا تو جیسے ہوش میں ہی نہی تھی۔۔اس کا دماغ تو بس ایک ہی بات پر اٹک کر رہ گیا تھا۔۔میجر زویا اذنان۔۔
ردا کی ماما اور بھائی آ چکے تھے۔۔ان کو دیکھتے ہی اذنان کمرے سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ دانی اس سے لپک گیا۔۔۔۔اذنان بھائی آپ یہاں کیسے۔۔؟؟
بہت لمبی کہانی ہے ابھی تمہاری بھابی کو گھر لے کر جانا ہے پھر ملاقات ہو گی۔۔کہتے ہوئے اذنان پھولوں والی ٹوکری اور زویا کا بیگ اٹھائے زویا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
اذنان نے زویا کو گاڑی میں بٹھا دیا۔۔زویا گاڑی میں بیٹھتے ہی اذنان پر تپ گئی۔۔۔یہ سب کیا تھا میجر اذنان۔۔۔ابھی آپ نے اندر کیا کہا تھا۔۔میرے نام کے ساتھ اپنا نام کیوں لگایا آپ نے۔۔مجھے ایسا مزاق بلکل پسند نہی ہے۔۔۔زویا غصے سے اذنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔
