Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 12)
Rasam e Wafa by Khanzadi
زویا اور روحان ابھی تک وہی بیٹھے تھے۔۔اذنان یا ارمان دونوں میں سے کوئی نہی آیا تھا۔۔ابھی تک۔۔۔۔ان کو قدموں کی چاپ سنائی دی۔۔۔وہ لوگ سمجھ گئے۔۔کہ احد کو ہوش آ چکا ہے۔۔اسی لیے وہ اپنے آدمیوں کو ڈھونڈنے کے لیے بھیج رہا ہے۔۔
زویا نے روحان کو اوپر درخت پر چڑھنے کا اشارہ کیا۔۔دونوں جلدی سے درخت پر چڑھ گئے۔۔۔احد کے آدمی وہاں سے ان کو ڈھونڈتے ہوئے۔۔۔آگے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
تب ہی زویا کو اذنان آہستہ سے چلتے ہوئے۔۔ہاتھ میں گن اٹھائے نظر آیا۔۔۔زویا نے روحان کو اذنان کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ہم چلتے ہیں۔۔۔میجر اذنان آ چکے ہیں۔۔آپ ادھر ہی رہنا۔۔۔
نہی میں بھی آپ کے ساتھ چلو گا۔۔روحان نے بھی زویا کے ساتھ ہی چھلانگ لگائی۔۔۔اذنان ان دونوں کو دیکھ چکا تھا۔۔۔جلدی سے آگے بڑھا۔۔۔اور ایک گن زویا کو تھما دی۔۔اگلے ہی پل اذنان کو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔
روحان کو زویا کے ساتھ دیکھ کر۔۔۔یہ تو روحان ہے نہ ارمان کے بھائی۔۔۔اذنان جانچتی نظروں سے روحان کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
جی سر۔۔۔میں بھی اس لڑائی میں آپ کا ساتھ دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔روحان ایک جزبے سے بولا۔۔
لیکن آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔آپ یہ گاڑی کی چابی لیں۔۔۔اور جا کر ارمان کی گاڑی میں بیٹھیں۔۔
ڈونٹ وری میجر اذنان ان کو ہمارے ساتھ آنے دیں۔۔یہ بہت بہادر ہے۔۔انہوں نے ہماری جان بچائی تھی۔۔یہ بھی کسی سے کم نہی ہیں۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔اذنان نے گن روحان کی طرف بڑھا دی۔۔جسے روحان نے پکڑ لیا۔۔اور تینوں گھر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔دیوار کود کر تینوں اندر داخل ہو گئے۔۔اور سب الگ الگ کمروں میں بڑھ گئے۔۔۔
سارے کمرے خالی تھے۔۔۔اب ان کا رخ چھت کی طرف تھا۔۔۔چھت پر پہنچے تو۔۔۔احد گن تانے کھڑا تھا۔۔
ان تینوں کو دیکھتے ہی مسکرا دیا۔۔۔ویل ڈن۔۔۔کیا ٹیم ہے۔۔۔اور تم روحان میرے دوست ہو۔۔یا دشمن۔۔؟؟چلو آ جاو میری سائیڈ مالا مال کر دوں گا۔۔۔
میرے پاس سب کچھ ہے۔۔الحمدللہ۔۔۔مجھے تمہاری کوئی آفر نہی چاہیے۔۔۔گھٹیا انسان۔۔۔بند کرو یہ سب کچھ اور بتاو لڑکیاں کہاں ہیں۔۔۔روحان چند قدم آگے بڑھا۔۔۔
خبردار جو زرا بھی قدم آگے بڑھایا تو۔۔اس لڑکی کو ابھی یہی ختم کر دوں گا۔۔احد نے گن زویا کی طرف کر دی۔۔چلو سب اپنی اپنی گن نیچے رکھو اور ہینڈز اپ کرو۔۔ورنہ ابھی سر اڑا دوں گا اس لڑکی کا۔۔
اذنان نے روحان اور زویا کو گن نیچے رکھنے کا اشارہ دیا۔۔اور خود بھی۔۔گن نیچے رکھ کر ہینڈز اپ کر دئیے۔۔۔احد جلدی سے زویا کی طرف بڑھا۔۔۔اور اس کے سر پر گن رکھ کر۔۔۔اسے نیچے چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔زویا چپ چاپ نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
اذنان نے نیچے اترتے سیڑھیوں کا دروازہ بند کر دیا۔۔اذنان اور روحان اوپر ہی رہ گئے۔۔۔اذنان نے جلدی سے گن اٹھائی اور چھت سے نیچے چھلانگ لگا دی۔۔۔روحان نے بھی۔۔اذنان کو کودتے دیکھ نیچے چھلانگ لگا دی۔۔۔
اذنان کا رخ اندر کی طرف تھا۔۔اس نے جلدی سے سیڑھیوں کی طرف رخ کیا۔۔جہاں احد زویا کے سر پر گن تانے نیچےکی طرف بڑھ رہا تھا۔۔زویا اذنان کو دیکھ چکی تھی۔۔۔
اذنان نے ایک گولی دیوار کی اوٹ سے نکل کر احد کی ٹانگ پر ماری جس سے وہ لڑکھڑاتے ہوئے۔۔۔سیڑھیوں سے نیچے فرش پر آ گرا۔۔۔اس گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری۔۔۔
زویا جلدی سے آگے بڑھی۔۔اور احد کے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ دیے۔۔اور وہ گر سا گیا۔۔درد سے اس کی آنکھیں بہ رہی تھی۔۔مگر وہ خود کو مظبوط ظاہر کر رہا تھا۔۔۔
زویا نے ایک تھپڑ اس کے چہرے پر لگایا۔۔۔جس پر وہ ہاتھ پاوں مارنے لگ پڑا۔۔۔اور اسے شدت سے اپنے کمزور پڑنے کا احساس ہوا۔۔۔بہت لڑکیوں کی زندگیاں برباد کر لی تم نے احد صاحب نہی اب اور نہی اذنان جلدی سے آگے بڑھا۔۔
خون بہنے کی وجہ سے احد کی آنکھیں بند ہو رہی تھی۔۔۔اسی وقت ارمان وہاں پہنچا پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ۔۔۔اور پورے گھر کی تلاشی لی گئی۔۔۔تو گھر کے ایک خفیہ کمرے سے سات لڑکیاں برآمد ہوئی۔۔
جن میں سے دو تو۔۔یونیورسٹی کی تھی۔۔۔باقی کی پتہ نہی کہاں کی تھی۔۔۔سب لڑکیاں بے حوش تھیں۔۔اور بہت کمزور بھی لگ رہی تھیں۔۔۔جیسے ان کو کچھ کھانے کو نہ ملا ہو۔۔بہت دنوں سے۔۔۔
ان لڑکیوں کو اور احد کو پولیس کے ساتھ ہوسپٹل بھجوا دیا گیا۔۔۔اور روحان احد کے دونوں ساتھیوں کو گھیرے وہاں لے کر آیا تو ان کو بھی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔۔۔
روحان کو وہاں دیکھ کر ارمان جلدی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔روحان تم ٹھیک ہو۔۔۔یہاں کیا کر رہے ہو۔۔ارمان نے روحان کو جلدی سے گلے لگا لیا۔۔۔تمہیں کہی چوٹ تو نہی آئی۔۔۔
نہی یار میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔پریشان مت ہو۔۔روحان بھی ارمان کے گرد باہیں پھیلاتے ہوئے بولا۔۔۔آئی ایم سوری میں تمہیں غلط سمجھتا رہا تھا۔۔تم تو ہیرو نکلے یار۔۔۔روحان ارمان سے الگ ہوتے ہوئے بولا۔۔۔اور اسے سیلوٹ کیا۔۔۔
جس پر سب مسکرا دئیے۔۔۔اور گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ارمان اور روحان گھر چلے گئے۔۔جبکہ زویا کو اذنان نے ہوسٹل چھوڑ دیا۔۔اور زویا کو روم تک چھوڑنے ساتھ گیا۔۔۔۔جب زویا اپنے کمرے میں چلی گئی تو اذنان مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر واپس چلا گیا۔۔۔
مسٹر بٹ کے گھر پر بھی پولیس نے چھاپہ ڈال کر ان کو گرفتار کر لیا۔۔اور ان دونوں باپ بیٹے پر لڑکیوں کے اغوا۔۔کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔۔۔
اگلے دن ان دونوں لڑکیوں کے ماں باپ کو بلا کر پوری یونیورسٹی کے سامنے ان کے پیرنٹس سے ملوایا۔۔۔تو ماں باپ تو خوشی سے جیسے پاگل ہی ہو گئے۔۔۔سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔
سارے سٹوڈنٹس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔ارمان روحان اذنان اور زویا۔۔چاروں کو پرنسپل نے سٹیج پر بلایا۔۔۔
اور ان کے لیے۔۔۔ساری یونیورسٹی نے ان چاروں کو سیلوٹ مارتے ہوئے۔۔۔داد دی۔۔۔اذنان نے مائیک سنبھالا۔۔اسلام و علیکم سٹوڈنٹس سپیشلی میرا یہ پیغام لڑکیوں کے لیے ہے۔۔۔
میری سب سے درخواست ہے کہ اپنی اور اپنے پیرنٹس کی ریسپیکٹ کا خیال رکھیں۔۔۔کسی کی باتوں میں نہ آئیں۔۔کیونکہ دنیا جیسی دکھتی ہے۔۔ویسی ہے نہی۔۔۔
سچا پیار تو صرف ماں باپ ہی کر سکتے ہیں۔۔۔کوشش کیجئے کہ ان کی محبت میں سچا پیار تلاش کریں۔۔۔آپ کو زندگی بہت خوبصورت لگے گی۔۔۔
تو وعدہ کریں آج کے بعد بس اپنے ماں باپ کو ہی پیار کریں گے آپ لوگ۔۔۔جھوٹی محبتوں سے بچیں۔۔اور ماں باپ کی سچی محبتوں کو پہچانیں ان کا احترام کریں۔۔۔
تو کون کون وعدہ کرے گا۔۔۔اذنان بولا تو سب نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔۔اور سب نے نعرے لگانے شروع کر دئیے۔۔پاکستان۔۔۔زندہ باد۔۔۔پاک آرمی زندہ باد۔۔
سب نے قومی ترانہ پڑھا۔۔اور سٹوڈنٹس اپنے اپنے کلاس رومز کی طرف بڑھ گئے۔۔۔جبکہ۔۔رانیہ اور علی۔۔زویا کی طرف بڑھے۔۔۔زویا نے رانیہ کو گلے لگا لیا۔۔۔
آئی ایم سوری ہم نے تمہے غلط سمجھا۔۔علی سر جھکائے بولا۔۔۔
نو نو اٹس اوکے اس میں آپ لوگوں کی کوئی غلطی نہی تھی۔۔۔ہماری مجبوری تھی۔۔
اب ہمارے جانے کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔چلتے ہیں۔۔جب بھی ملنے کو دل کرے آ جانا۔۔تبھی روحان وہاں چلا آیا۔۔۔زویا مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔
جی کہیے۔۔۔
نہی یہاں نہی وہاں چلیں۔۔۔روحان نے کینٹین کی طرف اشارہ کیا۔۔۔تو زویا اس کے ساتھ چل پڑی۔۔
جی بولیں کیا کہنا ہے آپ کو۔۔؟؟
وہ میں یہ کہنا چاہتا تھا۔۔کہ پھر پتہ نہی موقع ملے یا نہ ملے۔۔۔اسی لیے سوچا آج ہی بات کر لوں۔۔جو بھی آپکا فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہو گا۔۔
جی بولیں۔۔۔
میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔وِل یو میری می۔۔زویا۔۔۔؟؟
پہلے تو زویا حیران رہ گئی۔۔پھر مسکراتے ہوئے۔۔روحان کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔ییس۔۔اور ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔روحان نے اپنی پاکٹ میں سے ایک رِنگ نکال کر زویا کی انگلی میں پہنا دی۔۔
روحان پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا۔۔زویا اپنے ہاتھ کی انگلی میں رنگ دیکھ کر مسکرا دی۔۔
ان سے تھوڑی دور کھڑے کسی وجود کا دل چھن سے ٹوٹا تھا۔۔وہ ان دونوں کی طرف بڑھے بغیر۔۔۔وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
تھینکس زویا میرا پرپوزل ایکسیپٹ کرنے کے لیے۔۔۔روحان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
مائی پلیثر۔۔۔۔زویا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔اور دونوں وہاں سے چل پڑے۔۔۔
زویا کی نظریں۔۔اذنان کو تلاش کر رہی تھیں۔۔۔لیکن اسے اذنان کہی نظر نہی آیا۔۔۔سر جھٹکتے ہوئے وہ وہاں سے گھر کے لیے نکل پڑی۔۔روحان اسے گھر تک ڈراپ کرنے آیا تھا۔۔
زویا کا دل اداس ہو چکا تھا۔۔نہ جانے کیوں اذنان اس سے ملے بغیر وہاں سے کیوں چلے گئے۔۔۔یہ بات اس کو کھٹک رہی تھی۔۔گھر جاتے ہی ماما سے ملنے کے بعد اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
اذنان بھی اپنے تین کمروں کے اکلوتے گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔جہاں صرف وہ تھا۔۔اور اس کی تنہائیاں تھیں۔۔۔۔وہ دیکھ چکا تھا۔۔۔روحان کو زویا کو رِنگ پہناتے ہوئے۔۔۔
اس سے برداشت نہی ہو سکا۔۔ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر۔۔۔زویا کو مسکراتے دیکھ وہاں سے چپ چاپ نکل گیا۔۔۔زویا سے ملے بغیر۔۔۔
آج اس نے سوچ لیا تھا کہ زویا کو اپنے دل کی بات بتا دے گا۔۔کہ وہ اس کے لیے کیا بن چکی۔۔۔ایک مشن تو وہ جیت چکا تھا۔۔۔لیکن اپنی زندگی کا مشن وہ ہار چکا تھا۔۔۔
شاید میں نے دیر کر دی۔۔۔زویا میری قسمت میں نہی تھی۔۔۔وہ خوش تھی روحان کے ساتھ۔۔اس کی مسکراہٹ سے پتہ چل رہا رہا تھا۔۔
اذنان بستر پر گر سا گیا تھا۔۔۔وہ تھک سا گیا تھا۔۔اپنی زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے۔۔۔اس کی قسمت میں شاید تنہائی لکھ دی گئی۔۔تھی۔۔
وہ انکھیں موندے وہی سو گیا۔۔اسے پتہ ہی نہی چلا۔۔کب نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔۔۔
ارمان گھر آیا تو روحان کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔لیکن روحان اس کو اپنے کمرے میں نظر آ گیا۔۔ارمان اندر آیا تو روحان جلدی سے اس کے گلے لگ گیا۔۔۔
ارے بھئی کیا ہوا۔۔ارمان اسے خود سے الگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
میری دعائیں قبول ہو گئی۔۔۔بھائی۔۔۔روحان مسکراتے ہوئے بولا۔۔
کیا ہوا کونسی دعائیں قبول ہو گئی۔۔میرے شہزادے کی۔۔۔
بھائی میں نے زویا کو پرپوز کر دیا۔۔۔
کیا۔۔۔ارمان کو جیسے شاک لگا۔۔۔کیا کہا پھر زویا نے۔۔
شی سیڈ ییس۔۔۔روحان مسکراتے ہوئے بولا۔۔
ہمممم واووو بہت بہت مبارک ہو تم کو۔۔۔ارمان نے دل سے بھائی کی خوشیوں کے لیے دعا کی۔۔۔
بہت جلد موم ڈیڈ کے ساتھ جائیں گے۔۔تمہارا رشتہ لے کر زویا کے گھر۔۔۔ارمان روحان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔
اور دونوں مسکرا دیئے۔۔
