Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 15)
Rasam e Wafa by Khanzadi
پانچ دن بعد جمعہ کے دن زویا اور روحان کے نکاح کی ڈیٹ رکھی گئی۔۔روحان بہت خوش تھا۔۔اسے اس کی محبت جو ملنے والی تھی۔۔اگلے دن روحان یونیورسٹی گیا۔۔۔تو نیہا سے ملاقات ہوئی۔۔
اس نے نیہا کو اپنے اور زویا کے نکاح کے بارے میں بتایا۔۔۔تو یہ خبر سنتے ہی نیہا کے تو جیسے پاوں تلے زمین سرک گئی ہو۔۔یہ کیا کہ رہے ہو روحان۔۔۔؟؟
نیہا چلائی۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔
تم میرے دوست ہو۔۔۔اور شادی زویا سے کر رہے ہو۔۔ایسا نہی کر سکتے تم۔۔۔
روحان اس کی بات سن کر تو جیسے صدمے میں آ گیا۔۔۔مطلب کیا ہے تمہارا نیہا۔۔۔میں زویا سے شادی کیوں نہی کر سکتا۔۔روحان کو اس کی کسی بات کی سمجھ نہی آ رہی تھی۔۔۔
واہ۔۔۔تو کیا اب مطلب بھی مجھے سمجھانا پڑے گا۔۔تم بچے تو نہی ہو روحان۔۔۔تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا بات کر رہی ہوں۔۔تم تو مجھ سے محبت کرتے ہو نہ۔۔؟؟
تو پھر شادی کیسے زویا سے کر سکتے ہو۔۔۔؟؟ ابھی کے ابھی ختم کرو یہ سب کچھ میں دوبارہ تمہارے منہ سے زویا کا نام نہ سنو۔۔۔مائنڈ اٹ۔۔۔نیہا غصے سے آرڈر دینے والے انداز میں بولی۔۔
اس کی باتوں پر روحان مسکرا دیا۔۔۔تم پاگل ہو گئی ہو۔۔تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں۔۔۔روحان ملک تم سے شادی کروں گا۔۔۔ہم بس اچھے دوست ہیں۔۔اس سے زیادہ کچھ نہی۔۔
روحان نیہا سے کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔نیہا اس کے سامنے آ رکی۔۔۔نہی روحان تم ایسے نہی جا سکتے۔۔میں آج تک تمہاری مرضی سے زندگی گزارتی ہوں۔۔جس سے تم نے دوستی کرنے کو کہا اسی سے دوستی رکھی۔۔
جس سے تم نے دوستی توڑنے کو کہا اس سے دوستی توڑ دی۔۔یہاں تک کہ تمہاری خاطر ہی میں نے زویا سے دوستی کی تھی۔۔۔بچپن کے دوست ہیں ہم ایسے تو نہی کر سکتے تم میرے ساتھ۔۔۔
میں تمہارے نام کے ساتھ کسی اور کا نام برداشت نہی کر سکتی۔۔۔پلیز ایسا مت کرو تم۔۔جیسے کہوں گے ویسے ہی زندگی گزاروں گی میں۔۔۔میرا وعدہ ہے ہے۔۔پلیز مجھے خود سے دور مت کرو۔۔
راستے سے ہٹو نیہا۔۔۔سین کری ایٹ مت کرو یہاں۔۔سب دیکھ رہے ہی۔۔۔اور اس میں سب سے زیادہ نقصان تمہارا ہی ہے۔۔۔جو کچھ ہمارے درمیان تھا۔۔دوستی سے بڑھ کر کچھ نہی تھا۔۔
اب تم اسے پیار سمجھ بیٹھی ہو تو یہ تمہارا مسلہ ہے میرا نہی۔۔سنبھالو خود کو۔۔۔۔میری زندگی میں خوشیاں آنے والی ہیں۔۔تم تو میری سب سے اچھی دوست ہو۔۔۔تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔۔
اور تم ہو کہ پتہ نہی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو۔۔چھوڑو یہ سب اب چلو کلاس میں لیکچر کا ٹائم ہورہا ہے۔۔لیٹ ہو گئے تو کلاس سے باہر رکنا پڑے گا۔۔کہتے ہوئے روحان کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔
نیہا پھر سے اس کے سامنے آ گئی۔۔یہ سب مزاق لگ رہا ہے تمہیں روحان میری محبت کو ٹھکرا رہے ہو تم۔۔یہ اچھا نہی کر رہے تم۔۔۔میری خوشیاں برباد کر کے تم اپنا گھر بسانا چاہتے ہو۔۔
جاو یہاں سے اور دوبارہ کبھی میرے سامنے مت آنا۔۔میری ہی غلطی تھی جو میں تمہاری وقت گزاری کو محبت سمجھ بیٹھی تھی۔۔غلطی میری تھی۔۔تو بھگتنا تو مجھے ہی پڑے گا نہ۔۔
جاو تم کلاس میں۔۔میری دعا ہے تمہیں وہ ساری خوشیاں نصیب ہو۔۔جن کی تم امید رکھتے ہو۔۔۔آمین۔۔نیہا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔وہ وہاں رکی نہی۔۔پلٹ کر یونیورسٹی سے باہر نکل گئی۔۔۔
روحان کی سمجھ سے باہر تھا۔۔نیہا ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہے۔۔آج سے پہلے تو نیہا نے ایسا کبھی نہی کیا اس نے۔۔۔اور نہ ہی اس نے کبھی سوچا تھا۔۔اپنے اور نیہا کے بارے میں ایسا۔۔۔سر جھٹکتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
دن گزرتے گئے۔۔کل روحان اور زویا کا نکاح تھا۔۔لیکن زویا کا ابھی تک اذنان سے کوئی رابطہ نہی ہو سکا تھا۔۔۔زویا ابھی ابھی نکاح کا جوڑا لے کر آئی تھی۔۔وہ بے دلی سے یہ سب کچھ کر رہی تھی۔۔
رات کے اندھیرے میں زویا چھت پر بیٹھی بے آواز رو رہی تھی۔۔ایسا کیوں کیا آپ نے اذنان۔۔کیوں آئے میری زندگی میں آپ۔۔۔اگر آئے ہی تھے ساتھ تو نبھاتے۔۔یوں راستے میں چھوڑ کر کیوں چلے گئے۔۔۔
ہمیں نہی کرنا یہ نکاح۔۔۔پلیز واپس آ جائیں آپ۔۔۔آپ کہیں گے تو ہم خود کو ہم کہنا بھی چھوڑ دیں گے۔۔جیسے آپ کی مرضی ہو گی ویسے ہی زندگی گزاریں گے۔۔۔جیسے کپڑے آپ کو پسند ہیں ویسے ہی پہنیں گے ہم۔۔۔
پلیز واپس آ جایئں آپ۔۔۔آپ کی زویا کسی اور کی ہونے جا رہی ہے کل۔۔
سن یار وے۔۔۔
آجا تو اک وار وے۔۔
نہی جینا بن تیرے۔۔
یہ زندگی ہے دشوار وے۔۔
آ جا توڑ ساری رسمیں۔۔
لگا جا گلے اک وار وے۔۔
نئی ہونا مینوں کس ہور دا۔۔
کیوں سمجھدا نہی توں دلدار وے۔۔
بن تیرے جی نہ سکیں گے۔۔۔
آ کے دیکھ لے اک وار وے۔۔
سن یار وے۔۔۔
اذنان ابھی کسی مشن سے تھکا ہارا گھر لوٹا تھا۔۔فون آن کیا۔۔۔اور چارچنگ کے لیے لگا دیا۔۔۔فون وہ گھر پر ہی بھول چکا تھا۔۔۔سوچا شاید زویا کی کال آ جائے۔۔اس دن زویا سے بات کرنے کے بعد اگلے دن اذنان ایمرجنسی میں گھر سے نکل گیا۔۔
اور فون گھر پر ہی بھول گیا تھا۔۔۔واپس آنا ممکن نہی تھا۔۔۔اسی لیے جیسے ہی مشن ختم ہوا ویسے ہی گھر واپس آ کر فون چارچنگ پر لگا کر فریش ہونے کے لیے چلا گیا۔۔
کافی دیر رونے کے بعد زویا نے اپنا فون اٹھایا اور ایک آخری بار اذنان کا نمبر ملایا۔۔بیل جا رہی تھی۔۔اذنان کا نمبر آن تھا۔۔یہ سوچ کر ہی زویا کے رگ و جاں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔
اذنان ابھی فریش ہو کر کمرے میں آیا ہی تھا کہ رِنگ ٹون بجتی سنائی دی۔۔آگے بڑھ کر دیکھا تو زویا کی کال تھی۔۔اذنان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
اسلام و علیکم۔۔زویا کے کانوں میں اذنان کی آواز پڑی۔۔زویا آنکھیں بند کر کے اذنان کی آواز کو محسوس کرنے لگ پڑی۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔۔۔وہ کچھ نہی بولی۔۔
کچھ دیر تک جب زویا نے کوئی جواب نہ دیا تو اذنان بول پڑا۔۔۔زویا۔۔۔۔لیکن زویا نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔اذنان زویا کی سسکیاں سن رہا تھا۔۔۔اس کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔
زویا کیوں رو رہی ہو۔۔۔؟؟؟ اذنان بے چینی سے بولا۔۔۔
کل میرا نکاح ہے۔۔۔روحان سے۔۔زویا نے جیسے اذنان کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔وہ یہ تو جان گیا تھا۔۔کہ زویا نے پرپوز کیا ہے تو ان کی شادی ہو گی۔۔۔لیکن اتنی جلدی۔۔یہ نہی سوچا تھا۔۔
کچھ دیر بعد اذنان خود کو سنبھالتے ہوئے بولا۔۔۔یہ تو خوشی کی بات ہے نہ زویا رو کیوں رہی ہو۔۔۔اور ہمارا سے میرا پر کب سے آ گئی آپ۔۔۔؟؟زویا لگتا ہے روحان کا رنگ چڑھنے لگا ہے۔۔روحان بہت ظبط سے مسکرانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔۔
زویا کو بہت ترس آیا خود پر۔۔۔وہ تو سمجھی تھی۔۔شاید اذنان اس کو تسلی دے گا کہ میں ایسا نہی ہونے دوں گا۔۔محبت کا اظہار کرے گا۔۔لیکن ایسا کچھ نہی ہوا۔۔اذنان نے تو اس کی سوچ کے برعکس جواب دیا۔۔۔
زویا کے ہاتھ پاوں سن ہو چکے تھے۔۔۔خود کو ایسے محسوس کر رہی تھی جیسے زندہ ہی نہ ہو۔۔۔یہ محبت تھی جسے اس نے توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔لیکن یکطرفہ محبت تھی نہ اسی لیے یہ دکھ زویا کے حصے میں تھا۔۔۔
خود کو سنبھالتے ہوئے بولی۔۔۔جی یہ تو خوشی کے آنسو تھے۔۔۔مجھے بہت خوشی ہو گی اگر آپ کل میرے نکاح میں شامل ہو گے۔۔۔ایک دوست ہونے کے ناطے میری خوشی میں شامل ہونا پڑے گا۔۔
میں کوشش کروں گا لیکن وعدہ نہی کروں گا۔۔خدا حافظ کہتے ہوئے۔۔۔اذنان نے فون بند کر دیا۔۔۔اب مزید ہمت نہی تھی اس میں ضبط کرنے کی۔۔فون بند کرتے ہی بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔
باہر بارش برس رہی تھی۔۔۔اور اندر اذنان کا دل رو رہا تھا۔۔وہ بے آواز رو رہا تھا۔۔کون کہتا ہے مرد روتے نہی مرد کا کیا دل نہی ہوتا۔۔۔جب دل ٹوٹتا ہے تو یہ سوچ کے نہی ٹوٹتا کہ لڑکے کا ہے یا لڑکی کا ہے۔۔
یہ دل جب ٹوٹتا ہے درد دونوں کو ہوتا ہے۔۔خواہ وہ عورت ہو یا مرد۔۔۔اذنان آج خود کو دنیا کا سب سے ہارا ہوا شخص سمجھ رہا تھا۔۔۔اب کچھ باقی نہ رہا تھا جینے کو۔۔۔
اور زویا وہی چھت پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی پوری رات۔۔۔بارش شروع ہو چکی تھی۔۔لیکن کسے پرواہ تھی۔۔زویا کے ساتھ ساتھ یہ بادل بھی رو رہے تھے آج۔۔۔
یہ درد جو تو نے دیا۔۔
سہنا تو تجھے ہی ہو گا۔۔
جسے چاہا ہم نے اپنا۔۔۔
بے درد وہی نکلا ہے۔۔۔
اب کس بات پر منائیں غمِ یار۔۔۔
یہ درد خود ہی تو چنا ہے۔۔
