Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Wafa (Episode 05)

Rasam e Wafa by Khanzadi

مے آئی کم ان سر۔۔۔ایمن سر ارحم کے آفس کے باہر دروازہ ناک کرتے ہوئے بولی۔۔۔

ییس۔۔۔سر ارحم نے نظریں ایمن کی اسائمنٹس پر جمائے ہوئے بنا اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

جی سر آپ نے مجھے یاد کیا ایمن اندر آتے ہوئے بولی۔۔

سر ارحم نے گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھے اور ایمن کو گھورا۔۔

۔یہ آپ کی اسائمنٹ ہے۔۔۔فائل ایمن کی طرف بڑھا دی۔۔

ایمن نے فائل اٹھائے بغیر کہا سر میرا نام مینشن ہے۔۔۔اوپر۔۔۔

ہمم یہ بھی آپکی اسائمنٹ ہے۔۔۔انہوں نے دوسری فائل بھی ایمن کے سامنے رکھ دی۔۔۔جو رانیہ کی تھی۔۔

نہی سر یہ تو کسی اور کی ہے۔۔اوپر نام مینشن ہے۔۔۔رانیہ عباس۔۔

نام تو دونوں اسائمنٹس پر الگ الگ ہیں۔۔۔لیکن ڈیٹا سیم کیوں ہے۔۔۔۔کیا میں جان سکتا ہوں ایسا کیوں ہیں۔۔۔؟؟ ایمن کو گھورتے ہوئے بولے۔۔

اگر میں کہو کہ نہی تو۔۔؟؟؟ ایمن نے لٹھ مار انداز میں جواب دیا اور کرسی کھینچتے ہوئے اپنا بیگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔

اور سر ارحم نے اسے گھوری سے نوازا۔۔۔

اور ایمن نے کندھے اچکا دیے۔۔۔کیا۔۔۔؟؟ سر ارحم کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو بول پڑی۔۔۔

یہ کونسا طریقہ ہے۔۔۔ٹیچر کے سامنے بیٹھنے کا۔۔سرارحم اسے گھورتے ہوا بولے۔۔

کون سر؟؟ سر ہوں گے آپ کلاس میں میجر اذنان۔۔۔یہاں میرے سامنے زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہی ہے۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔

ہممم انٹیلیجنٹ۔۔۔آئی ایم امپریسڈ۔۔۔کاش میں ایسا کہ سکتا لیکن ابھی میرا موڈ نہی ہے۔۔کہتے ہوئے اذنان چیئر پر بیٹھ گیا۔۔

ہمم ہماری تعریف تو آپ کر ہی نہی سکتے نہ۔۔۔ہم جانتے تھے کچھ الٹا ہی بولیں گے آپ۔۔زویا چڑتے ہوئے بولی۔۔

اب تک آپ نے ایسا کوئی کام کیا ہی نہی کہ میں آپ کی تعریف کر سکوں۔۔مس زویا۔۔۔اذنان لب بھینچتے ہوئے آہستہ آواز میں بولا۔۔

کچھ کہا آپ نے ہمارے بارے میں۔۔۔زویا آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولی۔۔۔

نہی نہی میں نے کچھ نہی بولا آپ کے بارے میں اذنان ہینڈز اپ کرتے ہوئے بولا۔۔

زویا اذنان کے اس انداز پرمسکرا دی۔۔خیر

یہ سب چھوڑیں آپ یہ بتائیں آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔میجر اذنان۔۔؟؟

وہی جو آپ کرنے آئی ہیں یہاں میجر زویا۔۔۔۔

اذنان نے کہا تو زویا ہنس دی۔۔۔ہم نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا۔آپ ہمیں زویا بلا سکتے ہیں۔۔

ہم تو یہاں کسی خاص مشن کے لیے آئے ہیں۔۔۔زویا نے جواب دیا۔

اور میں بھی اس خاص مشن کو پایا تکمیل تک پہچانے میں آپ کا ساتھ دینے یہاں آیا ہوں ۔۔۔

اوہ رئیلی۔۔زویا آنکھیں سکوڑتے ہوئے بولی۔۔

جی۔۔اذنان بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔

ہمم خوشی ہوئی ہمیں آپ سے دوبارہ مل کر۔۔۔زویا کہ کر مسکرا دی۔۔

ویل کیوں بلایا آپ نے ہمیں یہاں میجر اذنان ہم پوچھ سکتے ہیں۔۔۔۔زویا بولی۔۔؟؟

آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں نے کیوں بلایا ہے آپ کو یہاں۔۔کل سے آپ ان کپڑوں میں نظر نہی آئیں مجھے۔۔۔اذنان نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے بولا۔۔

میجر اذنان ان کپڑوں میں کیا برائی ہے۔۔آپ تو ہمارے کپڑوں کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں۔۔۔۔زویا منہ بناتے ہوئی بولی۔۔۔

مس زویا یہ یونیورسٹی ہے۔۔۔یہاں صرف آپ اکیلی نہی آتی یہاں اور بھی بہت سے لوگ ہیں یہاں اسی لیے۔۔۔کل سے آپ ان کپڑوں میں نظر نہی آئیں مجھے ۔۔

آپ اتنا حق کیوں جماتے ہیں ہم پر میجر اذنان۔۔۔کیا ہم پوچھ سکتے ہیں۔۔۔

زویا کی بات سن کر اذنان نے نظریں لیپ ٹاپ سے ہٹاتے ہوئے زویا کی طرف دیکھا۔۔زویا کی بات نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔کہ تو وہ ٹھیک ہی رہی تھی۔۔

ایسی کوئی بات نہی ہے۔۔مس زویا میں آپ پر حق نہی جتاتا۔۔بس جب تک آپ کے ساتھ ہوں۔۔آپ کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں۔میں نہی چاہتا کہ کسی کی غلط نظر آپ پر پڑے۔۔

کل کینٹین میں جو کچھ ہوا۔۔اس سب سے واقف ہوں میں۔۔۔آپ اس طرح کے کپڑے پہن کر یونیورسٹی آئیں گی۔۔تو یہ سب تو ہو گا ہی۔۔۔اپنے مشن سے دھیان نہی ہٹنا چاہیے ہمارا۔۔۔

روحان سے تو آپ واقف ہی ہے۔۔وہ جس ٹائپ کا لڑکا ہے۔۔ہمیں سنبھل کر رہنا پڑے گا۔۔کہی ہمارا راز اس کے سامنے کھل گیا تو بنا بنایا پلان بگڑ جائے گا۔۔۔اس کو موقع ہی نہی ملنا چاہیے۔۔آپ کے خلاف آواز اٹھانے کا۔۔۔

امید ہے میری بات آپ سمجھ گئی ہو گی۔۔۔۔۔اذنان زویا کا ری ایکشن دیکھتے ہوئے چپ ہو گیا۔۔۔

مطلب کیا ہے آپ کا میجر اذنان۔۔۔۔؟؟؟میرے کپڑوں کی وجہ سے ہو رہا ہے یہ سب۔۔۔مطلب کیا خرابی ہے اس جینز اور شرٹ میں۔۔۔۔

آپ کو ایک عام سے گھر کی مڈل کلاس سی لڑکی ظاہر کرنا ہے۔۔خود کو اگر اسی طرح کے کپڑے پہن کر آتی رہی تو کچھ نہی ہو گا آپ سے۔۔۔تو کل سے نارمل لڑکی کے کپڑوں میں دیکھوں میں آپ کو۔۔

مطلب کیا ہے آپکا ہم آپ کو نارمل لڑکی نہی لگتی کیا۔۔؟؟ زویا صدمے سے بولی۔۔

لگتا تو یہی ہے۔۔اذنان نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے بولا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ زویا کچھ بولتی دروازہ ناک ہوا۔۔۔مے آئی کم ان سر۔۔؟؟

دونوں نے پیچھےمڑ کر دیکھا پیچھے ارمان کھڑا تھا۔۔۔زویا جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی کہی ارمان کو شک نہ ہو جائے۔۔۔

ارمان کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے آگے بڑھا۔۔ڈونٹ وری میجر زویا آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی۔۔۔ان سے ملیئے یہ ہیں۔۔۔میجر ارمان۔۔۔

زویا کے سر پر بم پھوٹا۔۔۔۔واٹ۔۔۔۔؟؟وہ چلائی۔۔۔ملک ارمان نہی میجر ارمان ہیں یہ۔۔۔؟؟

نہی مس زویا یہ ملک ارمان بھی ہیں اور میجر ارمان بھی ہیں۔۔۔۔اذنان زویا کے انداز میں بولا۔۔

کیا کچھ اور بھی ہے یہاں جس کے بارے میں ہمیں نہی پتہ۔۔زویا شاکڈ تھی۔۔

جی ایسا بہت کچھ ہے جو آپ نہی جانتی لیکن وہ آپ کا جاننا ضروری بھی نہی آپ بس اپنے مشن پر دھیان دیں۔۔۔

کیا انفارمیشن ہے آپ کے پاس میجر ارمان۔۔؟؟ اذنان نے ارمان کی طرف دیکھتے ہوا کہا۔۔۔

ابھی تک کچھ پتہ نہی چلا سر نیلم اور منزہ کے بارے میں۔۔۔ان کے پیرنٹس نے اپنا کیس واپس لے لیا ہے۔۔۔مسٹر بٹ نے پیسے کے دم پر ان کو چپ کروا دیا ہے۔۔۔

جب کہ نیلم کی فرینڈ نے لاسٹ ٹایم اس کو احد کے ساتھ جاتے دیکھا تھا اس کے بعد سے نیلم سے کوئی رابطہ نہی ہو سکا۔۔جب وہ گھر نہی پہنچی تو ان کے پیرنٹس نے ان کی فرینڈز سے رابطہ کیا۔۔

پہلے تو نیلم کی فرینڈ انعم نے سوچا کے نہ بتائے نیلم کے پیرنٹس کو لیکن جب بات اگلے دن تک پہنچ گئی تو مجبورن انعم کو بتانا پڑا کہ اس نے احد کے ساتھ جاتے دیکھا تھا۔۔لاسٹ ٹائم یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے۔

انعم کی انفارمیشن کے مطابق ہی نیلم کے پیرنٹس نے ایف آئی آر۔۔کٹوائی تھی۔۔۔احد بٹ کے نام۔۔۔لیکن کچھ حاصل نہی ہو سکا ان کو الٹا ان کی زلت ہی ہوئی معاشرے میں۔۔

۔اور زبردستی غنڈوں کے زریعے ان سے صلح نامے پر سائن کروا لیے گئے۔۔۔اور نتیجہ ان کو کیس واپس لینا پڑا۔۔

یہی سیم سیچوایشن منزہ کے کیس کے ساتھ بھی ہے۔۔ان دونوں کا تعلق مڈل کلاس فیملیز سے ہے۔۔اسی لیے احد کی باتوں میں آ گئی۔پتہ نہی کیا ہوا ان کے ساتھ۔۔

زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔۔۔دونوں کے پیچھے احد کا ہی ہاتھ ہے۔۔۔اور اس کا باپ مسٹر شاہد بٹ کا ہاتھ ہے۔۔

پچھلے ایک مہینے سے یونیورسٹی نہی آ رہا احد وہ یونیورسٹی آئے تو ہم آگے کی کاروائی شروع کریں۔۔۔

جانے کو تو ہم اس کے گھر بھی جا سکتے ہیں۔۔۔لیکن ہمیں ڈر ہے کہ کہی وہ لڑکیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔۔۔

ہممم اوکے آپ جا سکتے ہیں۔۔۔میجر ارمان۔۔۔

اوکے ارمان ایک نظر زویا پر ڈال کر مسکراتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا۔۔۔

آپ بھی جا سکتی ہیں۔۔۔مس زویا۔۔اذنان نے کہا تو زویا اپنا بیگ اٹھائے چل پڑی۔۔

ویٹ۔۔۔اذنان نے کہا تو زویا رک گئی۔۔اذنان اپنی چئیر سے اٹھ کر زویا کے پاس آیا۔۔

میری باتیں بری لگی ہو تو سوری زویا لیکن اسی میں آپ کی بھلائی ہے۔۔

اٹس اوکے کہتے ہوئے زویا باہر کی طرف چل پڑی۔۔۔

اور ایک بات۔۔زویا۔۔

اذنان نے کہا تو زویا پلٹی۔۔۔

میرا آپ سے ایسا کوئی رشتہ نہی جو میں آپ پر حق جتاو۔۔مائنڈ اٹ۔۔۔۔ناو یو مے گو۔۔

اذنان کی بات پر زویا حیران رہ گئی۔۔۔اور اس کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔کیا ہے یہ شخص دھوپ چھاوں جیسا۔۔۔

کبھی اپنا بن کر چھاوں میں لاتا ہے۔۔تو اگلے ہی پل دھوپ میں لا کھڑا کرتا ہے۔۔۔زویا کندھے اچکاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

زویا باہر آئی تو علی اور رانیہ کمرے کے باہر ہی کھڑے تھے۔۔اس کو باہر آتے دیکھ کر دونوں جلدی سے آگے بڑھے۔۔

ایمن کیا ہوا۔۔۔تمہارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے۔۔۔رانیہ جلدی سے بولی۔۔

کچھ نہی ہوا کلاس لگی ہے میری اور کیا ہونا تھا۔۔ایمن منہ لٹکائےبولی۔۔

کیوں لگی ہے تمہاری کلاس۔۔۔علی مسکراتے ہوئے بولا۔۔

اسائمنٹس کی وجہ سے میری اور رانیہ کی اسائمنٹ سیم جو تھی۔۔سر کوئی بچے تو نہی ہیں جو ان کو سمجھ نہی آنی تھی۔۔ایمن جلدی سے بولی۔۔

اچھا اب چلو کلاس میں۔۔ورنہ لیٹ ہو گئے تو پھر سے کلاس لگ جانی ہے میری۔۔۔ایمن نے کہا تو تینوں کلاس روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

واپسی پر ایمن نے علی سے کہا کہ مجھے شاپنگ پر جانا ہے۔۔ہمیں لے کر چلو۔۔۔

واٹ۔۔۔؟؟ میں نے ٹھیکہ نہی اٹھا رکھا تم دونوں کا خود چلی جاو۔۔۔علی نے جواب دیا۔۔

ایمن اور رانیہ نے اسے گھورا۔۔۔اب دوست کے ہوتے ہوئے ہم اکیلی جائیں۔۔۔تو ایسے دوست کو بیچ کر بندہ آئی فون سکس لے لے۔۔۔ایمن بولی۔۔۔

ارے چھوڑ یار اس کو خریدے گا کون۔۔۔اس کا تو کسی نے نوکیا تیتیس دس نہی دینا آئی فون سکس تو دور کی بات ہے۔۔۔رانیہ بولی اور دونوں ہائی فائی کرتے ہوئے ہنس دیں۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے اب تم دونوں اکیلی ہی جانا۔۔۔مجھ سے بات مت کرنا میں تو بےکار ہوں نہ علی منہ بناتے ہوئے چل پڑا۔۔

ارے رکو رکو ہم تو مزاق کر رہی تھی۔۔۔تم تو لاکھوں میں ایک ہو۔۔۔۔چلو اب مان بھی جاو دونوں اس کے آگے آ کر رک گئی۔۔

اچھا ٹھیک ہے چلو اب جلدی سے مجھے اور بھی کام ہیں۔۔۔علی نے کہا تو دونوں مسکراتے ہوئی اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔

اگلے دن ایمن بلیک شلوار قمیض پہنے کلاس میں داخل ہوئی تو سب کی نظریں اس پر جم گئی۔۔ واوو ایمن لکنگ بیوٹی فل۔۔۔ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر ایمن کی تعریف کی۔

۔تھینکس ایمن مسکراتے ہوئے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گئی۔۔

علی اور رانیہ بھی بہت خوش تھے۔۔ایمن کے اس بدلاو پر۔۔۔سب کے منہ پر ایمن کا ہی نام تھا۔۔

روحان کلاس میں آیا تو ایمن کی طرف دیکھتا رہ گیا۔۔اوہ اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے اس کا۔۔ایمن کی طرف دیکھ کر بولا۔۔تو ایمن نے اس کی طرف دیکھا تو سر جھٹکتے ہوئے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔

ارمان بھی اس کے پیچھے ہی کلاس میں داخل ہوا۔۔اور علی کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔۔۔ایمن کو دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔

کیا؟؟؟؟ایمن نے اسے اپنی طرف مسکراتے دیکھا تو بول پڑی۔۔۔؟؟

کککچھ نہی۔۔۔ارمان ایمن کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو بوکھلاتے ہوئے بولا۔۔اچھی لگ رہی ہیں آپ۔۔میں تو بس یہ کہ رہا تھا۔۔

تھینکس۔۔۔ایمن مسکراتے ہوئے۔۔اپنی سیٹ کی طرف سیدھی ہو کر بِٹھ گئی۔۔۔

سر ارحم کلاس میں داخل ہوئے تو سب سٹوڈنٹس کھڑے ہو گئے۔۔سٹ ڈاون کہتے ہوئے سر ارحم کی نظر ایمن پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی۔۔وہ نظر نہ لگ جائے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔

اس کا گلابی رنگ بلیک سوٹ میں چمک رہا تھا۔۔۔بنا میک اپ کے بھی قاتل حسینہ لگ رہی تھی۔۔

زویا نے اذنان کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو نظریں جھکا گئی۔۔۔

ایمن نے نظریں جھکائی تو اذنان جلدی سے نظریں پھیر گیا اور وائٹ بورڈ کی طرف بڑھ گیا۔۔اور لیکچر دینے میں مصروف ہو گیا۔۔اس کی نظریں بار بار ایمن کے چہرے پر اٹک رہی تھیں۔۔۔

لیکچر ختم ہوا تو اذنان جلدی سے کلاس روم سے باہر نکل گیا۔۔۔زویا کی نظریں اسے پزل کر رہی تھیں۔۔۔

زویا حیران تھی اذنان کے اس طرح دیکھنے پر۔۔۔سمجھ سے باہر ہے۔۔میجر اذنان ہماری۔۔خود ہی تو کہا تھا ایسے کپڑے پہننے کو اب خود ہی گھور رہے تھے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *