Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Wafa (Episode 17)

Rasam e Wafa by Khanzadi

زویا جب رو رو کر تھک گئی۔۔تو اٹھ کر الماری کی طرف بڑھ گئی کپڑے چینج کرنے۔۔۔چینج کر کے آ کر کھانا کھائے بغیر ہی سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔بس اب اور نہی اب ہم اور نہی روئیں گے۔۔۔

رونا وہ بھی اس کے لیے جسے ہماری قدر ہی نہی۔۔۔ویسے بھی اب ہمارا اذنان کو اب یاد کرنا بھی گناہ ہے۔۔ہم کسی کی منکوحہ ہیں اب۔۔۔روحان کے ساتھ نا انصافی نہی ہونے دے سکتے ہم۔۔

اب روحان ہمارے شوہر ہیں۔۔۔ہم ان کی امانت ہیں۔۔اور امانت میں خیانت ہم ہونے نہی دیں گے۔۔۔آج سے ماضی ختم۔۔۔ہمیں ہمارے آنے والے کل کے بارے میں سوچنا ہو گا اب۔۔۔

چھوڑ دیں دیں گے اب تجھے یاد کرنا۔۔

کر لیا جتنا تھا تم نے ہمیں برباد کرنا۔۔

اب کے بار نہ ہم روئیں گے۔۔۔

کاٹ ڈالیں گے وہ سارے بیج۔۔

جو تیری محبت میں ہم نے بوئے تھے۔۔

تھک چکے ہم تڑپ تڑپ کے۔۔۔

اب نہ ہم تیرے لیے تڑپیں گے۔۔۔

اب کے بار باری یہ تمہاری ہے۔۔

بس ہم نے نہی یہ بازی تم نے بھی تو ہاری ہے۔۔

ہم تو ہو چکے برباد صنم۔۔۔

یہ رسمِ وفا نبھاتے نبھاتے۔۔

اب نہ اور محبت ہم کو کرنی ہے۔۔

نہ یہ رسمِ وفا نبھانی ہے۔۔

جان لو تم یہ صنم کہ اب یہ باری تمہاری ہے۔۔

تم نے بھی بازی ہاری ہے۔۔

اپنے کمرے میں بیٹھا وہ اپنی بے بسی کا ماتم کر رہا تھا۔۔۔آج پھر وہ ہار گیا تھا۔۔۔جس کو چاہا تھا بس وہی نہی ملتا باقی سب ملتا ہے اس دنیا میں۔۔۔آج وہ نشے میں تھا۔۔۔اپنا غم بھلانے کو پی رہا تھا۔۔

آخر کیوں میرے ساتھ ہی ایسا کیوں۔۔۔؟؟؟؟میری محبت میں کیا کمی تھی۔۔جو تم میری نہی ہو سکی۔۔کیوں زویا کیوں۔۔۔۔؟؟؟

وہ چلا رہا تھا۔۔۔اور ساتھ ہی رہ پڑتا تھا۔۔۔نہی نہی میں نہی رو سکتا میں مرد ہوں۔۔پھر گلاس اٹھا کر زور سے دیوار میں دے مارا۔۔۔کمرے میں کانچ بکھر گیا۔۔

جانتی ہو کیوں۔۔۔۔؟؟؟ کیونکہ مرد کو درد نہی ہوتا۔۔۔ہاہاہاہاہاہا اور ساتھ ہی اس کا قہقہ بلند ہوا۔۔وہ کبھی روتا تھا تو کبھی ہنستا تھا۔۔یہ سب تو غم بھلانے کے راستے ڈھونڈ رہا تھا وہ۔۔۔

لیکن اتنی جلدی غم مٹنے والا نہی تھا۔۔۔ابھی تو ابتدا ہوئی ہے عشق کی اتنی جلدی جان چھوٹنے والی نہی اس سے۔۔۔یہ قبر میں تو پہنچا سکتا ہے۔۔لیکن محبوب تک نہی۔۔۔

کیونکہ یہ عشق ہے۔۔

اس کا تو کام ہی درد دینا ہے۔

یہ تنہائی۔۔۔

یہ بے چینی۔۔

یہ درد۔۔

یہ آنسو۔۔

یہ شکوے۔۔

یہ سب تو عشق کی ادائیں ہیں۔۔

جب کر ہی لیا ہے عشق۔۔

تو اب رونا کیا۔۔

یہ عشق نہ کسی کا ہوا۔۔

نہ اس نے ہونا ہے۔۔

اب کیوں بیٹھے ہو تنہا۔۔

کہاں تھا نہ دور رہو اس سے۔۔

یہ دل تو اس کے لیے کھلونا تھا۔۔

اب نہ ملے گی تم کو راہِ فرار۔۔

اب تم کو اسی میں فنا ہونا ہے۔۔

یہی تو ہے رسمِ وفا۔۔۔

کسی کو پانا ہے۔۔تو کسی کو کھونا ہے۔۔

وہ یار ہی کیا جو یار کی خوشی میں خوش نہ ہو۔۔

یار کی خوشی کی خاطر یہ زہر تو تم کو پینا ہے۔۔

کیونکہ یہ عشق ہے۔۔۔

اس کا تو کا ہی درد دینا ہے۔۔

نشے میں چور وہ بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔اب کیا کرنا ہے جی کہ۔۔کاش یہ دھڑکن تھم جائے۔۔۔بس یہ آخری تمنہ ہے میری۔۔موت آئے تو سامنے بس میرے یار کا چہرہ ہو۔۔کہ کر وہ آنکھیں مینچ گیا۔۔۔

اگلے دن میجر اظہر زویا کو ساتھ لیے چلے گئے۔۔۔زویا آپ خوش ہو نہ بیٹا۔۔۔انہوں نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔؟؟؟

جی ڈیڈ ہم خوش ہیں۔۔۔آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم خوش نہی ہیں۔۔۔

کیونکہ آپ کے چہرے سے تو مجھے کوئی خوشی ظاہر نہی ہو رہی آپ کو دیکھ کر لگتا نہی ہے کہ کل آپکا نکاح ہوا ہے۔۔آپ کہ چہرے پر کوئی خوشی واضح نہی ہو رہی۔۔۔

ڈونٹ وری ڈیڈ۔۔ہم بہت خوش ہیں۔۔۔وہ ان کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے خفیف سا مسکرا دی۔۔بس کل رات سے ہماری طبیعت تھوڑی خراب ہے۔۔اسی لیے موڈ آف ہے ورنہ اور کوئی بات نہی۔۔۔ہم اس نکاح سے بہت خوش ہیں۔۔۔

ہممم ٹھیک ہے۔۔۔سب کچھ اتنی اچانک ہوا کہ میں پہلے تو گھبرا گیا تھا۔۔پھر سوچا اس میں میری بیٹی کی خوشی ہے۔۔تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔۔ہم نے جو کچھ کیا آپ کی خوشی کے لیے ہی کیا۔۔۔

مگر پھر بھی مجھے پتہ نہی کیوں لگا کہ آپ خوش نہی ہو۔۔کہی ہم نے غلط فیصلہ تو نہی کر دیا۔۔پر شکر ہے میری بیٹی نے میری غلط فہمی دور کر دی۔۔میجر اظہر مطمئن ہوتے بولے۔۔

ہمیں بس یہ ڈر ہے کہ کہیں شادی کے بعد وہ ہمیں آرمی چھوڑنے کے لیے نہ کہ دیں۔۔۔آپ تو جانتے ہیں نہ آرمی ہمارا جنون بن چکی ہے۔۔ہم یہ مشن چھوڑنا نہی چاہتے مرتے دم تک اپنے ملک کی اور اس سے جڑے لوگوں کی خدمت کرتے رہنا چاہتے ہیں۔۔

اور ہم نہی چاہتے کہ اس کام میں کوئی رکاوٹ ڈالے۔۔ہم برداشت نہی کریں گے۔۔۔آپ کہ دیں ان سے۔۔زویا کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔

ڈونٹ وری وہ آپ کو کبھی منع نہی کرے گا میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔جب تک آپ خود نہ چھوڑنا چاہو آرمی۔۔۔وہ آپ کو بہت خوش رکھے گا۔۔ہمیں بہت امید ہے اس سے۔۔۔میجر اظہر مسکراتے ہوئے بولے۔۔

اب مشن کے لیے تیار ہوجائیں۔۔۔انہوں نے گاڑی ایک ہاسپٹل کے سامنے روک دی۔۔۔یہ رہی اس لڑکی کی تصویر۔۔اور باقی انفارمیشن اس تصویر کے پیچھے ہیں۔۔۔اب آپ اندر جائیں۔۔۔۔

زویا نے وہ تصویر تھام لی۔۔۔اور اوکے کہتے ہوئے ڈاکٹر کے لباس میں ہاسپٹل کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اندر جا کر ایک روم کی طرف بڑھ گئی۔۔جہاں ایک لڑکی منہ پر آکسیجن ماسک لگے مشینوں میں جکڑی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔

دیکھنے میں تو کسی اچھے گھر کی لگ رہی تھی۔۔اور خوبصورت بھی تھی۔۔۔پتہ نہی کیا دشمنی ہو سکتی ہے کسی کی اس سے سوچتے ہوئے زویا اس کا جائزہ لینے لگی۔۔۔

تب ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر نبیل اندر داخل ہوئے۔۔۔ویلکم میجر زویا۔۔۔یہاں پر سب آپ کو ڈاکٹر حرا کے نام سے جانیں گے۔۔

تھینکس ڈاکٹر نبیل۔۔خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔۔زویا ہاتھ ملاتے ہوئے بولی۔۔کیا ہوا ہے اس لڑکی کو۔۔۔اور اس کے گھر والے کہاں ہیں۔۔۔زویا حیران ہوتے ہوئے بولی۔۔۔

یہ لڑکی پچھلے ایک ماہ سے یہاں ہیں۔۔۔اس کو بہت بار مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔یہ کوئی عام لڑکی نہی ہے یہ تین سو کڑوڑ کی اکیلی مالک ہے۔۔اس کا شوہر آوٹ آف کنٹری ہے۔۔

اور اس کے پیرنٹس یہی اسی شہر میں ہیں۔۔۔وہ لوگ بھی اب یہاں آنا کم ہو گئے ہیں۔۔۔البتہ علاج کے پیسے ہمیں ملتے رہتے ہیں۔۔تو ہمیں کوئی پرابلم نہی ہے۔۔۔

اور ان کی یہ حالت ایک مہینے سے ہے لیکن ان کے شوہر ابھی تک واپس نہی آئے۔۔۔سوچنے والی بات ہے نہ ڈاکٹر نبیل۔۔۔؟؟؟؟ زویا سوالیہ انداز میں بولی۔۔

جی ان کو اطلاع دی جا چکی ہے۔۔۔البتہ ان کا کچھ ویزے کا مسلہ ہے۔۔۔وہ حل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔جیسے ہی ان کا مسلہ حل ہو جائے گا۔۔۔وہ یہاں پہنچ جائیں گے۔۔

آل رائٹ ڈاکٹر نبیل۔۔۔اور ان کے بچے۔۔۔۔؟؟؟ زویا نے پھرسے سوال کیا۔۔۔

ان کا کوئی بچہ نہی ہے۔۔۔ڈاکٹر نبیل نے جواب دیا۔۔یہ جو کوئی بھی ہے جو ان کو مارنا چاہتا ہے۔۔۔وہ ان کی جائیداد ہڑپنا چاہتا ہے۔۔آئی تھنک۔۔۔اتنی زیادہ پراپڑتی ہے۔۔۔اسی لیے ہمیں پولیس کو انفارم کرنا پڑا۔۔

تھینکس فار یور انفارمیشن ڈاکٹر نبیل۔۔۔ویل آئی ول ٹرائی مائی بیسٹ….زویا پروفیشنل انداز میں کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گئی۔۔۔اور ساتھ ہی ڈاکٹر نبیل بھی۔۔۔

آئیے میں آپ کو باقی سٹاف سے ملوا دیتا ہوں۔۔۔ڈاکٹر نبیل نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے سارے سٹاف سے زویا کا تعارف کروایا۔۔۔ڈاکٹر حرا کے نام سے۔۔۔اور پھر سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔۔

اور زویا بھی اس لڑکی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔بیسی کلی زویا کا کام تھا اس لڑکی کو سیکیور کرنا۔۔۔اس ہوسپٹل کے نرس یا پھر ڈاکٹرز سٹاف میں سے کوئی تو تھا ایسا جو اسے مارنا چاہتا تھا۔۔۔

یہی تو پتہ لگانا تھا زویا کو۔۔۔خیر زویا وہی کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔تبھی ڈاکٹر نازیہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ڈاکٹر حرا آپ کو ڈاکٹر ندا کے ساتھ ڈیوٹی کرنی ہو گی۔۔۔ایمر جنسی وارڈ میں۔۔

آپ وہاں چلی جائیں یہاں کی بلکل فکر نہ کریں آپ یہاں میں ہوں۔۔۔ڈاکٹر نازیہ مسکراتے ہوئے بولی اور فائلز چیک کرنے لگ پڑی۔۔۔

جی میری ابھی ڈاکٹر نبیل سے بات ہوئی ہے۔۔۔انہوں نے مجھے اس پیشنٹ کے پاس رکنے کو کہا ہے۔۔۔تو میرے خیال سے آپ کسی اور ڈاکٹر کی ڈیوٹی لگا دیں وہاں۔۔۔۔زویا اسی کے انداز میں بولی۔۔۔

ڈاکٹر نازیہ کا زویا کی بات پر چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔ایسے جیسے ان کو زویا کا جواب پسند نہ آیا ہو ان کے ماتھے پر پڑے بل زویا کو واضح دکھائی دیے۔۔۔

ڈاکٹر نازیہ فائل اٹھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔اب اس کا رخ ڈاکٹر نبیل کے کیبن کی طرف تھا۔۔۔۔

ایکسکیوزمی ڈاکٹر نبیل۔۔آپ جانتے ہیں۔۔۔کہ پچھلے دس دن سے اس پیشنٹ کو میں ہی چیک کر رہی ہوں۔۔۔اور کافی امپروومنٹ آئی ہے اس میں۔۔۔

ڈاکٹر نبیل نا سمجھی میں ڈاکٹر نازیہ کی طرف دیکھنے لگ پڑے۔۔۔کس پیشنٹ کی بات کر رہی ہیں آپ ڈاکٹر زویا۔۔۔

میں روم نمبر چار کی بات کر رہی ہوں۔۔جس پر ایکسیڈنٹ والی پیشنٹ ہیں۔۔جو پچھلے ایک ماہ سے کوما میں ہیں۔۔۔پچھلے دس دن سے ان کو میں ہی دیکھ رہی ہوں۔۔

اور اب آپ نے یہ زمہ داری ڈاکٹر حرا کو سونپ دی ہے۔۔جنہوں نے آج ہی جوائننگ دی ہے۔۔۔وہ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر تھوڑا جھکتے ہوئے بولی۔۔۔

ہمم کون کہاں ڈیوٹی کرے گا یہ میں ڈیسائیڈ کروں گا۔۔ ڈاکٹر نازیہ۔۔۔اور رہی بات ڈاکٹر حرا کی تو ان کو یہ ڈیوٹی میں نے ہی سونپی ہے۔۔فار یور کائینڈ انفارمیشن آپ کو بتا دوں۔۔۔

کہ ڈاکٹر حرا کو میں نے اسی پیشنٹ کے لیے ہائر کیا ہے۔۔کیونکہ ان کے گھر والے ہمیں بھاری رقم پے کر رہے ہیں۔۔۔اسی لیے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم پیشنٹ کی اچھی دیکھ بھال کریں۔۔۔

اسی لیے میں نے ڈاکٹر حرا کو ہائر کیا۔۔۔وہ ایسے بہت سے پیشنٹس ریکور کر چکی ہیں۔۔۔بہت قابل ڈاکٹر ہیں وہ۔۔۔

یعنی آپ کا مطلب ہے۔۔۔کہ باقی سٹاف کسی قابل نہی ہے۔۔جو آپ نے نیو ڈاکٹر ہائر کی ہے۔۔۔ڈاکٹر نازیہ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بولی۔۔۔

میں نے ایسا تو نہی کہا ڈاکٹر نازیہ باقی ڈاکٹرز بھی بہت قابل ہیں۔۔۔لیکن ڈاکٹر حرا کوما پیشنٹس کی سپیشلیسٹ ہیں۔۔۔بہت اچھی طرح جانتی ہیں۔۔کہ کیسے پیشنٹ کو زندگی کی طرف واپس لانا ہے۔۔

اور پچھلے ماہ سے اب تک تو کوئی امپروومنٹ ہوئی نہی اس میں۔۔۔اسی لیے ہائر کیا ہے میں نے ڈاکٹر حرا کو۔۔۔امید ہے میری بات آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی۔۔۔

آپ باقی پیشنٹس کو دیکھ لیں۔۔اور بھی بہت سے پیشنٹس ہیں ہوسپٹل میں اور بھی پیشنٹس ہیں۔۔ڈاکٹر نبیل فائل پر نظریں جھکاتے ہوئے بولے۔۔

آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں ڈاکٹر نبیل۔۔۔۔ڈاکٹر نازیہ غصے سے تپ چکی تھی۔۔۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ آپ کی انسلٹ ہے تو آپ ریزائن کر سکتی ھیں۔۔ہمیں ڈاکٹرز کی کمی نہی ہے۔۔۔یہ تو آپ جانتی ہی ہیں۔۔کون کہاں ڈیوٹی کرے گا یہ ڈیسائیڈ کرنا میرا کام ہے۔۔

اگر آپ کو منظور ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ورنہ جیسے آپ کی مرضی ڈاکٹر نازیہ۔۔۔ڈاکٹر نبیل ایک ایک لفظ چبا کر بولے۔۔۔

ڈاکٹر نازیہ اپنی اتنی عزت افزائی پر سیخ پا ہوتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔اس بے عزتی کا بدلہ تو میں لے کر چھوڑوں گی۔۔۔میں پچھلے دو سال سے یہاں جاب کر رہی ہوں۔۔

اور یہ ڈاکٹر حرا۔۔۔جو آج ہی آئی ہے اور آتے ہی میری جگہ پر قبضہ کر لیا ہے اس نے۔۔۔اسے تو میں چھوڑوں گی نہی۔۔۔ایسا سبق سکھاوں گی کہ خود مجبور ہو جائے گی ہوسپٹل چھوڑنے پر۔۔۔کہتے ہوئے سٹاف روم کی طرف بڑھ گئی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *