Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 13)
Rasam e Wafa by Khanzadi
اذنان سو کر اٹھا تو رات کے نو بج چکے تھے۔۔اسے پتہ ہی نہی چلا وہ اتنی دیر تک سوتا رہا۔۔اٹھا تو۔۔اپنے لیے کچھ بنانے کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔لیکن کچن میں کھانے کو کچھ بھی تھا۔۔۔
پریشانی میں وہ کھانے کو کچھ لانا بھول گیا تھا۔۔اور اب گھر میں بھی کچھ نہی تھا ایسا جو بنا کر کھا سکے سر جھٹکتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آیا۔۔
بالکونی میں آ کر بیٹھ گیا۔۔۔ماضی کی یادوں میں کھو سا گیا۔۔۔کتنے ارمان تھے اس کے دل میں رِدا کو لے کر لیکن رِدا اس کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر گئی۔۔اسے اکیلا چھوڑ گئی۔۔
دس سال کا تھا جب ماں باپ چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔اذنان کے والدین کی موت ایک کار حادثے میں ہوئی تھی۔۔۔اذنان ان کی اکلوتی اولاد تھا۔۔ان کے جانے کے بعد اذنان بہت اکیلا رہ گیا تھا۔۔
ماں باپ کی جدائی نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔تایا تائی کو جب اس کے ماں باپ کی موت کی خبر ہوئی تو۔۔اسے لینے اس کے گھر آ پہنچے۔۔۔اذنان اپنے گھر کو چھوڑنے پر تیار نہی تھا۔۔۔
لیکن تایا تائی کے زبردستی کرنے پر ان کے ساتھ چل پڑا۔۔۔تائی نے اس کی پرورش بلکل اپنے بچوں کی طرح کی۔۔تائی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ردا۔۔جس کو اذنان سے منسوب کر دیا گیا۔۔۔
اذنان اٹھارا سال کا ہوا تو اس کی ردا سے منگنی کر دی گئی۔۔۔منگنی میں پورے خاندان کو مدعو کیا گیا۔۔۔سب کے سامنے اذنان نے ردا کو منگنی کی انگوٹھی پہنائی۔۔
اذنان کے دل میں ردا کی جگہ ایک کزن سے زیادہ کچھ نہی تھی۔۔وہ ردا سے بہت کم بات کرتا تھا۔۔زیادہ ٹائم اپنے کمرے میں گزارتا تھا۔۔۔کالج سے آتا تو سیدھا اپنے کمرے میں چلا جاتا۔۔اپنی پڑھائی میں مصروف رہتا۔۔۔
ایک دن یونہی بالکونی میں کھڑا تھا۔۔تو اس کی نظر ساتھ دو کمرے چھوڑ کر اگے والے کمرے کی بالکونی میں پڑی۔۔جہاں ردا بال بکھیرے گھٹنوں پر سر رکھے رو رہی تھی۔۔۔
اذنان ردا کو ایسے روتا دیکھ جلدی سے اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔اذنان کو سامنے دیکھ ردا نے سر اٹھا کر اذنان کی طرف دیکھا۔۔اور یہی وہ پل تھا جب اذنان اس کی بھیگی پلکوں کی نمی اور جھیل سی آنکھوں میں کھو سا گیا۔۔
وہ ٹکٹکی باندھے ردا کو دیکھ رہا تھا۔نہ جانے کیوں اسے ردا کے آنسووں سے تکلیف ہوتی محسوس ہوئی۔۔اذنان کےایسے دیکھنے پر ردا پھر سے سر گھٹنوں میں دیئے رو دی۔۔
اذنان گھٹوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔ردا۔۔۔اس نے آواز دی تو ردا نے پھر سے سر اوپر اٹھایا۔۔کیا ہوا رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔۔؟؟
ردا اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور زمین پر پڑے کچھ بالوں کی طرف اشارہ کیا۔۔اذنان کچھ سمجھ نہی پایا۔۔۔
کیا ہوا یہ بال کس کے ہیں۔۔اور رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔۔؟؟ اذنان نے پھر سے پوچھا۔۔۔
یہ میرے بال بال ہیں۔۔ردا آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔غلطی سے مجھ سے دانی کی بک پر انک گر گئی تھی۔۔تو اس نے پورے ایک انچ میرے بال کاٹ دیئے غصے میں۔۔۔
اذنان کو اس کے رونے کی وجہ جان کر ہنسی آ گئی۔۔ارے یہ بھی کوئی رونے والی بات ہے۔۔میں تو سمجھا پتہ نہی کوئی سیریس بات ہو گی۔۔جو آپ ایسے رو رہی ہیں۔۔اذنان اپنی ہنسی کنٹرول نہی کر پا رہا تھا۔۔۔
ردا اذنان کو ایسے ہنستے دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اذنان جلدی سے اس کے سامنے آ گیا۔۔آئی ایم سوری۔۔میں دانی کو سمجھاوں گا آج کے بعد وہ دوبارہ کبھی ایسا نہی کرے گا۔۔۔آپ سے معافی بھی مانگے گا۔۔۔
وہ ایسا کچھ نہی کرنے والا۔۔اسے تو میں چھوڑوں گی نہی ردا اپنے بال باندھتے ہوئے بولی۔۔۔
نہی آپ ادھر ہی رکیں میں ابھی آیا۔۔۔اذنان دانی کے کمرے میں آیا۔۔اور اسے ساتھ لیے ردا کے کمرے میں آیا۔۔۔اسے دیکھ کر ردا نے منہ پھیر لیا۔۔۔
آئی ایم سوری۔۔۔دانی منہ پھلائے بولا۔۔۔اذنان نے آگے بڑھ کر اس کے کان میں کچھ بول کر پیچھے ہٹا۔۔۔
ایسے کہتے ہیں سوری۔۔۔ردا بھنوئیں سکوڑتے ہوئے بولی۔۔
دانی نے اذنان کی طرف دیکھا۔۔۔ہاں ہاں ایسے بولتے ہیں سوری کانوں کو ہاتھ لگا کر بولو سوری۔۔ اذنان جلدی سے بولا تو۔۔دانی نے اسے گھورا۔۔۔
دانی نہ چاہتے ہوئے بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے سوری بولا۔۔دانی کے ایسے سوری کہنے پر ردا پہلے تو کچھ نہی بولی۔۔۔پھر کچھ دیر بعد بولی۔۔۔جاو میں نے تمہے معاف کیا۔۔۔اور ہنس دی۔۔
دیکھ کو گا میں تمہے۔۔دانی ردا کو اشارہ کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔اور ردا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔اسے ہنستے دیکھ کر اذنان بھی مسکرا دیا۔۔۔تبھی تائی جی کمرے میں داخل ہوئی دونوں کو مسکراتے دیکھ کر ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔۔
اذنان جلدی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔یہ یہاں کیا کر رہا تھا۔۔۔ردا کی ماں اس کی طرف بڑھی جلدی سے۔۔۔
کچھ نہی ماما بس ایسے ہی۔۔۔آیا تھا۔۔ردا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔کیا ہو گیا ہے آپ کو ماما اگر اذنان میرے کمرے میں آ گیا تو۔۔۔اس میں غلط ہی کیا ہے۔۔۔وہ کزن ہے میرا۔۔۔اور شادی ہونے والی ہے ہماری۔۔۔
بیٹی کا رویہ دیکھ کر وہ ڈر گئی۔۔۔نہی نہی میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔۔ردا کیا ہو گیا ناراض کیوں ہو رہی ہو۔۔چلو کھانا کھاو آ کر۔۔۔کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ردا بھی ماں کے پیچھے پیچھے کمرے سے نکل گئی۔۔
ایک سال بعد ردا اور اذنان کا نکاح کر دیا گیا۔۔لیکن رخصتی ردا کی پڑھائی مکمل ہونے پر طے پائی گئی۔۔
ردا کی پڑھائی مکمل ہوئی تو۔۔گھر میں ردا کی رخصتی کی بات چل پڑی۔۔۔ردا کو کوئی انٹرسٹ نہی تھا۔۔وہ تو اپنی ہی دنیا میں مگن تھی۔۔۔
لیکن اذنان کے دل میں ردا کے بہت جزبات تھے۔۔وہ بہت خوش تھا اس شادی سے۔۔۔وہ ردا سے محبت کرنے لگ پڑا تھا۔۔۔لیکن نہی جانتا تھا۔۔ردا اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی ہے۔۔
ایک دن اذنان نے ردا کو ایک لڑکے کے ساتھ ریسٹورنٹ سے نکلتے دیکھا۔۔۔لیکن وہ کچھ نہی بولا ردا سے۔۔اس کے بعد اکثر اس نے ردا کو اس لڑکے کے ساتھ دیکھا۔۔اور آخر کار اس کی ہمت جواب دے گئی۔۔مرد تھا۔۔آخر کب تک برداشت کرتا ردا اس کی بیوی تھی۔۔
آج اس نے ردا سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ردا کے کمرے کی طرف بڑھا ہی تھا۔۔کہ اندر سے آتی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔۔۔تم فکر نہی کرو بہت جلدی اس سے جان چھڑوا لوں گی میں۔۔۔
اذنان میں مزید سننے کی ہمت نہی رہی۔۔کمرے میں داخل ہو گیا ردا کے ہاتھ سے فون پکڑ کر دیوار میں دے مارا۔۔ردا اس آفت کے لیے تیار نہی تھی۔۔تیزی سے اذنان کی طرف مڑی۔۔
یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔وہ اذنان کی طرف بڑھی۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے فون کو ہاتھ لگانے کی۔۔۔وہ بھڑک اٹھی۔۔۔
کس سے بات کر رہی تھی۔۔۔اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا۔۔۔آج میں جان کر رہو گا۔۔بہت دن ہو گئے یہ سب برداشت کرتے ہوئے۔۔۔آج مجھے میرے سارے سوالوں کے جواب چاہیے۔۔۔
اوہ تو تمہیں سب پتہ چل ہی گیا۔۔۔چلو اچھا ہوا۔۔مجھے کچھ بتانا نہی پڑا۔۔ویسے بھی آج تم سے بات کرنے ہی والی تھی میں۔۔۔۔
کوئی رشتہ نہی رکھنا چاہتی میں تم سے۔۔۔جس سے میں بات کر رہی تھی۔وہ میرا بوائے فرینڈ تھا۔۔بہت جلد اس سے شادی کروں گی میں تم سے طلاق لے کر۔۔۔
اذنان کا ہاتھ اٹھا اور ردا کے گال پر نشان چھوڑ گیا۔۔طلاق چاہیے تمہے۔۔۔چلو میرے ساتھ۔۔اذنان اسے بازو سے کھینچتے ہوئے نیچے لے آیا۔۔سب اذنان کو ردا کے ساتھ ایسے نیچے لاتے دیکھ کر۔۔سب وہی اکٹھے ہو گئے۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا۔۔۔اذنان کے تایا جی جلدی سے آگے بڑھے۔۔لیکن اذنان ان کو نظر انداز کرتے ہوئے۔۔آگے بڑھ گیا۔۔۔ان سب گواہوں کے مد نظر رکھتے ہوئے۔۔اور اللہ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے۔۔میں اذنان اظہر۔۔۔ردا طاہر۔۔۔تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔طلاق دیتا ہوں۔۔۔
اذنان کے یہ الفاظ سن کر تو۔۔۔تایا جی سینے پر ہاتھ رکھے وہی ڈھے سے گئے۔۔۔ان کو نیچے گرتے دیکھ سب ان کی طرف بڑھ گئے۔۔
جلدی سے ان کو ہوسپٹل لے جایا گیا۔۔۔لیکن وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔۔
ان کی دیتھ کے ایک ہفتے بعد ردا اذنان کے کمرے میں ایک فائل پکڑے داخل ہوئی۔۔۔ردا کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ اذنان اٹھ کھڑا ہوا۔۔کیوں آئی ہو یہاں۔۔۔؟؟؟؟
ردا نے مسکراتے ہوئے فائل اذنان کی طرف بڑھا دی۔۔ڈائیوورس پیپرز۔۔سائن کرو۔۔۔
اذنان نے ردا کے ہاتھ سے فائل پکڑی۔۔۔اور سائن کر دئیے۔۔۔اور یہ کیا۔۔۔اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔اس کی ساری جائیداد ردا کے نام ہو چکی تھی۔۔
اگر اذنان ردا کو طلاق دیتا ہے تو اس کی ساری جائیداد ردا کے نام ہو جائے گی۔۔۔ساری بات اذنان کی سمجھ میں آ گئی۔۔۔۔۔اوہ تو یہ سب کچھ جائیداد کے لیے تھا۔۔۔وہ ردا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔
جی۔۔۔ردا مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔شاید نکاح نامہ سائن کرتے ہوئے پڑھا نہی تھا تم نے ردا۔۔اذنان کے ہاتھ سے فائل کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔
اب نکلو یہاں سے تمہارا اب ہم سے کوئی تعلق نہی۔۔تائی جی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔۔۔اذنان ان کی آواز پر پلٹا۔۔۔وہ حیران تھا۔۔رشتوں کے اس بدلتےچہروں کو دیکھ کر۔۔۔
بنا کسی سے کوئی بات کیے۔۔۔اپنا سامان بیگ میں پیک کیے ہوئے۔۔وہاں سے چل پڑا۔۔۔سامان بھی کیا تھا۔۔۔اس کے ماں باپ کی کچھ یادگار تصویریں۔۔۔اور اس کے بچپن کی کچھ یادیں۔۔۔اپنا بیگ اٹھائے۔۔ایک آخری نظر اس گھر پر ڈالتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔۔
اور دوبارہ کبھی اس گھر کا رخ نہی کیا۔۔اور اپنے ایک دوست کی مدد سے آرمی جوائن کر لی۔۔اس نے طے کر لیا تھا کہ اب بس وطن کی خاطر جیئے گا۔۔۔
زویا سے اس کی ملاقات ہوئی تو محبت نے پھر سے اس کے دل میں ڈیرے ڈال دیئے۔۔وہ جتنی بھی کوشش کرتا زویا سے دور بھاگنے کی وہ اتنی ہی اس کے دل کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔۔
آج اس نے زویا سے اپنے دل کی بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔لیکن زویا کا ہاتھ روحان کے ہاتھ میں دیکھ کر۔۔وہاں سے نکل آیا۔۔۔وہ اپنا ٹرانسفر کروانے کا سوچ رہا تھا یہاں سے تا کہ دوبارہ زویا سے سامنہ نہ ہو سکے۔۔۔
فون کی بیل پر وہ یادوں کے سمندر سے باہر نکلا۔۔۔زویا کی کال آ رہی تھی۔۔۔کال کاٹ کر فون بیڈ پر پھینکتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
