Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 10)
Rasam e Wafa by Khanzadi
میرے فرینڈز مجھ سے ناراض ہیں میجر اذنان ان کا کیا کیا جائے۔۔۔بہت دکھ ہوتا ہے ان کی حالت دیکھ کر۔۔زویا اذنان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔
آپ فکر مت کریں۔۔زویا وقت آنے پر ان کو سچ بتا دیں گے۔۔لیکن ابھی نہی آپ کو مکمل طور پر خود کو ان سے لا تعلق ظاہر کرنا ہو گا۔۔مجھے لگ رہا ہے آپ کمزور پڑھ رہی ہیں۔۔۔اذنان نے زویا کو جواب دیا۔۔
نہی ہم کمزور نہی پڑ رہے۔۔بس یہی سوچ رہے تھے۔۔کہ وہ ہمارے لیے دل میں بد گمانیاں پیدا کیے ہوئے ہیں۔۔۔ہم نہی چاہتے کہ وہ لوگ ہمارے بارے میں کچھ بھی غلط سمجھیں۔۔زویا کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔۔
ان کے اڈے کا پتہ چل گیا ہے میجر اذنان۔۔۔جہاں وہ لڑکیوں کو اغوا کر کے لے جاتے ہیں۔۔۔؟؟؟ ارمان کچھ سوچتے ہوئے زویا کی بات کاٹتے ہوا بولا۔۔۔
نہی لیکن بہت جلد پتہ چل جائے گا۔۔۔آج پھر میری کوشش ہے۔۔مسٹر بٹ کے پی۔اے۔۔سے ملاقات ہو سکے۔۔وہاں بہت مشکل ہوتی ہے۔۔۔
اس سے ملنا اتنا آسان نہی ہے۔۔جگہ جگہ چمچے پھیلے ہوئے ہی مسٹر بھٹ کے۔۔اذنان نے ارمان کو جواب دیا۔۔اگر زرا سا بھی شک ہو گیا ان کو۔۔تو بنا بنایا کام بگڑ سکتا ہے۔۔اسی لیے ہمیں بہت احتیاط سے کام کرنا پڑے گا۔۔
ان دونوں لڑکیوں کے پیرنٹس سے بھی ملاقات کی ہے میں نے۔۔۔وہ لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں۔۔۔مجھ سے ان کا دکھ دیکھا نہی گیا۔۔اسی لیے زیادہ ٹائم نہی رک سکا ان کے ساتھ۔۔۔
اسی لیے جلدی ہی وہاں سے نکل آیا۔۔۔ان کو وعدہ کر کے کہ بہت جلد آپ کی بیٹیوں کو ڈھونڈ لیں گے ہم۔۔۔ان کی آنکھوں میں ایک امید کی کرن سی نظر آئی مجھے۔۔۔اللہ ہمیں جلدی سے جلدی اس مشن میں کامیاب کرے۔۔
آمین۔۔۔۔تینوں ہم آواز ہو کر بولے۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔میں چلتا ہوں۔۔نیکسٹ لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔کہتے ہوئے ارمان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
ہم بھی چلتے ہیں۔۔۔زویا بھی اٹھ کھڑی ہوئی جانے کے لیے۔۔۔پھر ملیں گے۔۔کہتے ہوئے زویا کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
زویا کے جاتے ہی اذنان سوچ میں پڑ گیا۔۔۔اور فون اٹھا کر کسی کا نمبر ملایا۔۔۔۔اور مسٹر بٹ کے متعلق پوچھا۔۔لیکن ان کو بھی کوئی انفارمیشن حاصل نہی ہوئی۔۔۔۔
دو دن بعد۔۔۔۔
زویا ہاسٹل جانے کے لیے یونیورسٹی سے نکلی ہی تھی۔۔کہ اس کے سامنے ایک گاڑی رکی۔۔احد نے ایمن کو اکیلی جاتے دیکھا تو۔۔۔اسے لفٹ دینے کے لیے گاڑی اس کے سامنے روک دی۔۔۔
زویا نے احد کو دیکھا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔اس کا فون بھی چارج نہی تھا۔۔۔ورنہ وہ اذنان کو فون کر دیتی جلدی سے۔۔۔
احد گاڑی میں سے نکل کر زویا کے سامنے آ رکا۔۔۔ہاسٹل جا رہی ہو۔۔آ جاو میں ڈراپ کر دوں۔۔۔گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔۔۔زویا کے لیے۔۔۔
ننہہی میں خود چلی جاو گی۔۔۔پاس ہی تو ہے پانچ منٹ کا راستہ ہے۔۔۔ڈونٹ ورری۔۔کہتے ہوئے زویا آگے کی طرف بڑھی۔۔لیکن احد اس کے سامنے آ گیا۔۔۔
کیا یار دوست ہے ہم کم ازکم اتنا تو یقین ہونا چاہیے تمہے مجھ پر۔۔۔میرے ہوتے ہوئے میری دوست پیدل چلے ایسا نہی ہو سکتا۔۔۔احد بٹ کی دوست ہو تم اچھا تو نہی لگتا نہ۔۔۔بیٹھو جلدی سے۔۔۔
زویا کو نا چاہتے ہوئے بھی گاڑی میں بیٹھنا پڑا۔۔زویا کے بیٹھتے ہی احد نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔اور فون پر کسی سے بات کر رہا تھا وہ کسی سے۔۔۔
زویا کی اس کی باتوں کی سمجھ نہی آئی۔۔اس نے کچھ کوڈ بولا تھا۔۔اور فون بند کر دیا۔۔۔اتنا تو زویا سمجھ چکی تھی کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔۔لیکن اس نے اپنی گھبراہٹ احد پر ظاہر نہی ہونے دی۔۔
کچھ دیر بعد احد نے گاڑی روک دی۔۔یہ ہاسٹل کا راستہ تو نہی تھا۔۔گھبراہٹ میں زویا کا دھیان ہی نہی رہا۔۔۔یہ کونسا راستہ ہے۔۔زویا نے جلدی سے بولتے ہی احد کی طرف دیکھا۔۔
کچھ نہی یہ ایک شارٹ کٹ تھا۔۔لیکن لگتا ہے گاڑی خراب ہو گئ ہے۔۔ابھی دیکھتا ہوں۔۔کہتے ہوئے۔۔احد گاڑی سے باہر نکل گیا۔۔۔زویا نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو دروازہ لوکڈ تھا۔۔۔۔یہ بات زویا کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھی۔۔
اتنی دیر میں ایک وین وہاں آ کر رکے کچھ نقاب پوش گاڑی میں سےباہر نکلے۔۔۔۔اور احد سے گاڑی کی چابی لی۔۔اور گاڑی کا دروازہ کھول کر زویا کی طرف بڑھے۔۔۔زویا بدک کر پیچھے ہٹی۔۔۔
اور ایک زور دار ٹانک ماری جس سے وہ تینوں لڑکھڑاتے ہوئے باہر جا گرے۔۔۔زویا جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی اور۔۔۔ایک آدمی نے اس پر حملہ کیا۔۔زویا نے اس کے وار سےبہت آسانی سے بچ گئی۔۔اور ایک ٹانگ اس کے پیٹ پر دے ماری۔۔
احد دور کھڑا۔۔یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔زویا کو ان آدمیوں سے لڑتے دیکھ اس کے ہوش اڑ گئے۔۔۔وہ تو زویا کو ایک عام سی لڑکی سمجھ رہا تھا۔۔۔وہ سمجھ چکا تھا۔۔کہ یہ کوئی عام لڑکی نہی ہے۔۔۔
اس نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا۔۔۔اس نے تیزی سے ایک کپڑا زویا کے منہ پر رکھ کر دبا دیا۔۔۔زویا وہی زمین پر ڈھے گئی۔۔۔اور احد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔
زویا کو اٹھا کر وین میں ڈال کر احد کی بتائی گئی جگہ پر بھیج دیا گیا۔۔اور احد اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
اذنان بہت دیر سے زویا سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔لیکن زویا کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔۔زویا نے اسے بتایا تھا کہ اس کا فون چارج نہی ہے۔۔۔لیکن اب تو زویا کو یونیورسٹی سے نکلے ہوئے دو گھنٹے ہو چکے تھے۔۔۔
اذنان کی پریشانی بڑھ گئی۔۔۔وہ جلدی سے ہاسٹل پہنچا۔۔۔زویا کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔لیکن کمرے پر تالا لگا تھا۔۔۔جس کا مطلب تھا کہ زویا یہاں نہی ہے۔۔۔
اذنان ابھی وہی کھڑا تھا۔۔۔کہ رانیہ اپنے کمرے سے باہر نکلی۔۔اور سامنے اذنان کو دیکھ کر اس کے چہرے کے رنگ اڑ گئے۔۔۔ارحم سر آپ یہاں۔۔۔سب خیریت ہے نہ۔۔۔۔
اذنان جلدی سے رانیہ کی طرف بڑھا۔۔۔۔رانیہ زویا۔۔۔میرا مطلب ہے ایمن کہاں ہے۔۔۔
رانیہ کچھ سمجھ نہی پائی۔۔۔کیا مطلب سر وہ اپنے کمرے میں ہی ہو گی۔۔۔لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔۔اس کے بارے میں۔۔۔؟؟
نہی وہ اپنے کمرے میں نہی ہے۔۔۔روم لوکڈ ہے۔۔میں پچھلے دو گھنٹوں سے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔لیکن اس کا فون بند ہے۔۔۔
رانیہ حیران تھی۔۔۔اذنان کے اس انکشاف پر۔۔۔بھاگتے ہوئے ایمن کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔دروازہ بند تھا۔۔۔اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔ایمن کو منع کیا تھا میں نے کہ دور رہے۔۔۔اس احد سے لیکن اس نے میری ایک نہی سنی۔۔۔
رانیہ نے رونا سٹارٹ کر دیا تھا۔۔۔کہا تھا اس سے کہ وہ اچھا لڑکا نہی ہے۔۔۔اس سے پہلے بھی دو لڑکیوں کو اغوا کروا چکا ہے۔۔۔رانیہ روتے ہوئے بولی۔۔
دیکھو رانیہ مجھے ضروری بات کرنی ہے۔۔ابھی تم سے لیکن یہاں نہی۔۔۔اپنے کمرے میں چلو۔۔۔رانیہ اذنان کو ساتھ لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
سر لیکن آپ کے پاس ایمن کا نمبر کیسے اور آپ کو اس کے روم کا کیسے پتہ ہے۔۔۔ایسا کچھ تو ہے جو مجھے پتہ نہی۔۔۔۔رانیہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔
رانیہ میری بات دھیان سے سننا۔۔۔۔وہ ایمن نہی ہے۔۔میجر زویا ہیں۔۔۔اور میں میجر اذنان۔۔۔۔
اذنان کی بات پر رانیہ کا منہ کھل گیا۔۔۔مطلب وہ ایمن۔۔۔نہی میجر زویا ہے۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔وہ تو میری دوست ایمن تھی۔۔۔
نہی رانیہ وہ ایمن نہی ہے۔۔۔۔میجر زویا ہیں۔۔۔اور میں میجر اذنان اور میجر ارمان ہم تینوں احد کے لیے یہاں آئے ہیں۔۔۔ایک خاص مشن سے۔۔۔وہ جو دو لڑکیاں اغوا ہوئی ہم جانتے ہیں۔۔اس کے پیچھے احد کا ہی ہاتھ ہے۔۔۔
اب تم مجھے یہ بتاو۔۔۔آج لاسٹ ٹائم زویا کو کب دیکھا تھا تم نے۔۔۔اذنان جلدی سے بولا۔۔
وہ نیہا کے ساتھ تھی چھٹی کے ٹائم۔۔۔اس کو میں نے نیہا سے بات کرتے سنا تھا۔۔۔وہ بتا رہی تھی کہ وہ اکیلی جاتی ہے۔۔۔آج کل ہوسٹل۔۔۔رانیہ کو یاد آیا تو جلدی سے بولی۔۔
اچھا۔۔۔تو کیا اس وقت احد وہاں ہی تھا۔۔۔آس پاس۔۔جب زویا نیہا سے بات کر رہی تھی۔۔اچھی طرح یاد کر کے بتاو۔۔۔تمہاری چھوٹی سے چھوٹی انفارمیشن بھی ہمارے کام آ سکتی ہے۔۔زویا کو ڈھونڈنے میں۔۔۔
جی اس وقت احد وہی پر تھا۔۔لیکن وہ فون پر مصروف تھا۔۔اور بات کرتے کرتے باہر نکل گیا۔۔۔کلاس سے۔۔۔
اس کے بعد میں ہاسٹل آ گئی۔۔۔مجھے تو یہی تھا کہ کچھ دیر بعد ایمن واپس آ جائے گی۔۔۔رانیہ پھر سے رونے لگ پڑی۔۔۔
رانیہ پلیز چپ ہو جاو۔۔۔اور دعا کرو کہ زویا ٹھیک ہو بہت جلد وہ تمہارے پاس ہو گی۔۔کہتے ہوئے۔۔اذنان کمرے سے نکل گیا۔۔اور فون لگا کر ارمان کو فون لگا کر جلدی آنے کا کہا۔۔۔
