Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 06)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 06)
Rasam e Wafa by Khanzadi
لیکچر کے بعد ایمن سر ارحم کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔۔۔دروازہ ناک کیا۔۔
ییس کم ان۔۔۔۔اذنان نے بغیر دیکھے جواب دیا۔وہ کل اسائمنٹ ساتھ لیجانا تو بھول ہی گئے تھے ہم۔۔
زویا کی آواز پر اذنان نے نظریں اوپر اٹھا کر اسے دیکھا جیسے کچھ سمجھ نہی پایا ہو۔۔
اسائمنٹ واپس لینے آئے ہیں ہم۔۔۔۔زویا نےجب اذنان کی طرف سے کوئی جواب نہ پایا تو بول پڑی۔
یہ رہی اسائمنٹس۔۔اذنان نےاسائمنٹس کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
ؐزویا اسائمنٹس اٹھا کر روم سے باہر نکل گئی۔۔پتہ نہی کیا مسلہ ہے۔۔ایسے کیوں دیکھ رہے تھے مجھے۔۔۔یہ میجر اذنان ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔۔۔یہ کبھی خوش نہی ہو سکتے ہم سے۔۔۔
کبھی کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں یہ پتہ نہی کیوں ان کو یہاں بھیج دیا گیا ہے۔۔ہم خود ہی ہینڈل کر لیتے یہ کیس۔۔
ڈیڈ سے بات کرنی پڑے گی ان کو واپس بلائیں۔۔یہاں ان کا کوئی کام نہی پریشان کر رکھا ہے۔۔میجر اذنان نے ہمیں۔۔وہ بڑبڑاتے ہوئے جا رہی تھی۔۔کہ سامنے سے آتے روحان سے ٹکرا گئی۔۔۔
اور گرتے گرتے بچی البتہ اس کی اسائمنٹس اور بکس بکھر چکی تھیں۔۔۔سامنے روحان کو دیکھ کر سیخ پا ہو گئی۔۔۔آپ دیکھ کر نہی چل سکتے کیا۔۔۔؟؟
روحان تو ڈر ہی گیا تھا ایمن کے اس رویے سے جو کبھی کلاس میں کبھی اونچی آواز میں نہی بولی تھی آج اتنی زور سے چلائی۔۔۔روحان کو اپنے کانوں پر یقین نہی آیا۔۔کیونکہ ابھی وہ جانتا نہی تھا کہ اس کے سامنے ایمن صفدر نہی۔۔۔میجر زویا کھڑی ہے۔۔
روحان نے اسائمنٹس اور بکس اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ رک گیا۔۔۔مجھے تو نظر آتا ہے بہت اچھی طرح۔۔لیکن شاید تمہاری نظر کمزور ہو گئی ہے۔۔دیکھ کر خود نہی چل رہی تھی اور مجھ پر الزام لگا رہی ہیں۔۔۔
بجائے کہ تم مجھے سوری بولو۔۔۔اوپر سے اوور ایکٹنگ کر رہے ہو۔۔۔بہت بدتمیز انسان ہو۔۔۔اب یہ ساری چیزیں سمیٹ کر پکڑاو مجھے۔۔۔زویا حکم دینے والے انداز میں بولی۔۔۔وہ بھی بھول چکی تھی کہ سامنے ملک روحان ہے۔۔۔جس نے کبھی کسی کی نہی سنی۔۔۔
اس کی بات پر روحان مسکرا دیا۔۔۔میں تمہاری بات مانوں گا یہ تمہاری بھول ہے۔۔۔تبھی ارمان وہاں آیا اور جلدی سے اسائمنٹس اور بکس اٹھا کر زویا کو تھما دیں۔۔۔
اور روحان لب بھینچ کر رہ گیا۔۔ایک تو یہ ولن پتہ نہی کہاں سے اینٹری مار دیتا ہے۔۔جب بھی میں بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں ایمن سے۔۔۔۔دل میں سوچتے ہوئے اس نے ارمان کو گھورا۔۔۔اور وہاں سے چل پڑا۔۔۔
اور زویا اور ارمان بھی وہاں سے چل پڑے۔۔۔
روحان کی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔
ارمان کی بات پر زویا رک گئی۔۔۔وہ حیران تھی۔۔۔کہ ارمان اور روحان دونوں بھائی ہیں۔۔۔لیکن دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ایک ہر وقت لڑنے کو تیار غلطیوں کی دکان۔۔۔اور دوسرا بلکل الٹ نرم دل ہر دل عزیز۔۔
یہ بچپن سے ایسا نہی ہے۔۔بس کچھ برے دوستوں کی صحبت نے اس کو ایسا بنا دیا ہے۔۔۔دل کا برا نہی ہے میرا بھائی۔۔میں جانتا ہوں اس کو۔۔ابھی نا سمجھ ہے۔۔آہستہ آہستہ اچھے برے کو پہچان جائے گا وہ۔۔مجھے یقین ہے۔۔۔اللہ پر۔۔
اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔۔۔زویا مسکرا کر بولی تو دونوں کلاس روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
روحان گارڈن میں بیٹھا تھا تبھی۔۔نیہا وہاں آئی اور اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔۔۔ہائے سویٹ ہارٹ۔۔۔اس نے روحان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔
روحان نے اسے نظر انداز کیا۔۔۔جاو یہاں سے میرا موڈ نہی ہے تم سے بات کرنے کا دو ہفتوں بعد شکل دکھا رہی ہو۔۔۔
او ہو یار ناراض مت ہو آپی گھر گئی تھی۔۔ان کے دیور کی شادی تھی۔۔۔پھر دل ہی نہی کر رہا تھا۔۔بہت مزہ آ رہا تھا۔۔شادی پر سب ریلیٹیو آئے ہوئے تھے۔۔
اچھا تو پھر نہی آنا تھا واپس وہی رہ جانا تھا۔۔واپس کیوں آئی ہو۔۔روحان غصے سے بولا۔۔
اچھا بابا سوری تمہیں تو کہا تھا میں نے ساتھ چلو۔۔۔لیکن تم مانے ہی نہی۔۔اب جو ہونا تھا ہو گیا۔۔موڈ خراب مت کرو۔۔
نیہا نے کہا تو روحان پھیکا سا مسکرا دیا۔۔۔اور کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔نیہا بھی اس کے پیچھےپیچھے چل پڑی۔۔۔
روحان کے ساتھ نیہا کو کلاس میں داخل ہوتے دیکھ علی نے منہ بنایا۔۔لو دیکھو آ گئی۔۔۔روحان کی جی ایف۔۔۔اس کی بات پر تینوں ہنس دیے جب کہ ارمان نے بے بسی سے سر ہلا دیا۔۔روحان اورنیہا مسکراتے ہوئے اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئے۔۔۔
لیکچر کے بعد سب کینٹین میں چلے گئے۔۔۔لنچ کیا اور کلاس میں چلے گئے۔۔۔چھٹی سے کچھ دیر پہلے زویا کو کڑوا کریلا کے نام سے میسیج موصول ہوا۔۔میٹ می ان مائی آفس۔۔۔
زویا سر حھٹکتی ہوئی آفس کی طرف چل پڑی۔۔دروازہ ناک کیے بغیر اندر چلی گئی۔۔۔اور چیئر پر بیٹھ گئی۔۔۔اذنان زویا کی اس حرکت پر دل ہی دل میں مسکرا دیا۔۔
کیا۔۔؟ اذنان کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو زویا کندھے اچکاتے ہوئے بولی۔۔۔سر ہو گے آپ باہر۔۔یہاں میجر اذنان ہیں آپ۔۔۔کہ کر زویا مسکرا دی۔۔کیوں بلایا ہمیں آپ نے۔۔
اذنان کچھ نہی بولا۔۔۔وہ بس زویا کو دیکھ رہا تھا۔۔اچھی لگ رہی ہیں آپ۔۔کچھ دیر بعد بولا۔۔۔
زویا مسکرا دی۔۔تو یہ کہنے کے لیے بلایا تھا آپ نے تو مجھے صبح ہی کہ دیتے۔۔۔
میرا مطلب۔۔۔آپ اچھی لگ رہی ہیں۔۔۔یہ صحیح نہی ہے۔۔۔اذنان ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔
کیوں۔۔۔؟؟ میں کچھ سمجھی نہی۔۔۔زویا نے جواب دیا۔۔
مطلب آپ سمپل کپڑے پہن کر آیا کریں۔۔۔اذنان نے بولا۔۔
اس کی بات پر زویا نے آنکھیں سکوڑی۔۔۔یہ سمپل ہی ہیں۔
۔میجر اذنان۔۔۔آپ اپنی آنکھوں کا ٹیسٹ کروائیں۔۔
سمپل کپڑوں میں کوئی اتنا خوبصورت کیسے لگ سکتا ہے۔۔۔اذنان جلدی سے بولا۔۔
یہ کپڑے سمپل ہی ہیں۔۔۔میجر اذنان دھیان سے دیکھیں۔۔۔
۔اب میں ہوں ہی خوبصورت تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔۔میجر اذنان۔۔
ہم یہاں کسی خاص مشن کے لیے آئے ہیں۔۔۔میجر زویا نہ کہ آپ کے کپڑوں کے بارے میں ڈسکشن کرنے بہتر ہو گا کہ ہم اپنے مشن پر دھیان دیں۔۔۔اذنان کو کوئی اور جواب نہ ملا تو جلدی سے سیریس ہوتے ہوئےبولا۔۔
کیا ہم۔۔۔۔۔؟؟؟ ڈسکشن کر رہے ہیں کپڑوں کے بارے میں۔۔
۔زویا کو تو جیسے صدمہ لگ گیا اذنان کی بات پر۔۔۔
اذنان نظریں چرا گیا۔۔۔کیا انفارمیشن ہے آپ کے پاس مس زویا۔۔۔جلدی سے اذنان نے بات پلٹ دی۔۔۔
نہی آپ بات پلٹ نہی سکتے میجر اذنان آپ پہلے ہمارے سوال کا جواب دیں۔۔۔زویا اپنی بات پر ڈٹ گئی۔۔۔
اذنان غصے سے زویا کی طرف بڑھا۔۔۔زویا چیئر سےاٹھ کھڑی ہوئی۔۔اذنان آگے بڑھا زویا کو واپس چیئر پر بٹھایا۔۔دونوں ہاتھ چیئر پر رکھ دیے۔۔زویا کے فرار کے سارے راستے بند کر دیے۔۔
اذنان دونوں ہاتھ چئیر پر رکھ کر زویا کی طرف جھکا۔۔۔ہاں میں مانتا ہوں۔۔آپ بہت خوبصورت ہیں۔۔۔آپ کی آنکھیں مجھے پاگل کرتی ہیں۔۔جب بھی آپ کی طرف دیکھتا ہوں خود کو ہپنوٹائز فیل کرتا ہوں۔۔۔آپ مجھے ہپنو ٹائز کرتی ہو۔۔۔
لیکن ان سب کے باوجود بھی۔۔میں آپ سے محبت نہی کرتا۔۔۔نفرت کرتا ہوں۔۔۔میرے سامنے مت آیا کریں۔۔۔بس یہی کہنا تھا مجھے۔۔اذنان زویا کی آنکھوں میں دیکھتےہوئے بولا۔۔۔
اور زویا تو ایسے بیٹھی تھی جیسے بدن میں جان ہی نہ باقی ہو۔۔۔وہ حیران تھی۔۔۔اذنان کے اس انکشاف پر۔۔۔
اذنان اپنی بات ختم کر کے واپس اپنی چیئر پر بیٹھ گیا۔۔۔آپ جا سکتی ہیں یہاں سے۔۔۔نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے بولا۔۔
اتنی نفرت کی وجہ جان سکتی ہیں ہم۔۔۔کیوں نفرت ہے آپ کو ہم سے جب کہ ہم تو آپ سےایک مہینہ پہلے ہی ملے ہیں۔۔ہمارے درمیان ایسا تو کچھ نہی ہوا تھا جو نفرت کی وجہ بن سکے۔۔زویا اذنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔
اذنان کے ہاتھ رکے زویا کی بات پر۔۔۔یہ بتانا میں ضروری نہی سمجھتا۔۔۔آپ جا سکتی ہیں یہاں سے کوشش کیجئے گا کہ دوبارہ میرے سامنے نہی آئیں آپ۔۔۔۔
زویا کی آنکھوں سے آنسو نکل چکے تھے۔۔۔بنا کچھ کہے وہ وہاں سے چل پڑی۔۔۔
سامنے روحان کھڑا تھا۔۔۔زویا کو روتے ہوئے دیکھ چکا تھا وہ ایک نظر اس پر ڈالتے وہ آگےکی طرف بڑھ گئی۔۔۔
اُف اب یہ رو کیوں رہی تھی۔۔یہ لڑکی مجھے پاگل کرے گی۔۔۔پتہ نہی کیا چاہتی ہے یہ۔۔۔میں تنگ آ گیا ہوں اس سے۔۔۔اس کے آنسو۔۔۔مجھے کیوں تکلیف دے رہے ہیں۔۔۔۔
زویا لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اس وقت لائبریری میں کوئی نہی تھا۔۔۔لائٹ آف تھی۔۔ایسے ہی وہ اندر جا کر بیٹھ گئی اور سر ٹیبل پر رکھ کر دل کھول کر رو دی۔۔
پتہ نہی کیوں لوگ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں کرتے ہیں۔۔۔نکاح ہوا تو خود کو محفوظ سمجھنے لگے ہم۔۔لیکن نکاح بھی۔۔کچھ مہینوں بعد ختم ہو گیا۔۔۔کوئی ہمیں پسند نہی کرتا۔۔اگر تائی اماں ہمیں پسند کرتی ہوتی تو شاید ہم اس طرح دربدر نہی ہو رہےہوتے۔۔
کچھ مہنوں بعد ماں بھی ساتھ چھوڑ گئی۔۔۔ڈیڈی اور ممی بہت خیال رکھتے ہیں ہمارا۔۔۔لیکن جب میجر اذنان ہماری زندگی میں آئے تو ایک خوشگوار سا احساس زندگی میں آ گیا۔۔
ان کا خیال رکھنا ہمارا اور بات بات پر ٹوکنا اچھا لگنے لگا۔۔لیکن پھر وہ بھی چلے گئے۔۔۔ایک مہینے بعد دوبارہ ان کو دیکھا تو پھر سے امید کی ایک کرن جاگی۔۔کہ ہو سکتا ہے اللہ ہمیں ملانا چاہتے ہیں۔۔اسی لیے دوبارہ ملا دیا ان سے۔۔۔
آپ جھوٹ بولتے ہیں۔۔میجر اذنان۔۔آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ چکے ہیں ہم۔۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں۔۔ہمیں پتہ نہی چلا۔۔۔ہمیں سب پتہ ہے۔۔آپ بھی ہم سے محبت کرنے لگ گئے ہیں۔۔لیکن کہنے سے ڈرتے ہیں۔۔۔
تو ٹھیک ہے۔۔ہم اب آپ کے سامنے نہی آئیں گے۔۔دیکھتے ہیں۔۔کب تک آپ ہمیں اگنور کرتے ہیں۔۔۔۔آنسو صاف کرتے ہوئے زویا باہر جانے کے لیے اٹھی ہی تھی۔۔کہ کسی نے اسے بازو سے کھینچ کر دیوار سے لگا دیا۔۔۔
آئی ایم سوری۔۔۔زویا کے کان میں ایک آواز پڑی۔۔اس کے بعد اس نے زویا کا بازو چھوڑ دیا۔۔۔زویا نے جلدی سے آگےبڑھ کر لائٹ آن کی تو لائبریری میں کوئی نہی تھا۔۔وہ جلدی سے وہاں سے باہر نکل گئی۔۔
باہر گئی تو علی اور رانیہ اسے ہی ڈھونڈتے ہوئے آ رہے تھے۔۔۔زویا جلدی سے ان کی طرف بڑھی۔۔۔تم لوگوں نے ابھی یہاں سے کسی کو گزرتے ہوئے دیکھا۔۔؟؟ زویا جلدی سے بولی۔۔
نہی ہم نے تو کسی کو نہی دیکھا۔۔۔علی نے جواب دیا۔۔۔رانیہ بولی جلدی چلو ایمن جا کر اسائمنٹ بھی بنانی ہے۔۔۔رانیہ نے کہا تو تینوں ہاسٹل کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ویسے ہوا کیا ہے۔۔تم لائبریری میں اکیلی کیا کر رہی تھی۔۔رانیہ بولی
کچھ نہی وہ مجھے ایک کتاب چاہیے تھی اسی لیے۔۔گئی تھی لائبریری۔۔۔
اچھا۔۔۔رانیہ نے جواب دیا۔۔
اگلے دن روحان کالج نہی آیا تھا۔۔۔تو موقع ملتے ہی ایمن نہیا کے پاس بیٹھ گئی۔۔کیسی ہو نیہا۔۔۔آج تم اکیلی آئی ہو۔۔۔تمہارے دونوں دوست کہاں ہیں۔۔۔
ہمم میں ٹھیک ہوں۔۔۔روحان کی تو طبیعت خراب ہے۔۔اسی لیے نہی آیا اور احد سے میری بات ہوئی تھی وہ کل سے آئے گا۔۔۔
ہممم آج تم اکیلی ہو تو آو ہمارے ساتھ بیٹھ جاو۔۔اکیلی کیا کرو گی ہمارے ساتھ بیٹھو۔۔ایمن نے نیہا سے کہا تو۔۔۔نیہا اٹھ کر ایمن کے ساتھ اس کی سیٹ پر بیٹھنے اس کے ساتھ چل پڑی۔۔
زویا کو نیہا میں کوئی انٹرسٹ نہی تھا وہ تو نیہا کے تھرو۔۔احد تک پہنچنا چاہتی تھی۔۔۔اسی لیے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔
رانیہ نے ایمن کو گھورا کہ اسے یہاں کیوں لائی ہو۔۔ایمن نے اسے چپ رہنے کا اشارہ دیا۔۔
اذنان کلاس میں آیا تو زویا اسے نظر نہی آئی۔۔۔اسے افسوس ہوا اپنی کل کی باتوں پر۔۔سر جھٹکتے ہوئے لیکچر دینے میں مصروف ہو گیا۔۔۔
زویا گارڈن میں آ کر بیٹھ چکی تھی۔۔طبیعت خراب کا بہانہ بناتے ہوئے۔۔۔وہ اب اذنان کے سامنے نہی آنا چاہتی تھی۔۔
اذنان کے کلاس سے باہر نکلنے کے کچھ دیر بعد ہی زویا کلاس میں واپس آ گئی۔۔۔اس کی نیہا سے دوستی ہو چکی تھی۔۔۔اب تو بس اسے کل کا انتظار تھا۔۔
