Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 11)
Rasam e Wafa by Khanzadi
زویا کو ایک اندھیرے کمرے میں لا کر بند کر دیا گیا۔۔۔جب زویا کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے ہاتھ پیر بندھے ہوئے محسوس کیے۔۔بولنے کی کوشش کی تبھی اسے محسوس ہوا کہ وہ بول بھی نہی سکے گی۔۔۔
اس کے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی تھی۔۔۔زویا نے بڑی مہارت سے اپنے ہاتھ میں موجود انگوٹھی کو دبایا تو ایک چھوٹا سا بلیڈ باہر نکلا۔۔زویا نے آہستہ آہستہ رسی کاٹنی شروع کر دی۔۔۔لیکن رسی بہت مظبوط تھی۔۔
اتنی آسانی سے نہی کٹنے والی تھی۔۔زویا پھر بھی کوشش کرتی رہی۔۔اسی وقت دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔۔اور کمرے میں روشنی پھیل گئی۔۔۔زویا نے اپنے ہاتھ روک دئیے۔۔۔
سامنے احد کھڑا تھا۔۔اسے دیکھ کر زویا کی آنکھیں غصے سے بھر گئی۔۔اسے دیکھتے ہی زویا نے منہ دوسری طرف کر لیا۔۔۔۔
احد مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔۔۔اور زویا کے منہ سے ٹیپ اتار دی۔۔ہائے سویٹ ہارٹ کیسی ہو۔۔۔کیسا لگ رہا ہے یہاں کوئی تکلیف تو نہی پہنچی یہاں تک پہنچنے میں۔۔زویا کی تھوڑی کو پکڑتے ہوئے اس کا منہ اپنی طرف کیا۔۔۔
زویا نے پھر سے رخ موڑ لیا۔۔اب احد کو غصہ آ گیا اس نے زویا کو جبڑے کو دباتے ہوئے اس کا منہ اپنی طرف کیا۔۔زویا بہت مشکل سے ضبط کرتے ہوئے بیٹھی تھی۔۔۔درد سے اس کی آنکھوں سےآنسو نکل رہے تھے۔۔
احد کی انگلیاں زویا کو اپنے چہرے پر پیوست ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔؟؟ احد غصیلی نظروں سے زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔اس کا ہاتھ ابھی بھی زویا کے منہ پر تھا۔
زویا کچھ نہی بولی۔۔۔
میں نے پوچھا کون ہو تم۔۔۔۔جواب دو مجھے۔۔۔۔احد پھر سے غصے میں چلایا۔۔
ایمن صفدر۔۔۔زویا نے جواب دیا۔۔۔احد کا ہاتھ اٹھا اور زویا کے چہرے پر سرخ نشان چھوڑ گیا۔۔۔زویا کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔زویا نے دل میں اذنان کو یاد کیا۔۔اذنان پلیز جلدی آ جائیں۔۔۔بچا لیں ہمیں اس بھیڑیئے سے۔۔۔یا اللہ اذنان کو ہم تک پہچنے کا راستہ دکھا۔۔دعا مانگ کر ضبط سے آنکھیں بند کر گئی۔۔
احد پھر سے زویا کی طرف بڑھا۔۔۔اسے بالوں سےپکڑتے ہوئے بولا۔۔۔میں نے نام نہی پوچھا۔۔پرفیشن پوچھا ہے۔۔جلدی بتاو کون ہو تم اور کیا مقصد ہے تمہارا یونیورسٹی میں آنے کا۔۔۔
اتنا تو مجھے پتہ ہے۔۔کہ تم کوئی عام لڑکی نہی ہو۔۔۔کوئی بھی عام لڑکی مردوں کے ساتھ اتنی بہادری اور مہارت سے مقابلہ نہی کر سکتی۔۔سب جان چکا ہوں میں۔۔۔اب جلدی سے منہ کھولو اپنا۔۔۔اور نام بتاو اپنے ادارے کا۔۔۔
زویا اس کی بات پر مسکرا دی۔۔۔اس کے بال ابھی بھی احد نے جھکڑے ہوئے تھے۔۔زویا کو مسکراتے دیکھ اس نے اس کے بال چھوڑ دیئے۔۔۔اور پیچھے ہٹا۔۔وہ حیران تھا۔۔کہ درد میں بھی مسکرا رہی تھی یہ۔۔۔
اگر ہم نہ بتائیں تو کیا کر لیں گے آپ۔۔۔ماریں گے ہمیں۔۔تو ماریں۔۔۔ہم موت سے نہی ڈرتے۔۔چھی چھی۔۔احد بٹ ایک لڑکی سے ڈر گیا۔۔۔زویا سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔ہمت ہے تو ہاتھ کھول کر سامنہ کریں ہمارا۔۔۔یا پھر ہمت نہی ہے آپ میں بس اتنی ہی مردانگی ہے۔۔۔
زویا کی بات پر احد طیش میں آ گیا۔۔۔اور لوہے کی سلاخ ہاتھ میں اٹھائے زویا کی طرف بڑھا۔۔۔زور سے زویا کے سر میں سلاخ مارنے کےلیے ہاتھ اوپر اٹھائے۔۔زویا اللہ کو یاد کرتے ہوئے آنکھیں بند کر گئی۔۔
ابھی احد نے زویا کو مارنے کے لیے ہاتھ اوپر اٹھائے ہی تھے۔۔کہ کسی نے بھاری بھرکم چیز سے اس کے سر پر وار کیا۔۔۔اور وہ وہی سر تھامتے ہی گر گیا۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔اور وہ ہوش کی دنیا سے بے خبر ہو گیا۔۔
زویا نے دیکھا تو سامنے ایک نقاب پوش کھڑا تھا۔۔زویا نے تیزی سے اپنے ہاتھوں کی رسی کاٹی اور اپنے پاوں کی رسیاں کھولتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
چلیں یہاں سے۔۔۔نقاب پوش نے زویا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ کون ہیں۔۔۔زویا جانچتی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔وہ نقاب پوش نظریں چرا گیا۔۔۔ابھی ان سب باتوں کا ٹائم نہی ہے۔۔جلدی چلیں یہاں سے۔۔۔وہ زویا کو بازو سے کھینچتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
اور دیوار پر چڑھ گیا۔۔۔اس نے زویا کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔لیکن اس سے پہلے ہی زویا۔۔بنا اس کے ہاتھ کی طرف دیکھے جلدی سے دیوار پر چڑ کر کود گئی۔۔۔
اور وہ نقاب پوش بھی مسکراتے ہوئے دیوار سے کود گیا۔۔اور دونوں بھاگنے لگ پڑے۔۔لیکن یہاں تو ہر طرف اندھیرا تھا۔۔اور بڑے بڑے درخت ہی درخت نظر آ رہے تھے۔۔۔زویا نے جلدی سے پاکٹ میں سے اپنا فون لگایا اور ایک درخت کی اوٹ میں چھپ کر اذنان کو فون لگایا۔۔
اذنان اور ارمان جو کہ زویا کو ٹریس کرنے میں لگے ہوئے تھے۔۔اذنان کو فون کی بیل بجی تو۔۔۔ان کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی۔۔۔اور ساتھ ہی مسکراتے ہوئے۔۔۔کال پِک کی۔۔۔۔
ہیلو میجر اذنان۔۔۔آپ کہاں ہیں۔۔۔جلدی اس لوکیشن پر پہنچے۔۔۔پولیس کے ساتھ۔۔۔
زویا کی آواز سنتے ہی اذنان کے رگ و جاں میں سکون سا پھیل گیا۔۔۔زویا آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟
جی میجر اذنان ہم بلکل ٹھیک ہے۔۔۔آپ ہماری فکر نہی کریں۔۔۔۔جلدی سے ہمارا فون لوکیٹ کریں۔۔اور لوکیشن پر پہنچیں۔۔۔
اوکے ہم جلدی پہنچتے ہیں۔۔ڈونٹ وری میجر زویا۔۔کہتے ہوئے اذنان نے جلدی سے فون بند کیا اور لوکیشن آن کر کے زویا کے فون کی لوکیشن چیک کرتے ہوئے۔۔۔فون ارمان کی طرف بڑھایا۔۔ارمان اس لوکیشن پر پہنچے آپ پولیس کو لے کر۔۔۔جلدی۔۔
ارمان لوکیشن کی پکچر لے کر فون اذنان کی طرف بڑھاتے ہوئے۔۔جلدی سے وہاں سے کیب کروا کر نکل پڑا۔۔اوراذنان ارمان کی گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے۔۔لوکیشن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
زویا نے فون بند کیا۔۔۔تو نقاب پوش کو اپنی طرف دیکھتے پایا۔۔۔کیا۔۔۔؟؟
اس کی طرف دیکھتے ہوئے کندھے اچکا دیئے۔۔
کچھ نہی۔۔۔نقاب پوش سر ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔کیا میں جان سکتا ہوں۔۔۔اور یہ میجر کون ہیں۔۔۔جن سے آپ بات کر رہی تھیں۔۔۔
ہمم وہ آپ کو بہت جلد پتہ چل جائے گا۔۔آپ یہ بتائیں۔۔۔آپ نے ہمیں کیوں بچایا۔۔۔کون ہیں آپ زرا یہ نقاب تو ہٹایئں۔۔زویا جانچتی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
کیا آپ واقعی ہی جاننا چاہتی ہیں میں کون ہوں۔۔۔۔؟؟
جی۔۔؟؟ زویا نے جواب دیا۔۔۔
نہی آپ مجھے دیکھ کر ڈر جائیں گی۔۔۔نقاب پوش مسکراتے ہوئے بولا۔۔
کیوں اتنے ڈراونے ہیں کیا آپ۔۔۔زویا مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔
نہی چہرہ تو بہت پیارا ہے میرا۔۔۔لیکن آپ کو اچھا نہی لگے گا میرا چہرہ۔۔۔ وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔۔
ایسا نہی ہو گا۔۔زویا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔
نقاب پوش نے چہرے سے نقاب ہٹایا۔۔تو زویا گرتے گرتے بچی۔۔۔
کیونکہ سامنے کوئی اور نہی روحان کھڑا تھا۔۔۔زویا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔روحان۔۔۔آپ یہاں۔۔۔
میرا مطلب کیسے۔۔۔
روحان زویا کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔جانتا تھا نہی پسند آئے گا۔۔میرا چہرہ آپ کو۔۔
نہی وہ بات نہی ہے۔۔روحان۔۔ہم نے آج تک آپ کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا۔۔۔پھر بھی آپ نے ہماری جان بچائی۔۔۔
نہی آپ کی جان میں نے نہی۔۔اللہ نے بچائی ہے۔۔۔اللہ نے مجھے وسیلہ بنا کر بھیجا ہے آپ کے لیے۔۔۔
میں تو آپ کو وارن کر چکا تھا۔۔لائبریری میں سمجھانے کی کوشش کی تھی میں نے کہ دور رہیں۔۔اس احد سے یہ اچھا لڑکا نہی ہے۔۔۔لیکن پھر بھی آپ نے میری ایک نہی سنی۔۔۔
اوہ۔۔۔تو لائبریری میں آپ تھے۔۔۔؟؟ زویا حیرانگی سے بولی۔۔۔
جی اگر سامنے آ کر آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتا تو آپ نے میری بات سننی ہی نہی تھی۔۔۔اسی لیے وہ سب کرنا پڑا۔۔مجھے۔۔۔
اور اس دن سوری۔۔وہ بھی آپ ہی تھے لائبریری میں۔۔۔؟؟
جی۔۔۔اس دن سب کے سامنے آپ کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔میری وجہ سے آپ کی انسلٹ ہوئی۔۔۔کچھ دیر بعد آپ کو روتے ہوئے لائبریری کی طرف جاتے دیکھا تو۔۔مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔اسی لیے معافی مانگنے کے لیے آ گیا۔۔آپ کے پیچھے پیچھے لائبریری میں۔۔۔
زویا حیران تھی۔۔۔روحان کے انکشافات پر۔۔۔اوہ آئی ایم ایکسٹریملی سوری۔۔۔جو کچھ ہوا ہم وہ سب کرنا نہی چاہتی تھی۔۔ہمیں غصہ آ گیا تھا۔۔اسی لیے تھپڑ مار دیا۔۔جانتی ہوں دل کے برے نہی ہو آپ۔۔۔
لیکن احد کے دوست تھے آپ یہی وجہ تھی آپ سے دوستی نہ کرنے کی۔۔۔زویا شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔
نو نو اٹس اوکے۔۔۔ویسے احد میرا دوست تھا۔۔لیکن جب سے یونیورسٹی میں دو لڑکیاں غائب ہوئی تب سے یہ میرا دشمن ہے۔۔۔میں بہت دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تاکہ ان لڑکیوں کا کچھ پتہ چل سکے۔۔
لیکن کچھ پتہ نہی چل سکا پھر جب میں نے نوٹ کیا کہ احد آپ میں انٹرسٹڈ ہے تو میں سمجھ گیا کہ یہ پھر سے کوئی کاروائی کرنے والا ہے۔۔اسی لیے آج جب اس کے ساتھ گاڑی میں جاتے دیکھا تو میں سمجھ گیا۔۔کہ کچھ ہونے والا ہے۔۔
جب آپ ان نقاب پوشوں کے ساتھ فائٹ کر رہی تھیں۔۔تب ہی میں وہاں وین کے پیچھے سے آیا۔۔اور وین کے ڈرائیور کو بے حوش کر کے وین سے باہر نکال کر درخت کے پیچھے چھپا دیا۔۔
اور اس کا نقاب اتار کر اپنے چہرے پر پہن کر جلدی سے وین میں بیٹھ گیا۔۔۔اور آپ کو بے ہوش کر کے۔۔وین میں ڈال کر مجھے وین سٹارٹ کرنے کا اشارہ کیا گیا۔۔۔اور ایک آدمی میرے ساتھ بیٹھ کر راستہ سمجھاتا رہا مجھے۔۔۔
اسی طرح میں یہاں تک پہنچا۔۔۔احد کو آپ کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا۔۔۔تو چھپتے چھپاتے اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گیا۔۔باقی سب تو آپ جانتی ہیں۔۔
زویا حیران تھی۔۔۔روحان کی بہادری پر۔ویل ڈن۔۔۔روحان۔۔۔آپ نے بہت ہیلپ کی ہماری۔۔تھینکس۔۔میجر زویا از ہیئر۔۔۔۔زویا نے ہاتھ روحان کی طرف بڑھایا۔۔۔
ہمم فرینڈز۔۔۔؟؟ روحان زویا کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔۔
فرینڈز۔۔زویا مسکراتے ہوئے بول۔۔۔اور اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔روحان بہت خوش تھا۔۔۔فائنلی اس کی دوستی ہو ہی گئی۔۔ایمن سے۔۔نننہہی۔۔۔میجر زویا سے۔۔
جب تک میجر اذنان اور میجر ارمان یہاں نہی پہنچ جاتے ہمیں نظر رکھنی ہو گی۔۔اس گھر پر کہی بھاگ نہ جائے احد۔۔۔
ارمان۔۔۔؟؟ روحان زویا کی بات پر حیران ہوا۔۔۔؟؟؟
جی آپ کے بھائی ارمان ہی ہیں۔۔میجر ارمان۔۔اور سر ارحم میجر اذنان۔۔۔زویا نے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔
روحان بھی مسکرا دیا۔۔۔اسے فخر ہوا آج اپنے بھائی پر۔۔اور اپنے رویوں پر شرمندگی محسوس ہوئی۔۔۔
