Rasam e Wafa by Khanzadi NovelR50489 Rasam e Wafa (Episode 01)
No Download Link
Rate this Novel
Rasam e Wafa (Episode 01)
Rasam e Wafa by Khanzadi
میجر اذنان۔۔۔۔۔میجر اظہر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔
میجر اذنان اٹھ کھڑے ہوئے۔
جلدی سے مجھ سے ملو۔۔۔میرے کمرے میں۔۔۔میجر اظہر کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔۔۔
اور میجر اذنان ان کے پچھے ان کے کمرے میں چلے گئے۔۔۔
مجھے ایک ضروری مشن پر بھیجنا ہے آپکو میجر اذنان کیا آپ تیار ہیں۔۔میجر اظہر نے میجر اذنان کو بیٹھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا۔۔
جیسے آپکا حکم میرا تو یہی کام ہے۔۔میجر اذنان نے سر خم کرتے ہوئے کہا۔۔
ویل ڈن مجھے آپ سے یہی امید تھی۔۔لیکن اس مشن میں آپ اکیلے نہی ہو گے۔۔آپ کےساتھ مس زویا بھی ہو گی۔۔۔میجر اظہر بولے۔۔
سر مجھے نہی لگتا کہ مجھے اپنے کسی مشن کو پورا کرنا کے لیے کسی عورت کا سہارا لینا پڑے گا۔۔میں اکیلا ہی یہ کام سر انجام دے سکتا ہوں۔۔۔
ہممم مجھے لگتا تھا کہ یہ فیصلہ آپ کو قبول نہی ہو گا۔۔۔لیکن اس مشن میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔۔اس کے بغیر یہ مشن کامیاب نہی ہو سکتا۔۔۔
لیکن سر آپکو تو پتہ ہے نہ۔۔۔؟
ہاں ہاں مجھے پتہ ہے۔۔آپ بہت ہی اکڑو کڑواہٹ سے بھرے اور لڑکیوں سے بہت نفرت کرنے والے مرد ہیں۔۔۔ میجر اظہر میجر اذنان کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔۔
آپ کو الرجی ہے عورت کے نام سے ہی۔۔سب جانتا ہوں۔۔لیکن ایسا کیوں ہے۔۔آخر کیا بات ہے جو عورت ذات سے اتنی نفرت ہے آپکو۔۔۔
سر کیونکہ عورت ذات اس قابل ہی نہی کہ اس پر بھروسہ کیا جا سکے۔۔۔میجر اذنان نےدرد بھرے لہجے میں جواب دیا۔۔۔
آپ کا ساتھ جو بھی میں نہی جانا چاہتا۔۔۔بہر حال جو بھی ہو۔۔۔آپ ایک مسلمان اور پاکستانی ہیں۔۔ہر عورت کی عزت کرنا آپ کا فرض ہے۔۔میجر اظہر آہستہ آواز میں بولے۔۔۔
جی سر میں اپنے فرض سے کبھی غفلت نہی کرتا۔۔۔لیکن بہتر یہی ہو گا کہ آپ مس زویا کو اس مشن سے اور مجھ سے دور ہی رکھیں۔۔۔
لڑکیوں کے بس کی بات نہی ہوتی اتنے خطرناک مشن کو حل کرنا۔۔میجر اذنان بولے۔۔
میجر اذنان کی اس بات پر میجر اظہر مسکرا دیے۔
۔لگتا ہے آپ ابھی مس زویا کے بارے میں جانتے نہی تب ہی ایسا بول رہے ہیں۔۔۔۔ایک بار ان سے مل لیں۔۔
آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا ان کی بہادری کا۔۔
ابھی وہ دونوں بات ہی کر رہے تھے کہ ایک نسوانی آواز میجر اذنان کے کانوں میں پڑی۔۔
مےآئی کم ان سر۔۔۔۔۔
تبھی میجر اذنان نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
ییس میجر اظہر بولے۔۔ویلکم مس زویا ان سے ملیے۔۔یہ ہیں میجر اذنان۔۔۔
اسلام و علیکم۔۔۔۔زویا نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔مائی سیلف زویا خان۔۔۔
میجر اذنان کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ہاتھ تھامنا پڑا۔۔وعلیکم اسلام۔۔اینڈ مائی سیلف میجر اذنان۔۔۔روب دار آواز میں بول کر اپنا ہاتھ جلدی سے کھینچ لیا۔۔
تو مسز زویا یہی ہیں وہ جن کے ساتھ آپ کومشن پر جانا ہے۔۔۔میجر اظہر بولے۔۔آپ ریڈی ہیں۔۔۔آج ہی نکلنا ہے۔۔آپ لوگوں کو اپنے مشن کے لیے دبئی۔۔۔
ٹارگٹ آپ کو ائیرپورٹ پر ہی مل جائے گا۔۔
جی سر ہم تیار ہیں۔۔۔زویا نے جوش کے ساتھ جواب دیا۔۔
اور آپ۔۔۔؟؟ میجر اظہر کا رخ میجر اذنان کی طرف تھا۔۔
ییس سر کہتے ہوئے میجر اذنان اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
اوکے۔۔ویل ڈن۔۔اللہ پاک آپ دونوں کو اس مشن میں کامیاب کرے۔۔۔آمین۔۔اپنا اپنا ضروری سامان لیں۔۔۔اور روانہ ہو آپ دونوں۔۔میجر اظہر بولے۔۔
جی سر۔۔۔ایک ساتھ کہتے ہوئے۔۔دونوں باہر نکل کر اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔
چند منٹس بعد دونوں اپنا اپنا بیگ اٹھائے کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔اور ایک ساتھ بولے ووئی آر ریڈی سر۔۔۔
ہمم اوکے خدا حافظ۔۔میجر اظہر نے کہا تو دونوں جی سر کہتے ہوئے ائیرپورٹ کی طرف چل پڑے۔۔۔۔
ائیرپورٹ میں داخل ہوتے ہی زویا نے اذنان کے بازو میں ہاتھ ڈال دیا۔۔اذنان حیران ہو گیا۔۔اس کی اس حرکت پر۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔دور ہٹیے ہم سے اذنان غصے سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کی۔۔لیکن زویا کی گرفت مظبوط تھی۔۔
ہمیں بھی کوئی شوق نہی آپ کے قریب آنے کی۔۔۔ہم تو بس اپنا کام کر رہے ہیں۔۔۔زویا نہ چاہتے ہوئے بھی مسکراتے ہوئے آہستہ سے بولی۔۔
اور اذنان کو آنکھوں کی اشارے سے سامنے دیکھنے کو کہا۔۔۔
کیا۔۔۔اذنان کو اس کا اشارہ سمجھ نہی آیا۔۔۔جب اس نے سامنے دیکھا تو اس کی سمجھ میں آ گیا کہ زویا نے کیوں کیا ایسا۔۔۔
تو اذنان چلتے ہوئے ویٹنگ ایریاں میں بیٹھ گیا۔۔زویا نے ابھی بھی زوار کا بازو تھام رکھا تھا۔۔۔
اب چھوڑ دیں ہمارا بازو۔۔اذنان نے بیٹھتے ہوئے کہا تو زویا نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔۔
فلائیٹ کا اعلان ہوا تو دونوں اٹھ کھڑے ہوئے اور جہاز میں جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔۔۔
زویا کا یہ پہلا ہوائی سفر تھا۔۔وہ ڈر رہی تھی لیکن اذنان کے سامنے خود کو بہادر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔پلین نے اڑان بھری تو زویا نے اذنان کے بازو کو زور سے پکڑ لیا۔۔اور سر اس کے بازو میں چھپا گئی۔۔۔
اذنان حیران تھا۔۔اس لڑکی کی حرکتوں پر کیا چیز ہےیہ۔۔تھوڑی دیر گزری تو زویا نے خود کو کمپوز کیا۔۔۔آئی ایم سوری ایکچولی ہماری یہ پہلی فلائٹ ہے۔۔۔تو ہم تھوڑا ڈر گئی تھیں۔۔
اٹس اوکے اذنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔لڑکیوں کے بس کی بات نہی ہے آرمی۔۔میں نے کہا تھا سر سے کہ مجھے کسی لڑکی کے سہارے کی ضرورت نہی ہے۔۔آپ خود کو تو سنبھال نہی سکتی مشن میں کیا لڑیں گی۔۔زویا کی طرف جھکتے ہوئے آہستہ سے بولا۔۔
کیا کہا آپ نے ہم لڑکیوں کے بس کی بات نہی آرمی زویا آنکھیں سکیڑتے ہوئے بولی۔۔۔ابھی آپ ہمیں جانتے نہی ہیں۔۔میجر اذنان تبھی ایسا بولنے کی ہمت کی ہے آپ نے۔۔
آپ جانتے ہی کیا ہیں ہمارے بارے میں۔۔۔
میں جاننا چاہتا بھی نہی زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہی آپ کو مجھ سے اپنے کام سے کام رکھیں۔۔۔سمجھی آپ۔۔۔اذنان سیریس ہوتے ہوئے بول کر اپنی سیٹ پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گیا۔۔۔
اور زویا غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔۔اس بات کا جواب بہت جلد مل جائے گا آپ کو میجر اذنان۔۔۔دل میں کہتے ہوئے وہ بھی آنکھیں موند گئی۔۔صبح کے چار بجے تھے۔اور ان دونوں کو اٹھا دیا گیا تھا ارجنٹ مشن کے لیے۔۔۔
اسی لیے دونوں سو گئے۔۔۔کچھ دیر بعد زویا کی آنکھ کھلی تو پلین لینڈنگ کےلیے اناونسمٹ ہو رہی تھی۔۔۔
اذنان ابھی تک سو رہا تھا۔۔۔کتنی معصومیت ہے اس کے چہرے پر ایسے سوئے ہوئے۔۔۔کڑوا کریلا۔۔
کچھ کہا کیا۔۔۔اذنان آنکھیں کھولتے ہوئے بولا۔۔
زویا اس کے آنکھیں کھولنے پر ایک دم سٹپٹا گئی۔۔۔نہہی کچھ نہی بولا ہم نے وہ پلین لینڈ ہونے والا ہے اٹھ جائیں۔۔۔
یہ کیا اپنے آپ کو ہم ہم کہ رہی ہیں۔۔۔۔اذنان چڑتے ہوئے بولا۔۔
ہماری مرضی۔۔۔آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔۔ہمارے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کریں۔۔زویا نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔۔
اور اذنان حیران رہ گیا اس کے جواب پر۔۔اوکے جیسے آپکی مرضی۔۔کندھے اچکا کر کہتے ہوئے پھر سے آنکھیں موند گیا۔۔۔
پلین لینڈ ہوا تو دونوں ائیرپورٹ کی طرف چل پڑے۔۔۔
وہ اپنے ٹارگٹ کے ساتھ ساتھ ہی چل رہے تھے۔۔اذنان نے اپنا فون نکال کر کسی کا نمبر ڈائیل کیا۔۔۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے ہماری بکنگ تھی پہلے سے آپ ہمارے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔اب اتنے بڑے شہر میں میں کہاں جاو اپنی وائیف کو لے کر۔۔میں کچھ نہی جانتا آپ ایک دو گھنٹوں میں ہمارے لیے فلیٹ کا انتظام کریں۔۔
کیا دو تین دن لگ جائیں گے۔۔تب تک ہم کہاں جائیں۔۔اس اجنبی شہر میں۔۔غصے سے اذنان نے فون بند کر دیا۔۔۔
ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا کہ ایک نوجوان ان کے پاس آیا۔۔ایکسکیوزمی سر۔۔۔
جی۔۔اذنان نے پلٹتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔
آپ کو رہنے کے لیے جگہ چاہیے۔۔۔ڈونٹ وری آپ میرے ساتھ چلیں۔۔میرا فلیٹ بہت بڑا ہے۔۔میں اکیلا رہتا ہوں۔۔جب تک آپ کے رہنے کا انتظام نہی ہو جاتا آپ میرے ساتھ رہ لیں۔۔۔
اوہ نہی نہی آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔۔ہم مینج کر لیں گے۔۔۔اذنان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔
ارے سر یہ پاکستان نہی ہے دبئی ہے۔۔یہاں مینج نہی کر سکیں گے۔۔۔میں بھی پاکستانی ہوں۔۔۔ابھی ابھی پاکستان سے ہی آیا ہوں اسی فلائٹ میں جس میں آپ آئے ہیں۔۔مجھے اپنا بھائی ہی سمجھیں۔۔۔
کیوں بھابی جی میں نے ٹھیک کہا نہ۔۔۔اب وہ زویا کی طرف مڑا۔۔زویا نے مسکرا کر اذنان کی طرف دیکھا۔۔۔یہ ٹھیک ہی تو کہ رہے ہیں۔۔۔ایک دو دن تک رک جاتیں ہیں ان کے ساتھ زویا نے کہا تو اذنان نے ایک گھوری سے اسے نوازا۔۔
اور زویا کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔اسے اس لڑکے کا زویا کو دیکھنا نہ جانے کیوں اچھا نہی لگا۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔چلیں۔۔۔کہتے ہوئے زویا کی طرف مڑا۔۔
اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
زویا حیران ہوئی کہ کچھ دیر پہلے تو ہمیں خود سے دور کر رہے تھے۔۔اور اب خود ہی ہمارے پاس آ رہے ہیں۔۔۔۔
فلیٹ میں پہنچ کر اس لڑکے نے ان کو ایک روم میں چھوڑ دیا۔۔سر یہ آپ کا روم۔۔کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دیجئیے گا۔۔
اوہ میں آپ کو اپنا نام تو بتانا بھول ہی گیا۔۔۔مائی سیلف ذیشان۔۔۔وہ بات تو اذنان سے کر رہا تھا لیکن دیکھ زویا کی طرف رہا تھا۔۔
اذنان اس کی نظروں کا زاویہ دیکھ چکا تھا۔۔مٹھیاں بھینچ کر رہ۔گیا لیکن بولا کچھ نہی۔۔۔
آپ چلیں میں آتا ہوں۔۔۔اذنان نے زویا کی طرف دیکھ کر کہا تو وہ کمرے کے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔
مائی سیلف احمد۔۔۔اذنان نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔
ہممم نائس نیم زیشان اذنان کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔اوکے آپ آرام کریں۔۔کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیجئے گا۔۔
اوکے کہتے ہوئے اذنان کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔سامنے صوفے پر بیٹھی زویا کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا۔۔۔بازو سے کھینچ کر زویا کو اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔
زویا تیار نہی تھی اس آفت کے لیے لڑکھڑاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔
یہ مردانہ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں آپ نے دیکھا نہی وہ کیسے گھور رہا تھا آپ کو۔۔۔اذنان غصے سے بولا۔۔
کبھی آپ کو مجھ سے پرابلم ہوتی ہے۔۔۔کبھی میرے کپڑوں سے آخر آپ چاہتے کیا ہیں۔۔۔اگر اسی طرح چلتا رہا نہ تو میں آپ کے ساتھ کام نہی کر سکوں گی۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔میں سر سے بات کرتی ہوں ابھی۔۔
کہتے ہوئے زویا آگے کو بڑھی۔۔۔اذنان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اذنان کے سینے سے ٹکرا گئی۔۔جب میں بات کر رہا ہوں۔۔تو دوبارہ ایسے میری بات درمیان میں چھوڑ کر جانے کی ہمت نہی کرنا۔۔۔سرخ آنکھوں کے ساتھ وہ زویا کو گھورتے ہوئے بولا۔۔
ابھی کے ابھی میرے ساتھ چلیں آپ کو کچھ کپڑے لے کر دیتا ہوں۔۔۔کہتے ہوئے اس نے زویا کو چھوڑ دیا۔۔
کیوں پہنوں میں آپکی مرضی کے کپڑے آپ ہوتے کون ہیں۔۔مجھ پر حکم چلانے والے۔۔۔زویا بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔۔
اذنان واپس مڑا۔۔۔میں آپ کا کچھ نہی لگتا۔۔۔لیکن آپ جب تک میرے ساتھ ہو۔میری زمہ داری ہو آپ۔۔اس لیے چپ چاپ جیسا میں کہوں ویسا کریں۔۔میں آپ کا سینیئر ہوں۔۔میری بات ماننا آپ کا فرض ہے۔۔۔
اب چلیں میرے ساتھ۔۔۔زویا کو بازو سے پکڑتے ہوئے کیب کروا کر شاپنگ مال میں لے گیا۔۔۔
زویا اس دوران کچھ نہی بولی اس کا ایسے مرد سے پہلی بار سامنہ ہوا جس نے اس کے کپڑوں کے بارے میں تنقید کی تھی۔۔ورنہ آج سے پہلے تو کسی نے ایسا نہی کہا تھا اسے۔۔۔
اذنان نے اس کے لیے۔۔۔کچھ ڈھیلے ڈھالے ٹاپس اور جینز خریدیں۔۔اور دو تین سکارف بھی۔۔
اذنان نے اسے ایک ڈریس تھمایا اور چینج کرنے کو کہا۔۔زویا چپ چاپ چینج کرنے چلی گئی۔۔
باہر آئی تو پہلی بار خود کو لیڈیز کپڑوں میں دیکھ کر مسکرادی۔۔اور سکارف گلے میں ڈالے باہر آ گئی۔وہ تو لیڈیز کپڑے پہننا پسند ہی نہی کرتی تھی۔۔ہمیشہ پینٹ شرٹس ہی پہنتی تھی۔۔اور اسے کوئی روکنا والا بھی تو نہی تھا۔۔جو اسے اچھے برے کی تمیز سکھاتا۔۔
میٹرک میں تھی جب باپ کا انتقال ہو گیا۔۔۔ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔۔باپ کی دیتھ کے بعد اس کے تایا ان دونوں کو اپنے گھر لے گئے۔۔۔اور زویا کا نکاح اپنے بیٹے سے کروا دیا۔۔۔
لیکن اس کی تائی کو یہ فیصلہ منظور نہی تھا۔۔کچھ ہی مہینوں بعد تایا جی بھی اللہ کو پیارے ہو گئے ایک بار پھر سے زویا یتیم ہو گئی۔۔۔
زویا کے جس کزن سے اس کا نکاح ہوا تھا۔۔اس سے کبھی ملی نہی تھی وہ اور نہ۔ہی وہ کبھی زویا سے ملا تھا۔۔وہ لوگ الگ الگ پورشن میں رہتے تھے۔۔ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے دونوں ایک دوسرے سے انجان تھے۔۔
تایا جی کا انتقال ہوا تو تائی نے طلاق نامہ زویا کے ہاتھ میں پکڑایا اور دھکے دے کر ان دونوں کو گھر سے باہر نکال دیا۔۔
وہ دونوں دوبارہ اپنے گھر واپس آ گئی۔۔۔زویا ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔۔لیکن حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ اس کے لیے اب میٹرک کرنا بھی مشکل ہو گیا۔۔
واپس گھر آ کر ایک گورنمنٹ سکول میں ایڈمشن کروالیا۔۔اور میٹرک کا امتحان پاس کیا۔۔زویا کہ ٹیچر بہت اچھے تھے۔۔۔انہوں نے زویا کو آگے پڑھنے کو کہا لیکن زویا نے منع کر دیا۔
کچھ مہینوں بعد ماما بھی اللہ کو پیاری ہو گئی۔۔۔اور زویا اس دنیا میں اکیلی رہ گئی۔۔۔ساری رات رو کر گزرتی۔۔۔
آخر کار خود کو مصروف کرنے کے لیے ایک سکول میں ٹیچنگ سٹارٹ کر دی۔۔۔
تبھی ایک دن سکول میں آرمی سروے ہوا۔۔۔اور ایک بچہ سیڑھیوں میں سے گرنے ہی والا تھا کہ زویا پھرتی سے اگے بڑھتے ہوئے اس بچے کو تھام لیا۔۔اور گرنے سے بچا لیا۔۔۔
بچے کو بچانے پر سب نے زویا کا شکریہ ادا کیا۔۔۔لیکن دور کھڑے میجر اظہر کی نظر پر ہی ٹک گئی۔۔جب سب لوگ ادھر اُدھر مصروف ہو گئے تو وہ زویا کہ پاس آئے آپ تو بہت بہادر ہیں بیٹا۔۔
میں آپ کے پیرنٹس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔اس وقت زویا کی ایج سترہ سال تھی۔۔
ان کے سوال پر زویا سر جھکا گئی۔۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا۔۔۔میجر اظہر پریشان ہو گئے۔۔۔زویا سر جھکائے رو رہی تھی۔
سر میرے پیرنٹس نہی ہیں۔۔۔ان کی دیتھ ہو چکی ہے۔۔۔
اوہ آئی ایم سوری بیٹا۔۔مجھے بہت دکھ ہوا سن کر۔۔مجھے نہی پتہ تھا۔۔سوری میری وجہ سے آپ دکھی ہوئی۔۔۔۔
نو سر اٹس اوکے۔۔۔زویا آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔
تو بیٹا آپ کس کے ساتھ رہتی ہیں۔۔۔کوئی اور رشتہ دار تو ہو گے آپ کے۔۔۔؟؟
نہی سر میرے کوئی رشتہ دار نہی ہیں۔۔۔۔زویا نے جواب دیا۔۔اور میں اکیلی رہتی ہوں اپنے گھر میں میرا پاپا کی پینشن آتی ہے۔۔۔وہ آرمی میں تھے۔۔شہید ہو گئے تھے۔۔
اچھا کیا نام تھا آپ کے پاپا کا۔۔۔میجر اظہر نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔۔؟؟
میجر سفیان خان۔۔۔زویا نے جواب دیا تو وہ حیرت میں ڈوبتے چلے گئے۔۔۔آپ میرے دوست سفیان خان کی بیٹی ہو۔۔۔زویا۔۔ان کی آنکھیں نم ہو گئی۔۔
جی سر آپ میرے پاپا کو جانتے ہیں۔۔۔زویا بے تابی سے بولی۔۔
جی بیٹا آپ کے پاپا اور میں بچپن کے دوست تھے۔۔کاش اس دن میں اپنے دوست کے ساتھ ہوتا تو شاید آج میرا دوست زندہ ہوتا۔۔۔وہ اپنے پرانے خیالات میں کھو چکے تھے۔
خیر چھوڑو بیٹا آپ پرہشان نہ ہو آج سے آپ مجھے اپنے پاپا کی طرح سمجھ سکتی ہو۔۔
آرمی جوائن کرنا چاہو گی آپ۔۔۔؟؟؟
لیکن سر میں نے تو سنا ہے۔۔آرمی لڑکیوں کےبس کی بات نہی بہت ٹف ٹریننگ ہوتی ہے۔۔زویا نہ سمجھی کے عالم میں بولی۔۔۔
زویا کی اس بات پر میجر اظہر مسکرا دیے۔۔بیٹا کچھ بھی مشکل نہی ہوتا اگر ارادے مظبوط ہو تو۔۔کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔۔۔
میری خواہش تھی کہ اگر میرا بیٹا یا بیٹی ہوتی تو اسے آرمی جوائن کرواتا۔۔لیکن اللہ کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔آج تک میری گود خالی تھی۔۔لیکن آج اللہ نے میری گود بھر دی ہے۔۔۔مجھے آپ سے ملا کر۔۔
آج سے آپ میری بیٹی بھی ہو اور بیٹا بھی بس اب آپ اپنا سامان پیک کرو آپ میرے ساتھ میرے گھر چل رہی ہو۔۔۔آپ کے اپنے گھر۔۔۔
میرے دوست کے جگر کا ٹکرا ہو آپ۔۔۔اور میرا دوست میرے جگر کا ٹکرا تھا۔۔۔اسی لیے آج سے آپ میری بیٹی ہو۔۔۔
زویا ان کا اپنے لیے اور اپنے بابا کے لیے پیار دیکھ کر رو پڑی۔۔لیکن انکل۔۔۔میرے بابا کا گھر کو کیسے چھوڑ کر جا سکتی ہوں میں۔۔۔
نہی انکل نہی ڈیڈی بولنا اب سے میں آپ کا پاپا ہوں۔۔وہ گھر آپ کے بابا کا ہے اور آپکا ہی رہے گا ۔آپ کس میرے ساتھ چلنا ہی ہو گا۔میں آپ کو اکیلا نہہ چھوڑ سکتا۔۔۔
۔اب چلیں۔۔۔انہوں نے کہا تو زویا نے سر ہلا دیا۔۔اور وہ زویا کو ساتھ لیے اس کے گھر آ گئے۔۔
کچھ ضروری سامان لیا اور گھر کو تالا لگا کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔۔
میجر اظہر کی بیوی زویا سے مل کر بہت خوش ہوئی ان کی خالی گود آج بھر گئی تھی۔۔انہوں نے زویا کو اپنا لیا تھا۔۔
وہ لوگ زویا کو بلکل ایک شہزادی کی طرح پیار کرتے تھے۔۔اسی وجہ سے زویا اپنے آپ کو ہم کہ کر بات کرتی تھی۔۔۔
انہوں نے کبھی زویا کو کسی بات سے روک ٹوک نہی کی تھی۔۔میجر اظہر نے زویا کو آرمی جوائن کروا دی۔۔اور اس طرح زویا آرمی کا حصہ بن گئی۔۔زویا خود کو لڑکا ہی سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔میجر اظہر اسے ہمیشہ بیٹا کہ کر بلاتے تھے۔۔۔وہ کہتے تھے کہ آپ میرے بہادر بیٹے ہو۔۔۔زویا بچپن سے ہی ایسی ڈریسنگ کرتی تھی۔۔آج تک کسی نے روکا ہی نہی تھا اس کو۔۔
اسی طرح چار سال بیت چکے تھے۔۔۔
زویا اپنی ٹریننگ مکمل کر چکی تھی۔۔۔اور بہت سے مشن مکمل کر چکی تھی۔اور ہر مشن میں کامیابی حاصل کرتی تھی۔ لیکن ملک سے باہر جانے کا یہ اس کا پہلا ایکسپیرینس تھا۔۔
زویا کو باہر آتے دیکھ کر میجر اذنان آگے بڑھے۔۔۔یہ سکارف گلے میں ڈالنے کے لیے نہی ہے۔۔۔
تو۔۔۔۔زویا نا سمجھی کے عالم میں بولی۔۔۔
اذنان نے آگے بڑھ کر سکارف زویا کے سر پر لپیٹ دیا۔۔ایسے استعمال کرتے ہیں اس کو۔۔آئندہ آپ کے سر کے بال نظر نہ آئیں مجھے۔۔۔
ہم آپ کی بیوی نہی ہیں میجر اذنان مائینڈ اٹ۔۔۔جو آپ کی ہر بات مانیں گی۔۔ہمیں عادت نہی ہے۔۔ایسے سر پر کپڑا باندھنے کی۔۔۔زویا نے سکارف کھول کر گلے میں ڈال لیا۔۔اور رہی بات ہماری زمہ داری کی تو ہم اپنی حفاظت خود کرنا جانتے ہیں۔۔۔
اذنان زویا کی اس بات پر تھوڑا شرمندہ سا ہوا۔۔آئی ایم سوری۔۔میں جانتا ہوں آپ اپنی حفاظت کر سکتی ہیں۔۔میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی۔۔
پوزیسو ہو گیا تھا۔۔۔اوکے جیسے آپ کو اچھا لگے سکارف پہنیں۔۔لیکن جب تک آپ میرے ساتھ ہیں۔۔ڈریسنگ یہی کریں گی۔۔اس کے بعد آپ اپنے راستے اور میں اپنے راستے۔۔
اب کچھ کھالیں آپ پھر واپس چلتے ہیں۔۔اور اپنے مشن پر دھیان دیتے ہیں۔۔۔اذنان نے سیریس ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
اذنان نے کہا تو زویا سر جھٹکتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑی۔۔کھانا کھا کر وہ دونوں فلیٹ کی طرف چل پڑے۔۔
