Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode

331K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode

وہ تڑپ رہا تھا وہاں دروازے میں دوزانوں بیٹھا… خالی خالی نگاہوں سے سونا کے بے جان ہوتے وجود جو دیکھتا ہوا…. غائب دماغی سے… ریحان جو کہ اس کے پیچھے ہی اپنے گھر سے نکلا تھا… اس کی گاڑی کو راستے میں دیکھ کر مزید پریشان ہو اٹھا… گاڑی کا تو برا حال ہو چکا تھا… لیکن شاہ وہاں نہیں تھا… ریحان نے وہاں کھڑے لوگوں سے پوچھا تھا اس کے بارے میں تو اسے بتایا گیا کہ وہ گاڑی سے نکل کر چلا گیا تھا… زخمی حالت میں ہی… ریحان سیدھا اس کے گھر آیا… اور سونا کے روم کے دروازے پر شاہ کو ٹوٹی بکھری حالت میں دیکھ کر دنگ رہ گیا… “شاہ… کیا ہوا ہے…. کیوں رو رہے ہو ایسے…” اس نے شاہ کے کندھوں پر بازو پھیلا کر اس کا چہرہ تھپتھپایا…سونا پر نظر نہیں پڑی تھی ابھی… لیکن وہ اسے نہیں سن رہا تھا… “وہ… وہ چلی گئ… مم… مجھے چھوڑ کر… میں اس کا قاتل ہوں…میں نے…. میں نے مار دیا اسے…. ” وہ بڑبڑا رہا تھا… بے خود سا… “شاہ ہوش میں آؤ… ” ریحان نے اسے جھنجھوڑا… تبھی نظر سامنے فرش پر بہتے خون سے ہوتی ہوئ سونا کے بے سدھ وجود پر پڑی… “او مائ گاڈ…” وہ چکرا کر رہ گیا تھا… سچویشن کوسنبھالنا مشکل ہو گیا تھا….ملازم بھی نہیں تھے گھر… کہ دو دن پہلے شاہ سب ملازمین کو فارغ کر چکا تھا….سونا کے پاکستان چلے جانے کے بعد اس کا بھی یہاں رہنے کا ارادہ نہ تھا…اس لیے سب ملازمین جس چکے تھے…. اس نے بے بسی سے شاہ کو دیکھا…جو ہوش میں ہی نہ تھا…یک ٹک سامنے دیکھتا… دیوانہ ہی لگ رہا تھا… پھر تیزی سے سونا کی طرف آیا… سونا کے وجود کو ہلایا تھا…. جلدی سے اس کی نبض چیک کی… دھڑکن مدھم سی ہوتی جا رہی تھی… لیکن… وہ ابھی ذندہ تھی… “شاہ… کچھ نہیں ہوا ہے بھابھی کو…نبض چل رہی ہے… سنبھالو خود کو… اٹھو… ہاسپٹل لے کر چلیں انہیں… وقت نہیں ہے ہمارے پاس… ” شاہ اس کی بات پر چونکا تھا… چند لمحے لگے بات سمجھنے میں… جلدی سے سونا کے قریب آ کر اس کا بازو تھاما… واقعی… ابھی جان باقی تھی… اور اسے یوں لگا… جیسے کسی نے اس کے وجود میں بھی روح پھونک دی ہو… وہ سونا کو گود میں اٹھاۓ تیزی سے سیڑھیوں کی جانب لپکا .. ریحان بھی اس کے ساتھ ہی تھا .. ریحان کے گاڑی میں سونا کو پچھلی سیٹ پر لٹا کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے لگا جب ریحان نے اسے روکا… تم ڈرائیو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو… میں ڈرائیو کرتا ہوں… تم پیچھے بیٹھو بھابھی کے ساتھ…” شاہ تیزی سے پچلی سیٹ پر بیٹھا… یوں کہ سونا کا سر اس کی گود میں تھا…ریحان نے گاڑی نکالی… شاہ کی نظریں مسلسل سونا کے زرد ہوتے چہرے پر جمی تھیں… خون بہنے کی وجہ سے ہونٹ بھی زرد سے ہو گۓ تھے… بال بکھرے ہوۓ تھے… چہرے پر درد رقم تھا…. شاہ نے اس کا بایاں بازو دیکھا… کلائ پر لگے کٹ… وہ دوبارہ دیکھ نہیں پایا تھا اس کی کلائ کو… تبھی نظریں پھر اس کے چہرے پر جما دی تھیں… پہلی بار… پہلی بار وہ اسے اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا… پلکیں ابھی بھی نم لگ رہی تھیں… اس نے باہر نظر دوڑائ… آج لگ رہا تھا جیسے ہاسپٹل کا راستہ میلوں کا ہو گیا ہے.. جلدی کٹ ہی نہ رہا تھا…
ہاسپٹل پہنچ کر فورا اسے آئ سی یو میں لے جایا گیا تھا… خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا… اسے خون کی ضرورت تھی….اور بدقسمتی یہ تھی کہ بلڈ بینک سے مطلوبہ بلڈ گروپ کا خون نہیں مل پایا تھا… اور یہ اتفاق ہی تھا کہ… شاہ کا بکڈ گروپ بھی وہی تھا جو سونا کا تھا… ایک ہی خاندان سے تھے دونوں… تو خون بھی تو ایک ہی تھا نا… “ڈاکٹر… چاہے میرے جسم سے خون کی آخری بوند بھی نچوڑ لیں… لیکن وہ لڑکی بچنی چاہئیے… مجھے وہ زندہ چاہئے… ہر حال میں..” خون دینے سے پہلے اس نے کہا تھا ڈاکٹر سے… “شاہ… حوصلہ رکھو… کوشش کرنا ڈاکٹرز کے بس میں ہے… باقی سب تو اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے…. ” ریحان نے اسے تسلی دی تھی… وہ چپ چاپ آ کر کوریڈور میں بیٹھ گیا… ریحان خود بھی ڈاکٹرز کے ساتھ سونا کے پاس ہی تھا… دور کہیں مغرب کی اذان سنائ دے رہی تھی…. وہ پاک ذات اپنے بندوں کو بلا رہی تھی… اپنے حضور حاضری دینے کے لیے…. شاہ ٹرانس کی سی کیفیت میں اٹھا… اور ہاسپٹل سے نکل گیا… اس کا رخ مسجد کی طرف تھا… وضو کر کے نماز با جماعت ادا کی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئیے…. اب تک ہر چیز اسے بن مانگے ہی ملتی رہی تھی… کبھی مانگنے کی ضرورت ہی نہ پڑی… اللہ پاک کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئ تھی… لیکن آج.. آج وہ اپنی ذندگی کی سب سے قیمتی شے…. ایک انمول لڑکی کی ذندگی مانگنے آیا تھا یہاں… اپنے رب سے… کہ اس کی ذندگی کو وہ دولت سے نہیں خرید سکتا تھا… اس کی ڈور تو اللہ کے ہاتھ میں تھی نہ… اس نے رو رو کر… گڑگڑا کر اپنے رب سے سونا کی ذندگی مانگی تھی… وہ اگر اس کی ذندگی سے جانا چاہے گی چلی جاۓ… اسے مجبور نہیں کرے گا وہ کسی بات کے لیے.. لیکن وہ بچ جاۓ… آنکھیں تو کھولے… تا کہ شاہ اس سے معافی مانگ سکے… اپنے تمام گناہوں کی… اپنے ظلم وہ ستم کی..
اور اس کی دعا عرش پر پہنچ گئ تھی… قبولیت کا درجہ بخش دیا گیا تھا اسے… سونا ایک بار پھر… پلٹ آئ تھی… موت کے منہ سے… اور بے شک اس بار بھی خدا کے بعد اسے بچانے والا شاہ ہی تھا… وہ ہاسپٹل گیا تو ریحان نے اسے خوشخبری سنائ تھی… کہ وہ اب خطرے سے باہر ہے… اور شاہ کے پاس الفاظ نہیں تھے جن میں وہ اپنی خوشی کو بیان کر پاتا… بھیگی آنکھوں سے اس نے ریحان کو گلے لگایا تھا…. ریحان کی آنکھیں بھی نم ہوئ تھیں… اس نے شاہ کے کندھے کو تھپکا تھا اور پھر اسے سے الگ ہوا….
“اب بھابھی سے کچھ مت چھپانا…. سب بتا دینا انہیں… امید ہے وہ تمہیں معاف کر دیں گی…” ریحان نے اسے سمجھایا تھا… آئ سی یو کے دروازے میں سے چھوٹی سے کھڑکی سے وہ سونا کو دیکھ رہا تھا… آنکھیں نم تھیں لیکن ہونٹوں پرسکراہٹ تھی… ریحان کی بات پر سر اثبات میں ہلایا… لیکن پھر چونکا تھا ایک دم… ڈائیوورس پیپرز کا یاد آیا تھا… “ریحان… اگر… اگر اس نے پیپرز سائن کر دئیے ہوۓ تو…” خوفزدہ سے لہجے میں وہ بولا تھا… ریحان جو کہ ریلیکس ہوا تھا ایک دم پھرسے پریشان ہوا… ایک ٹینشن ختم ہوتی نہیں تھی اور دوسری آ جاتی تھی… “مم… میں گھر جا رہا ہوں… دعا کرو… اس نے سائن نہ کیے ہوں…” لرزتی آواز میں کہہ کر وہ آگے بڑھا جب ریحان نے اس کا ہاتھ تھاما… “رکو میں بھی چلتا ہوں ساتھ…” ریحان نے وائٹ کوٹ اتارا… “نہیں میں چلا جاؤں گا… ” شاہ نے اسےمنع کرنا چاہا جس پر ریحان نے خفگی سےاسے دیکھا… “ہاں جیسے پہلے ایک ایکسیڈنٹ سے مرتے مرتے بچے ہو… اب بھی ویسے ہی ڈرائیو کرو گے تم… جانتا ہوں میں… تیرے لیے میں رسک نہیں لے سکتا… چپ چاپ آ میرے ساتھ… گاڑی میں ڈرائیو کروں گا… ہماری واپسی تک بھابھی کو بھی شاید ہوش آ جاۓ…” ریحان نے اسے ڈپٹا تھا اور لمبے پمبے ڈگ بھرتا چلا گیا… شاہ اس کی اپنے لیے فکر دیکھ کر مسکرایا اور اس کے پیچھے ہی چلا آیا…
گھر آ کر شاہ بے تابی سے سونا کے روم کی طرف بڑھا… وہ جلد سے جلد پیپرز دیکھنا چاہتا تھا… دل یوں تھا جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچ رکھا ہو… سارے راستے دعائیں کرتا آیا تھا کہ سائن نہ کیے ہوں سونا نے…. اور جب روم میں آ کر پیپرز دیکھے تو صدمے سے گنگ رہ گیا تھا وہ… سارے پہاڑ آج ہی اس پر ٹوٹنےتھے کیا….وہ گرنے کے سے انداز میں بیڈ پر بیٹھا… ریحان جو اس کے بعد روم میں آیا تھا… اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ سائن ہو چکے ہیں… شاہ کے ہاتھ سے پیپرز گر گۓ….”شاہ….” ریحان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا… مزید کچھ کہنے کو الفاظ ہی نہ ملے… یہاں کیا کہتا وہ… بے بس سا شاہ کو دیکھے گیا… “میں نے… میں نے کھو دیا اسے ریحان… ہمیشہ ہمیشہ کے لیے… اپنی کم عقلی اور بے وقوفی کی وجہ سے… ” شاہ نے ٹوٹے ہوۓ لہجے میں کہا تھا… نظریں زمین پر گڑی تھیں… ریحان سمجھ نہیں پایا کہ کیا کہے اب…. اس کا دل چاہا تھا کہ وہ اپنے اس دوست کے سارے غم,دکھ درد سمیٹ لے.. کیا اس کا کوئ حق نہیں خوشیوں پر…. اس کی ذندگی میں صرف غم ہی رہیں گے کیا…. اذیت سے سوچا تھا… دل کٹ رہا تھا شاہ کی حالت دیکھ کر… تبھی اس کی نظر نیچے گرے ہیپرز پر پڑی…. چونک کر اس نے شاہ کو دیکھا .. پھر پیپرز کو…. بے تابی سے آگے بڑھ کر پیپرز اٹھاۓ اور تیزی سے ان پر نظر دوڑانے لگا…. بے یقینی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں اس نے شاہ کو دیکھا اور پھر شاہ کو… بالآخر اس کے دوست کی آزمائش ختم ہونے والی تھی… “شاہ… اس پاک ذات نے تجھے ایک اور موقع دیا ہے… اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا… اپنے ہر ظلم کا ازالہ کرنے کا…. فرط جذبات سے اس نے شاہ کو گلے سے لگایا… شاہ نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگا…اس کے خوشی سے چمکتے چہرے کو… ” کیا ہوا….¿¿¿” الجھن سے پوچھا… “ارے میرے یار… ڈائیوورس نہیں ہوئ ہے… سونا اب بھی تمہاری بیوی ہے….تم دونوں کا رشتہ اب بھی قائم ہے… تجھے ایک اور چانس مل گیا ہے…. یہ دیکھ…. پیپرز پر بھابھی کے سائن ہیں… لیکن تیرے نہیں…. اضطراب میں شاید تم بغیر سائن کیے ہی پیپرز بھابھی کو دے گۓ تھے… اور پیپرز پر جب تک دونوں فریقین کے سائن نہ ہو جائیں… تب تک ڈائیوورس نہیں ہوتی…. تم دونوں کا رشتہ سلامت ہے ابھی بھی….” ریحان کی آواز میں خوشی تھی… بہت زیادہ خوشی… شاہ ابھی بھی بے یقین تھا… جلدی سے اس سے پیپرز تھامے اور اپنے نام کے سامنے خالی جگہ کو دیکھا…دل بے ساختہ رب کے آگے سر بسجود ہوا تھا… کہ اتنے درد ملنے کے بعد شاید اب ان تکالیف کے خاتمے کا وقت آ گیا تھا… آنکھیں نم ہو گئ تھیں… لیکن آج… آنکھوں میں موجود یہ آنسو خوشی کے تھے…
اور پھر ان سب واقعات کو گزرے کافی دن ہو گۓ… سونا کی طبیعت کافی حد تک سنبھل چکی تھی… ہاسپٹل سے ڈسچارج بھی کر دیا گیا تھا اسے…. ملازمین کو بھی شاہ نے واپس بلا لیا کہ اب اس کا بھی یہیں رہنے کا ارادہ تھا… سونا کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کی جا رہی تھی…. خاص خیال رکھا جا رہا تھا…وہ تیزی سے رو بہ صحت تھی… لیکن اس نے بولنا چھوڑ دیا تھا… جینی سے بھی کوئ بات نہ کرتی تھی اب… شاہ اس کے سامنے ہی نہ گیا تھا…. ہمت ہی نہ ہوتی اس کا سامنا کرنے کی… کس منہ سے جاۓ وہ اس کے پاس… وہ شرمندہ تھا … بے حد شرمندہ… اس وجہ سے ہی وہ ریحان سے کئ بار ڈانٹ کھا چکا تھا… ہر بار اس سے پرامس کرتا کہ آج وہ اس کے پاس جاۓ گا.. اپنے اور اس کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرے گا…. معافی مانگے گا اس سے… لیکن پھر وہ کنفیوز ہو جاتا ..
ریحان نےہاسپٹل میں ہی سونا کو ساری حقیقت بتا دی تھی…. پری کے ملنے سے لے کر اب تک…. ہر بات… کچھ بھی نہیں چھپایا تھا اس سے… جانتا تھا… وہ گدھا سونا کے سامنے آنے سے کترا رہا ہے… اور اگر آ بھی گیا تو ہمت نہیں کر سکے گا وہ بھابھی کو بتانے کی… اس لیے یہ بیڑا بھی ریحان نے ہی پار کروایا… سونا سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہ بولی…گھر آنے کے بعد بھی نہیں… سب کچھ جان کر شاہ کے لیے اسے بہت دکھ ہوا تھا…. اس نے خود کو اس کی جگہ پر رکھ کر سوچا اور اندازہ ہو گیا تھا کہ شاہ جن حالات سے گزر کر آیا اس کا درد سونا کے درد سے بڑا تھا… اور وہ معصوم لڑکی ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنے ساتھ کی گئ زیادتیوں کے لیے شاہ کو معاف کر چکی تھی… ریحان نے ڈائیوورس پیپیرز کا بھی اسے بتا دیا تھا اور اسے یقین دلایا تھا کہ وہ شاہ کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا اس سے الگ ہونا چاہتی ہے… دونوں صورتوں میں اس کا فیصلہ ہی مقدم جانا جاۓ گا…. اور سونا نے کہہ دیا کہ وہ اپنا فیصلہ شاہ کو ہی سناۓ گی…
اور اسی وجہ سے شاہ اس کے سامنے نہیں جا رہا تھا… ڈر تھا کہ اگر اس نے علیحدگی کا مطالبہ کر دیا تو… کیسے سنبھالے گا وہ اپنے آپ کو..
ریحان کے بے حد سمجھانے کے بعد بھی جب وہ سونا کے سامنے نہیں گیا تو ریحان خود اس کے گھر ٹپک پڑا… “ابے گدھے… کب عقل آۓ گی تجھے… ایک طرف تو مر رہا ہے بھابھی کے لیے… دوسری طرف ان کا سامنا کرنے سے بھی ڈر رہا ہے.. کیا چاہتا کیا ہے تو ..” اسے لتاڑا تھا ریحان نے… شاہ نے بے بسی سے اس کی جانب دیکھا… “ڈر لگتا ہے… اگر اس نے جدا ہونے کا فیصلہ کر لیا تو…” ریحان نے خفگی سے اس کی جانب دیکھا… “ابھی تک تو شاید نہ کیا ہو… لیکن جیسی تمہاری حرکتیں ہیں نہ…. تو خود مجبور کر رہا ہے انہیں ایسا فیصلہ کرنے پر…” تڑخ کر کہا تھا… آج وہ طے کر کے آیا تھا کہ سب معاملات سیٹ کروا کر ہی جاۓ گا… “چل اٹھ… میرے ساتھ چل…” ریحان نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا… “کہاں…” وہ حیران سا اس کے ساتھ چلا آیا… ان کا رخ سیڑھیوں کی طرف تھا… وہ شاہ کو سونا کے روم کی طرف لے جا رہا تھا… “یار میری بات تو سن…” شاہ نے کچھ کہنا چاہا… “چپ.. بالکل چپ… بہت سن لی تیری… اب نہیں… ” ڈانٹ کر خاموش کروا دیا گیا… سونا کے کمرے کے دروازے کے سامنے لا کر ریحان نے اسکا ہاتھ چھوڑا… “چلو… جاؤ اندر… اور آج اپنے اور بھابھی کے رشتے میں موجود ہر غکط فہمی کو دور کر کے آنا… سمجھے…” رعب سے کہا تھا ریحان نے… “لیکن یار… میں اس سے کہوں گا کیا ..” وہ منمنایا تھا… ” ایڈیٹ… اب کیا میں تجھے پورا اسکرپٹ لکھ کر دوں… تیری بیوی ہے… جیسے مرضی منا… چل..” ریحان نے دروازہ کھول کر اسے اندر دھکا دیا… خود جلدی سے ایک سائیڈ پر ہو گیا کہ سونا کی نظر نہ پڑ جاۓ… شاہ کی طرف وکٹری بنا کر اشارہ کیا اور دروازہ بند کرتا وہاں سے چلا گیا… لبوں پر مسکراہٹ تھی… شاہ نے بالون میں ہاتھ پھیرا… پھر ڈرتے ڈرتے مڑا… روم میں نظریں گھمائیں… کھڑکی کے پاس سونا کھڑی نظر آ گئ… جو اسے ہی دیکھ رہی تھی… شاہ کی حالت دیکھ کر اس کے لبوں ہر خفیف سی مسکراہٹ آ گئ… جسے چھپاتے ہوۓ اس نے اپنے چہرے کو سنجیدہ بنایا…. اور شاہ کو نظر انداز کرتی پھر باہر دیکھنے لگی… شاہ دھیرے دھیرے چلتا اس کے برابر آن رکا… خاموش نظر اس کے چہرے پر ڈالی… طبیعت کافی بہتر لگ رہی تھی اب اس کی… اس کی نظروں کے تعاقب میں وہ بھی باہر دیکھنے لگا… دونوں خاموش تھے… سونا اس کے بولنے کی منتظر… اسے سننا چاہتی تھی… جبکہ شاہ کنفیوز سا اس سوچ میں گم کہ کیسے مخاطب کرے اس کو.
________
جب بہت دیر تک وہ کچھ نہ بولا تو سونا کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے… ویسے تو بہت طرم خان بنا پھرتا ہے… اور آج بولتی بند ہو گئ… ہونہہ… وہ دل ہی دل میں بڑبڑائ… پھر ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا… جس پر الجھن سی تھی… “کچھ کہنا تھا کیا آپ کو…” بے تاثر لہجے میں کہا تھا… شاہ چونکا… “نن… نہیں… کچھ نہیں…” ہکلاتے ہوۓ کہا تھا… دل میں خود کو جی بھر کے ڈانٹا کہ یہ کیا ہو گیا ہے اسے… کیوں اتنا گھبرا رہا ہے وہ… “تو پھر… لان کا یہ منظر ہی دیکھنے آۓ ہیں…¿¿¿ آپ کے روم کی کھڑکی سے بھی یہ منظر نظر آتا ہے…” تیکھے لہجے میں کہا گیا تھا… اس کی جانب دیکھے بغیر… “اف… شاہ … کچھ بول.. ” شاہ کا دل چاہ رہا تھا… خود کو ہی دو تھپڑ رسید کر کے… یعنی کہ حد ہی ہو گئ…. ایسی بھی کیا گھبراہٹ.. کہ اپنی بیوی سے ہی بات نہیں کر پا رہا وہ… “آئ… آئم سوری… ” لبوں پر زبان پھیرتے بمشکل الفاظ اس کے منہ سے نکلے… سونا نے تیکھے چتونوں سے اسے دیکھا… “سوری فار واٹ…¿¿¿” چہرے کے زاویے بگاڑے تھے… وہ بمشکل خود کو سیریس رکھ پا رہی تھی….ورنہ جو حالت اس وقت شاہ کی ہو رہی تھی سونا کا دل چاہا زور زور سے ہنسے… وہ شخص اس سے ڈر رہا تھا آج… جس کے لہجے, جس کی آواز سے وہ سہم جایا کرتی تھی کبھی… “سوری فار ایوری تھنگ…” شاہ نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا… “سوری کہنے سے سب ٹھیک ہو جاۓ گا… میری ذندگی کا اتنا قیمتی وقتجو برباد کر دیا واپس آ جاۓ گا… یہ جو کچھ میں نے سہا سب بھول جاۓ گا مجھے…” تلخی سے کہا تھا اس نے… شاہ کا دل ڈوبنے لگا…. مطلب… اس نےعاف نہیں کیا اسے… دکھ سے سوچا تھا…. اس کے دل کی حالت چہرے سے عیاں تھی… سونا کو ترس آیا اس پر… لیکن اتنی جلدی کیسے معاف کر دیتی اسے… شاہ کے پاس کہنے کو کچھ نہ رہا تھا… مایوس سا وہ جانے کے لیے مڑا… دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا جب اس کے کندھے پر ایک ہاتھ آن ٹھہرا تھا… وہ ایک دم رکا… مڑ کر دیکھا تو سونا کھڑی تھی اس کے سامنے… آنکھوں میں ہلکی سی نمی لیے… “بس… اتنی ہی ہمت تھی… میری بے رخی سہنے کی… اتنا ہی برداشت کر پاۓ… اور میں… میں نے پورا ایک سال تمہاری بے اعتنائ برداشت کی…” سسکی ابھری تھی اس کی…. آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ نکلے… شاہ اس کے قریب ہوا تھا… دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ لیا… نرمی سے انگلیوں کی پوروں سے اس کے آنسو صاف کیے… اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور بغیر کچھ کہے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا… کہ آج لفظوں کی ضرورت نہیں تھی… خاموشی ہی کافی تھی ان کی ایک دوسرے کے لیے محبت بیان کرنے کو…
کچھ دیر ہی گزری تھی… سونا جھجکتی ہوئ اس سے دور ہوئ… چہرہ سرخ ہو رہا تھا… شاہ مسلسل اس کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں رکھے ہوۓ تھا جس سے وہ نروس ہو رہی تھی… “کیا ہے… ایسے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں… ” جب اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس ہر ہی چڑھ دوڑی… “کیوں… اپنی وائف کو دیکھ رہا ہوں… حق رکھتا ہوں دیکھنے کا… تمہیں کوئ پرابلم ہے…” بازو سے تھام کر اسے اپنے قریب کیا تھا… “ہونہہ… میری ناراضگی ابھی ختم نہیں ہوئ… سمجھے آپ… آپ کو تو منانا بھی نہیں آتا کسی کو… یہ طریقہ بھی اپنے دوست سے ہی سیکھ لیں… ” منہ بسور کر کہا گیا تھا… شاہ نے زبان دانتوں تلے دبا لی… آج بھی وہ لڑکیوں کو سمجھنے سے قاصر تھا… کہ وہ کس بات سے خوش ہوتی ہیں کس بات سے ناراض….
“لگتا ہے… ریحان صاحب سے باقاعدہ کلاسز لینی پڑیں گی… اس سب کے لیے…تا کہ میں اپنی پیاری سی بیوی کو خوش رکھ سکوں…” بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ شرارت سے کہا تھا… سونا اس کے انداز پر کھلکھلائ… “چلیں پھر… ابھی جائیں یہاں سے… پہلے کلاسز لیں..
ان سے سیکھیں… کہ جب کوئ ناراض ہو تو اسے کیسے مناتے ہیں… تب تک کے لیے… باۓ باۓ… ” سونا اسے بازو سے تھام کر دروازے تک لائ… دروازے سے باہر لا کر خود اندر گئ اور مسکراتے ہوۓ دروازہ بند کر دیا… “سونا.. دس از ناٹ فئیر یار… میری وائف نے مجھے اپنے روم سے ہی نکال دیا…” وہ بے بسی سے پکارتا رہ گیا… لیکن سونا دروازہ بند کر چکی تھی… مسکراتی ہوئ بیڈ پر آ گئ… دل ایک دم ہلکا پھلکا ہو گیا تھا… گزرے عرصے کی تمام رنجشیں ختم ہو گئ تھیں… سارے گلے شکوے بھی آج دم توڑ گۓ تھے… وہ اسے معاف کر چکی تھی… کہ محبت معاف کرنا ہی سکھاتی ہے… “میڈم… اب تم میرے ہاتھ لگنا… دیکھنا کیسا سبق سکھاتا میں تمہیں….” شاہ پیار بھری دھمکی دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا… شکر کہ ریحان جا چکا تھا….ورنہ کتنا مذاق اڑاتا وہ اس کا…
••••
یہ چند روز بعد کی بات ہے… سونا اپنے روم میں تھی… شاہ دروازہ ناک کرتا ہوا اس کے روم میں آیا… اسے دیکھ کر سونا نے رخ پھیر لیا .. ناراضگی کا اظہار… کیونکہ ابھی تک شاہ نے اسے منایا نہیں تھا .. شاہ اس کے انداز پر دلکشی سی مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا… وہ کیوٹکس لگا رہی تھی… اسے نظر انداز کرتی پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گئ… شاہ نے نرمی سے اس کے ہاتھ سے کیوٹکس لی… ایک ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھاما… سفید خوبصورت ہاتھ… ابھی صرف دو ناخنوں پر ہی کیوٹکس لگائ تھی… شاہ اس کا ہاتھ تھامے خود اس کے ناخنون پر کیوٹکس لگانے لگا…. چہرے پر ہلکی مسکراہٹ تھی… سونا کی نظریں بے خود سی اس کے ڈمپلز میں الجھ کر رہ گئیں… اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد کچھ ہوش ہی کہاں رہتا تھا… “ہیلو مسز…. کن خیالوں میں گم ہیں…کس جہاں کی سیر کر رہی ہیں…” شاہ نے اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ لہرایا .. وہ چونکی… “جن خیالات میں بھی گم ہوں آپ کو اس سے کیا…” مصنوعی خفگی سے کہا تھا… “نہیں… میں تو بس یہ پوچھ رہا تھا کہ میں بھی ہوں نا آپ کے ان خیالات میں آپ کے ساتھ…” لہجہ شرارتی ہوا تھا… “کیوں بتاؤں…” بے نیازی سے کہتے ہوۓ اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھنے لگی… شاہ ہنسا تھا اس کی بات پر… “بتانا تو پڑے گا مسز… اینی ویز… یہ دیکھو… ” شاہ نے سائیڈ سے ایک بیگ اٹھا کر اس کے سامنے رکھا…. جو وہ اپنے ساتھ لے کر آیا تھا… اس میں سے کچھ برآمد کیا تھا… وہ ریڈ کلر کی ساڑھی تھی… نفیس سا کام ہوا تھا اس پر… ساڑھی کے پلو پر میرون کلر کی پٹی تھی…سونا کے چہرے پر ساتئش ابھری تھی اسے دیکھ کر… “واؤ… سو بیوٹیفل…” خود کو روک نہیں پائ تھی وہ تعریف کرنے سے…
شاہ کو لگا کہ دو گھنٹے جو اس مال کو چھان مارا اور بمشکل یہ ڈریس پسند کیا تو اس کی ساری محنت وصول ہو گئ ہو جیسے… “تم پہن لو گی تو اور زیادہ خوبصورت ہو جاۓ گی یہ ساڑھی… چلو… اب جلدی سے اٹھو… اسے پہنو… اور ریڈی ہو جاؤ… آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس…کہیں لے کر جانا ہے تمہیں….” شاہ نے جلدی مچائ… سونا نے خفگی سے اسے دیکھا .. “جب بھی کہیں جانا ہو ہوا کے گھوڑے ہر سوار ہوتے ہیں آپ…. اب کونسی لڑکی ہو گی ایسی جو صرف آدھے گھنٹے میں تیار ہو سکے… ” منہ کے زاویے بگاڑے تھے… “ارے یار… تم تو سر جھاڑ منہ پھاڑ حلیے میں بھی مجھے بہت خوبصورت لگتی ہو .. تمہیں کیا ضرورت ہے اتنی ساری چیزیں منہ پہ ملنے کی… ” شاہ نے شرارت سے کہتے ہوۓ اس کے گال کو چھوا…”ہونہہہ…” سونا منہ بسورتی اٹھ کھڑی ہوئ… “سنو…” شاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکا… سونا نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا… “بالوں کو جوڑے میں مقید مت کرنا .. کھلے بال تم پر زیادہ سوٹ کرتے ہیں… میں تمہیں آج کھلے بالوں میں دیکھنا چاہتا ہوں…” معصوم سی فرمائش کی تھی… “اچھا.. اب تو جوڑا ہی کروں گی پھر… ” سونا کھلکھلاتی ہوئ ڈریس پکڑ کر واشروم میں گھس گئ… جبکہ شاہ مسکراتا ہوا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا ..
••••••
تقریبا ایک گھنٹے بعد شاہ دوبارہ اس کے روم میں آیا… وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی… الجھی ہوئ سی… “کیا ہوا…” شاہ نے اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات دیکھے تو قریب چلا آیا… آئینے مین نظر أتے اس کے عکس کو دیکھا تو نظر جم سی گئ… “یہ ائیر رنگز… بند نہیں ہو رہے پیچھے سے…” روہانسی ہو کر کہا تھا اس نے… شاہ نے نرمی سے اس کا ہاتھ ہٹایا… اس کا کان سرخ ہو رہا تھا… شاہ نے ائیر رنگ بند کیا.. پھر ڈریسنگ سے دوسرا ائیر رنگ اٹھا کر دوسرے کان میں پہنا دیا… “بس اتنی سی بات تھی…” آئنے میں اس کے عکس پر پھر سے نظریں جما دیں… سونا نے بھی آئینے میں ہی اس کی آنکھوں میں دیکھا… پھر اس کی نگاہوں میں مچلتے جذبات کی تاب نہ لاتے ہوۓ نظریں جھکا گئ… سائیڈ پر ست گزر کر وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئ… سینڈل پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب شاہ اس کے قدموں کے قریب نیچے بیٹھا… اسے روکتے ہوۓ خود سینڈل اٹھا کر اس کے پاؤں میں پہنایا… “شاہ… یہ آپ…” وہ شرمدگی سے کچھ کہہ رہی تھی جب شاہ نے اسے خاموش کروا دیا… “شششششش…” دوسرا سینڈل اٹھا کر اسے پہنایا … اور اسٹرپس بند کرنے لگا… لیکن بری قسمت… رومینٹک سین کا بیڑا غرق کر دیا اسٹرپس نے…. بہت کوشش کے بعد بھی اسے اسٹرپس بند کرنا نہیں آۓ… سونا مسکراہٹ دباۓ اسے دیکھے گئ… آخر تھک کر بے بسے شاہ نے سونا کی طرف دیکھا .. جیسے کہہ رہا ہو اب کیا کروں…. “رہنے دیں… آپ کے بس کی بات نہیں یہ…” سونا ہنستی ہوئ خود بند کرنے لگی اسٹرپس…
تبھی شاہ کا سیل بجنے لگا… “اب یہ کون ٹپک پڑا… کباب میں ہڈی بن کے…” کوفت سے کہتے ہوۓ اس نے فون اٹھایا… پاکستان سے کال تھی…” سارہ کالنگ…” کے الفاظ جگمگا رہے تھے… جب سونا کے پاس موبائیل نہیں تھا تو وہ شاہ کے سیل سے ہی کبھی کبھار بات کرتی تھی پاکستان وہ بھی شاہ کے سامنے… اس لیے اب بھی شاہ کے سیل پر ہی کال آئ تھی… شاہ نے کال ریسیو کی… سلام کے بعد حال احوال دریافت کیا تو دوسری جانب عائزہ نے فرمائش کی… “بھائ… سونا کہاں ہے… ویڈیو کال پر بات کروائیں اس سے…” اس کی بات ہر شاہ نے گہری سانس بھرتے ہوۓ سونا کی طرف دیکھا… جو مسکراہٹ دباۓ کھڑی تھی… ان کی باتیں سن رہی تھی وہ… ” ڈئیر سسٹرز… بہت غلط وقت پر کال کر دی آپ نے… ہمارے رومینٹک موڈ کو خراب کر دیا… خیر… آپ لوگ بات کر لیں… ہم پھر کنٹینیو کر لیں گے…”ٹھنڈی آہ بھرتے ہوۓ شرارت سے کہا تھا اس نے… ساتھ ہی ویڈیو کال ملا کر سونا کو موبائیل تھمایا… خود بھی اس کے ساتھ ہی جا کھڑا ہوا… “واؤ سونا… لکنگ پریٹی… کتنی خوبصورت ہو گئ ہو تم نیو یارک جا کر…دعا کرو ہمیں بھی کوئ نیو یارک والا مل جاۓ…” منزہ نے حسب عادت مسخرہ پن پھیلایا… شاہ اور سونا دونوں ہنس دیے… “ویسے.. جناب.. بڑی میچنگ کی گئ ہے… کہاں کی تیاری ہے رومینٹک کپل کی…” سارہ نے شرارت سے شاہ اور سونا کی ڈریسنگ دیکھتے ہوۓ کہا… شاہ بھی اس وقت بلیک پینٹ ہر ریڈ کلر کی شرٹ اور اوپر بلیک ویسٹ کوٹ پہنے نکھرا سا کھڑا تھا… ” جی سالی صاحبہ… اتنی تیاری کر کے کسی رومینٹک سی جگہ جانے کا پروگرام تھا… لیکن آپ لوگوں نے ڈسٹرب کر دیا ہمیں… “وہ بھی شرارت سے بول رہا تھا… اس کی بات پر وہ چاروں معنی خیزی سے ہنس دیں… جبکہ سونا سرخ چہرہ لیے نظریں جھکا گئ…
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد کال ڈس کنیکٹ کر دی تھی انہوں نے…. “چلیں…” شاہ نے مسکراتی آنکھیں اس پر جمائیں… “جی…” یک لفظی جواب دیا تھا سونا نے… شاہ نے اپنا بازو آگے بڑھایا… سونا نے ایک پل کو اس کی جانب دیکھا .. پھر اس کا بازو تھام لیا… وہ لوگ شاہ ہاؤس سے باہر آۓ… رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا… آسمان پر چودھویں کا چاند جگمگا رہا تھا… جس کی ہلکی نیلی روشنی اردگرد پھیلی ماحول کو خوابناک سا بنا رہی تھی…. سونا کو لگا وہ لوگ گاڑی میں بیٹھیں گے… لیکن شاہ اسے لیے “روز ولا” کی جانب بڑھ گیا… سرخ گلاب کے بہت سے پودے تھے وہاں جن کے درمیان میں روش بنائ گئ تھی… اور رات کے اس وقت… چاند کی چاندنی میں…. روش سے گزرتے ہوۓ… گلاب کی خوشبو بہت بھلی لگ رہی تھی…. روش کے درمیان میں پہنچ کر شاہ نے چند گلاب شاخوں سے جدا کیے … ایک گلدستے کی صورت انہیں تھاما… اور محبت سے سونا کو دیکھتے ہوۓ وہ گلدستہ اس کی طرف بڑھایا… “فار یو…. مائ لو…” لہجے جذبات سے چور تھا… سونا نے پھول پکڑ لیے تو شاہ نے بازو اس کے کندھوں کے گرد پھیلایا… سونا کو یہ سب ایک خواب لگ رہا تھا… وہ دونوں دروازے پر پہنچے…. آج وہاں کوئ گارڈ نہ تھا… دروازے کے سامنے ایک فیتہ لگایا گیا تھا… جیسے کسی بھی بلڈنگ کے افتتاح کے وقت لگایا جاتا ہے… ایک طرف ایک پلیٹ پڑی تھی…. جس میں ٹینچی رکھی تھی… شاہ نے وہ پلیٹ سونا کے سامنے کی… سونا نے قینچی تھامی…. پلیٹ واپس رکھ کر شاہ نے بھی اس کا قینچی والا ہاتھ تھاما اور فیتہ کاٹ دیا گیا… “ویلکم… ٹو آر نیو ہاؤس… مسز شاہزیب سکندر…” شاہ نے سامنے موجود تین سیڑھیاں چڑھ کر ہاتھ اس کی جانب بڑھایا… سونا اس کا وہ ہاتھ تھام کر اوپر آ گئ… شاہ نے دروازہ کھولا… اور دونوں اندر داخل ہوۓ… سونا حیران سی اردگرد دیکھے گئ… ان کے سامنے ہال تھا….ج سفید تھا… بالکل سفید… جیسے دودھیا رنگ ہو… ہال کی ہر چیز سفید تھی… اور پورے ہال کو پھولوں سے بہت خوبصورتی سے آراستہ کیا گیا تھا… سامنے کی ایک دیوار کو کرٹن سے ڈھک دیا گیا تھا… سونا نے سوالیہ نظروں سے دیوار کو دیکھا پھر شاہ کو… شاہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھ گیا تھا… تبھی آگے بڑھ کر پردہ کھینچ دیا… سونا نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھا… خوشی تھی کہ سنبھالی نہ جا رہی تھی… سامنے دیوار پر چمکدار کپڑے سےریڈ کلر کا بڑا سا دل بنایا گیا تھا… جس کے اردگرد لائیٹنگ کی گئ تھی…. اور اندر اس دل کے اندر “آئ ایم سوری” کے الفاظ جگمگا رہے تھے… اس دل کے دونوں اطراف اسی طرح کے تھوڑے چھوٹے دل بنے تھے… جن میں ایک دک میں شاہ کی تصویر لگی تھی… اور دوسری طرف سونا کی…
” یہ خالصتا میرا آییڈیا تھا وائفی… اس کے لیے کسی سے کلاس نہیں لی میں نے…” شاہ شرارت سے کہتا اس کے نزدیک آیا… بازو کمر کے گرد حمائل کر کے اسے اپنے قریب کیا… “اب تو ناراض نہیں ہو نا مجھ سے…” نرمی سے پوچھا تھا…. “نہیں…” سونا پزل سی ہوتی نظریں جھکا گئ… شاہ بے خود سا اس کے چہرے پر ابھرتے خوبصورت رنگ دیکھے گیا…
••••••
سونا کھڑکی میں کھڑی تھی… دور چاند پر نظریں جماۓ… خیالوں میں کھوئ… اسے یہ بھی احساس نہ ہوا کہ شاہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے….اور اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دل میں اتار رہا ہے… “اے خوابوں کی دنیا میں رہنے والی شہزادی…. ذرا حقیقت کی دنیا میں تشریف لاؤ یار… تمہارا شہزادہ یہاں کھڑا ہے … تمہارے سامنے…” اس کے دونوں کندھوں کو تھامتے ہوۓ وہ اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا .. “پتا ہے شاہ… کبھی میں اس چاند کو دیکھ کر آپ کے خیالوں میں کھو جایا کرتی تھی… مجھے لگتا تھا کہ جیسے یہ چاند مجھ سے بہت دور ہے ایسے آپ بھی میری پہنچ سے بہت دور ہیں… میلوں کے فاصلے پر… ” وہ بے خود سی بول رہی تھی… “جی جناب… لیکن اب اس چاند کو دیکھنا چھوڑ دیں آپ… میں جیلس ہو رہا ہوں اس سے… آپ کا چاند آپ کے سامنے کھڑا ہے… آپ کے پاس… پھر اسے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے…” شاہ نے اس کا رخ اپنی جانب موڑا اور مسکرا کر کہتے اس کے لمبے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا… سونا اس کے ڈمپلز میں کھو سی گئ… “میں… انہیں چھو لوں…¿¿¿” جھجھکتے ہوۓ ہوچھا تھا .. اس کا اشارہ سمجھتے ہوۓ شاہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئ… “آفکورس… حق بنتا ہے تمہارا… ” اس کا ہاتھ تھام کر خود اپنے گال پر رکھا تھا اور وہ… مسمرائز سی ہو گئ .. ڈمپلز کے بعد اس کی آنکھوں کو چھونے لگی تھی… گہری نیلی حسین آنکھوں کو… “پتا ہے… میں نے خوابون میں بارہا ان آنکھوں کو چھوا… اپنے ان ہاتھوں سے…” معصوم سے لہجے میں وہ اسے بتا رہی تھی… اس سے, اسکی نیلی آنکھوں سے, اس کے ڈمپلز سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی… “میری جان… اب خوابوں میں میری آنکھوں کو چھونے کی کیا ضرورت ہے… تم حقیقت میں بھی چھو سکتی ہو.. کیونکہ ان آنکھوں پر صرف تمہارا حق ہے.. صرف تمہارا … ” شاہ نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا… سونا نے اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوۓ طمانیت سے آنکھیں موند لیں…یہ سوچتے ہوۓ کہ بے شک مشکل کے بعد آسانی ضرور آتی ہے… اور شاہ… وہ پرسکون تھا… یہ سوچ کر کہ… اللہ پاک نے اس کے دل میں پری کی محبت ڈالی…پھر اسی سے دھوکہ دلوایا….اس لیے کہ وہ اسے بہترین سے نوازنا چاہتا تھا…. اسے سونا کے عشق میں مبتلا کرنا چاہتا تھا… تا کہ وہ اس پیاری لڑکی کی قدر کر سکے… اور شاہ شکرگزار تھا رب تعالی کا… بے شک وہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے…
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *