Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15
سونا بہت خوش تھی.. بہت زیادہ.. بلا شبہ یہ اس کی زندگی کے خوبصورت ترین دن تھے.. وہ سوتے جاگتے خدا کا شکر ادا کرتی.. جس نے اس کے دل کی ہر خواہش پر کن فرما دیا تھا.. وہ خواہش جو اس نے اللہ سے مانگی بھی نہ تھی.. اسے وہ شخص عطا کر دیا گیا تھا جسے سوچنے سے بھی وہ ڈرتی تھی… اسے وہ چاند سا لگتا تھا .. ایسا چاند جو مٹی کے باسیوں کی قسمت نہیں ہوا کرتا… لیکن.. سونا کی قسمت میں لکھ دیا گیا وہ.. بن مانگے.. 
سونا پہروں اسے سوچتی.. چپکے چپکے بہت سے خواب آنکھوں میں آ کر بسیرا کرتے جا رہے تھے..
وہ مدھم سا مسکراتی اکثر آنکھیں بند کرتی تو وہ سامنے آ جاتا.. چھم سے… اپنی سحر زدہ کرتی نیلی آنکھوں سمیت.. سونا اس سے ڈھیر ساری باتیں کیا کرتی..
“تم کیسے ہو گے… ؟ ” وہ اشتیاق آنکھوں میں لیے اس سے پوچھتی..
“تم جتنے خوبصورت ہو تمہارا دل بھی اتنا خوبصورت ہو گا نا.. ؟” وہ معصومیت سے پوچھتی..
“اور کیا تم میری بہت زیادہ… اتنی ی ی ی ی ساری.. کئیر کرو گے نا… ” اس کی خواہشیں بڑھتیں…
“تم بے انتہا لونگ اور کئیرنگ ہو گے نا… ” خواہشات اور بڑھتیں…
“مجھ سے دوستی کرو گے نا…ہم دوست بن کر رہیں گے نا.. “
خواہشات بڑھتیں چلی جاتیں…
“تمہیں پتا ہے.. تمہاری یہ یہ نیلی آنکھیں… ” وہ اپنی آنکھیں بند کر کے اندھیرے میں چمکتی ان نیلی آنکھوں کو جی بھر کر دیکھتے ہوۓ بولتی..
“یہ نیلی آنکھیں مجھے کتنی اچھی لگتی ہیں.. مجھے لگتاہے اس دنیا میں ان سے خوبصورت کچھ ہے ہی نہیں.. مجھے یہ اس جہان سے پرے کی لگتی ہیں… اس دنیا سے پرے.. کسی طلسماتی دنیا, جادوئ نگری کا کوئ طلسم محسوس ہوتی ہیں ..”
وہ خوشی کی انتہاوں پر تھی..
اور اس کی قسمت کا ستارہ عروج پر تھا..
اور عطا کی بارشوں میں بھیگ رہی تھی..
اتنی عطائیں… ؟ اتنی کرم نوازیاں… اتنی سخاوت .. میرے مالک… تیرا شکر کیسے کروں.. وہ ہنستے ہنستے رو دیتی اور پھر روتے روتے بے ساختہ ہنس دیتی 
•••••
اس دن اچانک ہی تایا جان کا فون آ گیا… وہ شادی کے بارے میں پوچھ رہے تھے… حویلی والوں نے شادی کی جلدی مچا دی تھی… سونا حیران پریشان سی سب دیکھتی رہ گئ … بھلا یہ کیا بات ہوئ.. آخر جلدی کس چیز کی ہے… ہتھیلی پہ سرسوں جمانا چاہتے تھے وہ لوگ تو بس… سونا ابھی اس سب کے لیے تیار نہیں تھی…وہ بوکھلا سی گئ…. لیکن شادی کی ڈیٹ بھی فکس کر دی گئ… دو ہفتے بعد کی ڈیٹ رکھی گئ تھی… اس کی چاروں فرینڈز بہت ایکسائیٹڈ تھیں… آخر ان کی بیسٹ فرینڈ کی شادی تھی… روز بازاروں کے چکر لگتے… وہ چاروں بھرپور حصہ لے رہی تھیں سونا کی شادی کی تیاریوں میں… سونا کے ساتھ مل کر انہوں نے ساری شاپنگ کروائ… منزہ کی ماما نے بھی بھرپور ساتھ دیا تھا ان کا… سونا کی ماما کی جگہ ہر چیز کی مینجمنٹ وہ کر رہی تھیں… بابا بھی آج کل بہت مصروف ہو گۓ تھے… انہیں اپنی اکلوتی لاڈلی بیٹی کی شادی بہت دھوم دھام سے کرنی تھی… انکل رحمان بابا کے ساتھ ساتھ موجود ہوتے ہر جگہ… بابا اکیلے تو سب نہیں سنبھال سکتے تھے… سونا بے یقین سی تھی…. اتنی جلدی ذندگی نیا موڑ لینے جا رہی تھی…
وہ ایکدم اداس ہو گئ تھی بے حد اداس… روتی رہتی… بابا کے بارے میں سوچ کر… کیسے رہے گی وہ ان کے بنا… اس نازک اور اہم موقع پر ماما کی بھی بہت یاد آتی… ایک ماں کی کمی تو کوئ پوری نہیں کر سکتا نہ… بابا بھی اس کے جانے کے بعد اکیلے اور تنہا رہ جائیں گے… یہ سوچ بھی اسے رلاتی رہتی…
عبدالعزیز نے عبدالہادی سے کہا تھا کہ وہ بھی حویلی آجائیں… وہیں شادی کر لی جاۓ گی… لیکن عبدالہادی نہیں مانے… وہ سونا کو اپنے گھر سے رخصت کرنا چاہتے تھے… اس گھر سے جہاں اس کا بچپن گزرا تھا… جہاں اس نے جوانی کی دہلیز پار کی تھی… جہاں ان کی بے شمار یادیں بکھری تھیں… عبدالعزیز ان کی ضد کے آگے ہار گۓ تھے لیکن ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ شادی کے بعد حویلی چلیں گے… یہ کہہ کر کہ اس حویلی پر جتنا ان کا حق ہے اتنا ہی عبدالہادی کا بھی ہے… اور وہ انہیں یہاں تنہا نہیں رہنے دیں گے… حویلی میں سب کے ساتھ رہیں گے… عبدالہادی کچھ پس و پیش کے بعد مان گۓ تھے…..
•••••
کڈنیپرز کی دوبارہ کال آئ تھی… رقم پہنچانے کے لیے وقت اور جگہ بتا دی گئ تھی اور ساتھ ایک بار پھر وارننگ دی گئ تھی کہ اگر اس بار پولیس کو انوالوکیا گیا یا سکندر نے کسی قسم کی کوئ چالاکی کرنے کی کوشش کی تو پھر پریشے کی لاش ہی بھیجی جاۓ گی اسے… اور یہ بھی کہ سکندر رقم لے کر اکیلا آۓ گا… کوئ گارڈ بھی نہ ہو اس کے ساتھ…..سکندر خوف ذدہ ہوا تھا… اس لیے اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ان کی ہر ڈیمانڈ کو پورا کرے گا… وہ اب پریشے کے لیے مزید تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہتا تھا… اس وقت اس نے پیسوں سے بھرے بریفکیس گاڑی میں رکھے… انہیں کیش چاہئیے تھا اور سکندر کیش ہی لے جا رہا تھا… بلیک ڈریس پینٹ پر شکنوں سے بھری سفید شرٹ پہن رکھی… بازو کہنیوں سے اوپر تک فولڈ کیے ہوۓ…. اس کے مضبوط ہاتھ اسٹیرنگ پر جمے تھے… وہ پریشان تھا … از حد پریشان… نہ جانے پریشے کس حال میں ہو گی… انہوں نے کیسے کیسے ٹارچر کیا ہو گا اسے…سوچ کر ہی خون کھول اٹھتا تھا لیکن اسے ابھی صبرو برداشت سے کام لینا تھا… ایک بار وہ لوگ پریشے کو اس کے حوالے کر دیں پھر وہ جو کوئ بھی ہوں گے سکندر بعد میں ان سے نمٹ لے گا… سوچتے ہوۓ سکندر نے گاڑی کے رفتار بڑھائ… یہ سڑک پہاڑ کے ساتھ ساتھ بنائ گئ تھی… جو اونچائ کی طرف جاتی… سڑک کے ایک طرف اونچے پہاڑ تھے تو دوسری جانب گہری کھائیاں تھی… ذرا سی غفلت انسان کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی تھی… سکندر نے اپنی ساری توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کی…
•••••
بالآخر وہ دن بھی آ ہی گیا جس کا ہر کسی کو انتظار ہوتا ہے… آج مہندی تھی ان کی… لڑکے والوں نے مہندی لے کر آنا تھا عبدالہادی کے گھر… سونا اپنے کمرے میں بیٹھی تھی… مہندی کے فنکشن کے لیے اسے بیوٹیشن نے تیار کر دیا تھا تھا… گولڈن کلر کی چمکدار کپڑے کی کرتی تھی اور ساتھ گرین اور گولڈن لہنگا… گولڈن اور گرین کلر کے امتزاج کا ہی دوپٹا تھا جسے سر پر سیٹ کیا گیا تھا… لمبے بالوں کو کرلی کر کے ایک کندھے پر آگے کے جانب ڈال رکھا تھا… ہاتھوں اور کانوں میں پھولوں کا زیور پہن رکھا تھا… اس کی فرینڈز بھی اس وقت وہیں تھیں اس کے ساتھ… خود اپنی تیاری کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ سونا کو چھیڑ رہی تھیں… شرارتی کمنٹس پاس کیے جا رہے تھے… سونا ان کی باتیں سنتی ہوئ ہلکا سا مسکرارہی تھی… دل ہلکا ہلکا سا ڈر رہا تھا.. اور ہلکا ہلکا سا مسکرا رہا تھا 
وہ چپکے چپکے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو بھی دیکھ لیتی… آج سے پہلے اسے اپنا آپ کبھی اتنا خوبصورت نہیں لگا تھا… بلاشبہ یہ شاہ کی محبت کا ہی کمال تھا جس نے اسے نکھار بخشا تھا… تبھی باہر شور اٹھا تھا… لڑکے والے آ چکے تھے مہندی لے کر… باقی تینوں نیچے بھاگ گئیں دلہا کو دیکھنے… جبکہ سارہ وہیں بیٹھی تھی اس کے پاس… نرم سے اس کی تھوڑی کو پکڑا… ” سونا… خوش ہو نا…¿¿¿” محبت سے پوچھا تھا…. سونا مسکرائ اور اثبات میں سر ہلایا… جبکہ آنکھوں کی نمی سارہ سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی… سارہ نے اسے گلے سے لگایا… وہ بھی رو پڑی تھی… سونا اس کے لیے بہنوں کی طرح تھی اور کل اس کی یہ بہن ان سے جدا ہو جاۓ گی یہ سوچ سوچ کر دل بھر آ رہا تھا… پھر سارہ نے خود کو کمپوز کیا… سونا کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں سے آنسو پھسل کر رخساروں پر بہہ نکلے تھے… نرمی سے اس کے آنسو صاف کیے… “اللہ پاک تمہیں بہت سے خوشیاں دیں…” دل سے دعا کی تھی… سونا نے دل ہی دل میں آمین کہا…
کچھ دیر بعد مہندی کی رسم کے لیے سونا کو بھی اسٹیج پر لے جایا گیا… جو لان میں ایک جانب بنایا گیا تھا اور پیلے پھولوں سے سجایا گیا تھا… شاہ پہلے ہی وہاں ایک صوفہ پر براجمان تھا… سونا کو اس کی فرینڈز نے لے جا کر شاہ کے برابر بٹھایا… سونا کے چہرے پر جالی دار دوپٹے سے گھونگٹ نکالا گیا تھا… مہندی کی رسم شروع کی گئ.. ہر طرف خوشیاں بکھری تھیں… وہاں موجود ہر شخص مسکرا رہا تھا… کچھ فاصلے پر کھڑے عبدالہادی نے نم آنکھوں سے مسکرا کر سونا کی طرف دیکھا… یہ لمحہ ماں باپ کے لیے بہت بھاری ہوتا ہے… کہ جن بیٹیوں کو اتنے لاڈ پیار سے پالا جاۓ ایک دن انہیں غیروں کے حوالے کرنا پڑتا ہے… لیکن وہ یہ سوچ کر مطمئین تھے کہ شاہزیب سونا کے لیے ایک اچھا انتخاب ثابت ہو گا… اور بہت خیال رکھے گا اس کا…
••••••
رسم ادا کرنے کے بعد سونا کو کمرے میں لے آئ تھیں اس کی فرینڈز… اسے مہندی لگوانی تھی اس لیے اسے جلدی روم میں بھیج دیا گیا… جبکہ نیچے ابھی ہلا گلا جاری تھا… رات کے 2 بج رہے تھے… سونا کے ہاتھوں پر مہندی لگ چکی تھی… اس سے پہلے اس نے کبھی مہندی نہیں لگائ تھی… اسے الجھن ہوتی تھی مہندی سے… لیکن آج یہ سب بہت انوکھا بہت دلفریب لگ رہا تھا… انوکھی سی خوشی اور طمانیت بخش رہا تھا… اس وقت سونا کے روم میں وہ اور اس کی فرینڈز تھیں… باہر اب ہنگامہ سرد پڑ چکا تھا… لڑکے والے کچھ دیر پہلے جا چکے تھے … منزہ اور ماریہ وہیں سونا کے بیڈ پر لیٹ کر خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں.. جبکہ عائزہ اور سارہ سونا کے ساتھ جاگ رہی تھیں… سونا نے کہا بھی تھا کہ وہ سو جائیں… لیکن انہیں بھی نیند نہیں آ رہی تھی… اس لیے وہ تینوں اب ہلکی آواز میں باتیں کر رہی تھیں… عائزہ مہندی کی پکس دکھا رہی تھی سونا کو… سونا مسکراتی ہوئ شاہ کی تصویریں دیکھ رہی تھی… سفید کرتا شلوار پر گرین ویسٹ کوٹ پہنے وہ بہت خوبرو لگ رہا تھا… تبھی سونا کا موبائیل بجنے لگا… اس وقت کس کی کال آ گئ… سونا حیرت سے بڑبڑائ… “میں دیکھتی ہوں..” سارہ نے کہا اور بیڈ کی طرف جا کر اس کا موبائیل پکڑا… ” کوئ ان نون نمبر ہے…” سارہ کندھے اچکاتی اس کی جانب آئ اور کا ریسیو کر کے سونا کے کان سے لگایا… اس کے ہاتھوں کی مہندی ابھی خشک نہیں ہوئ تھی تبھی سارہ نے ہی موبائیل پکڑے رکھا.. “ہیلو…” سونا نے محتاط سی آواز میں کہا.. نہ جانے کون ہے یہ… ” شاہ بات کر رہا ہوں… پانچ منٹ کے لیے چھت پر آؤ… آئم ویٹنگ…” کہہ کر کال کاٹ دی گئ… سونا ہکا بکا سی رہ گئ… سب تو چلے گۓ ہیں پھر یہ چھت پر کیا کر رہے ہیں…” پریشانی سے سوچا… “کیا ہوا¿¿¿ کون تھا¿¿ تم کیوں اتنی پریشان ہو گئ ہو..¿¿¿” عائزہ نے اس کا کندھا ہلا کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا… وہ چونکی… ” ہاں… وہ… شاہ کی کال تھی چھت پر بلایا ہے… پانچ منٹ کے لیے…” کہتے ہوۓ سر جھکا گئ جبکہ عائزہ ایک دم ایکسائیٹڈ ہوئ… “او واؤ… کتنے رومینٹک ہیں نا شاہ بھائ… ضرور تم سے ملنے کو بے تاب ہوں گے… تمہیں مہندی کی دلہن بنے دیکھنے کے خواہش مند ہوں گے… ویٹ کس چیز کا کر رہی ہو… جاؤ جلدی جاؤ…” عائزہ کا بس نہیں چل رہا تھا اسے اٹھا کر چھت پر چھوڑ آۓ… سونا نے کنفیوز سی ہو کر سارہ کی طرف دیکھا… “لیکن… مناسب نہیں لگتا ایسے… مطلب… میں کس طرح چلی جاؤں یوں ان سے ملنے…” اس کی ٹینشن پر سارہ مسکرائ… اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا…” سونا… ڈئیر… اتنی پریشان کیوں ہو… وہ کوئ غیر نہیں ہیں… کل تمہاری شادی ہے ان سے… وہ تمہیں ایک نظر دیکھنا چاہتے ہوں گے… تو جانے میں کوئ مضائقہ نہیں ہے… صرف پانچ منٹ کا ہی تو کہا ہے انہوں نے… اور پھر تمھارے دل کی بے چینی بھی ہم سمجھ رہے ہیں.. تم بھی تو انہیں ایک نظر دیکھنا چاہتی ہو.. تو جاؤ چھت پر… بھروسہ رکھو… کچھ نہیں ہو گا…” تسلی آمیز لہجے میں اس سمجھایا تھا… اس کی بات پر سونا نے گہری سانس بھری… سر اثبات میں ہلایا… اور کمرے سے نکل کر سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئ… دل میں ہلکا سا خوف لیے… جو دھڑک دھڑک کر بے حال ہوۓجا رہا تھا
•••••
سونا نے چھت پر پہلا قدم رکھا تو نظر سامنے کھڑے شاہ کی پشت سے ٹکرائ… وہ اس وقت دوسری جانب منہ کیے کھڑا تھا…سونا بھی وہیں سیڑھیوں پر بنے کمرے کے پاس رک گئ…. سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ اسے کیسے متوجہ کرے… کیسے اپنی موجودگی کا احساس دلاۓ… وہ وہیں کھڑی رہی کچھ دیر چپ چاپ… پھر ہمت کر کے مخاطب ہوئ… “اسلام و علیکم..” دھیمی آواز میں کہا تھا… اس کی آواز پر شاہ مڑا… نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں اور پھر پلٹنا بھول گئ تھیں… بلا شبہ اس وقت وہ بہت حسین لگ رہی تھی… لہنگے میں ملبوس… ہاتھوں کو تھوڑا پھیلایا ہوا تھا اس ڈر سے کہ کہیں مہندی خراب نہ ہو جاۓ… شاہ خود ہوا تھا اسے دیکھ کر.. ایک پل کے لیے جیسے ہوش و حواس سے بے گانہ ہوا تھا… بے اختیار اس کے قدم سونا کی جانب بڑھے تھے… سونا اسے اپنی جانب آتا دیکھ کر قدرے پریشان ہوئ… بے ساختہ دو قدم پیچھ ہٹی تھی تبھی اس کی پشت دیوار سے جا لگی… اس نے ایک نظر دیوار کو دیکھا پھر شاہ کو… جو اس کے قریب پہنچ گیا تھا… اور اب یک ٹک اس کی جانب دیکھ رہا تھا… ہاتھ باندھے… بھرپور نظروں سے… سونا نے نگاہیں چرائیں… دھڑکنیں اتھل پتھل ہوئ تھیں.. وہ چہرہ جھکا گئ تھی… لب دانتوں تلے دباۓ تھے… اس کے چہرے میں گلابیاں سی گھل گئیں .. چہرہ جھکانے کی وجہ سے کانوں کے پیچھے سے بالوں کی چند آوارہ لٹیں نکل کر چہرے پر بکھری تھیں… سونا نے پریشانی سے چہرہ اٹھایا… ایک ہاتھ سے بالوں کو پیچھے کرنے لگی تھی جب ایک دم شاہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا… سونا نے حیرت سے اسے دیکھا… اب وہ خود اپنے ہاتھ سے اس کے بال کانوں کے پیچھے اڑس رہا تھا… نظریں بدستور اس کے چہرے پر جمی تھیں… سونا کنفیوز ہو رہی تھی اس کی نظروں سے…..
وہ اسے دیکھتا رہا.. بے خودی سے… بے ساختگی سے… اس کی لرزتی پلکیں.. کپکپاتے لب…
شاہ نے انگلی کی پوریں اس کی آنکھوں پر رکھیں.. نرمی سے.. انکھیں کہیں دور کھوئ ہوئ سی لگ ہی تھیں..
سونا کی سانسیں رک سی گئیں.. وہ ساکت سی بنا جنبش کیے کھڑی رہی..
اب وہ اس کی پوروں کو ماتھے پر رینگتے ہوۓ محسوس کر رہی تھی… اس نے آنکھیں زور سی میچ لیں..
اب وہ اس کے گالوں کو چھو کر کچھ محسوس کر رہا تھا کوئ احساس.. کوئ پرانا لمس…ایک ایک نقش کو چھوکر محسوس کر رہا تھا… سونا کے گال دہکنے لگے… ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے ہوۓ.. برف.. بلکل برف.. اس میں ہلنے کی جان بھی باقی نہ رہی…
شاہ کی آنکھوں میں سرخی تیرنے لگی… محبت.. کہاں سے آ رہی ہے یہ محبت.. اس نے لب بھنچے… مجھے تو نفرت ہے اس سے. بے تحاشا نفرت… محبتوں کے دن ختم ہوۓ اب..
اس کے دل میں آگ سی بھڑک اٹھی… شاہ کی محبتیں ختم ہوئیں.. اب صرف نفرتیں بچی ہیں تمہارے لیے.. وہ ایک ہاتھ سے اس کا بازو جکڑے.. دوسرا ہاتھ چہرے پر رکھے اس کی بند آنکھیں اور خبصورت چاند سا چہرہ دیکھتے ہوۓ سوچ رہا تھا.. دماغ کی نسیں پھٹنے لگیں…
اس نے بہت آرام سے اس کا بازو چھوڑا اور لمحوں میں …
وہاں سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا…
اور سونا..
وہ ابھی تک مجسمہ بنی اس دیوار کے ساتھ آنکھیں بند کیے کھڑی تھی.. ساکت سی…
اس کے جانے کی چاپ ,, دل کی دھڑکنوں میں کہیں گم سی گئ..
” محبت… تم محبتیں لاؤ گے میری ززندگی میں ..”
خواہشات عروج پر پہنچنے لگیں..
