Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22
… سونا نے دھندلی آنکھوں سے ایک بار پھر ان کی طرف دیکھا… کچھ سوچ کر اس نے اپنے آنسو صاف کیے… وہ یوں بے بس ہو کر نہیں بیٹھ سکتی…وہ خود کوشش کرے گی ان درندوں سے اپنے آپ کو بچانے کی… وہ اٹھی تھی اور تیز تیز بھاگتی ان سے دور ہونے لگی…شکار کو یوں اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر ان لوگوں نے بھی رفتار بڑھائ تھی… ہائ ہیلز کی وجہ سے سونا سے بھاگا نہیں جا رہا تھا… پیروں سے ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں لیکن وہ پرواہ کیے بغیر بھاگ رہی تھی… اس کی بری قسمت کے بھاگتے بھاگتے ایک جوتے کی اسٹرپ ٹوٹ گئ… سونا نے بوکھلا کر پہلے پیروں کی جانب دیکھا…. پھر لمحہ بہ لمحہ اپنے قریب آتے ان وحشیوں کو… اس نے جلدی سے دوسرے جوتے کی اسٹرپ کھول کر پاؤں کو آزاد کیا تھا اور سر اٹھایا تو وہ اس کے سر پر پہنچ چکے تھے…. سونا کا سانس رکنے لگا… وہ ان کے نرغے میں پھنس چکی تھی… وہ سب اس وقت اسے گھیر کر کھڑے تھے….انجان زبان میں اس پر فقرے اچھال رہے تھے… ہنس رہے تھے اس کی بے بسی پر… سونا کی آنکھیں پھر سے برسنے لگیں…. کس گناہ کی سزا مل رہی تھی اسے…. نہ جانے کیا خطا ہو گئ تھی جو آج وہ اس حال میں پہنچ گئ تھی… اس نے بے قراری سے اپنے رب کو پکارا تھا… “اللہ مدد کر میری…. حرام موت نہیں مرنا چاہتی میں.. اللہ کسی کو بھیج دے مجھے بچانے… یااللہ…. کیسی آزمائش ہے یہ…. مجھے مزید مت آزما…. میں ایک کمزور سی لڑکی ہوں…. ہار جاؤں گی اس آزمائش کو…. اللہ ختم کر دے اب یہ آزمائش…. پلیز مجھے بچا لے ان درندوں سے…” وہ سسک اٹھی تھی وہیں زمین پر بیٹھے بیٹھے… جو جوتا پاؤں سے اتارا تھا ابھی تک ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا مضبوطی سے… تبھی ان میں سے ایک آدمی آگے بڑھا تھا اور اسے کلائ سے تھام کر اپنی جانب کھینچا تھا… سونا چلائ اور اس کی گرفت سے آزاد ہونا چاہا… لیکن اس کی مردانہ طاقت کے سامنے وہ کمزور, نازک سی لڑکی بے بس ہو گئ تھی… وہ رو رہی تھی اونچی آواز میں… مسلسل خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرانے کی تگ و دو کرتی… وہ سب قہقہے لگا رہے تھے اس پر… تبھی کھینچا تانی میں سونا کی آستین کندھے سے تھوڑی سی پھٹ گئ تھی… اس نے بے تحاشا اذیت سے آنکھیں موندیں…. “شاہ… پلیز آپ آ جائیں…. جیسے پہلے بچا لیتے تھے مجھے پلیز بچا لیں آج بھی…” دل نے اس ظالم کو پکارا تھا جس کی وجہ سے وہ یہاں تک پہنچی تھی… لیکن آج وہ اس کی پکار نہیں سن سکا تھا… بہت دور تھا وہ اس سے… بہت دور… سونا نے پھر سے سعی کی خود کو چھڑانے کی… تبھی اس حبشی نے اس کے بازو کو چھوا تھا جہاں سے آستین پھٹی تھی… سونا سلگ اٹھی تھی اس کے لمس پر… اور پھر اچانک… بہت اچانک… اس کا ہاتھ اٹھا تھا… وہ ہاتھ جس میں جوتا ابھی تک تھام رکھا تھا… اور وہ جوتا جا کر اس شخص کی پیشانی پر لگا تھا… آنکھ سے قریب… وہ تیار نہیں تھا اس حملے کے لیے… تبھی کراہتا ہوا پیچھے ہٹا تھا… سونا خود ایک پل کو منجمند ہوئ تھی…. اس شخص کے ساتھیوں کا دھیان بھی کچھ لمحوں کے لیے بٹا تھا اور بس… یہی چند لمحات سونا کے لیے مددگار ثابت ہوۓ تھے… وہ تیزی سے ان کے درمیان سے نکلی تھی اور پھر اندھا دھند بھاگتی چلی گئ تھی… گالوں پر بہتے بے تحاشہ آنسوؤں کے ساتھ… ننگے پیر… اسے صرف یہ معلوم تھا کہ اسے اس وقت اپنی عزت کو بچانا ہے اور بس… وہ لوگ پھر سے اس کے پیچھے بھاگے تھے…. اسے گالیوں سے نوازتے… ان کے قدموں کی چاپ سنائ دے رہی تھی سونا کو… لیکن اس نے مڑ کر نہیں دیکھا… اپنی پوری طاقت لگا کر… جتنا تیز وہ بھاگ سکتی تھی بھاگی تھی… پیر زخمی ہو رہے تھے… پاؤں کے ناخن پر کوئ پتھر لگا تھا شاید… خون بہہ رہا تھا لیکن اس نے توجہ نہیں دی… تیزی سے بھاگتے ہوۓ ایک موڑ مڑی تھی… تبھی سامنے سے ایک گاڑی کی فلیش لائٹس آنکھوں کو چندھیا گئ… سونا نے بے ساختہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے تھے… گاڑی میں موجود اس شخص نے یوں اچانک گاڑی کے سامنے ایک لڑکی کو دیکھ کر بریک دباۓ تھے… گاڑی رکتے رکتے بھی سونا کو ہٹ کر چکی تھی… سونا جو پہلے ہی ہوش و حواس کھو رہی تھی گاڑی سے ٹکرا کر زمین بوس ہوئ…زمین و آسمان گھوم کر رہ گۓ اس کی نظروں کے سامنے… نوجوان جلدی سے گاڑی سے باہر آیا اور اس کی جانب بڑھا… “ہیلو… آر یو آل رائٹ… ” اس کے قریب جا کر تشویش سے پوچھا تھا… سونا نے ہتھیلیوں کے زور پر بمشکل اٹھ کر بیٹھی… منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں… نوجوان نے اس کی طرف دیکھا… آنسوؤں سے تر چہرہ… پیشانی پر گہرا زخم آیا تھا شاید… تیزی سے خون بہہ رہا تھا… “او مائ گاڈ… ” اس اجنی شخص کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا… لیکن سونا اس کی طرف متوجہ نہیں تھی… زخم کا بھی احساس نہیں تھا اسے… بس روتے ہوۓ خوفزدہ نظروں سے پیچھے مڑ کے دیکھا تھا… نوجوان نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا… تو اسے وہاں کھڑے وہ سات افراد نظر آ گۓ تھے… اس نے سونا کا حلیہ دیکھا تھا… اور ایک پل میں سچویشن کو سمجھ گیا تھا کہ کیوں وہ لڑکی یوں اردگرد دیکھے بغیر اس کی گاڑی کے سامنے آئ تھی… پھر نظریں موڑ کر دوبارہ ان شیطانوں کی جانب دیکھا… تلخ اور کڑی نظروں سے… وہ بھی لڑکی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھ کر رک گۓ تھے… اور پھر نہ جانے کیا سوچ کر واپس مڑ گۓ….. نوجوان نے سونا کی طرف دیکھا جو سر جھکاۓ بیٹھی رو رہی تھی… اس کی نظروں میں ترس تھا سونا کے لیے… اس کے پیر کے انگوٹھے اور پیشانی سے بہتے خون کو دیکھا تھا… “آپ ٹھیک ہیں… کیا میں آپ کی کوئ مدد کر سکتا ہوں.. ¿¿¿ ” نرمی سے پوچھا تھا… سونا نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا… لب بھینچے تھے… بغیر کوئ جواب دئیے آنسو صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئ تھی… لیکن پاؤں کے درد اور چکراتے سر کے باعث کڑکھڑا گئ… اس اجنبی نے ہاتھ بڑھا کر اسے سہارا دیا تھا ورنہ وہ گر چکی ہوتی… لیکن سونا نے نفرت سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا… اسے اس وقت ساری دنیا کے مردوں سے نفرت ہو چکی تھی… بے تحاشہ نفرت… “ڈونٹ ٹچ می..”
بھرائ آواز میں کہا تھا… اور بمشکل چلتی ہوئ روڈ کے ایک سایڈ پر بیٹھ گئ… چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تھا… وہ نوجوان کچھ لمحے وہیں کھڑا اسے دیکھے گیا… جانے کیوں اس کا دل اسے مجبور کر رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کی مدد کرے… دھیمے قدموں سے اس کی طرف آیا… قدموں کی آہٹ پر سونا نے روتے ہوۓ سرخ ہوتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا… “مم.. میرے قریب مت آنا… ” خوفزدہ آواز میں کہا تھا… وہ ڈر رہی تھی اس سے… وہ بھی تو آخر مرد ہی تھا نا…. ہوس کا پجاری… اس کی بات پر وہ وہیں رک گیا تھا… سونا کی حالت کو سمجھ رہا تھا وہ… تبھی برا نہیں مانا اس کی بات کا… “میم… دیکھیں مجھے غلط مت سمجھیں آپ… میں بس أپ کی مدد کرنا چاہ رہا ہوں… آپ کا گھر کہاں ہے… چلیے… میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں…” دھیمے نرم لہجے میں کہا تھا اس سے… “نہیں چاہیے مجھے آپ کی مدد… نہیں چاہئیے… کسی کی بھی مدد نہیں چاہئیے… جب میرے سر کا سائبان… میری عزت کا محافظ خود مجھے بیچ چوراہے میں چھوڑ گیا رات کے اس پہر ان وحشی درندوں کا شکار بننے کے لیے… جب اسے مجھ پر ترس نہیں آیا تو پھر آپ کیوں مدد کرنا چاہتے ہیں میری… کیا رشتہ ہے آپ کا میرے ساتھ…” وہ چلائ تھی… وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی… ہسٹریک ہو رہی تھی…. اونچی آواز میں روتے ہوۓ بول رہی تھی… “چلے جائیے آپ یہاں سے… مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں… میں مرتی ہوں تو مرنے دیں… مجھے نہیں چاہئیے کسی کی مدد… کسی کی ہمدردی… سب مرد ایک سے ہی ہوتے ہیں… تنہا عورت کا فائدہ اٹھانے والے… اسے اکیلی جان کر نوچ کھانے والے…” وہ اب بڑبڑا رہی تھی… سر گھٹنوں میں دے لیا… سسکیاں سنائ دے رہی تھیں اس کی… لہجہ اذیت لیے ہوۓ تھا… نوجوان نے چند لمحے رک کر اسے دیکھا… ہچکیوں سے اس کا وجود لرز رہا تھا… پھر وہ کندھے اچکاتا مڑا اور زن سے گاڑی بھگا لے گیا… سونا نے چکراتے سر کو گھٹنوں سے اٹھایا…سامنے اس جگہ کو دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ گاڑی کھڑی تھی…پھر نظر گھما کر اس طرف ڈالی جہاں سے کچھ دیر پہلے وہ شیطان گۓ تھے… اگر… اگر وہ پھر سے آ گۓ تو…. سوچتے ہی اس کے پورے جسم میں وحشت سی بھری تھی…اس نے اٹھنا چاہا… سارے منظر گڈ مڈ ہو رہے تھے… آنکھوں کے سامنے دھند سے چھا رہی تھی… نقاہت طاری ہو رہی تھی… پاؤں پر وزن ڈالنا محال تھا… آہیں نکلی تھیں منہ سے… وہ بے بس سی ہوتی وہیں بیٹھ گئ… ایک ہاتھ سے پیشانی کے زخم کو چھوا تو سسکاری سی نکلی منہ سے… ہاتھ کو دیکھا تو خون سے بھر چکا تھا… ابھی تک خون بہہ رہا تھا… اور شاید اسی وجہ سے زیادہ کمزوری محسوس ہو رہی تھی… آہستہ آہستہ وہ اپنے حواس کھوتی جا رہی تھی… دل سے ابھی بھی ڈر نہیں نکلا تھا… نیم بے ہوشی کے عالم میں بھی وہ ڈر کے باعث کبھی بابا کو پکارتی رہی اور کبھی شاہ کو… تبھی اس کے سامنے سے ایک گاڑی گزری تھی… کچھ دور جا کر گاڑی ریورس ہوتی اس کے سامنے آن رکی… لیکن گاڑی سے برآمد ہونے والے فرد کو دیکھنے سے پہلے ہی وہ ہوش و حواس سے بے گانہ ہو گئ…
`•••••••••
شاہ کس طرح گھر پہنچا تھا یہ وہی جانتا تھا… سر کے پچھلے حصے سے اٹھتا درد ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا…. بمشکل ڈرائیو کرتا وہ گھر پہنچا… لڑکھڑاتے قدموں سے وہ “شاہ ہاؤس” جانے کی بجاۓ “روز ولا” کی جانب بڑھا… وہاں گارڈز کھڑے تھے مستعد سے… شاہ وہاں سے گزرتا چلا گیا… گارڈز نے اس کی حالت کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا… جانتے تھے… کہ وہ ایسی ہی حالت میں ہمیشہ آتا ہے روز ولا… ان کے لیے کوئ نئ بات نہیں تھی… یہاں اس گھر میں شاہ کے سوا اور کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ تھی… گارڈز کا سخت پہرا تھا یہاں… جو شاہ کے حکم سے ہی لگایا گیا تھا… وہ گرتا پڑتا سیکنڈ فلور پر ایک روم میں آیا … سائیڈ ٹیبل کے دراز میں سے ایک ڈبیا نکالی… اس میں سے پین کلر لے کر منہ میں رکھی اور پانی کا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کر گیا.. ہاتھ میں موجود گلاس لرز رہا تھا… اس کے وجود کی لرزش اس کی تکلیف کا پتا دیتی تھی… گلاس ٹیبل پر رکھنے لگا تھا لیکن وہ نیچے گرا اور چھن سے ٹوٹ گیا… شاہ نے سر کو جھٹکا… شاید درد کم کرنے کی سعی کی تھی… لیکن درد بڑھتا ہی جا رہا تھا… وہ وہیں نیچے ہی بیٹھتا چلا گیا… بیڈ سے ٹیک لگاۓ… بے بسی سے سر کو تھامے… اپنے بال نوچنے لگا.. یہ شاہ اس شاہ سے یکسر مختلف تھا جو کچھ گھنٹے پہلے پارٹی میں تھا… یہ شاہ تو بالکل ٹوٹا بکھرا سا تھا… اپنے آپ سے بے زار… خود سے , اپنی زندگی سے نفرت کرنے والا شاہزیب سکندر… وہ وہیں سر کو بے بسی سے تھامے دوہرا ہوتا چلا گیا… پھر اس کی ہچکیوں کی آوازیں آنے لگی تھیں… ہاں…. وہ اونچا لمبا… بھرپور جسامت کا شخص اس وقت نیچے فرش پر بیٹھا بچوں کی طرح رو رہا تھا… پھوٹ پھوٹ کر… کوئ اسے دیکھ لیتا تو کبھ یقین نہ کرتا کہ یہ ہے شاہزیب سکندر… جس کی لوگ مثالیں دیتے تھے… ایک دنیا جس کی فین تھی… جسے ہر کوئ رشک کی نگاہ سے دیکھتا… ایک بار دیکھنے پر اسے دوبارہ دیکھنے کی چاہ ابھرتی تھی دل میں… جس سے لوگ اتنی محبت کرتے تھے وہ خود اپنے آپ سے, اپنے وجود سے نفرت کرتا تھا… بے تحاشہ, بے حساب… اگر… اگر خدا نے موت کو حرام نہ کیا ہوتا تو وہ کب کا اپنے آپ کو ختم کر چکا ہوتا… اب تو بس زندگی کو گھسیٹ گھسیٹ کر گزار رہا تھا…
اتنا عرصہ گزر گیا لیکن اس لڑکی کے ساتھ , پریشے کے ساتھ گزرے لمحات اس کی زندگی سے جاتے ہی نہ تھے… اس کی زندگی کا وہ مختصر سا حصہ جو اس نے پری کے ساتھ گزارا بھولتا ہی نہ تھا… وہ لمحے اس کی پوری زندگی پر بھاری تھے… جن کی وجہ سے وہ اپنی باقی زندگی کو بھی تباہ کر رہا تھا…
صدیاں ہیں کہ گزری ہی چلی جاتی ہیں !!!!!!!!
اور کچھ لمحے ہیں کہ اک عمر سے چپ چاپ کهڑے ہیں__
•••••••
کافی وقت گزر گیا تھا اسے یونہی بیٹھے بیٹھے… چپ چاپ… تنہا… خود سے باتیں کرتے… ماضی کو سوچتے… اس پر کڑھتے… اسے یاد کر کے روتے ہوۓ… اپنے ساتھ ہوئ نا انصافی اور زیادتی کو سوچ کر خود کو اذیت پہنچاتے ہوۓ… درد میں کچھ کمی ہوئ تھی… وہ آنسو پونچھتا اٹھا… ایک ہی جگہ ایک ہی رخ میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے پاؤں سن سے ہو گۓ تھے… بیڈ کا سہارا لے کر وہ اٹھا تھا… واشروم میں جا کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارے… آئینے میں رونے کے باعث سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا… پھر دوبارہ سے پانی کے چھینٹے چہرے پر مارنے لگا… خود کو نارمل کرتا وہ وہاں سے نکلا… سونا تو اس کے دماغ سے بالکل نکپ چکی تھی… وہ شاہ ہاؤس آ گیا… شاور لے کر کپڑے بدلے… سر بھاری ہو رہا تھا… پانی کے دو گلاس یکے بعد دیگرے پیے تھے اور پھر بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں… کہ شاید نیند اس پر مہربان ہو جاۓ… کافی دیر بعد بھی جب کروٹیں ہی بدلتا رہا اوع نیند نہ آئ تو وہ بستر سے اٹھ گیا… عجیب سی بےچینی نے دل کو گھیر رکھا تھا… کوئ اضطراب سا تھا نہ جانے کیوں… اس نے سگریٹ سلگائ اور کھڑکی میں جا کھڑا ہوا… سامنے چاند نظر آ رہا تھا… آدھا چاند… جس میں دھبے تھے… چاند کو دیکھتے ہوۓ اس کا دھیان بھٹکا تھا… حویلی میں رات کے آخری پہر بے خودی سے چاند جو تکتی ایک لڑکی… اس نے بارہا اسے چاند کو تکتے ہوۓ دیکھا تھا… نہ جانے کیا تلاش کیا کرتی تھی وہ اس چاند میں… وہ چونکا تھا… “پری…” لبوں نے بے آواز جنبش کی تھی… پھر وہ سگریٹ کو پھینکتا تیزی سے روم سے باہر آیا… سونا کے کمرے کی جانب بڑھا… دروازہ کھولا… وہ روم میں نہیں تھی… “وہ… وہ ابھی تک نہیں آئ…” شاہ بڑبڑایا تھا… پھر اسے کچھ یاد آیا… وہ تو پری کو کبھی اپنے گھر ہی نہیں لایا تھا… تو پری کو کیسے معلوم ہو گا کہ اس کا گھر کہاں ہے… “اوہ شٹ… یہ کیا ہو گیا ہے مجھ سے… یہ کیا کر دیا میں نے… گھر کا ایڈریس معلوم ہوتا تو ہی وہ گھر پہنچ پاتی…” اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا… اس بات سے بے خبر تھا کہ وہ پری نہیں سونا ہے جو اس کے گھر کے ایڈریس سے ہی نہیں بلکہ اس شہر کی سڑکوں سے بھی ناآشنا ہے… تو یہ تھی وجہ اس کی بے چینی اور اضطراب کی… اس لیے اسے سکون نہیں مل رہا تھا… کتنا وقت گزر گیا اسے گھر آۓ ہوۓ… اور اب تک وہ نہ جانے کہاں اور کس حال میں ہو گی… وہ تیزی سے کیز لیتا ہوا گاڑی تک آیا تھا…اس کی گاڑی تیزی سے سڑک پر جا رہی تھی… فون نکال کر اس کا نمبر ملانے لگا تھا جب یاد آیا کہ اس کا سیل تو وہ خود چھین چکا ہے اس سے… “ڈیم اٹ…” مکا اسٹیرنگ پر رسید کیا تھا…. اگلے پندرہ منٹ میں وہ اس جگہ پہنچ چکا تھا جہاں سونا کو اتارا تھا اس نے… گاڑی سے باہر نکل کر اردگرد دیکھا…” پری…” آواز بھی دی تھی… لیکن پھر رک گیا.. اس کا رئیل نیم پری نہیں سونا ہے… وہ بڑبڑایا تھا… اور پھر وہاں کافی دور تک پیدل ہی دیکھ کر آیا تھا… آوازیں بھی دی تھیں… لیکن وہاں سونا کا نام و نشان تک نہ تھا… وہ واپس گاڑی تک آیا… ایک ٹھوکر رسید کی تھی گاڑی کے ٹائر کو… خود کو ختم کرنے کو دل چاہ رہا تھا… ہمیشہ وہ اس لڑکی کے ساتھ جذباتیت میں, بدلے کی آگ میں غلط کر جاتا اور پھر خود ہی پچھتاتا تھا… اس نے پھر سے اردگرد نگاہ دوڑائ کہ شاید کہیں نظر أ جاۓ… لیکن وہ یہاں ہوتی تو ہی نظر آتی… وہ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی آگے بڑھا دی… ابھی کچھ ہی فاصکہ طے کیا تھا کہ چونک کر گاڑی کے بریک لگاۓ… سامنے سڑک کی طرف دیکھ کر وہ چونکا تھا… جلدی سے گاڑی سے اترا … سڑک پر سونا کا جوتا پڑا تھا… وہ پہچانتا تھا اس جوتے کو…. آج ہی تو پہنا تھا اس نے یہ… ہائ ہیلز… او مائ گاڈ… کہیں… کہیں وہ کسی حادثے کا شکار تو نہیں ہو گئ… وہ پاگل سا ہو گیا تھا یہ سوچ کر ہی… دل خوف سے لرز اٹھا تھا… اگر اسے کچھ ہو گیا تو… اس سےآگے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا… نہیں… میں ڈھونڈ نکالوں گا اسے… وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگ رہا تھا اسے آوازیں دے رہا تھا… لیکن جواب ندارد… “اگر وہ یہاں ہوتی تو جواب ضرور دیتی … ” شاہ بڑبڑایا تھا… تھک ہار کر وہ پھر گاڑی کی طرف أیا… گاڑی کو دھیمی رفتار میں چلاتے وہ اردگرد دیکھ رہا تھا… دل شدت سے دعائیں مانگ رہا تھا کہ کہیں تو وہ نظر آ جاۓ اسے… اس کی جان نکل رہی تھی اس وقت… آس پاس کی سڑکوں کو چھانتا وہ ایک سڑک سے گزر رہا تھا جب اسے گمان ہوا روڈ کی سائیڈ پر کوئ بیٹھا ہے… اس نے گاڑی ریورس کی تھی… اور پھر… وہ پہچان گیا تھا… سونا کو… ہاں وہ سونا ہی تھی… بلیک ساڑھی میں ملبوس… ایک درخت سے ٹیک لگاۓ… جوڑے سے بال نکل کر پشت پر اور چہرے پر بکھرے تھے… شاہ کی جان میں جان آئ… تیزی سے گاڑی سے اترتا وہ بھاگتا ہوا اس تک آیا تھا… لیکن اس کے قریب پہنچ کر… اس کا حال دیکھ کر اس کے قدموں تلے سے زمین سرکنے لگی تھی… ننگے پاؤں… زخمی انگوٹھے کے ساتھ وہ وہاں بیٹھی تھی….ہوش و حواس سے بے گانہ… پیشانی پر خون جما ہوا تھا… اور… اور شاہ کی نظر اس کے بازو پر پڑی تھی… اس نے اذیت سے آنکھیں موند لیں… اس کے بازو کی آستین پھٹی تھی… اور اس میں سے جھلکتے دودھیا بازو پر کھرونچیں نظر آ رہی تھیں… بازو چھلا ہوا تھا وہاں سے… ایک نظر دیکھ کر ہی شاہ جان چکا تھا کہ ان چند گھنٹوں میں اس نازک لڑکی پر کون کون سی قیامت ٹوٹی ہے… کاش… کاش کوئ اسے موت کے گھاٹ اتار دے… اس گناہ کی سزا کے طور پر… کہ جس لڑکی سے اسے محبت کا دعوی تھا اسے خود ہی کس حال کو پینچا دیا تھا اس نے… کرب سے شاہ نے سوچا تھا… پھر اس کے چہرے پر نظریں جما دیں… مٹے مٹے میک اپ پر آنسوؤں کے نشانات… آنکھیں سوجی ہوئ تھیں رو رو کر… پلکیں ابھی بھی نم تھیں… شاہ کو اپنے آپ سے ہی گھن آنے لگی تھی… وہ اتنا ظالم, اتنا بے بس کیسے ہو گیا … کہ خود اپنی عزت کو ہی رات کے اس پہر یہاں رلنے کے لیے چھوڑ گیا…
ﮐﺎﺵ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ہمیں
ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺭﺣﻤﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﺭ تے ہم
وہ کیسے معاف کر پاۓ گا خود کو اس سب کے لیے… آگے بڑھ کر اس نے سونا کو بازو کے حصار میں لیا تھا… اس کے گال تھپتھپاۓ… “سس.. سونا… آنکھیں کھولو… سونا پلیز… بہت برا ہوں نا میں… معافی نہیں مانگوں گا… کیونکہ میرا جرم قابل معافی ہے ہی نہیں… تم جو سزا دینا چاہو دے لینا… بٹ پلیز آنکھیں کھولو…” نم آواز میں وہ اس سے مخاطب تھا… پشیمانی سے… محبت سے… نرمی سے… لیکن افسوس… جو اس کی اس نرم آواز کو سننے کے لیے اب تک ترستی رہی آج اس کی آواز سن نہیں پا رہی تھی… آج ہوش میں ہی نہ تھی کہ وہ اس کے چہرے کی پشیمانی دیکھ سکتی… شاہ نے آنسو ضبط کرتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ لگایا تھا… اپنے سینے میں بھی بھینچا تھا… اس کے سر پر بوسہ دیا… پھر اس کی پیشانی کے ذخم کو دیکھا… نرمی سے قیمتی متاع کی طرح اسے اپنی گود میں اٹھایا اور گاڑی کی جانب بڑھ گیا… بس بہت ہو گیا ظلم… اب کوئ بدلہ نہیں… اب کوئ انتقام نہیں… اس لڑکی کو مزید کوئ تکلیف نہیں دے گا وہ… بالکل بھی نہیں… اس نے اپنے بازو سے آنسو صاف کیے… ایک بے بس سی نگاہ پچھلی سیٹ پر بے سدھ پڑی سونا پر ڈالی اور گاڑی ہاسپٹل کے راستے پر ڈال دیا…
•••••••••
اس حادثے کو آج ایک ہفتہ ہو چکا تھا… سونا کے ذخم بھر رہے تھے آہستہ أہستہ… لیکن روح کے ذخم ویسے ہی تھے… بالکل تازہ… وہ ہاسپٹل سے گھر آ چکی تھی… شاہ سے اس کا سامنا نہیں ہوا تھا اس دن سے… وہ اپنے روم میں ہی بند ہو کر رہ گئ تھی… کمرے سے نکلتی ہی نہ تھی… آنکھیں وقت بے وقت آنسو بہانے لگتی تھیں… وہ ہنسنا تو جیسے بھول گئ تھی….
مسکرانے کے زمانے…………………. گزر گئے صاحب
ایک شخص دفنا گیا میرے شوق بھی میرے ذوق بھی
شاہ بھی اس کے سامنے آنے سے کتراتا تھا… کیسے نظر ملاتا اس سے… کیا منہ لے کر جاتا اس کے سامنے… اس کا سامنا ہونے سے بچنے کی خاطر ہی وہ صبح جلدی چلا جاتا آفس… ناشتہ کیے بغیر… رات کو بھی آفس سے نکل کر بے مقصد ادھر ادھر گھومتا رہتا اور رات کے پچھلے پہر گھر میں داخل ہوتا جب یہ یقین ہو چکا ہوتا کہ وہ سو چکی ہو گی… رت جگوں کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے سے تیرتے رہتے… اس ایک ہفتے میں وہ دونوں ہی اپنے اپنے کمرے میں رات رات بھر جاگتے رہتے… دونوں اداس ہوتے… شاہ شرمندہ تھا تو دوسری جانب سونا منتظر تھی کہ وہ آۓ گا اس کے کمرے میں… اسے ایک نظر دیکھنے… اسکا حال پوچھنے… ہر روز وہ یہی امید لگاۓ کھڑکی میں کھڑی رہتی… اور ہر روز ناامید ہو کر کھڑکی سے ہٹ جاتی… شاہ اس کی طرف سے لاپرواہ نہیں تھا… وہ جانتی تھی… روز صبح جانے سے پہلے وہ جینی سے سونا کی طبیعت کا پوچھتا… اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنے کو کہتا… میڈیسن ٹائم پر دینے کی ہدایات دیتا… جینی نے ہی بتایا تھا اسے یہ سب… اور سونا اس بات پر بھی روئ تھی… اگر اس کے دل میں محبت ہے میرے لیے… اگر اتنی فکر کرتا ہے میری تو پھر میرے پاس کیوں نہیں آتا… میرا محرم, میرا شوہر ہو کر مجھ سے کیوں کتراتا ہے… کیسا گریز ہے یہ… آنکھیں چپکے سے آنسو بہاتیں…
اور پھر ایک دن… اس کی امید پوری ہو گئ تھی…. شاہ بھی تھک گیا تھا شاید اس آنکھ مچولی کے کھیل سے… وہ بھی تو اسے دیکھنا چاہتا تھا… لیکن ہمت نہیں ہوتی تھی اس کے سامنے جانے کی… لیکن آج… آج اس نے ہمت کر لی تھی اس کے روم میں آنے کی… رات کے ڈھائ بجے کا وقت تھا… جب وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر دھیرے سے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا… اسے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا وہ… اس لیے دروازہ ناک کیے بغیر ہی آ گیا… ارادہ تھا کہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر واپس آ جاۓ گا… تا کہ دل کی تسلی ہو جاۓ… وہ آستگی سے دروازہ بند کرتا بنا آہٹ پیدا کیے اس تک آیا تھا… وہ گہری نیند میں تھی اس وقت… لیکن پھر بھی اس کے لاشعور نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ شخص آ گیا ہے جس کا انتظار تھا اسے… شاہ دھیرے سے اس کے قریب بیٹھا تھا… نرم نگاہوں سے اس کا چہرہ تکنے لگا… دل کو قرار سا مل گیا تھا… وہ آنکھوں کے رستے اس کی صورت کو دل میں اتار رہا تھا… پرفسوں سا منظر ہو گیا تھا… اور وہ ڈوب گیا تھا اس منظر میں… اس کے چہرے پر سایہ فگن لمبی پلکوں کو دھیرے سے چھوا تھا اپنے ہاتھ سے… پھر فورا ہاتھ کھینچ لیا اس ڈر سے کہ کہیں اس کی نیند نہ ٹوٹ جاۓ… بے خبر تھا کہ جو جاگ رہے ہوں بھلا ان کی نیند کیسے ٹوٹ سکتی ہے… اس کے حسین چہرے کو دیکھتے ہوۓ اس کا ہاتھ تھاما تھا بہت نرمی سے… احتیاط سے… نظریں اس کی پیشانی پر موجود ذخم پر تھیں… جس پر اب بینڈیج نہیں تھی لیکن ذخم کا سرخ نشان تھا… وہ اس وقت سفید لباس میں کوئ اپسرا ہی لگ رہی تھی جس پر سے نگاہ ہی نہیں ہٹ رہی تھی…بہت دیر تک وہ اس کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہا… سونا نے اپنا سانس تک روک لیا تھا کہ اس کی ذرا سی جنبش پر وہ جان جاتا کہ وہ جاگ رہی ہے… اور وہاں سے چلا جاتا… وہ ان لمحات کو کچھ دیر اور جینا چاہتی تھی تبھی دم سادھے لیٹی رہی… وہ خاموش تھا بالکل خاموش… اس کا ہاتھ تھامے اس نہ جانے کیا سوچ رہا تھا… تبھی سونا کو اپنے ہاتھ پر نمی محسوس ہوئ تھی… شاہ رو رہا تھا اس سے کی گئ ذیادتیوں کو سوچ کر… اور اس کے وہ آنسو سونا کے اس ہاتھ پر گر رہے تھے جو شاہ کی گرفت میں تھا….
سونا کو تکلیف ہوئ تھی اس بات سے… کہ جسے اس نے چاہا وہ رو رہا تھا… شاید اپنی غلطیوں پر پشیمان تھا وہ… اور سونا… وہ ایک لمحے میں اپنے ساتھ کی گئ ہر ناانصافی بھول گئ تھی… اس کے معافی مانگے بنا ہی اسے معاف کر گئ تھی… شاہ کے ان آنسوؤں نے اپنی ہر خطا کا ازالہ کر دیا تھا…بے شک… محبت معاف کرنا سکھاتی ہے… درگزر کر جاتی ہے محبوب کی ہر غلطی کو… سونا کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اس کے بالوں میں جذب ہو گۓ تھے… تبھی شاہ اٹھا تھا… سونا کے ہاتھ میں موجود ہاتھ کھینچا تھا… اور اسی لمحے… ہاں اسی لمحے سونا نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا… مضبوطی سے… کبھی نہ چھوڑنے کے لیے….
شاہ مڑا تھا… اس کے نازک ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کے چہرے کی طرف… سونا اسے ہی دیکھ رہی تھی…. آنکھوں میں رک جانے کی التجا تھی… کچھ دیر اور… کچھ لمحے اور …
اور وہ اس کی امید کو توڑ نہیں سکا تھا… آج وہ اسے دھتکار نہیں سکا تھا… نہ جانے کیوں… آج وہ نفرت کا جذبہ کہیں دور جا سویا تھا… آج محبت طاقتور ٹھہری تھی… وہ مڑا تھا…. آہستگی سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا تھا… اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کر دی تھی… بہت نرمی سے…. بہت محبت سے اس کی پیشانی کو اپنے ہونٹوں سے چھوا تھا… سونا کے رگ و پے میں سکون سا اترتا چلا گیا… اس نے آنکھیں موند لی تھیں… شاہ نے اس کی آنکھوں کو باری باری چھوا تھا
اے پریوں سی حسین لڑکی..
جاؤ میں نے بھلا دیے خود پر کیے سب تیرے وہ ظلم..
جاؤ میں نے بھلا دیے اذیت میں گزرے وہ روز و شب..
کہ میری محبت فاتح ٹھہری.. میری وہ نفرت ہار گئ …
شاہ نے اس کے چہرے کو دیکھا.. وہ اس چہرے سے نفرت نہیں کر سکتا تھا مزید.. کہ جہاں محبت ہو وہاں کسی اور جذبے کی گنجائش نہیں.. تم بری تھی پری.. بہت بری.. تم نے میرے ساتھ برا کیا تھا.. لیکن میں تم سے بدلہ نہیں لے پا رہا…
میں تم سے نفرت نہیں کر پا رہا..
… پھر اس کے چہرے کو دیکھا… لرزتی پلکوں کو دیکھا… ان لمحوں کے یہیں ٹھہر جانے کی دعا کہ تھی… سونا نے اس کے ہاتھ کو اپنے گال پر رکھا تھا… وہ وہیں بیٹھ گیا تھا اس کے سرہانے… بہت نرمی سے اس کے بالون میں انگلیاں چلانے لگا… دھیرے دھیرے… اور وہ پرسکون ہوتی چلی گئ… کتنی راتوں سے جو تشنگی سی تھی … آج وہ ختم ہوتی چلی گئ تھی… آج اس کی ساری اذیتوں کا مداوا ہو گیا تھا… اور اسی سکون کا نتیجہ تھا کہ کچھ ہی دیر بعد وہ گہری نیند کی آغوش میں جا سوئ تھی… شاہ بہت ریر تک وہیں بیٹھا رہا تھا… یک ٹک اسے دیکھتا… اس کے چہرے سےجھلکتی معصومیت میں کھویا رہا…
پری.. تم ویسی کیوں نہیں لگتی اب…
یہ چہرے کی معصوم ی … اور ماضی کی لا علمی .. کیا یہ اداکاری ہے.. کیا تم وہی ہو.. تم ویسی ہو کر بھی ویسی نہیں لگتی “
وہ خود سے محو کلام تھا
کیا اسے کوئ غلط فہمی ہوئ ہے… کیا سونا واقعی ہی بے قصور ہے… کیا وہ ظلم کرتا رہا ہے سونا پر بلا وجہ… وہ جو اس کی ہر بات کو جھٹلاتی رہی… کیا وہ صحیح تھی… لیکن… ایسا کیسے ہو سکتا ہے… یہ پریشے ہی تو ہے… اس کا چہرہ… وہ الجھا… پھر خود ہی اپنی سوچ کو جھٹکا… صرف چہرہ ہی ویسا ہے … لیکن ایک بھی عادت اس کے جیسی نہیں… عادات میں تضاد ہے… اف یہ سب کیا چل رہا ہے… ایسا کیسے ہو سکتا ہے… وہ کشمکش میں تھا… پھر گہری سانس لی اور اٹھ کھڑا ہوا تھا… جو بھی حقیقت ہے بہر حال وہ ایک فیصلہ لے چکا تھا… اور اب اسے اس فیصلے پر عمل درآمد کرنا تھا… کیونکہ یہی بہتر تھا اس کے لیے اور سونا کے لیے… مڑ کر ایک نظر سونا پر ڈالی جو اس بات سے بےخبر پر سکون سی سو رہی تھی کہ اب اس پر کونسی قیامت ٹوٹنے والی ہے جو اس کی پوری ہستی کو تہس نہس کر کے رکھ دے گی… وہ مڑا اور کمرے سے نکلتا چلا گیا..
