Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20
کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتے تھے… کمرے میں آ کر سونا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.
••••••••
سارا دن گزر گیا تھا… سونا نے رات کو ہی کھانا کھایا تھا… صبح سے پانی ہی گزارا کر رہی تھی… جانتی تھی جب تک شاہ اس سے اپنی بات منوا نہیں لے گا اسے سکون نہیں ملے گا… اور اس کی بات ماننا سونا کے بس میں نہ تھا… مچھلی کیسے کھاتی وہ… دیکھ ہر ہی دل متلانے لگتا تھا.. وامنٹنگ جیسی فیلنگز ہو جاتی تھیں…. کیا مصیبت تھی.. وہ شادی کے بعد اب اپنی مرضی کا کھانا بھی نہیں کھا سکتی تھی… پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے… وہ شروع سے ہی بھوک کی کچی تھی…. ٹائم پر کھانا نہ کھاتی تو طبیعت خراب ہونا شروع ہو جاتی تھی… کہاں آج سارا دن گزر گیا تھا اور ایک نوالہ تک حلق سے نہ اترا تھا… اسے بابا یاد آ رہے تھے… بابا کو مچھلی بہت پسند تھی لیکن صرف اس وجہ سے کہ سونا مچھلی نہیں کھاتی تھی ان کے گھر کبھی مچھلی نہیں بنی… اور اب.. وہ شخص صرف اسے ٹارچر کرنے کے لیے یہ سب کر رہا تھا… اللہ اللہ کہاں جاۓ وہ…. جب بھوک برداشت سے باہر ہونے لگی تو وہ نیچے آئ… کچن میں ملازمین تھے… وہ کچھ دیر لب کچلتی خاموش کھڑی رہی… “میم… کچھ چاہئیے آپ کو…¿¿¿” وہ سونا سے تین سے چار سال بڑی لڑکی تھی جو شائستگی سے اس سے پوچھ رہی تھی… سونا کو سمجھ نہیں آئ کہ کیا کہے… ” کھانے کو کچھ ہے…” اس نے ہچکچاتے ہوۓ پوچھا… ملازمہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئ… جانتی تھی کہ سونا کو پسند نہیں فش… لیکن سر کی حکم عدولی نہیں کر سکتی تھی وہ…. اس کی جاب کا سوال تھا… “آپ بیٹھیے… میں لاتی ہوں کھانا…” سونا اس کے کہنے پر آ کر ڈائیننگ ہال میں کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ… سر جھکاۓ وہ آنسو ضبط کر رہی تھی… مغرب سے کچھ دیر بعد کا وقت تھا یہ… کچھ ہی دیر بعد کھانا اس کے سامنے تھا… پھر سے وہی فرائیڈ فش… اف… وہ چکرا کر رہ گئ..
اس کی خوشبو سے ہی سونا کا جی متلانے لگا.. دل چاہا تھا کہ اٹھ کر چلی جاۓ یہاں سے… نہ کھاۓ کھانا… لیکن پیٹ کھانے کو کچھ مانگ رہا تھا… اس نے دل کڑا کر کے کھانا شروع کیا… حالت خراب ہو رہی تھی… لیکن وہ کھانے لگی تھی… جب طے تھا کہ وہ شخص اسے یوں معاف نہیں کرے گا تو پھر سونا کو ہی ضد چھوڑنی تھی… ملازمہ تاسف سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی.. اس کے چہرے کے بدلتے رنگ… … چند نوالے ہی حلق سے اترے تھے جب اس کی طبیعت خراب ہوئ تھی… ایک دم وامٹنگ اسٹارٹ ہوئ تھی… وہ اٹھ کر بھاگی تھی واشروم کی جانب… رنگت زرد ہو رہی تھی… جیسے جسم سے خون تک نچوڑ لیا ہو… وہ باہر آئ تو قریب ہی صوفہ پر بے دم سے گر گئ… اسے چکر آ رہے تھے… سانس ٹوٹ رہی تھی… اسے الرجی تھی فش سے… فش اسے سوٹ نہیں کرتی تھی… پہلے بھی ایک بار کھائ تھی فش تب بھی سانس رکنے لگی تھی مرتے مرتے بچی تھی وہ… ICU تک پہنچ گئ تھی…
بابا کے ہاتھ پاؤں پھول گۓ تھے تب… اور اسی لیے کبھی گھر میں فش نہیں بنوائ تھی انہوں نے… اور آج پھر… وہی حالت ہو رہی تھی…لیکن آج اس کے پاس بابا نہیں تھے جو اسے سنبھالتے… اس کی حالت بگڑ رہی تھی مسلسل..
سانس اکھڑ اکھڑ کر آ رہا تھا… شدید قسم کی کھانسی کے دورے پڑ رہے تھے. لبوں سے بس ایک ہی لفظ نکل رہا تھا اور وہ تھا بابا… وہ رو رہی تھی …بابا کو پکار رہی تھی..
ملازمہ اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گئ تھی… جلدی سے اس کے پاس آئ… “میم… آپ ٹھیک تو ہیں…” پریشانی سے پوچھا تھا… “پپ… پانی…” وہ بمشکل بول پائ تھی… ہکلاتے ہوۓ پانی مانگا… ملازمہ جلدی سے پانی لائ… اس نے کانتے ہاتھوں سے گلاس تھاما… ایک گھونٹ بھی نہیں پیا تھا کہ گلاس گر گیا تھا… وہ بے دم سی ہوتی صوفے پر لڑھک گئ… ہوش و حواس سے بے گانہ ہو چکی تھی… ایک ملازم نے جلدی سے شاہ کو کال ملائ تھی… اسے ساری صورتحال بتائ… شاہ پریشان ہوا تھا اس کی بات سن کر… فش کھانے سے اتنی طبیعت خراب ہو گئ… وہ حیرت سے سوچ رہا تھا… اس نے ڈاکٹر کو کال کر کے گھر آنے کو کہا تھا اور خود آفس سے اٹھ آیا تھا…
ڈاکٹر گھر آیا تھا… چیک اپ کیا تھا… اس کی حالت خاصی تشویشناک تھی… فی الحال شاہ گھر نہیں پہنچا تھا… ڈاکٹر نے ملازموں کو ہی ڈانٹ دیا تھا … “آپ لوگ پاگل ہیں کیا… ان کو سخت قسم کی الرجی ہے فش سے… جانتے ہیں کتنی خطرناک ہو سکتی تھی ان کے لیے… جان بھی جا سکتی تھی ان کی… کچھ لوگوں کو نہیں سوٹ کرتی فش.. کچھ لوگوں خاص قسم کی فوڈ الرجیز ہوتی ہیں . اور جانتے بوجھتے ہوۓ بھی انہیں دی گئ… اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو… ” ملازمین نے خاموشی سے ڈانٹ سنی تھی… وہ کیا کہہ سکتے تھے جب ان کے مالک کا ہی یہ حکم تھا… اور انہیں کیا معلوم کے الرجک ہیں وہ فش سے.. وہ تو بس یہ سمجھ رہے تھے کہ ویسے ہی پسند نہیں انہیں… ڈاکٹر نے انجکشن دیا تھا اور کچھ ضروری میڈیسن دے کر رخصت ہو گیا تھا…
شاہ جب گھر آیا تو سونا کی طبیعت کافی حد تک سنبھل چکی تھی… وہ ہوش میں آئ تھی لیکن پھر سو چکی تھی.. شاہ نے آ کر ملازمین سے اس کی طبیعت دریافت کی تھی… ملازمین نے ڈاکٹرز کی برائ سب باتیں کہہ دی دیں… وہ پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا… شائستہ نے ایک بار سرسری سا ذکر کیا تھا کہ سونا کو فش نہیں پسند… اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ اس سے سونا کی طبیعت اتنی خراب ہو جاۓ گی… وہ شرمندہ ہوا تھا اپنی اس حرکت پر… مقصد اسے تھوڑا سا ٹارچر کرنا تھا… لیکن اسے یوں تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا.
اس نازک سی لڑکی کو جسمانی طور پر اتنی شیادہ تکلیف دے گیا وہ..
یہ سوچ کر کہ سونا سانس نہیں لے پا رہی تھی ..اس کا خود کا سانس رکنے لگا..
________
شاہ بے چینی سے ٹہل رہا تھا اپنے روم میں… کسی پل قرار نہ تھا… اس کی وجہ سے آج وہ لڑکی کتنی اذیت سے گزری… اگر اسے کچھ ہو جاتا تو… او مائ گاڈ… یہ کیا کر رہا ہوں میں… اس نے بے بسی سے سر کو تھاما… پھر ذہن میں کوئ خیال آنے پر جلدی سے اٹھا اور نیچے آیا… “سونا جب ہوش میں آئ تھی تو اس نے کچھ کھایا تھا¿¿¿ کھانا دیا تھا اسے..¿¿¿” اس نے ملازم سے پوچھا… “نہیں سر… میں نے پوچھا تھا میم سے … لیکن نقاہت اتنی تھی کہ ان سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا… انہوں نے کہا تھا کہ انہیں کچھ نہیں کھانا…” ملازم نے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ کہیں اس کی ہی شامت نہ آ جاۓ… شاہ نے پیشانی مسلی… چند لمحے کچھ سوچا تھا… “ایسا کرو… چکن کڑاہی کا سامان نکال کر رکھو… میں دس منٹ میں آ رہا ہوں… ” حکم دیتا وہ واپس مڑ گیا… ابھی تک وہ آفس کے ہی حلیے میں تھا… پریشانی میں شوز تک نہ اتارے تھے… جا کر شاور لیا… ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ماتھے پر بکھرے بالوں کے ساتھ وہ کچھ دیر بعد سیڑھیاں اتر رہا تھا…
اسے معلوم تھا کہ سونا چکن کڑاہی شوق سے کھاتی ہے… اس لیے ایپرن باندھے اب وہ اس کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے اس کی فیورٹ ڈش بنا رہا تھا… رات ساڑھے گیارہ کا وقت تھا… ملازمین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا… کہاں تو اسے مجبور کیا تھا کہ وہ اپنی ناپسندیدہ ڈش کھاۓ اور کہاں اب خود اس کی فیورٹ ڈش بنائ جا رہی تھی… یہ سب کیا معاملہ چل رہا ہے بھلا… وہ سوچ سکتے تھے لیکن پوچھنے کی گستاخی نہیں کر سکتے تھے…
کچھ دیر بعد شاہ چکن کڑاہی بنا چکا تھا… ملازمہ کو حکم دیا تھا کہ کھانا لے جاۓ سونا کے روم میں… اور اسے کھانا کھلا کر ہی آۓ… چاہے وہ چند نوالے ہی کھاۓ لیکن کھاۓ ضرور… کیونکہ بھوکا رہنے سے اس کی طبیعت پھر بگڑ سکتی تھی… ملازمہ ٹرے میں کھانا سجاۓ کچن سے نکلی.. “سنو… اسے مت بتانا کہ یہ میں نے بنایا ہے..” شاہ نے ٹرے میں موجود کھانے کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا… “جی سر…” ملازمہ ذیر لب مسکراتی ہوئ واپس مڑ گئ… “سر اوپر اوپر سے ہی غصہ ہوتے ہیں میم کو.. ورنہ دل میں تو محبت ہے ان کے لیے…” ملازمہ مسکراتے ہوۓ سوچ رہی تھی… شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہ گیا… ایپرن اتارا اور اپنے روم میں چلا گیا…
•••••
بہت سے دن گزر گۓ… ان دونوں کا سامنا نہیں ہوا… شاہ نے سرونٹس سے کہہ دیا تھا کہ سونا کو اس کی مرضی کا کھانا بنا کر دے دیا جاۓ… وہ خود بھی کتراتا تھا اس کا سامنا کرنے سے… عجیب سی کیفیت تھی… شادی کی تھی اس سے یہ سوچ کر کہ اس سے گن گن کر بدلے لے گا… لیکن اب نہ جانے کیا ہوتا جا رہا تھا اسے… الجھن میں پڑ گیا تھا وہ… اسے تکلیف دینے کی کوشش کرتا تو خود اس سے کہیں ذیادہ اذیت سے گزرتا… جب وہ کرب میں مبتلا ہوتی تو شاہ کو بھی سکون نہ ملتا… اس کا خیاک تھا کہ سونا کو ٹارچر کر کے اس کے بے چین دل کو قرار ملے گا … اس لیے بدلے کی آگ میں جلتے ہوۓ اس نے اسے اپنایا… لیکن اب وہ خود ہی ہار رہا تھا اس کے سامنے..
شاہ بہت کنفیوز ہو جاتا کبھی کبھی…
وہ پہلے دن سے ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے وہ شاہ کو جانتی تک نہیں تھی پہلے سے .. جانے وہ یہ ناٹک کر رہی تھی.. کوئ ڈرامے بازی..
اپنی منگنی پر جب وہ پہلی بار اس کے روبرو ہوا تھا.. وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ پری اتنے عرصے بعد اس انسان کو اپنے سامنے دیکھ کر کیا ری ایکٹ کرے گی جسے وہ اپنی دانست میں مار چکی تھی.. کیا وہ اسے دیکھ کر شاکڈ ہو گی.. ڈر جاۓ گی.. شادی سے انکار کرے گی.. وہ کیا کرے گی..
وہ شاکڈ تو ہوئ تھی.. لیکن اس نے شادی سے انکار نہیں کیا تھا.. واویلا نہیں کیا تھا.. شاید وہ ابھی بھی اس غلط فہمی میں تھی کہ سکندر اس سے محبت کرتا ہے اور سب بھلا دے گا..
اور بھلا کیوں انکار کرتی وہ.. زرا سی دولت پیچھے جسے مارا تھا اب وہ انسان ساری دولت سمیت مل جو رہا تھا.. “ہونہہ.. ” شاہ کو اس کی اداکاری اور پلاننگ, خوشفہمیوں سے نفرت ہوئ..
وہ دن انتہائ غصے میں گزرے تھے شاہزیب سکندر کے.. اور وہ شادی کر کے اس کی زندگی میں دوبارہ آ گئ..
وہ الجھ کر رہ جاتا.. کہ وہ ایسے کیوں ظاہر کر رہی ہے جیسے اس نے کبھی کچھ کیا ہی نہیں.. اگر یہ اداکاری یا کوئ ڈرامہ تھا تو بہت اعلی اداکاری تھی..
شاہ سونا سے اس کا موبائیل بھی لے چکا تھا… کہ وہ اپنے بابا سے بات نہ کر سکے… یہ بھی اسے ٹارچر کرنے کا ہی ایک بہانہ تھا… اسے روتے دیکھ کر دل کو تسکین بھی ملتی تھی…
وہ خود اس کی بات کروا دیتا تھا عبدالہادی سے اور حویلی کے باقی مکینوں سے… اور ویڈیو کال پر بات کرتے ہوۓ یوں ظاہر کرتا تھا جیسے اس کے اور سونا کے درمیان بہت خوشگوار تعلقات ہوں…
••••
یہ صبح کا وقت تھا… موسم بے حد خوشگوار تھا… ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی… صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد سونا لان میں آئ تھی چہل قدمی نے… موسم نے اس کے مزاج پر کافی اچھا اثر ڈالا تھا… اتنا اچھا موسم دیکھ کر وہ اندر گئ تھی… ملازم سے کہہ کر اپنا پینٹننگ کا سامان اس نے لان میں منگوایا… سر سبز گھاس آنکھوں کو تازگی بخش رہی تھی… ملازم جا چکا تھا اور سونا اب کینوس پر رنگوں سے کوئ تصویر بنانے میں مگن تھی… پنک کلر کے سادہ سے ڈریس میں نکھری نکھری سی لڑکی اس حسین موسم میں حسین جذبات جگا رہی تھی.. شاہ مین ڈور سے اندر داخل ہوا تھا… ٹریک سوٹ میں ملبوس… ہاتھ میں واٹر بوتل لیے… وہ اندر داخل ہوا تھا تو گیٹ کے قریب کھڑے ایک ملازم نے ٹشو اس کے سامنے کیے… شاہ نے چند ٹشو کھینچے اور چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا… بال بھی ہلکے نم ہو کر ماتھے پر بکھرے تھے… رنگت سرخ ہو رہی تھی… اس نے پانی کے چند گھونٹ پیے… اور بوتل ملازم کو تھما دی… تبھی مانو بھاگتی ہوئ آئ تھی اس کے پاس… سفید لمبے لمبے پھولے بالوں اور سبز آنکھوں والی مانو… جو اپنے مالک کو پہچانتی تھی… شاہ نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا… ڈمپل گہرے ہوۓ تھے… ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھایا گود میں…اور اس کے بالوں کی نرماہٹ کو محسوس کرنے لگا… تبھی اس کی نگاہ سونا پر پڑی… ان کی جانب سونا کی پشت تھی… جس پر لمبے سیاہ بال کاکی گھٹا کی طرح بکھرے تھے
جس پر لمبے سیاہ بال کالی گھٹا کی طرح بکھرے تھے… شاہ الجھا تھا… پری کے بال شولڈر کٹ تھے… اسے لمبے بال پسند نہ تھے… پھر اب یہ لمبے بال… ہونہہ… چار سال میں بال بڑھا لینا کونسا مشکل کام ہے… اس نے سوچ کر سر جھٹکا… بے ساختہ قدم اس کی جانب بڑھے تھے… حالانکہ شاہ کو آفس کی تیاری کرنی تھی ابھی جا کر… لیکن نہ جانے کیا سوچ کر وہ اس کے پاس چلا آیا… سونا اپنے ہی خیالوں میں مگن تھی… شاہ نے کینوس پر نگاہ دوڑائ… بہت خوبصورت منظر پینٹ کیا گیا تھا… کسی جنگل کا منظر تھا وہ… بہت سے درخت تھے… ہریالی تھی… گھاس دکھائ گئ تھی… ایک طرف سفید گھوڑا گھاس کھا رہا تھا… اور اس سے کچھ ہی فاصلے پر ایک لڑکی بیٹھی تھی… درخت سے ٹیک لگاۓ… سفید لباس میں کوئ پری ہی لگ رہی تھی… جو چیز اس پینٹنگ میں اٹریکٹ کر رہی تھی وہ تھی لڑکی کی اداسی… وہ تنہا بیٹھی تھی وہاں… اپنے ہی خیالوں میں گم… دنیا و مافیہا سے بے خبر… چہرہ اداس سا تھا… اور…. وہ چونکا… اور سونا نے اس کی آنکھوں کا رنگ بلیو پینٹ کیا تھا… نیلی آنکھیں… بالکل شاہ کی آنکھوں جیسی… وہ بے خود سا پینٹنگ کو دیکھ رہا تھا… جب ایک دم مانو کی آواز آئ… “میاؤں… ” سونا ایک دم اچھلی تھی.. مڑی تو مانو کو اپنے اتنا قریب دیکھ کر وہ ڈر گئ تھی … بے تحاشہ خوف ابھرا تھا… فورا ان دونوں سے چند قدم دور ہوئ تھی… چہرے کا رنگ بھی بدلا تھا… پینٹ کلر اور پینٹ برش اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گر گۓ تھے… شاہ نے حیرت سے اس کا ردعمل دیکھا… پھر مانو کی جانب… “کیا ہوا..¿¿¿” دو قدم آگے بڑھا تھا… لیکن وہ چار قدم پیچھے ہوئ تھی.. “مم… میرے قریب مت آئیے گا پلیز… دور رہیں…” سونا ہکلاتے ہوۓ بولی تھی… شاہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا… یہ کیا کہہ رہی ہے وہ… “مجھے بھی کوئ شوق نہیں ہے تمہارے قریب آنے کا… سمجھی تم…” اس نے سختی سے کہتے ہوۓ اس کے چہرے کو دیکھا.. لیکن وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی… اس کی نظریں مسلسل مانو پر جمی تھیں… خوف سے بھری آنکھیں… تبھی مانو نے چھلانگ لگائ تھی اور سونا کی طرف گئ… سونا کی چینخ نکلی تھی.. بھاگ کر شاہ کے پیچھے آ کر چھپی… وہ تھر تھر کانپ رہی تھی… ایک ہاتھ سے شاہ کا بازو زور سے پکڑ رکھا تھا… شاہ حیرانگی سے اس کی حرکتیں دیکھ رہا تھا.. “یہ… کیا کر رہی ہو تم یہ سب… ” اس نے کھینچ کر سونا کو اپنے سامنے کیا تھا… مانو وہاں سے جا چکی تھی… “مم… مجھے… ڈ…ڈر لگتا ہے بلیوں سے..” بھرائ آواز میں کہا گیا تھا… شاہ نا سمجھی سے اسے دیکھے گیا… یہ کیا نیا ناٹک ہے بھلا… اس نے ہی تو بچایا تھا مانو کو… شاہ نے خود دیکھا تھا اسے مانو کو اٹھاۓ ہوۓ… تب تو ڈر نہیں لگتا تھا اسے بلی سے… اور اب اس کے قرہب آنے سے ہی کیسے خوف سے چہرہ سفید ہو گیا تھا اس لڑکی کا… واٹ نان سینس… اس کے ڈرامے کبھی ختم نہیں ہوں گے… ” اس نے تلخی سے سوچا تھا… ایک نظر اس کے وجود پر ڈالی… مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندونی حصے کی جانب بڑھ گیا… جبکہ سونا خشک لبوں کو زبان سے تر کرتی اردگرد دیکھ رہی تھی کہ کہیں پھر نہ آجاۓ مانو… اف… اس نے گہرا سانس لیا… پتا نہیں یہ بلیوں سے میرا ڈر کب ختم ہو گا… عجیب مصیبت ہے… وہ اپنی پینٹنگ کی جانب متوجہ ہوئ.
••••
ایک دن فارغ بیٹھ بیٹھ کر وہ تھک گئ تو کچن میں چلی آئ… ملازمہ اس وقت کھانا بنانے میں مصروف تھی… سونا نے اس سے شاہ کی فیورٹ ڈش پوچھی اور وہ بنانے لگ گئ… وقت تو کٹ جاۓ گا نا… دل میں سوچا تھا… ملازمہ نے اسے منع بھی کرنا چاہا لیکن وہ بضد تھی اس لیے ملازمہ خاموش ہو گئ… پچھلے چند دنوں میں اس لڑکی کے ساتھ اس کی بات چیت ہونے لگی تھی…
رات میں جب شاہ آیا اور اسے کھانا سرو کیا گیا تو ٹیسٹ چینج محسوس ہوا تھا اسے… ملازمہ جس کا نام جینی تھا اسے بلایا اور پوچھا کہ کھانا کس نے بنایا آج… اس نے بتا دیا کہ سونا میم نے… سونا بھی وہیں بیٹھی تھی اور صرف اسے اذیت دینے کے لیے شاہ نے وہ سارا کھانا ضائع کروا دیا…جبکہ اسے وہ کھانا پسند بھی آیا تھا… لیکن صرف سونا کی انسلٹ کرنے کے کیے ایسا کیا اس نے “آپ کو جس کام کی پے دی جاتی ہے… بہتر ہے آپ وہ کام خود کریں… ” سختی سے جینی سے کہا تھا اور نخوت بھری نظر سونا پر ڈال کر اٹھ گیا… سونا لب کاٹتی وہیں بیٹھی رہ گئ… ایسا پہلے بھی بہت دفعہ ہو چکا تھا… وہ اس کی توہین کر جاتا تھا یہ پرواہ کیے بغیر کہ سامنے سرونٹس بھی ہیں.
••••••
اس دن رات کے دس بج رہے تھے… سونا اپنے روم کی طرف جا رہی تھی جب جینی بھی سیڑھیوں کی طرف بڑھی… ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں چاۓ تھی… “شاہ کے لیے ہے…¿¿¿” سونا نے پوچھا… تو جینی نے اثبات میں سر ہلایا… “لاؤ میں لے جاتی ہوں… میں بھی اسی طرف جا رہی ہوں… ” سونا نے کہتے یوۓ ٹرے تھامی… جینی کشمکش میں مبتلا تھی کہ کیا کہے… سر پھر غصہ میں آ جائیں گے… اس سے پہلے کہ وہ منع کرتی سونا ٹرے تھام چکی تھی… جینی واپس آ گئ…
دروازے کے قریب پہنچ کر سونا نے ٹرے ایک ہاتھ پر ٹکائ اور دستک دی… “کم ان…” بھاری آواز میں کہا گیا تھا… سونا اندر داخل ہوئ… شاہ کسی فائل پر جھکا کام میں مصروف تھا… ٹرے ٹیبل پر رکھتی سونا پر ایک نظر ڈالی… “رکو…” سونا جو ٹرے رکھ کر باہر جانے کو مڑی تھی اس کی آواز پر مڑی…سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا… “واپس لے جاؤ اسے…مجھے تمہاری لائ گئ چاۓ نہیں پینی..” نخوت سے کہا تھا… سونا سر تا پا سلگ اٹھی اس کی بات پر… “کیوں میں اس میں زہر ملا کر لائ ہوں کیا…¿¿¿” انداز مین غصہ اور احتجاج تھا… اس کی بات پر شاہ نے شرر بار نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا… فائل کو ایک سائیڈ پر پٹخا… اور چلتا ہوا اس کے مقابل آ کھڑا ہوا… “جو زہر تم میری زندگی میں گھول چکی ہو… اس کے بعد تمہیں کیا ضرورت ہے بھلا اس چاۓ میں زہر ملانے کی…” نفرت سے چبا چبا کر کہا تھا… سونا نے لب بھینچے… “کونسے زہر کی بات کر رہے ہیں آپ… ہاں کیا کیا ہے میں نے … مجھے بھی تو کچھ پتا چلے… ہر وقت پہیلیاں بجھواتے رہتے ہیں… صاف اور سیدھی بات کیوں نہیں کرتے آپ… نہ جانے کونسے خواب دیکھے آپ نے جن میں میں نے آپ کی زندگی میں زہر گھول دیا… اتنی ہی نفرت تھی مجھ سے تو کیوں کی شادی مجھ سے… کیوں فورس کیا تایا جی کو اس رشتے کے لیے… کیوں ان سے کہا کہ آپ مجھے پسند کرتے ہیں… ” سونا تڑخ کر بولی تھی… بہت دنوں سے وہ برداشت کر رہی تھی… لیکن آج صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا… شاہ کا ہاتھ اٹھا تھا اور اس کے نازک گال پر ہانچ انگلیوں کا نشان ثبت ہو گیا تھا… سونا لڑکھڑائ تھی… آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا تھا ایک دم… اس نے بے یقینی سے شاہ کی طرف دیکھا… “بس… اب ایک اور لفظ نہیں…. میرا ضبط مت آزماؤ… مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہارے ساتھ کچھ برا کر گزروں.. چلی جاؤ یہاں سے… میرے سامنے مت آیا کرو… نفرت کرتا ہوں میں تم سے… بے پناہ نفرت… تمہاری شکل دیکھ کر ابال اٹھتا ہے میرے سینے میں… مجھے اپنی صورت مت دکھانا اب… چلی جاؤ یہاں سے…” وہ غرایا تھا… آنکھوں میں سرخی ابھری تھی… مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں… سونا نے دھندلاتی نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا… بے یقینی سے دو قدم پیچھے ہوئ تھی… پھر مڑی اور بھاگتی ہوئ اس کمرے سے نکلی تھی… وہ زاروقطار رو رہی تھی… اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کیا اور وہیں نیچے زمین پر بیٹھتی چلی گئ… اس نے تو سوچا تھا کہ شاہ کے اور اس کے درمیان کوئ غلط فہمی ہے اور وہ اپنے اچھے سلوک سے, اپنے رویے سے شاہ کو بدل دے گی.. اسکی یہ بے وجہ نفرت ختم کر دے گی لیکن آج یہ امید بھی ختم ہو گئ تھی… وہ اسے خود سے میلوں کے فاصلے پر محسوس ہوا تھا کہ چاہ کر بھی سونا اس فاصلے کو, اپنے اور اس کے درمیان کی ان غلط فہمیوں کو ختم نہیں کر سکتی تھی…
••••••
وہ خاموش ہو گئ تھی… اس کے سامنے آنا بھی چھوڑ دیا تھا… بہت سے دن ایسے ہی گزر گۓ.. شاہ کی موجودگی میں وہ اپنے روم سے ہی نہیں نکلتی تھی… شاہ جب بھی گھر آتا اس کی نگاہیں بے اختیار سونا کی تلاش کیں اردگرد گھومتیں… لیکن وہ اسے کہیں دکھائ نہ دیتی… وہ مضطرب ہو جاتا… خود پر غصہ آنے لگتا… اسے دیکھتا تھا تو اپنا ماضی یاد آتا تھا… دیکھتے ہی آگ سی لگ جاتی اسے… اور جب وہ کہیں نظر نہ آتی تب بھی بے چینی ہونے لگتی… نگاہیں بار بار اسے ہی تلاش کرتیں… دل تڑپتا… ایک نظر اسے دیکھنے کی خواہش کرتا … لیکن وہ نہ جانے کس کونے میں چھپ جاتی تھی جا کر… جو اسکے سامنے ہی نہ آتا… وہ کب بھینچ کر رہ جاتا… اپنے روم میں جاتے ہوۓ نظریں بے ساختہ اس کے روم کے دروازے سے الجھ جاتیں کہ شاید اس کا دیدار ہو جاۓ… شاید اب وہ کمرے سے باہر آجاۓ.. لیکن اسے ہمیشہ مایوسی ہی ہوئ…
اور پھر کتنے ہی دن جب یہی سب چلتا رہا تو ایک رات ڈنر سے پہلے شاہ نے ملازم کو بھیجا اسے بلانے… سونا اس وقت ٹیرس پر تھی… ملازم کچھ ہی دیر بعد واپس آیا… “سر… میم کہہ رہی ہیں کہ انہیں نہیں آنا… ” ملازم نے مؤدب سا ہو کر جواب دیا… شاہ نے لب بھینچے… چھری کانٹا پلیٹ میں پٹخا… اور ہاتھ صاف کرتا ہوا اٹھ گیا… لمبے لمبے ڈگ بھرتا سیڑھیان چڑھتا گیا… اس کا رخ ٹیرس کی جانب تھا… جا کر سونا کا بازو دبوچا تھا سختی سے… اور اس کا رخ اپنی جانب موڑا… “کیا سمجھتی ہو تم خود کو ہاں… کیا ثابت کرنا چاہتی ہو مجھے یوں اگنور کر کے… ” تلخی سے کہا تھا… سونا نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا پھر اس کے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں موجود اپنے بازو کو… ایک لفظ کہے بغیر اپنا بازو چھڑایا تھا اس سے اور پھر سے سامنے دیکھنے لگی جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو… وہ سلگ اٹھا تھا اس کے اس انداز پر… “میں تم سے مخاطب ہوں… سنائ نہیں دے رہا کیا تمہیں…” شاہ نے پھر اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا… “اب کیا غلطی ہو گئ ہے مجھ سے جو یوں چلا رہے ہیں.. ” سونا کے لہجے میں بھی کڑواہٹ بھری تھی.. وہ اکتا گئ تھی روز روز کی چخ چخ سے… “میں نے سرونٹ کو بھیجا تھا بلانے… آئ کیوں نہیں تم…” چبا چبا کر کہا گیا تھا… سونا نے طنزیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا.. “کیوں… مزید کوئ کسر باقی رہ گئ تھی مجھے بے عزت کرنے میں… جو بلاوا بھیج دیا… اور میں آپ کی ملازمہ نہیں ہوں… آپ نے خود ہی کہا تھا کہ میں اپنی شکل نہ دکھاؤں آپکو…نفرت کرتے ہیں نا آپ مجھ سے… تو پھر.. اب کیا پرابلم ہے… اسی پہ تو عمل کر رہی ہوں… پھر… اب کیا اعتراض ہے… اب کیوں سکون نہیں آپ کو…” اس کا لہجہ تلخ تھا… اور سنجیدہ بھی… شاہ نے لب بھینچتے ہوۓ اسے دیکھا… پھر اس کا ہاتھ تھام کر اسے گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ نیچے لایا تھا… “آئندہ میرے آفس جانے سے پہلے… اور میرے آفس سے آنے سے پہلے تم یہاں موجود ہو لاؤنج میں… میری نظروں کے سامنے… اور جب تک میں اپنے روم میں نہیں چلا جاتا تب تک تم یہیں رہا کرو گی… میرے سامنے… سمجھ میں آئ بات… اور دوبارہ مجھے یہ بات کہنی نہ پڑے…” وہ وارننگ دیتا وہاں سے چلا گیا تھا… وہ اس کے سامنے یہ تسلیم نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس کا عادی ہوتا جا رہا ہے… اور اسے دیکھے بغیر سکون محسوس نہیں کرتا… سونا بھیگی آنکھوں میں الجھن لیے اس پل میں تولہ پل مین ماشہ شخص کے بارے میں سوچتی رہ گئ… ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ الجھتی جا رہی تھی اس کے رویے سے..
••••
اور پھر شاہ کے ہی حکم کی تعمیل ہوئ تھی…. وہ صبح ناشتہ ایک ہی ٹیبل پر کرنے لگے تھے… لیکن اجنبیوں کی طرح… بالکل خاموشی سے.. کبھی ایک لفظ نہیں بولے… پھر جب تک شاہ آفس نہیں چلا جاتا سونا وہیں رہتی لاؤنج میں… شام کو اس کے آنے کا وقت ہوتا تب بھی وہ لاؤنج میں ہی موجود ہوتی اور شاہ کے اپنے روم میں جانے کے بعد وہ اپنے روم میں جاتی…
••••
اس دن وہ آفس سے آیا .. سونا لاؤنج میں بیٹھی بے دلی سے ٹی وی چینلز سرچ کر رہی تھی.. اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر بھی سونا نے کوئ رسپانس نہیں دیا
… جینی مودب سی ہاتھ باندھے کھڑی تھی.. وہ ہر روز اندر داخل ہوتے ہی اپنا بریف کیس اور بازو پر رکھا کوٹ جینی کو تھما دیتا اور سونا فورا ٹی وی بند کرتی.. اٹھتی.. اس کی طرف منتظر سی دیکھتی کہ وہ کوئ بات کرے گا لیکن وہ اس پر نظر ڈالے بنا روم کی طرف چلا جاتا.. جینی بھی مودب سی اس کے پیچھے جاتی… اور سونا کلس کر رہ جاتی تھی..
“مجھے سامنے رہنے کا حکم ہی کیوں دیا تھا اگر میری طرف دیکھنا بھی پسند نہیں تھا.
آج وہ لاؤنج میں داخل ہوا.. تو سونا بے حس بنی بیٹھی رہی..
ٹی وی بھی بند نہ کیا..
شاہ کو اس کی حرکت پر خوب تاؤ آیا..
“تم جاؤ ” اس نے جینی سے کہا..
“سر.. ؟” وہ حیران سی ہوئ..
“آئ سیڈ گو… ” وہ دھاڑا.. وہ جلدی سی وہاں سے چلی گئ..
“اٹھو.. ” وہ اس کے سر پر پہنچا.. “یہ میرے پیچھے روم میں لے کر آؤ.. “
دونوں چیزیں اس کے سامنے رکھیں..
سونا نے حیرانگی سے اسے دیکھا ..
“میں.. ؟” ” ہاں تم.. ” وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا سیڑھیاں تیزی سے عبور کرتے ہوۓ وہاں سے چلا گیا..
سونا شاکڈ سی کچھ لمحے بیٹھی رہی.. پھر لب بھنچ کر اٹھی دونوں چیزیں اٹھائیں اور شاہ کے روم کی طرف چل دی..
روم کا دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئ.. وہ بیڈ پر اسی حلیے میں دراز تھا.. شوز تک نہیں اتارے تھے…
وہ اس کا کوٹ اور بیگ رکھ کر بنا کوئ بات کیے باہر کی طرف بڑھی..
“رکو… ” سونا کے قدم زنجیر ہوۓ..
“ادھر آؤ.. ” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا.. عجیب سرد سے لہجے میں اسے بلایا..
سونا نے اس کی نیلی حوبصورت آنکھیں دیکھیں.. وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا اس بے ترتیب سے حلیے میں بھی ..
وہ اس کے پاس گئ
“بیٹھو… ” سونا نے بے حد حیرت سے اسے دیکھا.. اور جھجھکتی ہوئ بیڈ پر اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئ..
“اٹھو.. ” اس نے دوبارہ سے تیز لہجے میں حکم دیا..
“نیچے بیٹھو.. اور جوتے اتارو میرے.. “
پاؤں اوپر کر کے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوۓ بولا..
وہ سناٹوں کی زد میں آ گئ… احساس توہین سے چہرہ سرخ ہوا..
“سنا نہیں تم نے.. اٹھو اور جوتے اتارو میرے.. “
وہ اپنی زندگی میں اسے اس کی اوقات بتا رہا تھا.. سونا نے غصے سے مٹھیاں بھنچی.. “میں ایسا نہیں کروں گی.. اس کام کیلیے ملازم ہیں.. میں آپ کی زرخرید غلام نہیں ہوں.. ” وہ چٹخ کر بولی..
شاہ نے پوری قوت سے اس کے نازک گال پر تھپڑ رسید کیا.. وہ بیڈ سے نیچے کارپٹ پر گری.. بالکل اس کے قدموں میں …
“میرے سامنے اکڑ دکھانے کی ہمت کیسے ہوئ.. ” وہ غصے سے دھاڑا..
اور کارپٹ پر گری سونا کے نازک سپید ہاتھوں پر بھاری بوٹ رکھ کر کچل ڈالا..
وہ چیختی ہوئ, تڑپ تڑپ کر روئ …
لیکن شاہ کے ذہن پر جنون سوار تھا م. اس کی اتنی ہمت.. وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا…
پھر بوٹ ہٹا کر اسے ٹھوکر سے دور دھکیلا..
“دفع ہو جاؤ یہاں سے ” آگ اگلتے لہجے میں بولا..
سونا بلند آواز روۓ گئ..
شاہ نے اسے کھکونے کی مانند گھسیٹ کر روم سے باہر پھینکا اور دروازہ بند کر لیا…
وہ کئ لمحے وہیں پڑی پھوٹ پھوٹ کر روری رہی.. سسکتی رہی.. پھر لڑ کھڑاتی ہوئ اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پر گر گئ اعر سسک سسک کر رو دی.. “بابا.. ” وہ چیخی.. “بابا.. دیکھیں کیا ہو رہا ہے آپ کی سونا کے ساتھ.. “
وہ پشت سے چھلے ہاتھوں کو سامنے پھیلا کر دیکھتے ہوۓ تڑپ تڑپ کر روئ تھی..
“میں اس کے پاس گئ تھی محبتیں لینے.. وہ شحص آپ کی بیٹی کو محبتیں نہیں نفرتیں دیتا ہے بابا.. زخم دیتا ہے.. اذیت دیتا ہے.. “
وہ بابا کو پکار رہی تھی…
“آپ کی سونا مر جاۓ گی بابا… اسے محبتوں کی عادت ہے.. یہ نفرت مار ڈالے گی.. “
وہ ساری رات ماتم کرتی رہی تھی..
وہ ڈنر کے وقت جینی کے دروازہ کھٹکھٹانے پر. بار بار بلانے پر بھی نہیں گئ تھی..
جینی کے یہ کہنے پر بھی نہیں گئ تھی کہ سر بلا رہے ہیں..
اسے جینی کے سر بہت برے لگے.. وہ اس کے نیلی آنکھوں والے خوبصورت حوابوں والے شخص جیسے نہیں تھے.. جسے وہ چاہتی تھی.
