Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09

331K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09

سکندر خوش تھا… بھت خوش… وه خود کو اس دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھ رها تھا… پریشے کے سنگ گزرا هر لمحه اس کیلیے یادگار هوتا… پچھلے کچھ عرصے میں هی وه دونوں ایک دوسرے کے بھت قریب آ گۓ تھے… ایک دوسرے کے مزاج, ایک دوسرے کی عادات کو کافی حد تک سمجھنے لگے تھے… هر گزرتے دن کے ساتھ سکندر کی پریشے کیلیے محبت بڑھتی جا رهی تھی…
پریشے بھی بہت مسرور رهتی… اور کسی حد تک مغرور بھی… آخر ایک وجیهه بزنس مین جس پر بھت سی لڑکیاں مرتی تھیں… اس کی ایک نظر التفات کو ترستی تھیں… اس انسان نے ساری دنیا کو چھوڑ کر اسے چنا تھا اپنی ذندگی کے همسفر کے طور پر… غرور تو آنا هی تھا اس میں…
سکندر کو اس کا هر روپ, اس کی هر ادا پیاری لگتی… وه جلد سے جلد پریشے کو اپنے پیرنٹس سے ملوانا چاهتا تھا… اس کی خواهش تھی که پریشے کو اب باقاعده طور پر اپنی شریک حیات بنا کر, اپنا نام دے کر, محرم کے طور پر اپنی ذندگی کا حصه بنا لے… اپنی ذندگی میں شامل کر لے… اور اس حوالے سے اس نے جب بھی پریشے سے بات کرنا چاهی… پریشے نے همیشه پس و پیش سے کام لیا… وه همیشه اسے ٹال دیتی… وه اتنی جلدی شادی نهیں کرنا چاهتی تھی… اس کا کهنا تھا که وه ابھی ذهنی طور پر شادی کیلیے تیار نهیں هے… ابھی وه کھل کر اپنی لائف انجواۓ کرنا چاهتی هے… فی الحال وه خود کو شادی کی ذمه داریوں سے دور رکھنا چاهتی تھی… ابھی وه چاهتی تھی که وه دونوں مزید کچھ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں… ایک دوسرے کو سمجھیں… اس کی بات پر سکندر نے چپ سادھ لی تھی… وه پریشے کو کسی بھی بات, کسی بھی فیصلے کیلیے پریشرائز نهیں کرنا چاهتا تھا… اور فیصلے کیلیے وه جتنا وقت چاهتی سکندر دینے کو تیار تھا… اس نے هر فیصله پریشے کی مرضی پر چھوڑ دیا…
••••
سونا کمرے سے نکل کر نیچے آئ… سیاه ٹراؤزرز پر سفید لمبی قمیض پهنے, دوپٹا کندھوں پر پھیلاۓ وه سادگی میں بھی دلکش لگ رهی تھی… لمبے سیاه بال پشت پر بکھرے تھے… هونٹوں پر لائٹ پنک لپ اسٹک اور آنکھوں میں کاجل تھا… کچن سے باتوں کی آواز آ رهی تھی… وه کچن میں هی چلی آئ… وهاں تائ جی, عائشه بھابھی اور شائسته کام میں مصروف تھیں… لنچ کی تیاری کی جا رهی تھی…
“هیلو… کیا هو رها هے…¿¿¿” وه بشاشت سے کهتی هوئ عائشه کے پاس جا کھڑی هوئ اور فریج سے پانی کی بوتل نکالی… “لنچ کی تیاری…” رائته بناتی عائشه نے مسکرا کر جواب دیا… سونا نے گلاس لے کر پانی پیا اور بوتل واپس فریج میں رکھی… پھر زرمینه بیگم کی جانب بڑھی…
“تائ جی… آپ کیوں کام کر رهی هیں یهاں… لائیے میں کر لیتی هوں…” اسکی بات پر زرمینه مسکرائ تھیں… نرم سے مسکراهٹ… “ارے نهیں بیٹا… تم مهمان هو همارے هاں… اور مهمانوں سے بھی بھلا کوئ کام کرواتا هے کیا… ویسے بھی هو گیا میرا کام ختم … ” انهوں نے برتن کو ڈھک دیا… “سونا… ماں جی کم هی کچن کو اپنے درشن کرواتی هیں… یه تو آج خاص تمهارے لیے انهوں نے کچن کا رخ کیا…”
سلاد بناتی شائسته شرارت سے گویا هوئ… “میرے لیے…¿¿” وه ناسمجھی سے شائسته کو دیکھنے لگی… “جی… هم نے چچا جان سے آپ کی فیورٹ ڈش پوچھی…. اور بس پھر کیا تھا… ماں جی خود آ گئیں کچن میں… آپ کیلیے شنگرائ ہانڈی بنانے… هم نے کها بھی تھا که هم بنا لیں گے آپ آرام کریں لیکن هماری ایک نهیں سنی انهوں نے… بقول ان کے… اپنی بیٹی کی پسندیده ڈش یه خود بنائیں گی اپنے هاتھوں سے…” شائسته نے وضاحت سے اسے بتایا تو سونا ان کی محبت پر مسکرا دی…
“هاں تو… میری بچی پهلی بار گھر آئ هے… اس لیے میں خود بنا رهی هوں کھانا… امید هے سونا تمهیں ضرور پسند آۓ گا میرے هاتھ کا کھانا…” تائ جی نے محبت سے اسکی طرف دیکھا… “آپ کے هاتھ کا کچھ بنا هو اور کسی کو پسند نه آۓ ایسا کیسے هو سکتا هے… سونا یو نو… ماں جی کے هاتھ میں بھت ٹیسٹ هے… قسم سے جو بھی بناتی هیں سب انگلیاں چاٹتے ره جاتے هیں… هم تو اکثر ان کی منتیں کرتے هیں که کوئ ڈش بنائیں لیکن هماری مراد کم هی پوری هوتی هے… اور آج کسی کے کهے بغیر اپنی مرضی سے کچن میں آ گئیں…” شائسته هنس رهی تھی… “”
“تم لوگوں کو شروع سے میں هی بنا کر کھلاتی رهی هوں… اب تم لوگ بڑے هو گۓ هو تو کیا اب بھی مجھے آرام کرنے کا حق نهیں…” تائ جی نے خفگی دکھائ… سونا اور عائشه مسکراتی هوئ ان کی گفتگو سن رهی تھیں…
“ارے میری پیاری اماں… مذاق کر رهی تھی میں… هم لوگ کس لیے هیں… همارے هوتے هوۓ بھلا آپ کو کام کرنے کی کیا ضرورت… میں تو بس سونا کو بتا رهی تھی که اس گھر کے لوگ کتنی محبت کرتے هیں اس سے…”
شائسته نے ان کے کندھوں پر هاتھ رکھے… “اچھا چلو مسکا بازی بند کرو… جلدی سلاد بناؤ… لنچ کا وقت هو گیا هے… بھوک لگی هو گی سب کو…” تائ جی دوباره چولهے کی جانب متوجه هوئیں… “نادیه کهاں هے…¿¿¿” سونا نے نادیه کو موجود نه پا کر سواک کیا… “سو رهی هو گی… اسے بس دو هی کام هیں… کھانا اور سونا… ” شائستی نے مسکرا کر جواب دیا… تبھی باهر سے دونوں بچے فرح اور طلحه بھاگتے هوۓ آۓ… “مما… مما… چلو باغ میں چلیں…” فرح نے عائشه کا دوپٹا کھینچتے هوۓ اسے اپنی جانب متوجه کرنا چاها… طلحه کو شائسته نے اپنے پاس بلا لیا… “بیٹا شام میں چلیں گے… ابھی باهر دھوپ بھت هے نا… “عائشه نے مڑ کر فرح کو دیکھا اور پھر کام میں مصروف هو گئ… “کونسے باغ میں جانے کی بات هو رهی هے…¿¿¿” سونا نے فرح کو اٹھا کر اپنے سامنے شیلف په بٹھاتے هوۓ پوچھا… “باهر کھیتوں میں همارے باغات هیں… ایک طرف آم کا باغ هے اور ایک طرف امرود کا… گرمیوں میں هم اکثر جایا کرتے هیں وهاں… درختوں سے کیریاں اور امرود توڑ کر کھانے کا اپنا هی مزه هے… آج شام کو چلیں گے… تمهیں بھی اپنے باغات اور کھیت دکھا کر لائیں گے…” شائسته نے جواب دیا تھا… سونا نے محض هوں میں جواب دیا… تبھی فرح نے سونا کے چهرے کو اپنے ننھے منھے هاتھوں کے پیالے میں لے کر اسے اپنی طرف متوجه کیا… “آپ بھی چلیں گی نا همارے ساتھ باغ میں…¿¿¿ وهاں بھت مزه آتا هے…” معصوم سے لھجے میں دریافت کیا گیا تھا… سونا کو اس په ٹوٹ کے پیار آیا… “جی میری جان… ضروت چلوں گی… هم مل لے خوب انجواۓ کریں گے… ” سونا نے نرمی سے اس کے گال کو چھوتے هوۓ کیا جس په دونوں بچوں نے یاهو کا نعره لگایا… سب ان کے اس انداز پر هنس دئیے…
.•••••
سکندر ابھی چند منٹ پهلے ایک میٹنگ سے آیا تھا… پانی کا گلاس پی کر اب وه ایک فائل کی طرف متوجه هوا… آدھے گھنٹے بعد اسکی ایک اور میٹنگ تھی… فائل اسی میٹنگ سے ریلیٹڈ تھی… تبھی اس کے موبائیل پر کال آنے لگی… سکندر نے موبائیل کی اسکرین دیکھی… پری کالنگ… اسکرین پر جگمگا رها تھا… وه کتنا بھی مصروف کیوں نا هوتا… کبھی پریشے کی کال نهیں کاٹتا تھا… وه چھوٹی چھوٹی بات پر ناراض هو جاتی تھی اور اس کی ناراضگی سکندر کی جان نکال دیتی تھی… “هیلو..” بشاشت سے کهتے هوۓ اس نے سیل کان سے لگایا… نظریں بدستور فائل پر جمی تھیں… “هاۓ… کیا هو رها هے…¿¿¿” پریشے کی پر جوش سی آواز سنائ دی… “آفس میں هوں اس وقت… کام کر رها هوں… خیریت…¿¿¿” سکندر نے فائل کا صفحه پلٹتے هوۓ کها… “”
“هاں خیریت هی هے… میں اس وقت “کنگزلینڈ ” شاپنگ مال میں هوں جو تمهارے آفس سے پندره منٹ کی ڈرائیو په هے… اس کے سامنے جو ریسٹورنٹ هے میں وهاں تمهارا ویٹ کر رهی هوں… اگلے بیس منٹ میں تم وهاں پهنچو… آئ وانٹ ٹو میٹ یو…” دوسری جانب سے حکم صادر کیا گیا… سکندر شش و پنج میں مبتلا هوا… “
بٹ پری… ابھی آدھے گھنٹے بعد میری ایک بھت ضروری میٹنگ هے… مجھے کچھ وقت دو… میٹنگ کے بعد آتا هوں…” اس نے ریکویسٹ کی تھی… جبکی اچھی طرح جانتا تھا که وه جو بات ایک بار کهه دے اس سے ایک انچ پیچھے نهیں هٹتی…
“تو…¿¿¿ کینسل کر دو میٹنگ… مجھے اگلے بیس منٹ میں تم ریسٹورنٹ میں چاهئیے هو… سنا تم نے… ٹائم ویسٹ مت کرو…” دھونس بھرے لهجے میں کها گیا تھا… سکندر بے چارگی سے فون کو دیکھنے لگا… دوسری طرف موجود لڑکی کو سمجھا پانا بھت مشکل تھا… پھر بھی اس نے کوشش کرنی چاهی…
“یار… کیسے کینسل کر دوں میٹنگ… میرے بزنس کیلیے بھت امپورٹنٹ هے یه میٹنگ… اور ایسا کیسے چلے گا… پچھلے چند برسوں میں میں نے دن رات ایک کر کے… بھت محنت سے بزنس کو اتنا آگے بڑھایا هے…اپنا ایک نام بنایا هے.. اب میری اس لاپرواهی سے بزنس کو نقصان پهنچ سکتا هے… پلیز ٹرائ ٹو انڈر سٹینڈ… “
اس نے نرم لھجے میں اسے سمجھانا چاها… لیکن وه بچوں کی طرح اپنی ضد پر اڑی رهی…
“مطلب تم مجھے انکار کر رهے هو…¿¿¿ مجھے¿¿… اب مجھ سے زیاده بزنس امپورٹنٹ هو گیا…محبت کے دعوے تو بھت کرتے هو.. اور میرے لیے ایک میٹنگ کینسل نهیں کر سکتے… ٹھیک هے… اب نهیں کهوں گی کبھی آنے کو… کرو اپنا کام اور سنبھالو اپنا بزنس… اور کوئ ضرورت نهیں هے آئنده مجھے کال کرنے کی یا مجھ سے ملنے کی… گڈ باۓ…”
سکندر اسے پکارتا هی ره گیا…لیکن دوسری جانب سے اپنی بات کهه کر فون کاٹ دیا گیا… سکندر نے ایک نظر موبائیل کو دیکھا اور پھر بے بسی سے دونوں هاتھوں سے سر کو تھام لیا… آج پھر وه ناراض هو گئ تھی…وہ جتنی بھی کوشش کرتا که پریشے کو اس سے شکایت نه هو وه اس سے خفا نه هو پھر بھی کوئ نه کوئ ایسی وجه بن هی جاتی جس پر وه ناراض هو جاتی… اور پھر اسے منانے کے لیے سکندر کو هزاروں جتن کرنا پڑتے… اب اس کی ناراضگی کے بعد سکندر کیلیے سکون سے کام کر پانا نا ممکن تھا… اس نے گهری سانس بھری اور سیکرٹری کو کال کر کے میٹنگ کینسل کرنے کا کهتے هوۓ کیز اور موبائیل لیتا پریشے کو منانے کا اراده کر کے آفس سے باهر نکل گیا..
•••••••
عصر کے بعد کا ٹائم تھا… سورج کے غروب هونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا…لیکن دھوپ کی شدت اور گرمی کا زور کافی کم یو گیا تھا… وه سب اس وقت باهر کھیتوں میں آئیں تھیں… عائشه, شائسته, نادیه,سونا, فرح اور طلحه…وه سب امرود کے باغ میں داخل هوۓ… پکے هوۓ امرودوں کی خوشبو بھت اچھی لگ رهی تھی… دونوں بچے اب درختوں کے پیچھے چھپن چھپائ کھیل رهے تھے اور کھلکھلا رهے تھے… سونا مسحور سی اردگرد دیکھ رهی تھی… بلاشبه یه سونا کی ذندگی کے خوبصورت اور یادگار دن تھے…شائسته اور نادیه امرود توڑ رهی تھیں…جبکه قریب هی سونا اور عائشه کھڑی انهیں دیکھ رهی تھیں اور ان کی نوک جھونک سنتی مسکرا رهی تھیں…تبھی سونا کا موبائیل بجنے لگا… منزه کی کال تھی… سونا عائشه کو بتا کر ایک سائیڈ پر چلی آئ اور کال ریسیو کی… سلام کے بعد حال احوال دریافت کیا… “یار تم تو وهاں جا کر همیں بھول هی گئ هو… کب تک آنے کا اراده هے…¿¿ آئ رئیلی مس یو…”منزه اداس سی بولی تھی… “ارے نهیں یار… تم چڑیلوں کو کیسے بھول سکتی هوں… هر لمحه تم لوگوں کو یاد کرتی هوں… بابا کا ابھی مزید آٹھ دس دن رکنے کا اراده هے یهاں… ورنه میں تو کب کی آ چکی هوتی…” سونا دھیمے قدموں سے آگے بڑھتی چلی جا رهی تھی…امرود کا باغ ختم هو گیا تھا… اب آگے آم کا باغ تھا… بڑے بڑے آم کے درخت… “اوه شٹ… مطلب اس بار تمهارا برتھ ڈے بھی وهیں گزرے گا…¿¿¿ دیٹس ناٹ فئیر سونا…یو نو… هم سب ایک دوسرے کا برتھ ڈے همیشه ساتھ هی سیلیبریٹ کرتے هیں…” منزه خفگی سے بولی… “هاں یار… لگ تو ایسا هی رها هے.. یهاں آنے کے بعد بابا کا واپس جانے کو جی نهیں چاه رها …بٹ کوئ بات نهیں… جب میں آؤں گی تب مل کر برتھ ڈے سیلیبریٹ کر لیں گے… ڈونٹ وری… تم لوگوں کو تمهاری ٹریٹ بھی مل جاۓ گی اور کیک بھی… ” سونا شرارت سے گویا هوئ… تو منزه هنس دی…”اچھا یه بتاؤ… وهاں کوئ سمارٹ سا, هینڈسم سا لڑکا نهیں هے کیا… تمهارے کزنز کیسے هیں… کسی کے ساتھ سیٹنگ هی کر لو…” منزه نے شرارت سے کها… جانتی تھی اب اس بات پر سونا سے ڈانٹ پڑے گی…”تم ان فضول باتوں سے باز مت آنا کبھی… بے وقوف لڑکی…” سونا کے چهرے پر سرخی چھائ تھی… “هاۓ کیا سین هو گا نا… تمهارا شرم سے سرخ چهره دیکھنے کو بھت دل چاه رها هے… ” منزه مزید شریر هوئ… “منزه پلیز یار…” وه روہانسی هوئ تھی… ایسی باتوں سے همیشه دور بھاگتی تھی… “اچھا کیا کر رهی هو اس وقت…¿¿” منزه نے بات بدلی.. “هم سب اس وقت باهر کھیتوں میں آۓ هوۓ هیں… اینڈ آئم رئیلی انجوائنگ… یار سب کچھ اتنا اچھا لگ رها هے… دلکش مناظر… کاش تم لوگ بھی ساتھ هوتیں…”اسکا لهجه حسرت زده تھا… “اچھا چلو… اپنی سیلفیز لے کے سینڈ کرو مجھے ابھی… ان دلکش مناظر کے ساتھ… هم بھی تو دیکھیں کهاں کی سیریں هو رهی هیں… ” منزه نے فرمائش کی تھی… “اوکے کرتی هوں…” سونا مسکرائ تھی… “آئم ویٹنگ…” منزه نے کهه کر کال ڈس کنیکٹ کی… سونا نے موبائیل کا کیمره آن کیا…
تبھی اسے عجیب سا احساس هوا…کوئ نرم سے چیز اس کے پاؤں کے نیچے آئ تھی شاید…وه اس چیز سے آگے گزر تو گئ لیکن پھر مڑ کر دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره گئیں… موبائیل هاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا…اس سے کچھ فاصلے پر ایک لمبا اور کافی موٹا سانپ پھن پھیلاۓ اسے گھور رها تھا… وه بنا دیکھے اس پر سے گزر گئ تھی اور نادانستگی میں اس کا پاؤں سانپ کے اوپر آ گیا تھا… سونا کا چهره خوف سے سفید پڑ گیا… وه ایک دم بے تحاشا خوف زده هوئ تھی… ذندگی میں پهلی بار حقیقت میں سانپ دیکھا تھا وه بھی اپنے قریب… اس کی حالت غیر هو گئ… ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار هوۓ… تبھی سانپ رینگتے هوۓ اسکی جانب بڑھا… سونا کی روح فنا هونے لگی… وه الٹے قدموں پیچھے هٹنے لگی… نظریں سانپ پر هی جمی تھیں… اسکا جسم کانپنے لگا تھا… وه چینخ کر کسی کو بلانا چاهتی تھی لیکن اس کے حلق سے آواز هی نه نکلی… اسے لگا آج اس کی ذندگی کا آخری دن هے… وه آهسته آهسته پیچھے هٹ رهی تھی… تبھی اس کا پاؤں رپٹا اور وه لڑکھڑا کر گری… “آه” منه سے بے ساخته کراه نکلی تھی… هاتھ بھت زور سے زمین پر لگا تھا… هتھیلی چھل گئ تھی… پاؤں مڑنے کیوجه سے درد کی شدید لهر ٹانگ میں سرایت کر گئ… اس نے گردن گھما کر دیکھا… یهاں کھیت کا کناره تھا… اور ایک رکاوٹ سی بندھی تھی آگے دوسرا کھیت شروع هو رها تھا… اسے بند سے اسکا پاؤں ٹکرایا تھا اور وه گری تھی… اس کی آنکھوں کے کٹورے پانی سے بھر گۓ… سانپ مسلسل اسکی جانب بڑھ رها تھا… اس نے کچھ قدم پر موجود درخت کے تنے کا سہارا لینا چاها تا که اٹھ سکے لیکن هاتھ نهیں پهنچا… اور پاؤں کی تکلیف اسے آگے بڑھنے نهیں دے رهی تھی…
پاؤں بری طرح مڑ گیا تھا.. شاید موچ آ گئ تھی…
اس نے هتھیلیوں کے بل کھسکنا چاها لیکن هتھیلی نیچے لگاتے هی کراه اٹھی تھی… هتھیلی زخمی تھی اور خون نکلنے لگا تھا وهاں سے… وه لرز کر ره گئ… سانپ بالکل اس کے نزدیک پهنچ چکا تھا… اس نے بے بسی اور خوف سے آنکھیں سختی سے میچ لیں اور دل میں اپنے رب کو اور پھر بابا کو پکارا.. کوئ تو آۓ جو اسے اس سانپ سے بچا سکے… آنسو لڑھک کر رخساروں پر بهه نکلے…
تبھی کچھ کھٹکا سا هوا تھا… کوئ اس کے پیچھے سے تیزی سے اس کے سامنے کی طرف آیا تھا… سونا کو جب احساس هوا که کوئ اور وجود اسکے سامنے آیا هے اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں…
آنکھیں کھولتے هی جو منظر اسے نظر آیا اس کے اوساں خطا کرنے کو کافی تھا… اس کے منه سے هلکی سی چینخ نکلی تھی اور بے یقینی سے اس نے منه پر دونوں هاتھ رکھے… آنکھیں کھلی کی کھلی ره گئیں…
سامنے ایک نوجوان کھڑا تھا جس نے پھرتی سے اس سانپ کو هاتھ سے اٹھایا تھا اور پھر اتنی هی تیزی سے اسے زور سے جھٹکا دے کر دور پھینکا تھا… سونا کا دماغ ماؤف هو رها تھا… اسے لگا وه ابھی چکرا کر گر جاۓ گی… اگر یه شخص نه آتا تو… اگر سانپ اسے ڈس لیتا تو… سوچ کر هی لرز اٹھی تھی وه… اس نے اس کی طرف دیکھا… نوجوان کا رخ دوسری جانب تھا وه اسکا چهره نهیں دیکھ پا رہی تھی…
لیکن…. سونا ٹھٹکی… کوئ جھماکا سا اس کے ذہن میں ہوا…..
یہ شخص… یہ قدو قامت, یہ پشت وہ بارہا دیکھ چکی تھی …. وہ پہچانتی تھی اسے,
سونا کی بے یقین سی نظریں, اس شخص کے سیاہ بالوں, اور چوڑی پشت پر پھسلتی چلی گئ…
اس کے ذہن میں جھماکے کے ساتھ کئ مناظر ابھرے, مری کی اس سنسان سڑک پر دور جاتا وہ پراسرار سا مہربان جو اس کو زندگی دے گیا تھا ,
یونی گیٹ سے باہر جاتا وہ شخص, وہی جسامت…..
سونا اسے دیکھنے کو بے چین ہوئ…
آخر کون تھا وہ….
سونا نے ہتھیلی پر زور دے کر اٹھنے کی کوشش کی, اسے بلانے, اس کے سٹمنے جا کھڑے ہونے کی کوشش کی….. لیکن درد کی ٹیسیں, اففففف…..
وہ کراہ کر بیٹھتی چلی گئ….
اس نے سسک کر اپنی هتھیلی کو دیکھا… تبھی وہ اس کی جانب پلٹا….
پلٹنے سے پہلے کے اس بے ضرر سے لمحے میں وہ اپنی آنکھیں اور چہرہ چھپا چکا تھا…… اس نوجوان نے ٹی شرٹ کے گلے په اٹکے گلاسز اتار کر آنکھوں پر لگاۓ اور سونا کو دیکھا…
سونا نے پانیوں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھا….
دھندلا سا نظر آتا وہ وجود… سونا کی سانس رکنے لگی… بلا شبہ یہ وہی تھا…
بلیو جینز پر لائٹ سی ٹی شرٹ اور پیروں میں چپل پهنے… چهرے کو رومال سے ڈھکے…آنکھوں پر گلاسز لگاۓ… وہ… وہی تھا…
وہ پرانا منظر اس کی نظروں کے دٹمنے گھوم گیا… مری میں… اس دن بھی.. وہ اچانک ہی آ گیا تھا… وہی حلیہ .. وہی ڈھکا ہوا چهره اور آنکھیں …جیسے وہ سایہ ہو سونا کا…
پل پل سے با خبر… اسکی زندگی کو بچانے والا… اس کا محسن …… وه ٹھٹھکی تھی… وہ وہی تھا.. اس کا پیچھا کرنے والا … سیاہ گاڑی کا مالک اور….
“اور… وہ پھول بھیجنے والا ب..¿¿¿ “
سونا نے جھٹکے سے اسے دیکھا….
“نفرت کے پھول…”
وہ اس کا محسن اس کی جان بچانے والا جو اس کو زندگی بخش کر نفرت کے پھول دیتا تھا …..
وہ دو قدم سونا کی جانب بڑھا.. اس کے قریب.. آکر جھکا.. اپنا چوڑا مضبوط ہاتھ سونا کی جانب بڑھایا..
وہ اسے سہارا دینا چاہتا تھا.. سونا نے چند لمحے سوچا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا…. اسے اس شخص سے خوف محسوس نہیں ہو ا… اسے اس شخص سے ڈر نہیں لگا.. باوجود اس کے کہ وہ اسے نفرت کے پھول دیتا تھا.. وہ سونا کا محسن تھا..
سونا سہرا لے کر کھڑی ہوئ… پیر پر وزن ڈالنا محال ہورہا تھا…
سونا نے ایک قدم طے کر کے لڑکھڑاتے ہوےیدرخت کے تنے کا سہارا لیا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا… پیر سے اٹھتی شدید تکلیف… وہ تنے کے ساتھ ٹیک لگا کے کھڑی ہوئ.. اتنا درد…. اتنی تکلیف.. “بابا… !!” بے بے اواز سسکی اور انسق صاف کر کے بھیگی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا … اس کی آنکھوں میں تشکر تھا
“مجھے بچایا… آپ نے.. آپ نہیں آتے تو… پتا نہیں…. “
سامنے کھڑے انسان نے مٹھیاں بھنچیں اور لمحوں میں درمیان کا سارا فاصلہ طے کر کے اس کے قریب… بے حد قریب آ گیا… اس کی کلائ کو اس شدت سے جکڑا کی وہ تکلیف سے چیخ اٹھی….
“میں تمہیں کیسے مرنے دیتا…” وہ سانپ کی سی پھنکارتی ہوئ آواز میں اس کے کان کے قریب بے حد قریب بولا…
“کیسے مرنے دیتا تمہیں.. کیونکہ موت کے داتھ ساتھ اس دنیا میں جتنی بھی تکالیف ہیں.. وہ میں خود دوں گا تمہیں.. خود اپنے ہاتھوں.. اپنی آنکھوں کے سامنے… “
اتنی آگ تھی اس لہجے مینء.. اتنی نفرت.. اتنی نفرت..
سونا خوف سے لرز کر رہ گئ..
اس نے جھٹکے سے سونا کو دھکیلا..
وہ انہی زخمی ہتھیلیوں اور تکلیف بھرے پیر کے بل گری…چیخی.. اور اس کے دماغ پر لمحے بھر کے لیے اندھیرا چھا گیا… اس کی دھندلاتی آنکھوں نے اس شخص کو لمحہ بہ لمحہ خود سے دور ہوتے اور غائب ہوتے دیکھا…
وہ محسن نہیں تھا.. وہ مہربان بھی نہیں تھا… سونا کو اس سے ڈر لگا تھا…
سونا کو اس سے بہت زیادہ ڈر لگا تھا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *