Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04
“کیا کر رهی هے میری لاڈلی…¿¿¿” وه ٹیرس پر کام میں مگن تھی جب بابا کی پیار بھری آواز په چونکی … اس کے لبوں په بے ساخته مسکراهٹ آن رکی… “آپ کو معلوم تو هے بابا…فارغ وقت میں میرا ایک هی مشغله هے اور وه هے پینٹنگ … اب بھی وهی کر رهی هوں…” مسکراتے هوۓ جواب دیا… ساتھ هی پینٹ برش کا پچھلا حصه منه میں دبایا اور تنقیدی نظروں سے پینٹنگ کا جائزه لینے لگی… اسکے سامنے کینوس پر ایک خوبصورت سی پینٹنگ پڑی تھی… جس پر وه ابھی کچھ کام کر رهی تھی…
“اچھا… ذرا هم بھی تو دیکھیں که هماری سونا کیا بنا رهی ھے…” عبدالهادی چلتے هوۓ اس کے برابر آن رکے… “موسٹ ویلکم بابا جانی…” سونا کے لهجے میں بے تحاشا محبت سمٹ آئ تھی… عبدالهادی غور سے اسکی بنائ پینٹنگ دیکھنے لگے…
“ایک بات بتاؤ سونا… یه تم همیشه اداس مناظر هی کیوں پینٹ کرتی هو…ان کے لهجے میں سوال تھا اور تھوڑی بے چینی تھی…جبکه نگاهیں ابھی بھی تصویر پر جمی تھیں…جهاں ساحل سمندر تھا اور سامنے ڈوبتا هوا سورج جس کی زرد روشنی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا… شام کا بھت خوبصورت منظر پینٹ کیا گیا تھا… ایک کنارے پر ایک کرسی رکھی گئ تھی جو خالی تھی… اسکے سامنے ایک میز تھا… میز پر ایک عینک, ایک کتاب اور ایک سرخ گلاب پڑا تھا… پینٹنگ کو دیکھتے هی اداسی اور تنهائ کا احساس هوتا تھا… ویرانی سی تھی اس تصویر میں اور شاید سونا کے دل میں بھی… تبھی تو وه ایسے پینٹنگز بناتی تھی… اور ان کے بے چین هونے کی وجه بھی یهی تھی…”بابا جانی آپ جانتے تو هیں… مجھے ایسے مناظر بھت اچھے لگتے هیں… ڈھلتا سورج, تنهائ, زرد سی روشنی, هر طرف پھیلا زرد سا رنگ… یو نو… ایک فسوں سا هوتا هے اور مجھے اچھا لگتا هے ایسا منظر… تبھی ایسے مناظر پینٹ کرتی هوں…” سونا نے لاڈ سے ان کے پیچھے آ کر ان کے گلے میں باهیں ڈالیں اور سر ان کے شانے پر ٹکا دیا… تبھی عبدالهادی مڑے تھے اور اسکی طرف اپنا رخ کیا … “میری گڑیا کے دل میں کوئ خلش تو نهیں هے نا… کوئ دکھ, کوئ احساس محرومی…¿¿ میں نے ساری زندگی کوشش کی هے که تمهیں ماں باپ دونوں کا پیار دے سکوں… لیکن پھر بھی سونا… ماں تو ماں هوتی هے… تمهیں ماں کی کمی تو محسوس هوتی هو گی… کهیں تمهارے دل میں یه احساس تو نهیں هے نا… تم دوسری لڑکیوں کیطرح هنستی مسکراتی نهیں هو… ابھی سے اتنی سنجیده رهتی هو… کیا بات هے… مجھ سے شئیر کرو… ” عبدالهادی نے دونوں هاتھوں سے اسکا چهرا تھاما اور اسکی آنکھوں میں جھانکا… تبھی سونا نے ان اپنے چهرے کے گرد رکھے ان کے هاتھوں پر اپنے هاتھ رکھے… “ایسی کوئ بات نهیں هے بابا… هاں مانتی هوں که ماں کی جگه کوئ نهیں لے سکتا… کبھی کبھی ان کی کمی محسوس هوتی هے… سوچتی هوں که اگر وه هوتیں تو هماری زندگی اس سے بھی زیاده خوبصورت هوتی…لیکن پھر میں آپ کے چهرے کیطرف دیکھتی هوں… آپ کا پیار یاد آتا هے تو سب بھول جاتی هوں بابا… آپ دنیا کے بیسٹ بابا هیں… اور آپ کی محبت مجھے کچھ اور سوچنے هی نهیں دیتی… اور هاں آپ اپنے دل سے هر خدشه نکال دیجئے…الله تعالی نے میری ماں کو اپنے پاس بلا لیا تو اس میں اسکی کوئ مصلحت هو گی… لهذا مجھے کوئ احساس محرومی نهیں هے…جس کے پاس آپ جیسے محبت کرنے والے بابا هوں اسے کوئ دکھ کیسے هو سکتا هے بھلا…¿¿¿” سونا نے ان کے هاتھ چومے تھے…اسکی باتوں سے عبدالھادی کی آنکھیں بھر آئ تھیں…جنهیں انهوں نے صاف کیا… اور سونا کو سینے سے لگایا… وه ان کے جینے کا واحد آسرا تھی… ان کی کل متاع… “بس کبھی کبھی نه جانے کیوں میرے دل میں ایسی باتیں آتی هیں…که کهیں تم اداس تو نهیں…خیر… چلو آؤ… شام کی چاۓ هماری منتظر هے…” عبدالهادی نے اس کے سر په بوسه دیا تھا اسے لئے نیچے کی جانب قدم بڑھاۓ… جبکه پیچھے تصویر میں بھی سورج اپنی زرد روشنی هر سو پھیلا رها تھا اور حقیقی منظر بھی کچھ ایسا هی تھا جهاں اب سورج غروب هو رها تھا..
••••••••
سکندر اس وقت اپنے شاندار سے آفس میں بیٹھا تھا…کوٹ اتار کر سائیڈ پر لٹکا رکھا تھا…اور شرٹ کی آستینیں فولڈڈ تھیں… بال ماتھے پر بکھرے تھے… سامنے گلاس ٹیبل پر ایک فائل کے اوپر کورا کاغذ پڑا تھا… جس پر وه بے مقصد لکیریں کھینچ رها تھا… اس کے مقابل کرسی پر ریحان بیٹھا تھا… آرام ده اندز میں ٹیک لگاۓ… ٹکٹکی باندھے اس کی حرکتوں, اسکی بے چینی کو دیکھتا هوا… پھر وه پر جوش سا آگے کو هوا… “”
“یو مین ٹو سے… یو آر ان لو…¿¿¿” سوالیه انداز تھا… اور لهجے میں خوشی تھی… اسکی بات پر سکندر نے کاغذ پر چلتے پین کو روکا… اور نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا… پین کی نوک ابھی بھی کاغذ پر جمی تھی… آنکھوں میں الجھن ابھری تھی… پھر وه گھری سانس لیتا اٹھ کھڑا هوا… پین کو ٹیبل پر رکھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا هوا…
گلاس ونڈو سے باهر جھانکا… سامنے روڈ تھی… جس پر ٹریفک کا سیلاب بھتا چلا جا رها تھا… متحرک زندگی… “پتا نهیں یار… یه سب کیا هے… پهلے کبھی ایسا هوا نهیں…ایسے جذبات دل میں ابھرے نهیں…کبھی یوں کسی لڑکی کا چهرا آنکھوں میں ٹھرا نهیں..
“کسی کو ایک نظر دیکھنے کو دل اتنا مچلا نهیں…کوئ پاگل پن سا هے…نه جانے اسے محبت کهتے هیں یا کیا… لیکن ایسے اچانک سے کوئ اجنبی اتنا اپنا کیوں لگنے لگتا هے… راه چلتے پهلی بار کسی کو دیکھ کر محبت کیسے هو سکتی هے…وه بھی اس انسان سے… جسے هم جانتے نهیں… پهچانتے نهیں… اٹس سو اسٹرینج…” اس کے لهجے میں, اسکی آنکھوں میں کشمکش سی تھی… وه خود اپنی حالت سمجھنے سے قاصر تھا… “ارے میرے یار… اسے هی تو محبت کهتے هیں…جو سوچ سمجھ کر کی جاۓ اسے پلاننگ کهتے هیں… محبت تو کسی وحی کی طرح اچانک نازل هوتی هے دل پر…” ریحان بھی چلتا هوا اسکے برابر آن رکا اور ونڈو سے باہر جھانکنے لگا…”تو ڈاکٹر هے یا فلاسفر…” سکندر کی بات پر ریحان هنس دیا… “تو پھر اب مجھے کیا کرنا چاهئے…جیسے آج کل میرے حالات چل رهے هیں, جیسے هر کام , هر چیز بھول رها هوں… مجھے لگتا هے مجھے بھت جلد تمهارے پاس آنا پڑے گا… مریض بن کر… ” سکندر کے لهجے میں خفگی سی تھء…بچکانه سا انداز جیسے وه اس سب په خود سے هی خفا هو… ریحان نے قهقهه لگاتے هوۓ اسکی جانب دیکھا… جو دونوں هاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے سب اپنے پیروں کی جانب دیکھ رها تھا… ذهن کهیں دور پهنچا هوا لگتا تھا…
“اتنا ذهین مرد, اتنا کامیاب ترین بزنس مین بالآخر اس مقام پر آ کر چاروں شانے چت هو گیا… کیا شعر هے وه…. سوچنے دو… هاں
وه جو کهتا تھا که عشق میں کیا رکھا هے…
اک هیر نے اسے شخص کو رانجھا بنا رکھا هے..
ریحان گنگنایا تھا انداز میں شرارت تھی… سکندر نے ایک پل کو نظر اٹھر کر خفگی سے اسے گھورا پھر بغیر کچھ بولے نظریں باهر جما دیں…
ریحان بھی اس کے انداز پر سنجیده هوا…
“دیکھ دوست… تمهیں آج تک کوئ لڑکی اچھی نهیں لگی… کبھی کسی لڑکی میں انٹرسٹ نهیں لیا تم نے…عورت ذات کو اپنے قریب پھٹکنے بھی نهیں دیا…لیکن اس لڑکی کے لئے تمھاری فیلنگز بالکل ڈفرنٹ هیں…تو اسکا یهی مطلب هوا که تمهیں وه اچھی لگی…تمھاری لائف پارٹنر کے لحاظ سے تمهیں پرفیکٹ لگی… اپنی آئیڈیل لڑکی مل.گئ تمهیں…اس لئے تم اسکی طرف اٹریکٹ هوۓ… مطلب یو آر ان لو…” وه خاموش هوا تو سکندر نے هنکارا بھرا اور اس کے مزید بولنے کا انتظار کرنے لگا… “اس لئے فکر کرنے کی کیا ضرورت هے… دیر کس بات کی… تم اسے پرپوز کرو… اس سے ملو… اس کے بارے میں جانو… اسے اپنے بارے میں بتاؤ…اسے سمجھو پھر جو مناسب فیصله لگے وی کرو…” ریحان نے چٹکیوں میں اسکے مسئلے کا حل نکالا تھا… سکندر کچھ دیر خاموش کچھ سوچتا رها… پھر اسکی طرف متوجه هوا… “اچھا… یهاں تک تو ٹھیک ھے … لیکن مجھے یه نهیں معلوم که وه کون هے … کهاں رهتی هے… کیا کرتی هے… ایون مجھے اس کا نام تک معلوم نهیں… کیسے ملوں اس سے…کیسے اسے بتاؤں یه سب… اور فرض کرو وه مل بھی جاتی هے تو اگر اس نے انکار کر دیا تو پھر…¿¿¿ ” سکندر کےلهجے میں بھت سے خدشات تھے… “دیکھو … اگر وه تمهاری قسمت میں هے تو قدرت نے جیسے پهلے تم دونوں کو ملوایا پھر ملا دے گی…اور رهی بات انکار کی… تو تم جیسے هیرے کو کوئ لڑکی انکار نهیں کر سکتی… هاں بس دعا کرو که… ” ریحان نے جمله ادھورا چھوڑا… چھرے پر سنجیدگی چھائ تھی…
“که…¿¿¿” سکندر نے سوال کیا…
“که وه شادی شده نه هو… کهیں ایسا نه هو تین چار بچے هوں اسکے … پھر تم ان کے انکل کهلاؤ گے… ” وه شرارت سے کهه کر هنسنے لگا… جبکی سکندر کی چهرے پر پھر سے خفگی چھائ تھی… کھڑکی سے باهر نظریں جماتے هوۓ اس کی بڑبڑاهٹ سنائ دی تھی… “آئم شیور… شی از ناٹ میرڈ…”
———-
وه ابھی نها کر نکلا تھا… ٹاول سے بالوں کو خشک کرتا وه آئینے کے سامنے آ کھڑا هوا… ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھا کر خود پر سپرے کیا…اور آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر نظر ڈالی…آئینے میں نظر آتی نیلی آنکھوں کو دیکھتے هوۓ وه کسی پرانے منظر میں کھویا تھا… اس کے سامنے اب آئینے میں کوئ اور ہی منظر ابھر رها تھا… دلکش, حسین… خوشیوں بھرا منظر…
وه دونوں اس وقت سمندر کے ساحل پر موجود تھے… شام کا وقت تھا… سورج غروب هو رها تھا… ایسے میں وه دونوں ایک دوسرے کے درمیان چند قدم کا فاصله رکھے ساحل پر چهل قدمی کر رهے تھے… ٹراؤزر کے ساتھ هاف سلیوز ٹی شرٹ جن میں سے بازوؤں کے مسلز نمایاں هو رهے تھے, پهنے وجاهت کا شاهکار وه مرد اور ساتھ جینز اور ٹاپ میں ملبوس ایک هنستا کھلکھلاتا نسوانی وجود… دونوں کے پاؤں جوتوں کی قید سے آزاد تھے… ننگے پیر دونوں ساحل کی نرم ریت کی ٹھنڈک جو اپنے وجود میں سرایت کرتے محسوس کر رهے تھے… لڑکی نوجوان کی کسی بات پر هنس رهی تھی…اور نوجوان بے خود هوتا اسے تکے جا رها تھا… “ایسے کیا دیکھ رهے هو…¿¿¿” لڑکی نے جب اسے مسلسل خود کو گھرتا پایا تو ابرو اچکاۓ… “کچھ نهیں… ” وه مسکرایا… نرم سی مسکراهٹ… اور پھر بادلوں کے پیچھے چھپتے سورج پر نظریں جما دیں… “اچھا…” لڑکی نے معنی خیز انداز میں اچھا کو لمبا کھینچا… “ایک بات پوچھوں…¿¿¿” نوجوان نے اجازت طلب نظروں سے اس کیطرف دیکھا… وه رک گیا تھا اور سمندر میں بپھرتی مسلسل حرکت کرتی لهروں کو اپنی نگاهوں کا مرکز بنایا… “هاں پوچھو…” لڑکی نے بھی رک کر اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا… شوریده, بے چین لهریں…
“تمهیں مجھ میں کوئ بات, کوئ چیز بری لگتی هے…¿¿¿” عجیب سوال کیا گیا تھا…” یه کیا سوال هوا بھلا…” لڑکی نے اسکے چہرے کی طرف حیرت سے دیکھا… “بس هے نا سوال… تم جواب دو…” وه بضد هوا تھا جواب جاننے کو… “لوگ یه پوچھتے هیں که آپ کو مجھ میں کیا چیز اچھی لگی … اور تم پوچھ رهے هو که کیا چیز بری لگی… هاهاها…” لڑکی نے مزاق اڑانے کے انداز میں کها… “هاں ناں… کیونکه مجھے معلوم هے… مجھ میں کوئ چیز بری نهیں… آل ٹو آل پرفیکٹ هوں میں… پھر بھی سوچا تم سے پوچھ لوں تاکه تم میری تھوڑی تعریف کر دو…” اس نوجوان کے لبوں پر بڑی خوبصورت شرارتی سی مسکراهٹ آئ تھی… اس نے دونوں هاتھ ٹراؤزد کی جیبوں میں گھساۓ اور پیر سے ریت پر لکیریں سی بنانے لگا…”الله رے خوش فهمی…” لڑکی نے اسے چڑایا… “محترمه … اسے خوش فهمی نهیں خود شناسی کها جاتا هے…” اس نے تصیح کرتے هوۓ کها.
“چلو اب بتاؤ …” اس نے اصرار کیا … “همم … اچھا سوچنے دو…” وه سوچنے کی ایکٹنگ کرتے هوۓ بولی… پھر اسکی طرف رخ موڑا…”ادھر دیکھو ذرا میری طرف…” لڑکی کے کهنے پر نوجوان نے بھی اپنا رخ اسکی جانب موڑا … اور اسکی آنکھوں میں ایک پل کیلئے دیکھا… پھر فورا نظر جھکا گیا… وه کبھی براه راست اسکی جانب نهیں دیکھ پاتا تھا… جب بھی اس کے ساتھ بات کرتا نظر جھکی هوتی یا اردگرد کسی چیز پر جمی هوتی… یه عزت واحترام کا تقاضا تھا که محبوب سے نظر جھکا کر بات کی جاۓ… همیشه اس کے اور اپنے درمیان فاصله رکھتا… کبھی اس کا هاتھ تک نهیں تھاما تھا اس نے… اور لڑکی اس کی انهی عادتوں کی دیوانی تھی… کیونکه وه صرف محبت نهیں کرتا تھا… محبت سے زیاده اسکی عزت کرتا تھا…
“ویسے تو تم هر لحاظ سے اچھے هو… کوئ برائ نهیں تم میں… لیکن… تمهاری یه نیلی آنکھیں مجھے پسند نهیں… اور…” لڑکی کی بات ابھی جاری تھی جب نوجوان شاکڈ سا چلایا تھا…”واٹ…¿¿¿ میری… میری آئیز پسند نهیں تمهیں…” اس نے صدمے سے پوچھا… “هاں نه…” لڑکی نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں…”لڑکی… دنیا مرتی هیں میری آئیز پر… ان آنکھوں کی دیوانی هیے… سبھی کهتے هیں که مجھ پر بهت سوٹ کرتی هیں بلیو آئیز … اور تم هو که…” وه لهجے میں مصنوعی خفگی لاتے هوۓ بولا تھا… “هنهه… لڑکیاں مرتی هیں… تو جاؤ تم بھی جا کر انهی پر مر جاؤ نا… یهاں کیا کر رهے هو…” لڑکی کے منه کے زاوئیے بگڑے تھے… جس پر نوجوان نے هنستے هوۓ اسے دیکھا… خفا خفا سا چهرا سیدھا دل میں اتر رها تھا… “اچھا کیوں نهیں پسند میری آئیز…¿¿¿” اس نے وجه دریافت کی… “کیونکه میں نے پڑھا تھا کهیں که نیلی آنکھوں والے لوگ بے وفا هوتے هیں…” منه بسور کر جواب دیا گیا تھا جس پر نیلی آنکھوں والے نے حیرت سے اسے دیکھا… “عجیب منطق هے… صرف آئیز کے کلر سے کسی کو کیسے جج کر سکتے هیں آپ… اور سنو… مجھ جیسا وفادار شخص کهیں نهیں ملے گا تمهیں… لکھ کر رکھ لو… مجھ پر شک مت کرنا کبھی…” وه بولا تھا …”اچھا نا اور بھی تو سنو…” لڑکی پرجوش سی بولی… “کیا…¿¿¿” نوجوان نے الجھن آمیز نظروں سے اسے دیکھا… “مجھے نا… تمهارے گال په پڑتے یه ڈمپل بھی پسند نهیں…” لڑکی نے ناک چڑھاتے هوۓ اسے پھر سے حیران کیا… تو نوجوان کا هاتھ بے ساخته اپنے گال پر چلا گیا… پھر وه کھل کر مسکرایا جس پر ڈمپل گهرا هوتا چلا گیا…
جن چیزوں کی لوگ تعریف کرتے تھے سامنے کھڑی پیاری سی لڑکی انهی چیزوں پر اعتراض کر رهی تھی… “اچھا وه کیوں…¿¿¿” اس بار وه مزه لیتے هوۓ بولا… وه انجواۓ کر رها تھا اسکی باتوں کو… “کیونکه ڈمپل صرف لڑکیوں کے چهرے پر سوٹ کرتا هے… صرف لڑکیوں پر جچتا هے… کاش یه ڈمپل تمهارے گال کی بجاۓ میرے گال پر هوتا… مجھے ڈمپلز بھت پسند هیں…” وه حسرت زده سے لهجے میں بولی تھی…اور اسکی بات پر نوجوان کا قهقهه بلند هوا… “هنسے کیوں…¿¿¿” لڑکی نے اسے گھورا… “نهیں کچھ نهیں… ” اس نے اپنی هنسی کا گلا گھونٹا تھا… کیونکه لڑکی کا منه پھول چکا تھا… ایسی هی تھی وه… چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض هو جاتی… “آهم آهم… وه میں کهه رها تھا که اگر تمهارے فیس پر ڈمپل نهیں هے تو اٹس اوکے… میں بغیر ڈمپل والی کے ساتھ بھی گزارا کر هی لوں گا…” انداز میں شرارت تھی… “اچھا … ایسی بات هے… تو ٹھیک هے پھر… میں بھی نیلی آنکھوں اور ڈمپل والے کے ساتھ گزارا کر هی لوں گی… کیا کریں… مجبوری هے… ” اسنے فورا بدلا لیا تھا… اور معصومیت سے بولی… جس پر وه هنستا چلا گیا… اور کئ لوگوں نے اس خوبصورت سے نوجوان کی خوبصورت هنسی کو مڑ کر دیکھا تھا…
پرانی یادیں بعض اوقات بهت اذیت دیتی هیں… شاه کا بھی یهی حال تھا… ماضی هر دم کسی زهریلے سانپ کی طرح ڈستا تھا… اسے نفرت هو چکی تھی اپنی نیلی آنکھوں سے… اپنے ڈمپلز سے…
اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا… سر میں ایک دم شدید درد اٹھا تھا… بے تحاشا درد… تکلیف ناقابل پرداشت تھی… وه دهرا هوتا چلا گیا…دونوں هاتھوں سے سر کو تھام کر وه وهیں بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگاۓ بیٹھتا چلا گیا … درد ناقابل برداشت تھا… یوں جیسے پرانے زخموں کے ٹانکے ادھڑ گۓ هوں… اسکی آنکھوں کے گرد اندھیرا چھانے لگا تھا… وه اٹھا تھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے سے نکل گیا..
______
یه ایک فائیو اسٹار هوٹل کا منظر تھا… سکندر بازوؤں کے کف فولڈ کرتے هوۓ تیز قدموں سے آگے بڑھ رها تھا… اس کا رخ بیرونی دروازے کی جانب تھا…قدموں میں تیزی تھی… جبکه پیچھے اسکا سیکرٹری اور تین باڈی گارڈ تیز تیز قدم اٹھاتے اسکی رفتار پر چلنے کی کوشش کر رهے تھے… اور اس کوشش میں هانپ گۓ تھے… ایک باڈی مین کے هاتھ میں سکندر کا لیب ٹاپ اور دوسرے بازو پر اسکا کوٹ دھرا تھا… جبکه سکندر سفید ڈریس شرٹ اور بلیک ڈریس پینٹ میں ملبوس تھا… ماتھے پر بال بکھرے تھے جو هلکے سے نم تھے… وجاهت دیکھنے لائق تھی… وه یهاں ایک میٹنگ کے سلسلے میں آۓ تھے … دبئ سے ڈیلیگیشن آیا تھا …. اب میٹنگ کے بعد یهاں سے انهیں آفس پهنچنا تھا… ایک گھنٹے کے بعد سکندر کی ایک اور میٹنگ تھی…
ابھی وه لوگ دروازے سے کافی فاصلے پر تھے جب سکندر کی نگاه بلا اراده هی اٹھی تھی اور پلٹنا بھول گئ تھی… سیکنڈ فلور پر ریلنگ کے ساتھ وهی خوبصورت چهرا دکھائ دیا تھا جسے وه کئ روز سے ڈھونڈ رها تھا…وه قدم اٹھانا بھول گیا … اسکے پیچھے تیزی سے آتے سیکرٹری اور گارڈز اسکے ایک دم رکنے پر اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچے…حیرت سے اسکی طرف دیکھا… پھر اسکی نظروں کے تعاقب میں اوپر کی جانب دیکھا… تب تک وه لڑکی وهاں سے هٹ چکی تھی… وه حیران هوۓ… “سر… واٹ هیپنڈ…¿¿¿” سکندر کے سیکرٹری نے سوالیه نگاهوں سے اسکی طرف دیکھا…سکندر نے چونک کر گردن گھمائ…سیکرٹری کی طرف دیکھا اور پھر سے اوپر نگاه دوڑائ… وه لڑکی اب وهاں نهیں تھی… سکندر تھوڑا خجل سا هوا… اور سیکرٹری کی جانب مڑا…”ایسا کریں آپ لوگ آفس پهنچیں… میں آ رها هوں تھوڑی دیر تک…” سیکرٹری نے باڈی گارڈز کی طرف دیکھا… اور پھر اوکے کهتے هوۓ وه لوگ آگے بڑھ گۓ… جبکه سکندر تیز قدموں سے اس طرف بڑھا جهاں کچھ دیر پهلے اس نے اس پری چھره کو دیکھا تھا…
سیکنڈ فلور پر پهنچ کر اس بے ادھر ادھر نگاه دوڑائ…دور ایک کونے کی ٹیبل پر اسے وه بیٹھی نظر آئ… بار بار بے چینی اور اضطراب سے گھڑی دیکھتی, شاید کسی کی منتظر تھی.. چهرے پر دبا دبا سا غصه بھی تھا… بلیک جینز پر ریڈ ٹاپ تھا اور ایک کندھے پر دوپٹه تھا… بالوں کو کھلا چھوڑ رکھا تھا … هلکے میک اپ میں حسین چهرا…
“ایکسکیوزمی..” سکندر بے تابی سے اس کی طرف بڑھا… اور اسکی ٹیبل کے پاس جا کر اسے اپنی جانب متوجه کیا …لڑکی نے نگاه اٹھا کر اسکی طرف سوالیه انداز میں دیکھا… “کیا میں یهاں بیٹھ سکتا هوں…¿¿ جسٹ فار فائیو منٹس…” سکندر کی آواز میں تھوڑی کنفیوژن تھی… اتنا کانفیڈنٹ پرسن نه جانے کیوں اس لڑکی کے سامنے آ کر گھبرا جاتا تھا… سکندر نے دل هی دل میں خود کو اپنی گھبراهٹ پر ڈپٹا اور اپنی آواز کی لرزش پر قابو پایا… “شیور…” لڑکی شاید اسے پهچان گئ تھی… تبھی مروت میں اسے بیٹھنے کو کها…جبکه چھرے کے تاثرات ابھی بھی غصه اور خفگی والے تھے… شاید کسی سے خفا تھی وه… “وه… ایکچوئلی… مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی…” سکندر نے بات کا آغاز کیا… لڑکی نے ادھر ادھر دیکھنا چھوڑ کر براه راست اسکی آنکھوں میں جھانکا… اور اپنی پوری توجه اس پر مرکوز کر لی…جبکه اسکے یوں متوجه هونے پر سکندر پھر سے گڑبڑا گیا… “جی بولئیے..” لڑکی نے کها تو سکندر نے اپنی بات کهنے کے لئے همت مجتمع کی… اور پھر بغیر رکے ایک دم کهه گیا… “ول یو میری می…¿
اور یه بات کهنے کے ساتھ هی آنکھیں بند کر لیں… پتا نهیں اسکا کیا رسپانس هو گا… کهیں تھپڑ هی رسید نه کر دے… اس کے دل میں نه جانے کیا کیا خیالات آ رهے تھے… جب سامنے خاموشی چھائ رهی تو اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں… وه لڑکی خشمگیں نگاهوں سے اسے گھور رهی تھی… اسکے آنکھیں کھولنے پر غصے سے بھری آواز سنائ دی…
“بھت هی گھٹیا مزاق هے یه…” اور اٹھ کھڑی هوئ… بیگ غصے سے جھپٹنے کے انداز میں اٹھایا…اور وهاں سے چلدی…
“ایکسکیوزمی… بات سنیں پلیز…” سکندر کے لهجے میں لجاجت تھی…وه اضطرابی حالت میں اسکے پیچھے بھاگا… بھت سے لوگوں کی نگاهیں ان دونوں کی طرف اٹھیں… جب کافی دور جانے کے باوجود سکندر مسلسل اسکے پیچھے آتا رها تو وه ایک دم مڑی… تب تک سکندر بھی اس تک پهنچ چکا تھا… “مسٹر… چاهتے کیا هیں آپ… کیوں میرے پیچھے هڑے هیں…” وه دانت پیستے هوۓ بولی
” آئم … آئم سو سوری…بٹ میں آپ کو تنگ نهیں کرنا چاهتا…جس دن سے آپ کو دیکھا هے… عجیب سی فیلنگز هو گئ هیں… آپ… آپ مجھے اچھی لگتی هیں… بلکه اچھی سے بھی کهیں زیاده اچھی لگی هیں… ان شارٹ… میں آپ کو اپنی لائف کا حصه بنانا چاهتا هوں… اینڈ اٹس ناٹ اےنی جوک… آئم سیریس…”سکندر کے انداز میں بے بسی تھی…
“اس دن ایکسیڈنٹ میرا هوا… بٹ آئ تھنک دماغ آپ کا خراب هو گیا هے… کیا سوچ کر آپ نے مجھ سے یه بات کی… دیکھئے مسٹر… میں اس ٹائپ کی لڑکی نهیں هوں… کهیں اور ٹرائ کیجئے… هوں گے آپ کوئ امیر زادے… لیکن میں پیسے سے مرعوب هونے والی لڑکی نهیں هوں…سمجھے آپ… اور پھر جانتے هی کیا هیں آپ میرے بارے میں… یه غالبا هماری تیسری ملاقات هے…اور تیسری هی ملاقات میں آپ گرلز کو پرپوز کر دیتے هیں… واٹ ربش…”لهجے میں طنز اور غصه تھا…
“لیکن آپ میری بات سمجھنے کی کوشش تو…” سکندر نے کچھ کهنے کی کوشش کی لیکن لڑکی نے اسکی بات کاٹ دی… “انف… مجھے کچھ بھی سمجھنے کی خواهش هے نه هی ضرورت…اور اگر آپ کی بات سچ بھی هے تب بھی میں آپ میں انٹرسٹڈ نهیں هوں… مزید تماشا بنانے کی ضرورت نهیں هے… بهتر هے اپنے دماغ کا کسی اچھے سے ڈاکٹر سے علاج کروائیں… اب میرا پیچھا مت کیجئے گا…” وه مڑی اور تیز تیز قدموں سے آگے بڑھی جب سکندر ایک بار پھر اسکے پیچھے لپکا… اب کی بار لڑکی خونخوار انداز میں مڑی… “ایک بار بات سمجھ میں نهیں آتی کیا آپ کو…” اکتاہٹ اور بےزاری تھی اس کے چهرے پر…سکندر نےجلدی سے والٹ نکالا اور اپنا وزیٹنگ کارڈ برآمد کیا… ” دیکھئے… میں آپ کو پریشرائز نهیں کرنا چاهتا…کوئ زنردستی نهیں هے… یه میرا کارڈ رکھ لیجئے…اور پلیز ریکویسٹ هے… ایسے انکار نه کریں… سوچ سمجھ کر فیصله.کیجئے گا… اور پھر مجھے آگاه کر دیجئے گا…مجھے آپ کے کسے فیصلے پر کوئ اعتراض نه هو گا…” سکندر نے کارڈ اسکی طرف بڑھایا… لڑکی نے گھور کر اسے دیکھا… پھر جھپٹنے جے سے انداز میں کارڈ پکڑا اور ٹک ٹک کرتی وهاں سے چلی گئ… جبکہ سکندر بے بسی سے سر میں هاتھ پھیر کر ره گیا.
•••••••••
وه اس وقت جینز اور ٹی شرٹ پهنے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھی…انداز میں بوریت تھی…ایک هاتھ میں پارپ کارن کا باؤل تھا جبکه دوسرے هاتھ سے بے مقصدٹی وی چینلز سرچ کر رهی تھی…تبھی باهر اطلاعئ گھنٹی بجی…وه ریمورٹ اور پارپ کارن کا باؤل وهیں رکھ کر کھڑی هوئ… اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئ…دروازه کھولا تو سامنے وه کھڑا تھا … اس کا دشمن جان… “هاۓ بے بی…” وه مسکرایا تھا…لیکن وه خاموشی سے ایک طرف هو گئ اور اسے اندر آنے کا رسته دیا… پچھلے کچھ دنوں سے ان کی ناراضگی چل رهی تھی…
اور آج اسے خیال آیا تھا منانے کا… اس نے غصے سے سوچا… برا سا منه بنا کر واپس لاؤنج میں آئ… باؤل پھر سے تھام لیا اور نظریں ٹی وی پر جما دیں… نظرانداز کرنے کا اچھا طریقه تھا…
“یار بس بھی کرو… ختم کرو یه ناراضگی اب…” لڑکی نے اسے اس بات پر گھورا…”تمهیں میری ناراضگی کی پرواه هی کب ھے…” انداز میں شکایت تھی… اور آنکھوں میں آنسو آۓ تھے جنهیں اس نے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی… وه اسکے سامنے رونا نهیں چاهتی تھی… لیکن یہ بھی سچ تھا که اسے نظرانداز کرنا, اس سے ناراض رهنا بھی اس کے بس میں نهیں تھا… “یار پرواه هے… تبھی تو آیا هوں…چلو مووی دیکھنے چلتے هیں… اسکے بعد شاپنگ بھی کرواؤں گا… ” وه اسے پچکار رها تھا… “اور دو دن بعد پھر سے وهی حرکتیں شروع کر دو گے جن په مجھے غصه آتا هے اور پھر سے ناراضگی… ” اسکی آواز بھرائ تھی… “نهیں یار اب ایسا کچھ نهیں ہو گا… آئ پرامس… چلو اٹھو اب… جلدی سے ریڈی هو جاؤ…” اس نے جلدی مچائ تھی… “نه جانے تم کتنے پرامس کرو گے اور کتنے پرامس توڑو گے…”وه بڑبڑاتی هوئ اٹھی تھی…اور تیار هونے کیلئے جا هی رهی تھی…. جب کسی آواز په مڑی… نظر اسکرین کی طرف اٹھی تھی… وه جلدی سے اسکرین کے قریب آئ… بھت غور سے اسکرین کی جانب دیکھا… جھاں کسی بزنس ایوارڈ کی تقریب دکھائ جا رهی تھی… “کیا هوا…¿¿¿”کچھ فاصلے پر بیٹھا وه لڑکا الجھن زده سا اسے دیکھے گیا… “یه…. یه شخص…” اس نے انگلی اٹھا کر اسکرین پر ایوارڈ لیتے مسکراتے هوۓ شخص کی جانب اشاره کیا… ” یه شخص اتنا بڑا بزنس مین هے…¿¿¿” اس نے تھوک نگلا… انداز میں بے یقینی تھی… اسکرین پر اب اس شخص کے بارے میں بتایا جا رها تھا… اس کی کاوشیں… اس کی محنت… بزنس وسیع کرنے کی تکنیکس… “هاں تو… تم اتنی پریشان کیوں هو…” وه نوجوان ابھی تک حیرت سے لڑکی کے چهرے کے تاثرات دیکھ رها تھا… “میں نے اسے عام چھچھورا سا لڑکا سمجھ کر اتنی باتیں سنا ڈالیں…” لهجے میں شرمندگی تھی…
“واٹ…¿¿¿ یه تمهیں کهاں ملا… اور تم نے کیوں باتیں سنائیں اسے…” لڑکے نے حیران اور سوالیه نگاهوں سے اسکی جانب دیکھا… تبھی چھوٹے کندھوں تک کٹے بالوں والی لڑکی بھی اس کیطرف متوجه هوئ اور پھر دھیرے دھیرے اسے سب بتاتی چلی گئ… لڑکا پهلے تو حیران هوا… پھر کسی سوچ میں ڈوبا… اور پھر اسکی آنکھیں کمینگی سے چمک اٹھی تھیں… وه پر جوش سا هو کر لڑکی کی طرف مڑا اور اسے رازدارانه انداز میں کچھ سمجھانے لگا
