Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14

331K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14

سونا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ تھیں… بے یقینی سی بے یقینی تھی… سانس تھمنے لگی تھی… وقت رک گیا تھا اور مسکراتے ہوۓ سونا کی جانب دیکھ رہا تھا…اس کے سامنے وہ کھڑا تھا… وہ… جو اس کے خوابوں میں بارہا آیا تھا… وہ جس کی نیلی آنکھوں کو اس نے بارہا خواب میں چھوا تھا… وہ جسے پانے کی تمنا کی تھی اس نے… وہ جس کے بارے میں سوچتے ہوۓ بھی اسے ڈر لگتا تھا کہ وہ اس کے لیے نامحرم ہے… اب وہی نیلی آنکھوں والا شہزادہ اس کا محرم بننے جا رہا تھا…عطا کی حد تھی یہ اس مالک کی طرف سے… سونا کی نظریں اس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں… سفید کرتا اور شلوار میں ملبوس, اوپر بلیو ویسٹ… آنکھوں سے میچ کرتے لباس میں وہ وجاہت کا شاہکار لگ رہا تھا… وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا… فاتحانہ مسکراہٹ آنکھوں میں لیے… یک ٹک… “یہ لو شاہ… بیٹا رنگ پہناؤ…” تائ جی نے آگے بڑھ کر شاہ کو ڈبیا تھمائ تھی… شاہ نے ڈبیا کھول کر رنگ نکالی… ماضی کا کوئ پرانہ منظر عکس کے پردے پر لہرایا تھا…
سینیما ہال کے کوریڈور میں جلتے بہت سے دئیے… کوریڈور میں آگے بڑھتے دو وجود… ان کے اوپر پرستی سرخ گلاب کی پتیاں… بیک گراؤنڈ مین ہلکا میوزک… لڑکی کو اسٹیج پر سفید روشنی میں رنگ پہناتا لڑکا… دونوں کی آنکھوں میں مہکتے خوبصورت جذبات… خوشی سے چمکتے چہرے… اسکرین پر چلتی ان گنت تصویریں…اف کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا… شاہ نے اذیت اور کرب سے سختی سے آنکھیں میچیں… جیسے ان یادوں سے پیچھا چھڑانا چاہا تھا… آنکھیں کھول کر سامنے کھڑے وجود کو دیکھا… دل میں بے تحاشہ نفرت امڈ آئ تھی اس کے لیے…آنکھون میں سرخی سی تیر گئ… شاہ نے لب بھینچتے ہوۓ اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا… تا کہ رنگ پہنا سکے… لیکن دوسرے وجود میں کوئ حرکت نہ ہوئ تھی… وہ بت بنی کھڑی تھی جیسے ہوش میں ہی نہ تھی…شاہ نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا… عبدالہادی نے سونا کا کندھا ہلایا…” سونا… گڑیا اپنا ہاتھ آگے بڑھاؤ…” سونا چونکی تھی ان کی آواز پر…جیسے کسی نے گہری نیند سے اسے جگایا ہو… ناسمجھی سے اردگرد دیکھا… پھر سامنے پھیلے اس ہاتھ کو… ایک ٹرانس کی کیفیت میں اپنا ہاتھ شاہ کے ہاتھ میں دیا… ” تو… کیا شاہ نے بھی سارہ کے بھائ کی شادی میں ہی مجھے دیکھ کر پسند کیا…اور تایا جی سے رشتے کی بات کی…جیسے میں اسے دیکھتے ہی اپنا دل ہار بیٹھی تھی…¿¿¿” سونا نے خود سے ہی سوال کیا تھا… اسکاوڈ ایک دم بہت خوشگوار ہو گیا تھا… یہ احساس ہی بہت خوبصورت تھا کہ جسے اس نے چاہا تھا وہ اس کی ذندگی میں شامل ہونے جا رہا تھا… اسے لگا اس کائنات میں اس سے زیادہ خوش نصیب کوئ نہیں ہو گا… شاہ نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما… حنائ ہاتھ کو ایک پل کے لیے غور سے دیکھا پھر اس کے ہاتھ کی تیسری انگلی میں رنگ پہنا دی… اس کا ہاتھ چھوڑا تو سونا نے محبت سے اپنے ہاتھ کو اور اس میں موجود اس رنگ کو دیکھا… دل انوکھی لے پر دھڑکنے لگا تھا…. چہرے پر سرخی چھائ ہوئ تھی… عبدالہادی نے بھی اسے رنگ تھمائ… سونا نے رنگ شاہ کے ہاتھ میں پہنا دی.. اس کے ہاتھوں میں شاہ نے لرزش محسوس کر لی تھی… ایک تمسخرانہ مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا تھا… اردگرد تالیاں بجنے لگی تھیں… مبارک باد کی آوازیں آ رہی تھیں… سونا ابھی بھی بے یقین تھی…اسے اب بھی یہ سب ایک خواب لگ رہا تھا… اسے ڈر تھا کہ وہ ابھی جاگے گی تو خواب ٹوٹ گا… اس کے برتھ ڈے کا کیک کاٹا گیا گیا تھا… اس کے بعد کھانا کھل گیا… آج کے دن گاؤں کے کسی بھی گھر میں چولہا نہیں جلا تھا… عبدالعزیز نے گاؤں کے ہر فرد کو مدعو کیا تھا آج اپنے گھر… اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کے لیے..
••••••
سکندر پولیس اسٹیشن آیا تھا… اس کا ایک جاننے والا تھا اس پولیس سسٹیشن میں…ڈیوڈ……جب اسے کسی بھی طرح پری کا کچھ پتا نہ چلا تو اس نے ڈیوڈ کی مدد لینے کا سوچا… ڈیوڈ کو اس نے پریشے کی تصویر دی اور سارا معاملہ اس کے سامنے بیان کر دیا.. سواۓ پریشے کے ہاسٹل والے جھوٹ کے… ساری بات سن کر ڈیوڈ کچھ دیر تک خاموش کچھ سوچتا رہا… نظریں اپنے اور سکندر کے درمیان پر پڑے گلاس ٹیبل پر جمی تھیں.. پھر سکندر کی طرف دیکھنے لگا…” آخر وہ کہاں جا سکتی ہیں…¿¿ آپ کے کہنے کے مطابق ان کا کوئ دوست, کوئ رشتہ دار بھی نہ تھا… جن کے ہاں وہ جاتیں… اور اگر کوئ ہے بھی تب بھی آپ کو بتا کر جاتیں…یوں ان کا اچانک سے غائب ہو جانا… نمبر مسلسل بند جانا… کہیں ان کے ساتھ کوئ حادثہ تو پیش نہیں آیا…” ڈیوڈ نے برٹش لب و لہجے میں اپنے خیال کا ظہار کیا… سکندر کو اس کی بات پر یوں لگا جیسے کسی نے اس کے جسم سے خون کی آخری بوند تک نچوڑ لی ہو… پریشے کے بارے میں ایسا کچھ سوچنا بھی اذیت سے دوچار کرتا تھا…وہ بالکل خاموش ہو گیا… ” اینی وے… میں پوری کوشش کروں گا آپ کی مدد کرنے کی… اگر ان کےمتعلق کوئ انفارمیشن ملی تو آپ کو انفارم کر دیا جاۓ گا سر…” ڈیوڈ نے پروفیشنل لہجہ اپنایا… سکندر نے اس سے مصافحہ کیا اور شکست خوردہ سا وہاں سے لوٹ آیا… پچھلے آٹھ دنوں میں اس نے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا پری کو… لیکن اس کا کوئ سراغ نہ مل سکا تھا… نہ جانے اسے زمین کھا گئ یا آسمان نگل گیا تھا… سکندر کو اس کے بغیر اپنی سانسیں رکتی ہوئ محسوس ہوتی تھیں… ریحان بھی آج کل اپنا ہاسپٹل بنوا رہا تھا اور اسی سلسلے میں مشینری درآمد کرنی تھی اسے اس لیے وہ انگلینڈ گیا تھا… سکندر نے اسے پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا… اس لیے اسے کچھ بھی نہیں بتایا…
••••
سونا اور عبدالہادی واپس آ گۓ تھے اپنے گھر… سونا خوش تھی بہت خوش… شاہ کی کچھ پکس لے کر آئ تھی وہ نادیہ سے. اور کچھ اپنی انگیجمنٹ کی پکس بھی… جانتی تھی کہ ان چاروں چڑیلوں نے اس کی جان نہیں بخشنی تھی پکس دیکھے بغیر… اور وہی ہوا.. وہ چاروں آج اس کے گھر آئ تھیں… اس کے لیے برتھ ڈے گفٹس لے کر… سونا نے کیک منگوا لیا تھا اور ساتھ اور بھی کھانے پینے کی چیزیں… اس بار گھر میں ہی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کا ارادہ تھا…. آتے ہی ان چاروں نے ہلہ بول دیا تھا… سب سے پہلے ان کی انگیجمنٹ کی تصویریں دیکھنے کی فرمائش کی گئ… سونا ان کی بے تابی پر ہنس رہی تھی… پھر اس نے انہیں پکس دکھائیں… ایک تصویر میں وہ اور شاہ ایک ساتھ کھڑے تھے… رنگ پہنانے کے بعد… کتنا مکمل منظر تھا نہ وہ… سونا کی نظریں اسی تصویر پر ٹک گئیں… جبکہ شاہ کو دیکھ کر چاروں کی آنکھیں پھیلی تھیں… ” او مائ گاڈ… یار کتنا پرفیکٹ کپل لگ رہا ہے دونوں کا…” منزہ خوشی سے چلائ… سونا انہیں پہلے بتا چکی تھی شاہ کے بارے میں… اور وہ تب سے ہی بہت ایکسائیٹڈ اور خوش تھیں… کہ جسے دیکھتے ہی انہوں نے سونا کے لیے پسند کیا وہی اس کا کزن نکلا اور اب وہی اس کی ذندگی کا ہمسفر بننے جا رہا تھا… “یار… کمال کا بندہ ہے سیریسلی… دیکھو وائٹ کرتا اور شلوار کتنا سوٹ کر رہا ہے اس پہ.. سونا یار تم واقعی بہت خوش قسمت ہو… ہی از سو نائس… تم دونوں کی جوڑی چاند اور سورج کی مانند ہو گی… دونوں کو دیکھ کر یقین سا آ جاتا ہے کہ واقعی دونوں ایک دوسرے کے لیے ہے بنے ہیں… ” سارہ نے تبصرہ کیا… سونا مسکرا دی… وہ کافی دیر تک یونہی لگی رہیں… بار بار تصویریں دیکھتی جاتیں اور کمنٹس دیتی جاتیں…سونا بھی خود کو خوش قسمت ترین لڑکی تصور کر رہی تھی..بہت سے خواب سج گۓ تھے اس کی آنکھوں میں… شاہ کے حوالے سے…. وہ اب بغیر کسی جھجھک اور خوف کے اس کے بارے میں سوچنے لگی تھی.. اپنی آنکھوں میں اس کے حوالے سے حسین سپنے سجانے لگی تھی… وہ معصوم لڑکی اس بات سے بے خبر تھے کہ وقت بہت ظالم ہے… یہ ایک پل میں آنکھوں سے خواب چھین کر لے جاتا ہے اور ہاتھ میں تھما جاتا ہے عمر بھر کی نارسائ… دکھ.. تکلیف… اذیت… یہ دیکھے بغیر کہ سامنے والا اس تکلیف کو برداشت بھی کر پاۓ گا یا نہیں…
•••••
تین دن مزید گزر گۓ… پولیس بھی ناکام رہی تھی پریشے کو ڈھونڈنے میں…سبھی ہاسپٹلز اور مردہ خانے بھی چیک کرواۓ جا چکے تھے… اس خیال کے تحت کہ خدانخواستہ پری کسی ایکسیڈنٹ وغیرہ کا شکار ہو کر کسی ہاسپٹل میں ہی نہ ہو… لیکن اسکا وہاں سے بھی کوئ سراغ نہیں مل سکتا تھا… سکندر کو لگ رہا تھا وہ پاگل ہو جاۓ گا… اتنی بے بسی… اتنی اذیت… بے چینی… اضطراب… اف خدایا… وہ آخر کرے تو کرے کیا…
وہ بے بسی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا… ان چند دنوں میں نہ اسے کھانے پینے کا ہوش رہا تھا سونے کا… بات بات پر ملازموں کو ڈانٹ کر رکھ دیتا… اپنا غصہ اپنی فرسٹریشن ان پر نکال دیتا… وہ سب بھی پریشان تھے اس کی حالت دیکھ کر لیکن اپنے مالک سے پوچھنے جی جرأت نہیں کر سکتے تھے… پریشے کے غائب ہونے کے تیرہوں دن اسے کال آئ تھی… وہ صوفے پر اردگرد سے بیگانہ آڑھا ترچھا لیٹا تھا جب ملازم نے اسے بلایا… ” سر… آپ کے لیے کال ہے… کوئ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے…” سکندر نے بے زاری سے سر اٹھا کر اسے دیکھا… “کون ہے… کہہ دو مجھے بات نہیں کرنی ہے…” ملازم اس کی بات پر ہچکچایا… ” سر… وہ کہہ رہے ہیں کسی پریشے کے بارے میں ضروری بات کرنی ہے انہیں آپ سے…” ملازم نے ڈرتے ڈرتے بتایا.. “کہا نا… نہیں کرنی بات تو نہیں کرنی…” سکندر ایک دم غصے سے بولا لیکن پھر ایک دم رکا… اس کی بات پر غور کیا اور تیزی سے فون کی جانب بڑھا.. “کک… کیا کہا… پ.. ریشے کے بارے میں…¿¿” وہ بے ربط سا کہتا ملازم کے ہاتھ سے فون لے چکا تھا… ملازم وہاں سے ہٹ گیا… فون کان سے لگا کر اسے جو بات بتائ گئ تھی اس نے سکندر کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی… اسے لگا جیسے اس کی روح کھینچ لی گئ ہو جسم سے… آسمان ٹوٹ پڑا ہو اس پر… ” کک… کیا چاہتے ہو تم… ” لرزتی آواز میں پوچھا تھا… اس کی بات پر دوسری جانب زوردار قہقہہ لگایا گیا تھا… ” ایک بلینر(billioner) شخص سے بھلا کوئ کیا چاہ سکتا ہے… رقم چاہئیے رقم… اسی لیے تو کڈنیپ کیا اس طوطی کو جس میں تمہاری جان بستی ہے…” پھر سے کوئ ہنسا تھا دوسری جانب… اور لائن کٹ گئ… “ہیلو… ہیلو… کک… کچھ بولو… ہیلو… کک… کہاں رکھا ہے پری کو… ” وہ پاگلوں کی طرح فون پر ہاتھ مار رہا تھا… پھر بے بسی سے فون اٹھا کر دیوار میں مار دیا… یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ پری کو کسی نے کڈنیپ کر لیا تھا… اور کڈنیپنگ کی وجہ سکندر خود تھا… اس کی دولت تھی… وہ وہیں دیوار کے ساتھ بیٹھتا چلا گیا… بے بسی سے… کرب سے… چہرے کو ہاتھوں سے چھپاۓ…
•••••••
سکندر نے انسپکٹر ڈیوڈ کو انفارم کیا تھا اس کال کے بارے میں… ابھی تک کڈنیپر نے اپنی ڈیمانڈ نہیں بتائ تھی… انسپکٹر ڈیوڈ اپنے ساتھ کچھ ساتھیوں کو لے کر اس کے گھر میں موجود تھے اس وقت… سکندر کے گھر میں جتنے فون تھے سب کو ٹریسر مشینز سے اٹیچ کیا جا چکا تھا… کڈنیپر یقیننا دوبارہ کال کرے گا… اور وہ لوگ فون سے اس کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے آۓ تھے یہاں… کل شام 5 بجے کے قریب انہوں نے فون کیا تھا آج چار بج کر پچپن منٹ ہوۓ تھے… انہیں یقین تھا کہ کڈنیپر دوبارہ کال ضرور کرے گا… پیسوں کے مطالبے کے لیے… سکندر پریشان سا ایک طرف بیٹھا تھا…
تبھی فون کی گھنٹی بجی… سبھی ایک دم الرٹ ہوۓ تھے… انسپکٹر ڈیوڈ نے سکندر کو اشارہ کیا کہ کال ریسیو کرے… سکندر خاموشی سے آگے بڑھا… فون کے قریب پہنچ کر ایک نظر ان سب کی طرف دیکھا… پھر ہمت مجتمع کرتے ہوۓ فون کان سے لگایا… “ہیلو….” ہونٹوں پر زبان پھیری… دوسری جانب کوئ غصہ سے بھرا بیٹھا تھا… “کہا تھا نا کہ اپنے اور ہمارے معاملے میں پولیس کو مت لانا…ورنہ تمہاری اس پری کے لیے اچھا نہیں ہو گا… لیکن تم لوگ ہوتے ہی ڈھیٹ ہو… جب تک تم لوگوں کو عمل کر کے نہ دکھایا جاۓ بات سمجھ میں ہی نہیں آتی…”طیش سے کہا گیا تھا… ” ن…نہیں پلیز… پری کو کچھ مت کرنا… مم… میں تم لوگوں کی ہر بات مانوں گا… جو چاہئیے تمہیں لے لو… ساری دولت لے کو میری… خدارا پری کو کوئ نقصان مت پہنچانا…” سکندر ایک دم بے تحاشہ پریشان ہوا تھا..
” تم چاہتے ہو اپنی پری کو پانا؟. تو .
سنو اس کی قیمت کروڑوں ڈالرز میں ہے… بہت قیمتی ہے نہ وہ…. ” کمینگی سے ہنسا گیا.. “تت.. تم.. جتنی رقم کی ڈیمانڈ کرو گے میں دونگا.. لیکن پلیز پری کو کچھ نہیں کرنا . پلیز… “وہ بے بسی کی انتہاوں پر تھا… ” ہم کیا کیا کر سکتے ہیں… تم سوچ بھی نہیں سکتے… باہر جا کر دروازے پر دیکھو… ٹریلر پہنچا دیا گیا ہے… تمسخر سے کہا گیا تھا…اور اگر پولیس کو انوالو کرنے کی کوشش کر دی غلطی سے تو اپنی آنکھوں کو اس سے بھی کچھ برا.. بہت برا دیکھنے کے لیے تیار رکھنا …” اور پھر فون کاٹ دیا گیا… سکندر تیزی سے بھاگتا ہوا مین ڈور کے پاس آیا… انسپکٹر ڈیوڈ بھی اسے یوں دیوانہ وار باہر بھاگتے دیکھ کر اس کے پیچھے آۓ..
دروازے سے کچھ فاصلے پر ایک لفافہ پڑا تھا… جیسے باہر سے کسی نے پھینکا ہو… سکندر نے لفافہ اٹھایا… کھولا تو اندر سے ایک چٹ نکل تھی…” Its First And Last Warning For U… ” سکندر نے لفافے کے اندر جھانکا… اندر ایک ڈی وی ڈی رکھی تھی… سکندر نے ناسمجھی سے اس ڈسک کو دیکھا… پھر انسپکٹر ڈیوڈ کو… “کیا ہو سکتا ہے اس میں..” وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتے قریب آۓ… ڈسک کو الٹ پلٹ کر دیکھا…” آئیے… پلے کر کے دیکھتے ہیں…” انسپکٹر ڈیوڈ نے کہا اور سکندر کے ہمراہ اندر کی جانب بڑھ گۓ… سکندر نے ڈسک کو پلے کیا… اسکرین پر ابھرتے منظر کو دیکھتے ہوۓ اذیت سے آنکھیں میچیں… کس کرب سے گزر رہا تھا وہ اس وقت صرف وہی جانتا تھا… اس کا دل نے خواہش کی تھی کہ کاش اسے یہیں موت آ جاتی… سامنے اسکرین پر ایک پرانے سے نیم اندھیرے کمرے کا منظر تھا… کرسی پر پری بیٹھی تھی… اس کے ہاتھ بندھے تھے کرسی کے ساتھ… پاؤں بھی باندھ رکھے تھے… چہرہ ویران سا تھا… منہ پر ٹیپ لگی تھی… ہاتھوں اور چہرے پر بہت سے زخم بنے تھے… ماتھے پر گہرا زخم سا بنا تھا… آنکھیں بنجر لگ رہی تھیں… آنکھوں میں آنسو تھے… سکندر کے لیے یہ منظر دیکھ پانا بہت مشکل تھا… وہ رخ موڑ گیا… آنکھوں میں پانی جمع ہو رہا تھا… اس نے ایک بازو سے آنکھوں کو صاف کیا… چینخ چینخ کر رونے کو دل چاہ رہا تھا… وہ تیزی سے وہاں سے دوسرے روم میں آ گیا… پریشے کے منہ سے شاید ٹیپ اتار دی گئ تھی… ویڈیو میں اب وہ درد سے چینخ رہی تھی… اس کی چینخیں سکندر کے کانوں میں پگھلے ہوۓ سیسے کی مانند لگ رہی تھیں.. وہ رو رہا تھا اندر جا کر. وہ بری طرح رو رہا تھا .. تبھی انسپکٹر ڈیوڈ اندر داخل ہوۓ… “سکندر آپ ٹینشن مت لیں ہم کچھ کر…” وہ اپنی بات مکمل نہ کر پاۓ تھے جب سکندر نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا…” بس… انسپکٹر ڈیوڈ… بس… مجھے اب آپ کی مدد نہیں چاہئیے.. آپ جا سکتے ہیں… میں خود ہینڈل کر لوں گا اس معاملے کو…” سکندر نے ضبط کرتے ہوۓ کہا… وہ جلد سے جلد انہیں یہاں سے روانہ کرنا چاہتا تھا…”لیکن سکندر.. آپ غلطی کر رہے ہیں…” ڈیوڈ نے پھر سے کچھ کہنے کی کوشش کی…” غلطی…¿¿ میں غلطی کر رہا ہوں…¿¿ ارے غلطی تو میں نے پہلے کی آپ لوگوں کو یہاں بلا کر… باوجود اس کے کہ وہ لوگ وارننگ دے چکے تھے… وہ کوئ عام لڑکی نہیں ہے… وہ ذندگی ہے میری… اور میرے سامنے وہ لوگ میری ذندگی کو ختم کر رہے ہیں… کیسے میں یوں آرام سے بیٹھا رہوں…¿¿¿ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے… آپ لوگ کچھ نہیں کر سکتے… کچھ بھی نہیں.. وہ لوگ مار دیں گے اسے… ارے لے لیں وہ پیسے… میری ساری دولت لے لیں… بس مجھے میری پری لوٹا دیں… میری وجہ سے وہ آج اتنی تکلیف… اتنی اذیت برداشت کر رہی ہے… میری دولت ہی اس کی دشمن بن گئ ہے… ” وہ چینخ رہا تھا… آخر میں بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر وہ نیچے بیٹھ گیا… انسپکٹر ڈیوڈ نے افسوس اور ترحم سے اسے دیکھا… پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا… ” انسپکٹر… میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں… چلے جائیے یہاں سے… میں خود لے آؤں گا پری کو واپس… ان کی ہر ڈیمانڈ پوری کروں گا لیکن اب جو بھی کرنا ہے مجھے ہی کرنا ہے… میں پری کی جان کے لیے رسک نہیں کے سکتا آپ چلے جائیے یہاں سے… جائیے…” سکندر نے اٹھ کر آنسو پونچھے… کوئ فیصلہ کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا… جبکہ کچھ دیر بعد انسپکٹر اور ان کی ٹیم اس گھر سے چلے گۓ..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *