Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21
وہ رات تڑپتے گزری تھی.. خوابوں کے ٹوٹنے کا ماتم کرتے..
اگلے دن وہ ناشتے پر بھی کمرے سے باہر نہیں گئ تھی.. شاہ نے دو بار میسج بھیجا آنے کا.. وہ بے سدھ لیٹی رہی..
وہ آفس چلا گیا… سارا دن وہ رقم میں بند رہی.. جب رات کو وہ آفس سے واپس آیا تو سونا سامنے نہیں تھی.. وہ لاؤنج میں نہیں تھی..
وہ لب بھنچ کر روم میں گیا.. فریش ہو کر ڈنر کے کیے آیا تو وہ ڈائیننگ ٹیبل پر بھی موجود نہ تھی..
“میم نے کچھ کھایا صبح سے.. ؟”
اس نے جینی سے پوچا
“سر وہ روم سے باہر نہیں نکلیں.. “
“اوکے جاؤ انہیں بلا کر لاؤ… “
وہ کہہ کر اپنی پلیٹ پر جھکا اور کھانا کھانے لگا…
جینی جھک کر وہاں سے چلی گئ..
اس کے روم کے ڈور پر دستک دیتی رہی.. آواز دیتی رہی
لیکن رات اور صبح کی طرح کوئ جواب نہ آیا…
کچھ دیر بعد واپس آ گئ..
“سر میم از ناٹ رسپانڈنگ”
اس نے غصے سے چمچ پلیٹ میں پٹخا اور تن فن کرتا اٹھا…
سیڑھیاں چڑھ کر اس کے کمرے کے سامنے گیا اور بنا ناک کیے.. دروازہ دھاڑ سے کھول کر اندر داخل ہوا.. وہ دوہری ہوئ بیڈ پر پڑی تھی.. شاہ نے بازو سے پکڑ کر اسے اٹھایا اور کھینچتا ہوا.. نیچے ڈائیننگ ہال میں لے کر آیا..
اور کرسی کھینچ کر اسے اس پر بٹھایا..
وہ پتھر سی بنی بیٹھ گئ.. اس نے نظر اٹا کر شاہ کو دیکھا تک نہیں.. لب ساکت.. آنکھیں ساکت..
جینی سمیت سب سرونٹ وہاں سے لمحوں میں غائب ہو گئے..
“کھانا کھاؤ.. ” وہ حکم دے کر اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا اور پلیٹ پر جھک گیا..
کئ لمحے وہ ویسے ہی ساکت سی بیٹھی رہی..
شاہ نے کھاتے کھاتے ہاتھ روکا اور لب بھنچ کر اسے دیکھا..
“تم نے سنا نہیں ” اس کی آواز بہت اونچی تھی.. سونا نے شاہ کی طرف دیکگا اور آنکھوں میں آنسو بھرتے چلے گۓ..
“مجھے نہیں کھانا کچھ.. مجھے بھوک نہیں ہے.. ” وہ رندھی ہوئ آواز میں بولی..
شاہ کچھ لمحے تک اسے دیکھتا رہا..
پھر اپنی پلیٹ اٹھا کر اٹھا.. اس کے قریب آ کھڑا ہوا.. اسے بازو سے پکڑ کر کرسی سے نیچے فرش پر بٹھایا.. اور اپنا چھوڑا ہوا کھانا اس کے سامنے رکھا.. ” کھاؤ اسے”
سونا نے اس کی طرف دیکھا..
“نہیں کھانا مجھے. بھوک نہیں ہے.. ” وہ چیخی..
شاہ نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا..
اور اس کے سامنے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا..
ایسے کہ اس کا ایک پاؤں سونا کے چہرے کے قریب تھا.. دوسرا فرش پر رکھے ہاتھ کے قریب..
اتنی انسلٹ.. اتنی توہین..
“کھاو اسے ورنہ.. “
سونا نے اپنے زجمی ہاتھوں کو دیکھا اور فرش سے پکیٹ پکڑ کر ہاتھ سے چاولون کا ایک نواکہ لیا.. آنسو آنکھوں سے ابل پڑے.. نوالہ حلق میں اٹک گیا… اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی..
شاہ نے نفرت سے اسے دیکھا اور اٹھ کھڑا ہو ا… ڈائیننگ ہال کے دروازے کی طرف بڑھا..
سونا نے پلیٹ اٹھا کر دور فرش پر پٹخی..
“غلط کر رہے ہیں آپ .. بہت غلط.. “
وہ چیخی
اور بلند آواز رونے لگی.. شاہ ایک سیکنڈ کے لیے. رکا اور پھر بنا مڑے.. بنا اس کی طرف دیکھے…. باہر نکل گیا…
••••
اس دن کے بعد شاہ نے اس کی انسلٹ نہیں کی نہ ہی کسی کام کے کیے فورس کیا.. شاید جو اس دن غصے کا ابال آیا تھا وہ ختم ہو گیا تھا.. اور وہ پشیمان تھا اپنی حرکت پر.
لیکن وہ اسے بھوکا نہ رہنے دیتا. ناشتہ, ڈنر اپنے سامنے کرواتا ..
اس دن سونا سو رہی تھی… رات کا جٹنے کون سا پہر تھا.. وہ آہستگی سے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا..
پہلی آہٹ پر ہی سونا کی آنکھ کھل گئ تھی.. لیکن وہ آنکھیں بند کیے لیٹی رہی..
شاہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا.. اور آہستہ سے اس کا ہاتھ تھا.. اتنی نرمی سے کہ کہیں وہ اٹھ نہ جاۓ.. وہ کئ لمحوں تک سونا کے زخمی ہاتھ تھامے بیٹھا رہا.. زخموں کو چھوتا رہا..
اور سونا کے دل سے ساری ناراضگی اور غصہ ختم ہوتا چلا گیا..
وہ جانتی تھی کہ وہ اب بھی سونا سے نفرت کرتا.. اور شاید اپنی غلطی سے شرمندہ ہو کر آج آیا ہے.. لیکن وہ شاہ کی اتنی سی توجہ ملنے پر ہی بہت خوش ہو گئ تھی..
•••
یہ ہفتے کا دن تھا… رات آٹھ بجے شاہ آیا تھا گھر… ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا… سونا کو شاپنگ بیگ تھمایا… سونا نے حیران ہوتے ہوۓ بیگ دیکھا… یہ کھڑوس کیا لے آۓ میرے لیے آج… شکر انہیں بھی یاد آیا کہ ان کے علاوہ بھی اس گھر میں ایک وجود ہے جس کی کچھ ضروریات ہیں… سونا نے روم میں جا کر بیگ کھولا… بلیک کلر کی بہت خوبصورت ساڑھی تھی وہ… جس کی چمک نگاہوں کو خیرہ کر رہی تھی… لیکن وہ اس ساڑھی کو لانے کا مقصد سمجھ نہیں پائ تھی… تبھی شاہ اندر آیا تھا… “یہ ساڑھی لو اور جو بھی کچھ چاہئے ساتھ لو… تمہیں پارلر ڈراپ کر رہا ہوں… تمہاری اپائنمنٹ لے لی تھی… جلدی کرو… ایک پارٹی میں جانا ہے ہمیں… گیارہ بجے تک وہاں پہنچنا ہے… چیف گیسٹ کے طور پر انوائیٹڈ ہیں ہم…” شاہ نے اسے انفارم کیا تھا… سونا ہکا بکا سی اسے دیکھے گئ… “ایسے کیا دیکھ رہی ہو… صرف دس منٹ ہیں تمہارے پاس… تب تک مین چینج کر لوں… ٹھیک دس منٹ بعد تم نیچے موجود ہو سامان سمیت…” تحکم سے کہا گیا تھا… “تو تھوڑا اور لیٹ بتا دیتے.. اتنا جلدی بتانے کی کیا ضرورت تھی…” اسے غصہ آیا تھا تبھی تڑخ کر طنزیہ لہجے میں بولی تھی…
شاہ جو واپسی کے لیے مڑ رہا تھا اس کی بات پر اسے گھورا… اس کی طرف بڑھنے لگا تھا لیکن پھر ارادہ ترک کر دیا… لب بھینچے تھے… ” اس وقت میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ تمہاری طبیعت اچھی طرح صاف کرتا میں… تم سے بحث میں الجھنا نہیں چاہتا… اس لیے جتنا کہا ہے اتنا کہو بس… اور ہاں اپنی شکل سیدھی رکھنا… وہاں میڈیا والے بھی ہوں گے… اور میں انہیں اپنے بارے میں چٹ پٹی نیوز نہیں دینا چاہتا… سمجھی تم… اور دس منٹ کا مطلب صرف دس منٹ ہے… ایک سیکنڈ اوپر نہیں…” وارننگ دے کر وہ وہاں سے چلا گیا… جبکہ سونا پیر پٹخ کر رہ گئ…
•••••
گیارہ بجنے میں دو منٹ تھے جب ان کی گاڑی اس شاندار سے ہال کے سامنے رکی… ڈرائیور نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا… شاہ پہلے باہر آیا تھا… پھر اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا… سونا نے شاہ کا ہاتھ تھاما اور گاڑی سے باہر آئ… سب لوگوں کی ستائشی نظریں ان دونوں پر جمی تھیں… بلیک ڈنر سوٹ میں بالوں کو جیل سے جماۓ وہ نیلی آنکھوں والا شہزادہ… اور اس کے بازو مین اپنا ہاتھ ڈالے مسکراتی ہوئ نزاکت سے چلتی وہ پری وش… بلیک ساڑھی پہنے بالوں کا اونچا جوڑا کر رکھا تھا… گردن میں ڈائمنڈ نیکلس اور کانوں میں ائیر رنگز ڈالے بلا شبہ وہ حسین ترین لگ رہی تھی…دونوں کا کپل پرفیکٹ تھا… دیکھ جر لگتا تھا واقعی دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں… سونا جھجھک رہی تھی اتنے لوگوں میں… وہ ہمیشہ حجاب لے کر ہی باہر نکلتی تھی گھر سے… لیکن آج… شاہ کے لیے اسے یوں سج سنور کر آنا پڑا تھا یہاں… نہ جانے اس شخص کی خاطر اور کتنا ذلیل ہونا پڑے گا اسے… فوٹوگرافر ان کی تصویریں لے رہے تھے…
دونوں شان سے چلتے ہوۓ ہال میں داخل ہوۓ… جہاں پارٹی اپنے عروج پر تھی… سونا کی آنکھیں پھیل گئ تھیں وہاں پر موجود خواتین کے لباس دیکھ کر… نامکمل لباس… اس نے اپنی جانب دیکھا… شکر اس کا لباس تو مکمل تھا… سلیوز بھی فل تھیں.. شاہ اسے مختلف لوگوں سےملوا رہا تھا… سونا کو کوفت ہو رہی تھی یہاں… اس جگہ کے ماحول کو دیکھ کر… لیکن چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجاۓ وہ وہاں شاہ کے ساتھ ساتھ رہی…
••••
پارٹی اختتام پذیر ہوئ تو سونا نے گہری سانس لی… خدا کا شکر ادا کیا… صبر آزما دن تھا یہ اس کے لیے… وہ جلدی سے آ کر گاڑی میں بیٹھی تھی.. ڈرائیور کو شاہ نے واپس بھیج دیا تھا تب ہی… اور اب وہ خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا… سونا جو پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی اس کے حکم پر منہ بسورتی ہوئ فرنٹ سیٹ پر آئ… شاہ نے گاڑی اسٹارٹ کر دی…
گاڑی میں بالکل خاموشی چھائ تھی… رات دو بجے کا وقت تھا… اس وقت سڑکیں بھی بالکل سنسان تھیں… دور دور تک کوئ ذی روح نظر نہ آتا تھا… ان کی گاڑی تیزی سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی… تبھی شاہ نے ایک دم گاڑی کے بریک لگاۓ… گاڑی کے ٹائر چرچراۓ تھے… سونا کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا… اس نے حیران ہو کر شاہ کو دیکھا… جس کی نظریں باہر جمی تھیں… بہت عجیب اور ناقابل فہم تاثرات تھے اس کے… “کیا ہوا…¿¿¿” سونا نے پوچھا اور اس کی نگاہوں کے تعاقب میں نظر دوڑائ… اسے تو کچھ خاص نظر نہ آیا تھا باہر جس کی وجہ سے شاہ نے گاڑی روکی تھی… بس سامنے کچھ فاصلے پر کوئ سینیما ہال تھا اور شاہ کی نظریں اسی سینیما ہال پر جمی تھیں.. لیکن خیالوں میں وہ کہیں اور پہنچا تھا… دور… بہت دور… سونا ناسمجھی سے اسے دیکھے گئ… جب اسے گاڑی روکنے کی وجہ سمجھ میں نہ آسکی تو شاہ کا کندھا ہلایا… “کیا ہوا ہے… ایسے بیچ سڑک گاڑی کیوں روک دی ہے…” انداز میں بے زاری بھی تھی… شاہ اس کی بات پر چونکا جیسے گہری نیند سے جاگا ہو… سونا کی طرف دیکھا… عجیب و غریب نظروں سے… “اس جگہ کو پہچانا… کچھ یاد آیا اس سینیما ہال کو دیکھ کر…” عجیب لہجے میں دریافت کیا تھا…سونا نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا پھر ہال کی جانب… ” واٹ…¿¿ کیا مطلب اس بات کا…” الجھن زدہ آواز میں پوچھا تھا… شاہ نے سختی سے آنکھیں میچیں… سر کے پچھلے حصے سے ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں… درد بڑھتا ہی جا رہا تھا… اذیت ناقابل برداشت ہو رہی تھی.. شاہ نے کراہ کر سر کو تھاما… “شاہ… آپ ٹھیک تو ہیں… شاہ کیا ہوا…” سونا اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو اٹھی تھی… بے قراری سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا.. شاہ نے نفرت سے اس کا ہاتھ جھٹکا… “تو… تمہیں کچھ یاد نہیں… اس ہال ہو دیکھ کر بھی… ” بے ربط سے لہجے میں کہا تھا… سونا حیران پریشان سی اسے دیکھے جا رہی تھی… یہ سب کیا کہہ رہا تھا وہ… سونا نے تو اس ہال کی شکل ہی پہلی بار دیکھی تھی… اس روڈ سے پہلی بار گزر رہی تھی… وہ تو یہ بھی نہ جانتی تھی کہ یہ علاقہ کونسا ہے… نیو یارک آنے کے بعد آج پہلی بار گھر سے نکلی تھی وہ شاہ کے ساتھ… پھر اس ہال کو دیکھ کر بھلا کیا یاد آۓ گا اسے… “شاہ… آ… آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا… ” سونا نے کہنا چاہا تھا لیکن تبھی شاہ اس کی طرف مڑا تھا… اس کی کلائ کو تھاما تھا سختی سے… اس کے انداز سے اتنی وحشت جھلک رہی تھی کہ سونا کو لگا وہ منجمند سی ہو گئ ہے.. “بس… بس کر دو… بند کرو اپنے یہ ڈرامے… کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم کہ تمہیں کچھ یاد نہیں… یہ بھی یاد نہیں کہ میں تمہیں یہاں لے کر آیا تھا اتنی چاہت سے… یہ بھی یاد نہیں کہ یہاں ہم دونوں نے اپنی ذندگی کے یادگار لمحات گزارے… یہ بھی یاد نہیں کہ یہاں میں نے تمہیں پرپوز کیا تھا… کچھ بھی یاد نہیں…” وہ بے بس سا چلایا تھا… جبکہ سونا حیرت سے اسے سن رہی تھی… یہ مجھے کب لے کر آۓ یہاں… کب پرپوز کیا مجھے انہوں نے… وہ بڑبڑائ تھی… “ہونہہ… میں بھی کتنا پاگل ہوں… یاد تو انہیں رکھا جاتا ہے جو آپ کے لیے اہم ہوں… اور میں تو تمہارے لیے کبھی اہم رہا ہی نہیں… ہھر کیسے تم یاد رکھو گی میرے ساتھ گزرے ان حسین لمحات کو… تمہارے لیے تو وہ سب وقت گزاری تھی بس…” وہ بڑبڑا رہا تھا… سوناکو اس کی حالت قابل رحم لگی تھی… “شاہ… آپ کو کوئ غلط فہم..” وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی جب شاہ نے اسے روک دیا… “بس… خاموش… اترو… نیچے اترو…” سونا اس کی بات پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی… “سنا نہیں تم نے… گاڑی سے اترو…” چبا چبا کر کہا گیا تھا.. سونا خوفزدہ ہوئ… اس کے تیور بہت خطرناک ہو رہے تھے… جب وہ گاڑی سے نہیں اتری تو شاہ اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اس کی جانب آیا… کھینچ کر اسے گاڑی سے نکالا… اور اپنے سامنے کھڑا کیا… وہ حیران سی سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی… “جب تمہارے یہ عقل ٹھکانے آ جاۓ گی نا… تب آ جانا گھر… ” تلخی سے کہتا ہوا وہ گاڑی میں بیٹھا اور زن سے گاڑی بھگا لے گیا… سونا بے یقین سی وہاں کھڑی تھی… بالکل تنہا…. سڑک کے درمیان…
••••
کافی دیر بعد وہ حالات کو سمجھنے کے قابل ہوئ تو چکرا کر رہ گئ… یہ کیا کر گیا تھا شاہ اس کے ساتھ… یوں بیچ سڑک پر اسے تنہا اس ویران جگہ چھوڑ گیا تھا… رات کے 2 بجے… یوں سجی سنوری حالت میں…اس انجان شہر میں جہاں راستوں کا بھی علم نہیں تھا اسے…. اف خدایا… مر جانے کو جی چاہا تھا اس کا… وہ لرز رہی تھی خوف سے…پھر یہ ملک بھی ایسا تھا کہ یہاں ہر غلط کام بھی جائز تھا… وہ اکیلی لڑکی اس وقت کہاں جاۓ… دل خوف سے کانپ رہا تھا… چادر بھی گاڑی میں ہی رہ گئ تھی… اس نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا… کہاں جاۓ وہ… وہ ڈر رہی تھی… آنسو بہہ نکلے تھے… اتنی بے بسی… وہ تو کبھی دن میں گھر سے اکیلی نہ نکلی تھی اور وہ شخص جس کی وہ عزت تھے اسے رات کے اس پہر یہاں چھوڑ گیا تھا تنہا… اکیلی… وہ روتی ہوئ سڑک کنارے بیٹھ گئ… کافی دیر گزری تھی کہ اسے کچھ عجیب سی آوازیں سنائ دیں… نظریں اٹھا کر سڑک کی جانب دیکھا تو اسے لگا جیسے اس کی روح تک فنا ہو گئ ہو… سامنے چھ سے سات حبشی ٹائپ مرد چلتے آرہے تھے… ان کے چلنے کے انداز سے پتا چل رہا تھا کہ انہوں نے شراب پی رکھی ہے… ساتھ باتیں بھی کر رہے تھے… سونا کو ان کی زبان سمجھ نہیں آئ.. اس نے لرزتے ہوۓ اردگرد دیکھا کہ شاید چھپنے کو کوئ پناہگاہ مل جاۓ… لیکن وہاں ایسی کوئ جگہ نہ تھی… “یا اللہ…” وہ بے بس سے خدا کو پکارتی شدت سے رو پڑی… کن حالات میں لا پھینکا تھا اسے قسمت میں.. وہ اٹھ کر ایک درخت کی اوٹ میں ہونے لگی تھی تبھی ان مردوں میں سے ایک کی نگاہ اس پر پڑی…. اس نے انجان زبان میں کچھ کہتے ہوۓ اپنے ساتھیوں کو اس کی جانب متوجہ کیا…
ان سب کی نظریں سونا پر پڑی تھیں… قہقہہ لگا کر ہنسے تھے سب… اور پھر اس کی جانب بڑھے تھے… کچھ کہہ بھی رہے تھے شاید… سونا ان کی زبان تو نہ سمجھتی تھی… لیکن ان کے انداز سے جان چکی تھی کہ وہ کس نیت سے اس کی جانب بڑھے تھے… آنکھوں میں شیطانی چمک اور خباثت لیے وہ اس کے قریب آ رہے تھے… سونا نے کرب سے آنکھیں میچیں… رب کو پکارا اس مشکل وقت میں… کہ شاید وہ کسی کو بھیج ہی دے آج مدد کے لیے… لیکن شاید آج اس کی دعائیں آسمان تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں… وہ رو رہی تھی… زارو قطار…اس کی عزت خطرے میں پڑ گئ تھی… کیا کرے وہ..
