Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18
کیا خوب کہا ہے کسی نے…
جاکو راکھے سایاں… مار سکے نہ کوئ…
یہی معاملہ ہوا تھا سکندر کے ساتھ… اپنی دانست میں وہ لوگ اسے مار چکے تھے… جس قدر اونچائ سے سکندر کی گاڑی کو گرایا گیا تھا تو وہاں سے گرنے کے بعد کسی انسان کا بچنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا… لیکن سکندر کو ابھی اتنی جلدی مرنا نہیں تھا… اسے ابھی اور جینا تھا… شاید اسی لیے… جب اس کی گاڑی کو گرایا گیا تو گاڑی کا دروازہ ٹھیک سے بند نہیں ہوا تھا…. سیم نے اس پر دھیان ہی نہیں دیا… جب گاڑی کھائ میں گر رہی تھی تو سکندر کا بے ہوش وجود دروازے سے ٹکرایا تھا اور دروازہ ٹھیک سے بند نہ ہونے کی وجہ سی کھل گیا… سکندر گاڑی سے باہر گرا تھا… نیچے سمندر تھا… گاڑی تو گرتے ہی تباہ و برباد ہو گئ تھی… لیکن سمندر کا وہ پانی سکندر کو ذندگی دے گیا تھا… وہ پانی ہی اس کا سہارا بنا تھا… جس نے اسے موت کے منہ سے بچایا تھا… بے شک رب نہ چاہے تو کوئ کسی کو ایک خراش تک نہیں پہنچا سکتا… وہ بہت دیر یونہی ہوش و حواس سے بے گانہ پانی میں پڑا رہا تھا… لہروں کے زور پر اس کا وجود کہیں سے کہیں پہنچ گیا… اور انہی لہروں نے اسے سمندر کے ساحل پر پہنچا دیا… وہ بے سدھ تھا… نہ جانے کتنی دیر وہاں ساحل کی ٹھنڈی ریت پر پڑا رہا… پیٹ میں پانی جا چکا تھا… ذخموں کی حالت بھی بری تھی… اس کی سانس بھی ٹوٹنے لگی تھی اب… تبھی معجزہ ہوا تھا کوئ… اس طرف کوئ بھی نہیں آتا تھا… لیکن اس دن مچھیرے آۓ تھے مچھلیوں کی تلاش میں… غربت کے مارے دو لوگ تھے… باپ اور بیٹا… ان کی نظر اس ذخمی بے ہوش انسان پر پڑی تھی… بھاگے چلے آۓ تھے وہ… سکندر کا سینہ دبا کر پانی نکالا… اس کے ہاتھ پاؤں مسلے… لیکن اس کی حالت میں کوئ فرق نہیں آیا تھا… “ابا… اس کی سانس ٹوٹ رہی ہے… اسپتال لے جانا ہو گا… ” اس سترہ اٹھارہ برس کے نوجوان نے فکر مندی سے کہا تھا… بوڑھے أدمی نے سکندر کے چہرے کی طرف دیکھا… کوئ چیز بھی نہیں تھی جس پر وہ لوگ اسے ہسپتال لے کر جاتے… ایک لمحے میں فیصلہ کیا تھا اس نے… پھر بیٹے کو اشارہ کیا… دونوں نے دونوں اطراف سے سکندر کے بازوؤں کو اپنے کندھوں پر رکھا… اسے سہارا دے کر کھڑا کیا اور چلنے لگے… ان کا تو فرض تھا کہ وہ اس نوجوان کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے باقی اللہ پر چھوڑ دیا تھا… اگر ذندگی ہوئ تو بچ جاۓ گا… وہ ہانپتے کانپتے اسے کافی دور لے آۓ تھے… ابھی اسپتال کافی دور تھا… لیکن ان کی ہمت ختم ہو چکی تھی… بوڑھے باپ نے رک کر سانس لیا… اردگرد نگاہ دوڑائ تھی تبھی اس کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑی ایک ریڑھی پر پڑھی… اینٹوں کے لیے استعمال ہونے والی ٹرالی جیسی تھی وہ…
ان دونوں میں جیسے جوش سا بھر گیا تھا… جلدی سے ٹرالی کی جانب بڑھے…بے ہوش سکندر کو جیسے تیسے اس میں لٹایا اور ٹرالی کو آگے دھکیلنے لگے… اور بالآخر وہ اسے لے کر ہاسپٹل پہنچ ہی گۓ تھے… اس کی حالت کو دیکھ کر ڈاکٹرز کے بھی ہاتھ پاؤں پھول گۓ تھے… وہ اسے آئ سی یو میں لے تو گۓ لیکن بہت کم چانسز تھے اس کے بچنے کے.
__________
آج کا دن اذیت سے بھر پور تھا اس نیلی آنکھوں والے بے انتہا خوبصورت شخص کے لیے…
شاہزیب سکندر کے لیے…
آج بارات تھی اس کی… لیکن اسے یوں لگ رہا تھا… آج ایک بار پھر وہ موت کی طرف جا رہا ہے… پہلے ایک بار وہ موت کے منہ میں گیا تھا ایک لڑکی کی وجہ سے…
آج پھر اسے موت کی جانب ہی سفر کرنا تھا ایک لڑکی کی وجہ سے…
موت ہی تو تھی یہ… ایک ایسی لڑکی کو زندگی میں ہمسفر کے طور پر شامل کرنا جس سے اسے بےتحاشہ نفرت تھی… جس نے اسے ختم کرنے میں کوئ کسر نہ چھوڑی تھی…
جس نے اسے ختم ہی تو کر ڈالا تھا.. کہاں تھا وہ ماضی کا ایک نرم , خوبصورت اور احساسات و محبت سے بھرپور دل رکھنے والا وہ شاہزیب سکندر… ؟ وہ تو مر چکا تھا .. کب کا.. کئ سال پہلے کا..
وہ کتنے سال تڑپا تھا, مینٹلی ڈسٹرب ہو چکا تھا… اسے کتنا عرصہ لگا اس بھیانک حادثے سے باہر آنے میں …
اور آج وہ پھر اسی ذہنی اذیت بھری زندگی کی طرف جاتے راستے کا انتحاب کر رہا تھا… اسی لڑکی کی طرف جاتے راستے کا انتخاب کر رہا تھا … لیکن اسے یہ قدم اٹھانا ہی تھا… اپنے ساتھ ہوئ نا انصافی کا بدلہ لینے کے لیے… گزشتہ چار سالوں میں گزرے ہر دن, ہر لمحہ کی اذیت کا بدلہ لینے کے لیے….. ہر وہ رات جو اس نے سسک سسک کر گزاری اس لڑکی کی وجہ سے اس کا بدلہ لینے کے لیے…
“یہ جو تم ہر وقت ہنستی مسکراتی ہو نا … آج کے بعد کبھی تمہارے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آۓ گی… چھین لوں گا تم سے ہر خوشی تمہاری… جیسے تم نے مجھے بے موت مارا.. جیسے تمہاری وجہ سے ان چار سالوں میں پل پل مرا ہوں نہ میں… ایسے ہی… بالکل ایسے ہی اب تم بھی پل پل موت کی اذیت برداشت کرو گی… بھیک مانگو گی مجھ سے موت کی… لیکن تمہیں موت بھی نصیب نہیں ہو گی… تب جا کے تم وہ درد محسوس کرو گی اس کرب کو جان سکو گی جو میں نے سہا ہے…”
وہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا… شیروانی میں ملبوس… آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر نظریں جماۓ… نیلی آنکھوں کو دیکھتے ہوۓ… جن میں نفرت بھری تھی بے تحاشہ نفرت… اس کے لیے جو آج بہت سے ارمان دل میں لیے اس گھر میں, اس کی ذندگی میں آنے والی تھی…
•••••
آج کا دن خوشیوں سے بھرپور تھا.. مسکراہٹوں سے, قہقہوں سے..
سونا خوش تھی… بے تحاشہ خوش… اس کا دل رب کے حضور سجدہ ریز تھا… وہ شکر گزار تھی اس پاک ذات کی کہ جس نے بہت چپکے سے اس کے دل کی خواہش, دل کی تمنا کو پڑھ لیا تھا اور پھر کن کہہ دیا… آج اس کی ذندگی کا خوبصورت ترین دن تھا… جسے چاہا اسے پانے جا رہی تھی وہ… اور یہ احساس بھی بہت خوبصورت تھا کہ جسے اس نے چاہا وہ بھی اپنی چاہت, اپنی خواہش پر اسے اپنی ذندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا… آج اس کے سبھی خواب پورے ہونے جا رہے تھے… ایک بہت خوبصورت … ہر لحاظ سے مکمل مرد اس کی ذندگی کا ہمسفر بننے جا رہا تھا… اس معصوم لڑکی کو کیا خبر کہ آج اس کی خوشیوں کا گلا گھونٹا جاۓ گا … اسے کیا معلوم کہ وقت آج اس کے سبھی خوابوں کو نگل جاۓ گا… وہ اپنی آنے والی ذندگی میں ایک مسکراہٹ کو بھی ترس کر رہ جاۓ گی… قسمت دور کھڑی اس کے حسین چہرے پر ابھرتے خوبصورت رنگوں کو تمسخر سے تک رہی تھی…
••••••••
بے انتہا شور و ہنگامے اور روشنیوں سے بھرپور رائل ولا گرینڈ ہال کے اس بڑے سے پرتعیش کمرے کے آبنوسی نشستوں سے سجے کمرے میں ایک نظر جھانکیں تو ایک دیوار گیر بڑے سے آئینے کے سامنے سر تا پا سجی ,وہ کھڑی نظر آتی تھی,
وہ.. خوشبوؤں میں رچی بسی, سنہری جھلمل افشاں میں لپٹی چمکتی بجھتی ستاروں سی بھری مانگ .. حنائ رنگوں کی سرخیاں ہتھیلیوں میں بھرے ہیروں کی مانند آنکھوں کو چندھیا دینے والے سنہری سرخ لباس میں ملبوس, آنکھوں میں خوشیوں کا جہان اور ڈھیروں ستارے لیے خود کو دیکھ رہی تھی… بے خودی سے, لب.. مسکرا رہے تھے
اور وہاں سے دور…
بھورے درو دیوار سے اٹھی کئ منزلوں پر محیط اس سنہرے قمقوں سے سجی ہنگاموں بھری حویلی کے آنگن سے اوپری منزلوں کی طرف جائیں تو یہاں ایک خاموش نیم روشن کمرے کے گہرے سکوت کے پراسرار ماحول میں بڑے سے آئینے کے سامنے وہ کھڑا تھا…
گرے سوٹ میں مغرور پرسنیلٹی لیے, تنی گردن کے ساتھ. چہرے پر خوفناک حد تک سنجیدگی, قہر اور نفرت سجاۓ, آنکھوں میں شدت کرب کی سرخی لیے, عجیب سی وحشت ہر انگ سے عیاں.. وہ دیکھ رہا تھا.. اپنے عکس کو… لب ضبط سے بھنچ لیے…
شادی کے مرکز اس ہال کے اسی کمرے میں واپس جائیں تو وہ معصوم لڑکی .. سجا رہی تھی ہزاروں خواب.. آج کے دن کے لیے, چپکے چپکے…
نٹ کھٹ سی سہیلیاں پاس ہی سرگوشیاں کرتیں کھلکھلاتی, پریوں کی نقرئ سی ہنسی کا گمان ہوتا..
تیسری سہیلی نے تجسس سے پوچھا کہ سونا آنکھیں بھی چمکیں, معصوم سی خواہش کی چمک ان میں بھی ابھری اور وہ یک ٹک دیکھتی کہیں کھو سی گئ….
“اور پھر سونا.. پہلا اظہار …کیسے ہو گا وہ تمہیں محبت سے اپنے سینے سے لگا کر اپنی دل کی ساری باتیں بتا دے گا کیا… ” چوتھی سہیلی اور بھی زیٹدہ شریر ہوئ.. سونا نے چوڑیوں بھرے ہاتھوں میں منہ چھپا لیا…
یہاں سے چل کر ایک نظر ڈالیں اس بڑی حویلی کے خاموش, نیم اندھیرے کمرے میں موجود شخص کی طرف تو وہ یک ٹک آئینے میں دیکھ رہا تھا.. اس کا ذہن کہیں دور.. بہت دور بھٹک رہا تھا…
شاہزیب سکندر کے دل میں آگ سی جلنے لگی…
اس کا خون تک کھولنے لگا..
وہ ہاتھ کا مکا بنا کر ڈریسنگ ٹیبل پر مارتے ہوۓ زوردار اواز میں دھاڑا.. تڑپا, سسکا..
بارات آ گئ, شور اٹھا, ہنگامہ بپا ہوا, آوازیں, شہنائیاں…
سونا جھٹکے سے اٹھی.. دل زور سے دھڑکا.. اور آنکھیں انتظار کرنے لگیں اس نیلی آنکھوں والے اس کے خوابوں کے ہمسفر کا…
بھولی سی سونا,, یہ بات سوچ ہی نہ سکی کہ جن خوابوں کو وہ جھولی بھرنے کی چاہ لے کر جا رہی ہے وہ خواب تو وہ بہت پہکے کسی اور کی جھولی میں بھر ..
شاہ اپنی تمام محبتیں, تمام تحفے, تمام جذبے, تمام شدتیں اور دیوانگی کسی اور پر لٹا چکا ہے… سونا بھولی تھی.. بہت بھولی.. بہت معصوم.
•••••••
قمقوں سے سجے ہال میں شہنائیوں کے سنگ داخل ہوتے ہوۓ نیلی آنکھوں والے دلہا بنے اس نوجوان کا دل سوکھی لکڑی کی مانند جل رہا تھا… اس سکون نہیں مل رہا تھا… آنکھوں میں سختی سی تھی… لب بھینچے ہوۓ… بہت کوشش کے بعد بھی وہ اپنے چہرے پر ہلکی سی بھی مسکراہٹ نہیں لا سکا… یہ بہت کڑا وقت تھا اس کے لیے… بہت ہمت و برداشت سے کام لے رہا تھا وہ… ورنہ دل تو چاہ رہا تھا ابھی اسی وقت جا کر اس دوغلی لڑکی کو قتل کر دے… ایسی سزا دے اسے کہ اس کی سات نسلیں یاد رکھیں… اسے بھی تو اندازہ ہو کہ وہ جو ہر کسی کو دھوکہ دیتی تھی اس بار اس کا پالہ شاہزیب سکندر سے پڑا تھا… اس شخص سے… جو اگر اپنی محبتوں میں پرخلوص ہوتا تھا تو اس کی نفرت اس سے کہیں زیادہ شدت رکھتی تھی…
•••••
وقت ہوا چلا تھا.. نکاح کی پاکیزہ رسم کی ادائیگی گا.. اس کے ارد گرد کا ہر منظر جیسے بدل سا گیا تھا.. ہر طرف اندھیرا چھا گیا تھا.. گہرا اندھیرا.. تمام آوازیں خاموش ہو گئیں تھیں.. ہر چیز ,گزرتا ہوا وقت تک جیسے سلو موشن میں حرکت کر رہا تھا.. جیسے وہ کسی خواب کی سی کیفیت میں چل رہی ہو…
اس کے ہاتھ میں تھما دیا گیا.. ایک قلم اور کچھ کاغذات…
چہرہ جھکاۓ گھونگھٹ نکالے…
اسے سنائدی.. دور سے آتی کوئ بہت خوبصورت سی آواز…
” سونا عبدالہادی…کیا شاہزیب سکندر اس دنیا کے دفر اور اس زندگی کے بعد کے لافانی سفر کے ہمسفر کے طور پر قبول ہے ؟
سونا کا دل پھیل کر سکڑا.. ہاتھ کانپا..
“قبول ہے…” دل کی آواز کو الفاظ ملے.. سونا کے لبوں سے ایک جگنو اڑا.. اور اندھیرے میں روشنی سی چمکی..
“قبول ہے ” ایک اور جگنو نکلا.. اڑا.. چمکا, جلا اور بجھا..
روشنی اور بڑھی
“قبول ہے ” تیسرا جگنو اندھیرے میں ظاہر ہوا… روشنی کچھ اور بڑھی…
قلم پر کانپتے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوئ.. نوک قلم نے تحریر کیا.. کورے کاغذ سنہری الفاظ ابھرے.. اور ان میں سے کتنے ہی جگنو نکلتے چلے گیۓ.. خواہشوں کے جگنو.. خوابوں کے جگنو.. نکلتے گۓ… روشنی بڑھتی گئ.. بڑھتی گئ.. سونا روشنیوں میں نہا گئ…
“بس کر دو.. کیسے سنبھالو گی اتنے خواب اور اتنی خواہشیں سونا… ؟”اس نے خود کو ڈپٹا
“ارے میں کیوں سنبھالوں گی.. وہ ہے نا سنبھالنے کے لیے.. میرے محرم.. میرے ہمسفر..” وہ کچھ مغرور ہوئ.. اور ھنس اٹھی…
••••
اور نیلی آنکھوں والا وہ شخص…. نکاح نامہ اس کے سامنے کیا گیا تھا… کچھ پرانے مناظر اس کی نظروں کے سامنے گھومے تھے… وہ منظر جن میں وہ پریشے کو شادی کے لیے پرپوز کر رہا تھا… وہ منظر… جن میں اس نے بارہا پریشے سے شادی کے لیے اور اپنے پیرنٹس سے ملوانے کی بات کی تھی… وہ منظر جب وہ سیم کے ساتھ کھڑی تھی… وہ منظر جب سیم اسے چھو رہا تھا اس کے چہرے سے بال ہٹا رہا تھا… اور وہ مسکرا رہی تھی… وہ منظر جب معیز کی شادی کے دن اسے اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی تھیں… وہ منظر جب ان کی انگیجمنٹ تھی اور وہ حیرت و بے یقینی سے اسے تک رہی تھی… شاید یہ سوچ رہی تھی کہ وہ شخص جسے اس نے اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوۓ دیکھا… موت کے منہ میں دھکیلا وہ آج پھر سے زندہ سلامت اس کے سامنے کیسے آن کھڑا ہوا… شاہ کی آنکھیں سرخ ہوئ تھیں… پین پر گرفت مضبوط ہوئ تھی… اور پھر اگلے ہی پل وہ سائن کر چکا تھا نکاہ نامے پر… ” … مسز شاہزیب سکندر… تیار رہو آنے والے وقت کے لیے… آج سے… ابھی سے تمہارا برا وقت شروع…” وہ دل ہی دل میں مخاطب تھا سونا سے…
•••••••
رخصتی کا شور اٹھا تھا.. وہ بھیگی بابا سے گلے ملی… چاروں دوستوں سے ملی… اور پھر شاہ کے ہمراہ روانہ ہوئ… ایک نئ منزل کی طرف.. ایک نئ خوبصورت ذندگی کے خواب لیے… حویلی پہنچ کر رسمیں بہت دیر تک جاری رہی تھیں… وہ تھک چکی تھی… لیکن رشتہ دار عزیز اسے بخشنے کو تیار ہی نہ تھی… شرارتی فقرے اچھالے جا رہے تھے… شاہ تو کچھ دیر بعد ہی ضروری کام کا بہانہ کہہ کر اس کے پہلو سے اٹھ کر جا چکا تھا… لیکن وہ ان سب کے نرغے میں پھنسی رہی… نظریں جھکاۓ ہوۓ وہ آنے والے وقت کو سوچ کر دھیمے انداز میں مسکرا رہی تھی… وہ تھک چکی تھی لیکن پھر بھی اس نے ان سب رسموں کو… اس خوبصورت دن کو انجواۓ کیا تھا… اس دن کو جب وہ شاہزیب سکندر سے جڑی تھی… اس دن کو جب اس کا نام شاہ سے منسوب ہوا تھا… اس دن کو جب وہ سونا عبدالہادی سے مسز شاہزیب سکندر بنی تھی…
••••••••
خواب ناک سا ماحول .. مخملیں دبیز پردوں اور منقش سامان سے اراستہ اس کمرے کے پھولوں سے سجے بیڈ پر وہ بیٹھی تھی..
جہازی سائز بیڈ کے اطراف میں سرخ گلابوں سے سجا ایک خوابناک سا ہالہ…
سونا کی نگاہ کھڑکی طرف اٹھی.. وہی کھڑکی جسے اس نے توڑا تھا … اور تب ہی تو اس نے دیکھا تھا شاہ کو پہلی بار حویلی میں… تب ہی تو سنی تھی اس کی خوبصورت مردانہ آواز… تب اس کے رویے سے سونا ہرٹ ہوئ تھی لیکن بعد میں جب بابا نے بتایا کہ شاہ نے خود اسے پسند کیا ہے اور اس کی مرضی پر ہی یہ رشتہ طے کیا گیا ہے… تو اس کے دل میں خوشگوار سا احساس جاگا تھا… بلاشبہ چاہے جانے کا احساس بہت خوبصورت ہوتا ہے… وہ اپنے ہی خیالات میں گم تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا… سونا نے نظریں ایک پل کے لیے اٹھائیں… شاہ اندر داخل ہو رہا تھا… اب وہ سوٹ کی بجاۓ کرتا شلوار میں ملبوس تھا… بلیک کرتا شلوار… سونا نظریں جھکا گئ… دل کی دھڑکنیں اودھم مچانے لگی تھیں… اس کے وجود میں ہلکی سی لرزش اتری تھی… وہ شاہ کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ سکی تھی…
وہ سامنے کھڑا تھا خاموش.. بالکل خاموش سا اسے دیکھتے ہوۓ …
کئ لمحے گزرے… سونا اس خاموشی سے الجھی… وہ اسے دیکھتا رہا..
کبھی اس کے دل میں بہت چاہ تھی اسے اپنی دلہن بنے ہوۓ دیکھنے کو… لیکن پھر گزرے وقت نے بہت کچھ بدل دیا تھا… اس کی آنکھوں میں نفرت تھی.. . شدید نفرت…
دور کہیں سونا کی کسی سہیلی کی اواز گونج رہی تھی
“وہ تمہیں محبت سے دیکھے گا… بے خودی سے.. دل ہی دل میں نظر اتارے گا…. “
وہ بہت آہستگی سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا.. بیڈ پر بیٹھا.. سلام لی اور ساتھ ہی بہت سے پھولوں کا گلدستہ سونا کی گود میں رکھ دیا “اسلام علیکم”
پہلی نظر کی سلامتی بھیج رہا تھا وہ لیکن کیسے…… ؟
سونا نے پھٹی پھٹی
آنکھوں سے اپنی گود کو دیکھا جو ڈھیر سارے پیلے… ہاں نفرت کے پیلے پھولوں سے بھری تھی…
Episode 18
وہ بے دم سی کارپٹ پر گری سسک رہی تھی.. تکلیف حد سے سوا تھی..
اس کی سسکیاں بیڈ پر دراز شاہزیب سکندر کے دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح برس رہی تھیں..
وہ اشتعال میں اٹھا.. نفرت بھری نگاہ اس کے وجود پر ڈالی اور ملحقہ سٹڈی کی طرف بڑھ کر دروازہ مقفل کر لیا.. وہ تنہا رہ گئ.. اکیلی.. بالکل.. شادی کی اس پہلی رات..
رات گزر رہی تھی..
وہ رو رو کر تھک چکی تھی… اپنی قسمت پر… اپنے نصیب کے اس کھیل پر…زمین پر دوپٹے سے بے نیاز بیٹھی اس لڑکی کی حالت قابل رحم تھی… دوپٹا کچھ فاصلے پر نیچے گرا تھا… دوپٹا کھینچ کر اتارنے کی وجہ سے بال بکھر چکے تھے… رو رو کر آنکھیں سوجی ہوئ تھیں… سرخ ڈورے سے تیر رہے تھے آنکھوں میں… میک اپ سارا خراب ہو چکا تھا… چہرے پر آنسوؤں کے نشانات تھے… اسے دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ یہ پہلے دن کی دلہن ہے…
دل پھٹ رہا تھا… گردن کے جلے ہوۓ ذخم اذیت دے رہے تھے… وہ سر گھٹنوں میں دیئے ابھی بھی سسک رہی تھی… غم بہت بڑا تھا… برداشت کرنے کے لیے صبر چاہئے تھا… اور صبر تو آہستہ أہستہ ہی آتا ہے نا…
دور کہیں فجر کی اذان ہو رہی تھی… اللہ پاک اپنے بندوں کو بلا رہا تھا اپنی طرف… اپنے سامنے حاضری دینے کو… سونا نے سر اٹھایا. کانپتے ہاتھوں سے آنسوؤں کو صاف کیا… دیوار کا سہارا لے کر اٹھی… مسلسل ایک ہی رخ پر بیٹھے رہنے کی وجہ سے اٹھنے میں بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا… وہ لڑکھڑائ تھی ایک دم… “بابا…” اس تکلیف دہ لمحے میں اس نے اپنے بابا کو پکارا تھا… جو ہمیشہ اس کا سہارا بنے تھے… جنہوں نے پھول سے بھی زیادہ نزاکت سے اسے رکھا تھا کسی آبگینے کی طرح… اور اپنی لاڈلی بیٹی کی حفاظت کا ذمہ اب شاہ ہو سونپا تھا… بے خبر تھے کہ جسے انہوں نے اپنی بیٹی سونپی ہے… اس نے بجاۓ اس کی حفاظت کرنے کے اس کے سر سے چادر ہی کھینچ دی تھی… اسے کڑی دھوپ میں کھڑا کر دیا تھا لا کر…. سونا کو لگا وہ اس وقت تپتے صحرا میں کھڑی ہے… جہاں گرم ریت ہے اور وہ آبلہ پا… ننگے پاؤں… دور دور تک کوئ سایہ نہیں ہے جہاں وہ پناہ لے پاۓ…
دیوار کا سہارا لے کر وہ کھڑی ہوئ… سر چکرا رہا تھا… اس نے سر کو جھٹکنا چاہا… پھر لڑکھڑاتے قدموں سے واشروم کی جانب بڑھی… آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنا حلیہ دیکھا… آنکھوں سے پھر سے پانی بہنے لگا تھا… وہ جس کی نفاست کی لوگ مثالیں دیتے تھے… جو ہمیشہ نک سک سے تیار رہتی تھی… أج کیا حال کر دیا تھا تقدیر نے اس کا… وہ سنبھل ہی نہ پا رہی تھی اس جھٹکے سے… سہارے کے کیے بیسن کو تھاما تھا… نل کھول کر پانی کے چھینٹے منہ پر مارے… دوبارہ آئینے میں دیکھا… گردن پر نظر پڑی تھی… چھوٹے چھوٹے سرخی مائل نشان گوری جلد پر… سگریٹ سے جلاۓ جانے کے نشان… اس نے روتے ہوۓ آئینے سے نظر ہٹا لی… بغیر کسی قصور کے اسے سزا ملی تھی أج… اور شاید اب یہ سزا ساری ذندگی کے لیے اس کے نصیب میں لکھ دی جا چکی تھی… اس نے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے سختی سے رگڑا… سارا میک اپ صاف کر کے بالوں سے پنز نکالیں… سیاہ ریشمی بال پشت پر بکھر گۓ تھے… دوبارہ اس نے آئینے کی طرف نہیں دیکھا… شاور لے کر کپڑے تبدیل کیے…وضو کیا… جاۓ نماز اسے ایک کیبنٹ سے مل گئ تھی… اور نماز کے لیے نیت باندھ لی… بے شک دلوں کا سکون تو اس پاک ذات کے ذکر میں ہی ہے… نماز کے دوران بھی بار بار آنکھیں بھیگ رہی تھی… أنکھوں میں جلن ہو رہی تھی… لیکن اس نے ضبط کر لیا… دھیان نماز میں لگانے کی کوشش کی… اور اس کے بے چین دل کو قرار آنے لگا… دعا کے لیے ہاتھ اٹھا اٹھاۓ تو دماغ بالکل خالی ہو گیا… سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا مانگے… کچھ رہا ہی نہیں تھا مانگنے کو… بہت دیر تک خالی نگاہوں سے مہندی لگی ہتھیلیوں کو تکتی رہی… کوئ گلہ, کوئ شکوہ کچھ بھی لبوں پر نہیں آیا تھا… اور ایسا پہلی بار ہوا تھا.. ورنہ وہ اپنے رب سے بہت سی باتیں کیا کرتی تھی… رازونیاز کرتی… لیکن آج… جب بہت دیر تک کچھ بھی نہ سوجھا تو اس نے ہاتھ چہرے پر پھیر کر دعا مکمل کی…
اور یک ٹک سامنے دیکھنے لگی..
“وہ مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں اللہ.. میں نے کسی کا کیا بگاڑا.. اللہ! میں نے تو جب سے ان کو پہلی بار دیکھا بس ان سے محبت ہی کی. ان کو چاہا.. ان کے لیے پاک جذبات ہی پیدا ہوۓ.. پھر میری محبت کے جواب میں اتنی نفرت کیوں دے رہے ہیں وہ مجھے.. اللہ.. ان کو بتائیں نہ کہ سونا ان سے بہت محبت کرتی ہے.. اس دن سے جب ان کو پہلی بار دیکھا.. ان کی آنکھوں سے.. سونا نے ساری زندگی کسی کو نہیں دیکھا… وہ سونا کی زندگی میں پہلے انسان ہیں… آپ تو جانتے ہیں نا سب.. ان کو بتائیں نا سب… اگر انہوں نے مجھ سے نفرت کرنی تھی تو اللہ اس دن مہندی کی اس رات وہ میرے سامنے ہی نہ آتے.. نہ ان کو دیکھتی.. نہ سوچتی… نہ چاہتی. نہ میری محبت پامال ہوتی.. نارسائ میری قسمت ٹھہرتی.. ان سے کہیں نا مجھے نفرتیں نہ دیں… کیوں دے رہے ہیں یہ نفرتیں مجھے… “
بہت دیر تک وہیں بیٹھی رہی… جاۓ نماز پر… دیوار سے ٹیک لگاۓ… خالی آنکھوں, خالی دماغ سے… اب تو أنسو بھی نہیں أ رہے تھے… آنکھیں تھک چکی تھیں رو رو کر… مزید ہمت ہی نہ تھی رونے کی… اس نے دوبارہ ہاتھوں کو دیکھا… دائیں ہتھیلی پر ڈیزائین کے اندر چھپا کر مہندی سے شاہزیب کا نام لکھا تھا… کہ پہلی رات دلہا دلہن ہے ہاتھوں پر اپنا نام ڈھونڈتا تھا… اور اس حوالے سے بھی چاروں دوستوں نے اسے خوب چھیڑا تھا… سونا نے کرب سے آنکھیں بند کیں… سر دیوار کے ساتھ ٹکا دیا… ایک آنسو چپکے سے پھسلتا ہوا گال پہ بہہ گیا… کیا کرے وہ… صبح سب لوگ اس سے سوال کریں گے… کیا جواب دے گی انہیں… کیسے اپنے آنسوؤں کو روک پاۓ گی ان کے سامنے… بابا… کیا وہ انہیں بتا دے سب… جو اس پر بیتی… نہیں نہیں.. اگر انہیں پتا چلا کہ ان کی گڑیا نے یہ رات کس اذیت میں کاٹی ہے وہ تو جیتے جی مر جائیں گے… سب رشتے ختم کر لیں گے اس حویلی کے مکینوں سے… وہ انہیں نہیں بتا سکتی… کبھی نہیں… تو کیا کرے… کس کو اپنے دل کا حال سناۓ… کس سے اپنا سکھ شئیر کرے… وہ ٹوٹ کر بکھری تھی… اور ایسا کوئ بھی تو نہ تھا جو اسے سمیٹ سکتا… ریزہ ریزہ چن سکتا… نہیں… اسے اب کسی سے بھی کوئ امید نہیں رکھنی… کسی سے کچھ نہیں کہنا… کچھ نہیں بتانا… بس ہر بات,ہر درد اپنے دل میں دفن کر دی گی وہ…اگر اس کے نصیب میں یہی لکھا ہے تو اسے وہ قبول کر لے گی… ساری ذندگی بھی گزارنی پڑی اس تکلیف میں تو گزار لے گی… لیکن اپنے بابا کے لیے کسی تکلیف کا باعث نہیں بنے گی… انہیں پریشان نہیں کرے گی وہ…
سونا نے آنسو پونچھے… “تو طے ہوا أج… کہ میری ذندگی میں رشتوں کی کمی ہی رہے گی… نارسائ ہی میرا مقدر ٹھہری… سونا.. تیار ہر جاؤ… منافقت بھری زندگی گزارنے کے لیے… دل میں ڈھیروں درد لیے ہونٹوں پر مسکان سجانے کے لیے… بے گناہ ہو کر بھی سزا بھگتنے کے لیے…” وہ اٹھ کھڑی ہوئ تھی… ایک فیصلہ کیا تھا اس نے.. اور اسے ہر قیمت پر اس فیصلے کو نبھانا تھا… جاۓ نماز تہہ کر کے رکھ کر اس نے حجاب کھول کر دوپٹے کو شانوں پر پھیلایا… پھر اسٹڈی روم کی طرف بڑھی… دروازہ کھولا… تو نظر سامنے شاہ پر پڑی… وہ بھی نیچے بیٹھا تھا… بے حال سا… ایک طرف پڑے صوفہ سے ٹیک لگاۓ… نظریں جھکاۓ… سگریٹ پھونک رہا تھا… پاس پی ایش ٹرے پڑی تھی جس میں موجود راکھ کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ ساری رات سگریٹ پی کر ہی اپنا دل جلاتا رہا ہے… سونا کو تککیف دے کر… وہ خود بھی پرسکون نہیں رہا تھا… خود بھی اذیت سے گزرا تھا وہ… دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا… سونا دنگ سی اس کی حالت دیکھ رہی تھی… کچھ کہنے کو اس کے لب پھڑپھڑاۓ تھے لیکن پھر وہ خاموش ہو گئ تھی… بے شک اس شخص نے رات اس کے سبھی خوابوں کو چکنا چور کر دیا تھا پھر بھی اسے تکلیف ہوئ تھی شاہ کو اس حال میں دیکھ کر… وہ کبھی اسے ایسا ٹوٹا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی تھی… شاہ نے اسے سرخ ہوتی أنکھوں سے گھورا… پھر چہرہ موڑ لیا تھا… سونا بے بس سی ہو کر پھر دروازہ بند کر گئ… وہ شخص اس کی شکل ہی نہیں دیکھنا چاہتا تھا تو وہ کیسے جاتی اس کے سامنے… وہ مڑ گئ اور کھڑکی میں جا کھڑی ہوئ… باہر نیم اندھیرا تھا… صبح کی روشنی آہستہ آہستہ اندھیرے کو نگل رہی تھی.. وہ بے مقصد باہر دیکھے گئ… خالی أنکھوں سے…
•••••••
ڈاکٹرز کی مسلسل کوشش سے بالآخر سکندر کی جان بچ گئ تھی… وہ دونوں باپ بیٹا جو فرشتوں کی مانند وہاں آۓ تھے اور سکندر کی جان بچانے کی وجہ بنے تھے وہ جا چکے تھے… پھر سے روزی کی تلاش میں… سکندر کے ذخم دیکھ کر اسکی حالت دیکھ کر ڈاکٹرز نے اسے پولیس کیس قرار دے دیا تھا…ایک ہفتے تک اس کی حالت کچھ سنبھلی تو پولیس آئ تھی اس سے بیان لینے… کہ کیسے ہوا یہ سب.. لیکن سکندر نے فقط اتنا کہا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ اس حال کو پہنچا.. اس کے بعد زبان پر قفل لگا لیے تھے…
دوسری جانب جب ایک ہفتہ گزر گیا اور سکندر گھر نہیں آیا تو ملازمین نے اس کی ڈائری سے ریحان کا نمبر لیا اور اس سے پوچھا کہ کیا اسے خبر ہے کہ سکندر کہاں ہے… ریحان نے جب یہ سنا کہ سکندر ایک ہفتہ سے گھر نہیں آیا نہ ہی وہ أفس کے کام سے کہیں گیا ہے تو وہ بھی پریشان ہوا… اگلے ہی دن وہ اس کے گھر پہنچا تھا… ملازمین نے اسے سب بتا دیا کہ وہ چند دن پہلے کیسے پریشان تھا.. پھر پریشے کے متعلق فون آنا… پولیس کا گھر أنا… سکندر کا بے بسی سے چینخنا چلانا… پولیس کو واپس بھیجنا اور پھر ایک دن سکندر کا بریف کیس گاڑی میں رکھوا کر گھر سے چلے جانا… ریحان سن کر مزید پریشان ہوا… آخر ایسا کیا ہوا جو سکندر اتنا پریشان تھا… کوئ پرابلم تھی تو اسے کیوں نہ کال کی… پریشے سے متعلق کیا بات ہو سکتی ہے جس پر وہ اتنا اپ سیٹ رہا… ریحان نے اپنے طور پر سکندر کا پتہ لگانے کی کوشش کی تھی… لیکن پھر اسے کال آئ تھی… پولیس کی کال… سکندر نے ریحان کا نمبر دیا تھا انہیں اور اسے ہی بلانے کو کہا تھا… ریحان کو ہاسپٹل کا نام بتایا گیا.. وہ جلدی میں گھر سے نکلا… دل چاہ رہا تھا اڑ کر پہنچ جاۓ سکندر کے پاس… وہاں پہنچ کر سکندر کی حالت دیکھی تو دنگ رہ گیا… اسے تو پہچاننا مشکل ہو رہا تھا… یہ کیا حال بنا لیا تھا اس نے اپنا… ریحان نے اس سے پوچھا کہ یہ سب کیسے ہوا… لیکن سکندر نے ایک لفظ نہیں کہا اس سے… گھر جانے کی ضد تھی اس کی… ابھی اس کے زخم بھرے نہیں تھے… ڈاکٹرز اس حالت میں اجازت نہیں دے رہے تھے جانے کی… لیکن اس کی ایک ہی ضد پر ریحان اسے لے آیا تھا گھر… دوبارہ اس سے نہیں پوچھا کچھ بھی… وہ اسے پریشرائز نہیں کرنا چاہتا تھا… ریحان چاہتا تھا کہ وہ اسے خود سب بتاۓ اپنی مرضی سے… جیسے پہلے ہر بات اس سے شئیر کرتا تھا… ریحان نے اپنے سب کام چھوڑ دئیے… اس کے ساتھ رہتا ہر وقت… بہت مدد کی تھی اس نے سکندر کو سنبھلنے میں….وہ سنبھلنے بھی لگا تھا آہستہ آہستہ… جسمانی ذخم مندمل ہونے لگے تھے.. لیکن روح کے ذخم گزرتے وقت کے ساتھ ناسور بنتے جا رہے تھے… وہ خاموش ہو گیا تھا… بالکل خاموش… وہ پہلے والا ہنس مکھ… خوش اخلاق سکندر تو نہ جانے کہاں رہ گیا تھا… ایک نۓ سکندر نے جنم لیا تھا جو سنجیدہ تھا… جو بلا ضرورت بولتا نہیں تھا… جو ہنسی مزاق پسند نہیں کرتا تھا… ریحان کو بھی اس نے صرف یہ بتایا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور بس… پریشے کے بارے میں ریحان نے پوچھا تھا لیکن سکندر نے یہ کہہ کر اسے خاموش کروا دیا کہ وہ اس ٹاپک پر کوئ بات نہیں کرنا چاہتا… پریشے کو وہ اپنی ذندگی سے نکال چکا ہے… اس نے خود پر الزام لیا تھا اس لڑکی کا… کیونکہ وہ اس کے خلاف آج بھی نہ کچھ بول سکتا تھا نہ ہی سن سکتا تھا… البتہ ریحان یہ ضرور سمجھ گیا تھا کہ سکندر نے نہیں نکالا پریشے کو اپنی ذندگی سے… پریشے خود گئ ہے اس کی ذندگی سے… اگر سکندر کی بات سچ ہوتی تو پھر وہ خود اتنا کیوں بدلتا…
سکندر آہستہ آہستہ سنبھل ہی گیا تھا… ذخم بھی ٹھیک ہو گۓ تھے… بس گردن پر نشان رہ گیا تھا اور کبھی کبھار دماغ پر زیادہ زور دینے,ٹینشن لینے اور ماضی کو سوچنے کی وجہ سے سر کے پچھلے حصے سے ٹیسیں اٹھنے لگتیں اور تب درد ناقابل برداشت ہو جاتا… اس نے ریحان کو بھی نہیں بتایا تھا اس درد کا… نہ ہی کسی ڈاکٹر سے رابطہ کیا تھا… یہ تکلیف اس کے لیے کوئ معنی نہیں رکھتی تھی اس تکلیف کے سامنے جو وہ سہہ چکا تھا… وہ آفس جانے لگا تھا اب… ریحان بھی اپنے ہاسپٹل کی جانب متوجہ ہو گیا… ہاں ہر ویک اینڈ پر وہ لوگ ملتے ضرور تھے… لیکن سکندر پہلے کی طرح چہکتا نہیں تھا اب… زیادہ تر ریحان ہی بولتا تھا… اور وہ ہلکی مسکراہٹ سے اسے سنتا رہتا… ریحان اس کی نیلی أنکھوں میں ہلکورے لیتے دکھ کو دیکھ کر افسوس سے اس کی جانب تکتا… ایسے میں سکندر نظر چرا جاتا…
اس واقعہ کو تقریبا تین سال اور سات ماہ گزرے تھے جب سکندر نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا… وہ کچھ وقت اپنوں کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا… بزنس اپنے ایک پارٹنر کے حوالے کیا کہ کچھ عرصہ وہ سنبھالے… ریحان کو بتایا تو وہ خوش ہوا تھا اس کے فیصلے پر… وہاں اپنوں میں رہے گا تو وہ سنبھل جاۓ گا… ویسے بھی ریحان بھی چند کورسز کے سلسلے میں جا رہا تھا بیرون ملک… یوں سکندر کچھ عرصہ کے لیے اس ملک,اس شہر سے ناطہ توڑ کر پاکستان آ گیا تھا کہ وہاں ہر جگہ پری کی یادیں بکھری پڑی تھیں… اور اسے ان یادوں سے پیچھا چھڑانا تھا… ذندگی میں آگے بڑھنا تھا…
••••••••
پاکستان آ کر بھی اس کے مزاج میں… اس کے رویے میں کچھ خاص فرق نہیں آیا تھا… یہاں آ کر وہ اپنے کچھ پرانے دوستوں سے ملا تھا اور ان میں سے ہی ایک معیز تھا… سارہ کا بھائ… پھر کچھ عرصہ مزید گزرا… معیز کی شادی تھی… شاہ کا کوئ موڈ نہیں تھا جانے کا لیکن معیز کے بے حد اصرار پر وہ چلا گیا تھا شادی میں شرکت کے لیے… اس دن مہندی کا فنکشن تھا وہ مہندی کی رسم کر رہا تھا جب معیز نے اسے اپنے کمرے میں بھیجا تھا موبائیل لینے… وہ بادل نخواستہ گھر کے اندرونی حصہ کی جانب بڑھا تھا… اور معیز کے روم میں ہی اسے وہ نظر آئ تھی… پریشے… وہ بے یقین ہوا تھا… ایسا کیسے ہو سکتا ہے… وہ جس کی یادوں سے پیچھا چھڑانے کو یہاں آیا تھا وہی ظالم لڑکی اسے یہاں مل گئ تھی… یہ کیسے ممکن تھا… وہ یہاں پاکستان میں کیا کر رہی تھی… اسے دیکھ کر شاہ کی حالت یوں ہو گئ جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں… وہ چند لمحے بے خود سا اسے دیکھے گیا… چار سال بعد اس چہرے کو دیکھ رہا تھا… اس کی آنکھوں سے جذبات جھلکنے لگے تھے… پھر اسے پری کا دیا گیا دھوکہ یاد آیا… پل میں اس کے پورے وجود میں وحشت بھری تھی… غصہ سےمٹھیاں بھنچ گئ تھیں… وہ بھی تو جیسے فریز ہو گئ تھی اپنی جگہ پر… حیرت سے اسے تک رہی تھی… شاید اس کے زندہ ہونے کا یقین نہیں کر پا رہی ہو گی… اپنی دانست میں تو وہ اسے ختم کر چکی تھی… مار چکی تھی… شاہ وہاں سے لڑکھڑاتے قدموں سے نکلا تھا… اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کے سامنے کچھ دیر پہلے پری کھڑی تھی… چکراتے سر کے ساتھ وہ کسی کو بتاۓ بغیر وہاں سے نکلتا چلا گیا…
••••••••
آج ان کے ولیمہ کا فنکشن تھا… فنکشن رات کا تھا… صبح دس بجے عائشہ اور شائستہ آئیں تھیں ان کے روم میں.. دستک دی… سونا جو اس وقت بھی کھڑکی میں کھڑی باہر نہ جانے کیا تلاش کر رہی تھی نے مڑ کر ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا… دھیرے سے گالوں پر بہنے والے آنسوؤں کو صاف کیا… چہرے پر مسکراہٹ لا کر خود کو فریش ظاہر کرنا چاہا… شاہ اس وقت باتھروم میں شاور لے رہا تھا… سونا نے اندر آنے کی اجازت دی… دونوں اندر داخل ہوئیں… چمکتی ہوئ محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا…سونا بھی بمشکل مسکرائ ان کی محبت پر… “اسلام و علیکم…” سونا نے ہی سلام میں پہل کی تھی… دونوں نے سلام کا جواب دیا… عائشہ اس کے قریب آئ… “کیسی ہو گڑیا…¿¿” وہ بھی راشد بھائ کی طرح اسے گڑیا کہہ کر ہی مخاطب کرتی تھیں… “ٹھیک ہوں…” سونا نے نظریں چرائیں… دوپٹا حجاب کی صورت لے لیا تھا کہ کہیں گردن کے ذخم ان کی نگاہوں کی زد میں نہ آ جائیں.. “سونا بھابھی… بھائ فریش ہو جائیں تو آپ دونوں نیچے آ جائیے گا… ہم سب آپ کا ویٹ کر رہے ہیں ناشتے پر…” شائستہ نے مسکراتے ہوۓ کہا تبھی شاہ بھی باتھروم سے نکلا تھا… “لیں بھائ بھی أ گۓ… بھائ ماں جی کہہ رہی ہیں کہ دونوں فریش ہو کر نیچے آ جائیے… نیچے أپ دونوں کا ویٹ کیا جا رہا ہے… ناشتہ کے لیے…” شائستہ نے اپنی بات دہرائ تھی… شاہ اس کی جانب دیکھ کر مسکرایا… “آ گئیں صبح صبح کباب میں ہڈی بن کر ہم میاں بیوی کو ڈسٹرب کرنے…” لہجے میں شرارت جھلکی تھی اور وہ مسکرایا تھا… “اوہو… ایک ہی رات میں بیوی کے دیوانے ہو گۓ.. اب بہن کو طعنے بھی دینا شروع ہو گۓ أپ…” شائستہ ٹھنکی…سونا کی نظریں اس کے چہرے پر گہرے ہوتے ڈمپل پر جم گئیں… یہ شخص مسکراتا ہوا کتنا خوبصورت لگتا ہے… اس نے دل ہی دل میں سوچا… عائشہ نے اس کی یہ حرکت نوٹ کر لی تھی.. تبھی شرارتی ہوئ… “صرف شاہزیب ہی نہیں لگتا ہے سونا بھی دیوانی ہو چکی ہے اپنے میاں کی… دیکھو تو نظریں ہی نہیں ہٹ رہیں اس سے…” دونوں کھلکھلائ تھیں….اس کی بات پر شاہ نے سونا کی طرف دیکھا.. ایک پل کو نظریں ملی تھیں… پھر سونا نظریں جھکا گئ… “ہم لوگ أ رہے ہیں دس منٹ تک…” شاہ نے جواب دیا اور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا… دونوں چلی گئ تھیں… سونا وہیں کھڑی ہتھیلیاں مسلنے لگی… سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا کرے… کمرے میں خاموشی چھا گئ تھی… گہری خاموشی… شاہ نے آئینے میں نظر أتے اس کے سراپے پہ گہری نظر ڈالی… کچھ دیر پہلے کی مسکراہٹ اب ختم ہو چکی تھی… چہرہ سنجیدہ تھا جیسے وہ کبھی مسکرایا ہی نہیں… وہ آئینے کے سامنے سے ہٹ گیا… “لپ اسٹک لگاؤ… نیچے مہمان بھی ہوں گے…اور پہلے دن کی دلہن یوں سادہ حلیے میں مہمانوں کے سامنے نہیں جاتی…” حکمیہ لہجے میں کہہ کر وہ اسٹڈی روم کی جانب بڑھ گیا… سونا اس کی پشت کو دیکھتی رہی…چند لمحے بے بس سی وہاں کھڑی رہی… پھر أگے بڑھ کر ڈریسنگ ٹیبل سے پنک لپ اسٹک اٹھا کر ہونٹوں پر لگائ… کچھ دیر بعد شاہ روم میں آیا… ایک نظر اس کی طرف دیکھا… “چلو…” اور أگے بڑھ گیا… سونا کچھ فاصلے پر اس سے پیچھے چل رہی تھی… سیڑھیوں پر پہنچ کر شاہ رکا اور اس کی جانب مڑا… سونا بھی رک گئ تھی… سوالیہ نگاہیں اس کی جانب اٹھیں… شاہ اس کی جانب مڑا… اس تک پہنچ کر اس کا ہاتھ تھاما اور پھر سیڑھیاں اترنے لگا… وہ حیران سی اس کے ہاتھ کی گرفت میں مقید اپنے ہاتھ کو دیکھتی کھنچی چلی آئ… نیچے پہنچے تو شاہ نے اسے اپنے برابر کھڑا کیا تھا.. تائ جی نے ان دونوں کی نظر اتاری… اس وقت وہاں گھر کی چاروں خواتین اور چند مہمان تھے… دونوں نے مشترکہ سلام کیا سب کو… ڈائننگ ٹیبل کے گرد موجود ہر فرد کی نظریں ان پر ہی جمی تھیں… اشتیاق سے بھرپور نظریں… شاہ سونا کو لیے آگے بڑھا…ایک چئیر اس کے لیے گھسیٹی اور اسے کندھوں سے تھام کر بہت احتیاط سے بٹھایا… سونا کی نظریں جھک گئیں…” تو یہ بھی مجبور ہے سب کے سامنے… جھوٹی اداکاری کرنے پر…” سونا نے سوچتے ہوۓ لب کچلے… شاہ اس کے برابر بیٹھ چکا تھا… “شروع کریں ناشتہ” کہتے ہوۓ شاہ نے پہلے سونا کی پلیٹ میں ناشتہ رکھا پھر اپنی پلیٹ میں… سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیلی تھی… اس کے اس انداز پر… کتنی محبت کرتا تھا وہ اپنی شریک حیات سے… اس کے ہر ہر انداز سے کئیر شو ہو رہی تھی سونا کے لیے… لیکن کوئ کچھ بولا نہیں تھا… شاہ کے مزاج سے سب واقف تھے… وہ یہ سب مذاق کرنا کروانا پسند نہیں کرتا تھا… سونا نے آنسو حلق میں اتارے.. “کاش آپ حقیقت میں بھی اتنے ہی کئیرنگ ہوتے جیسے اب بن رہے ہیں..” دل نے تمنا کی تھی…
ولیمہ کا فمکشن تھا… سبھی اپنی اپنی تیاریوں میں لگے تھے… بیوٹیشن اس وقت سونا کے کمرے میں بیٹھی اسے تیار کر رہی تھی… کچھ ریر پہلے شائستہ اور نادیہ بھی اس کے روم میں تھیں.. اب وہ لوگ اپنی تیاری کرنے جا چکی تھیں…اس لیے سونا اور بیوٹیشن اس وقت روم میں اکیلی تھیں… ولیمہ کا ڈریس ,جیولری اور تمام ضرورت کی چیزیں وہ لوگ رکھ گئیں تھیں…شائستہ بتا رہی تھی کہ ولیمہ کا ڈریس خود شاہ بھیا نے پسند کیا تھا اس کے لیے… سونا نے آہ بھری تھی…لیکن کہا کچھ نہیں…وہ لباس بدل کر آئ… آئینے کے سامنے آکر بیٹھی تو بیوٹیشن بھی میک اپ کا سامان ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئ… سونا کا چہرہ اس وقت بے تاثر تھا… بیوٹیشن نے اپنا کام شروع کیا… چونکہ سونا اس وقت دوپٹے کے بغیر بیٹھی تھی… تبھی بیوٹیشن کی نگاہ اس کی گردن کے ذخموں پر پڑی… وہ چونک کر سونا کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی… وہ تو پہلے ہی حیران ہو کر سوچ رہی تھی کہ دلہن ایسی ہوتی ہے کیا… دوسرے دن کی دلہن کے تو چہرے سے ہی خوشی ظاہر ہو رہی ہوتی ہے اور اس دلہن کا چہرہ بالکل ویران سا تھا… اب گردن کے ذخموں نے اسے مزید حیران کیا تھا… ” یہ گردن پہ…¿¿¿” اس کے منہ سے بے ساختہ پھسلا تھا… سونا اس کی ادھوری بات کا مطلب سمجھ گئ تھی.. تبھی کرب سے آنکھیں میچیں… بیوٹیشن حیران پریشان سی اس کے ضبط سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھتی رہ گئ… تبھی دروازہ کھلا تھا ایک دم… دونوں کی نظریں دروازے کی جانب اٹھیں.. شاہ اندر داخل ہوا… کٹیلی نظروں سے پہلے سونا کے آئینے میں نظر آتے چہرے پر ڈالی جہاں آنسو بہہ نکلے تھے… پھر انہی نظروں سے بیوٹیشن کی جانب دیکھا… جیسے کہہ رہا ہو کہ اپنے کام سے کام رکھیں تو بہتر ہے… بیوٹیشن گڑبڑا کر سونا کی جانب متوجہ ہوئ جس ھے ہاتھوں سے رگڑ کر أنسو صاف کیے تھے… شاہ سر جھٹک کر آگے بڑھا… سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائیل اٹھایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا… اس کے بعد بیوٹیشن نے کوئ سوال نہیں کیا… البتہ اس کی ترحم بھری نگاہیں سونا کے چہرے پر ہی جمی تھیں… جس نے لب بھینچ رکھے تھے… بیوٹیشن نے دوپٹا اس طرح سے سیٹ کیا کہ ذخم دوپٹے کی اوٹ میں چھپ گۓ…
