Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03

331K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03

یه نیو یارک کی ایک صاف اور کشاده سڑک کا منظر تھا… آفس میں ایک ضروری میٹنگ تھی آج… اور وه کافی سے زیاده لیٹ هو چکا تھا… گرے تھری پیس سوٹ میں ملبوس… بالوں کو جیل سے سیٹ کئے, مضبوط هاتھوں کو اسٹیرنگ په جماۓ بلا شبه وه ایک شاندار پرسنیلٹی کا مالک شخص تھا… اس کی لینڈ کروزر اس وقت هوا سے باتیں کر رهی تھی… اسے آفس پهنچنے کی جلدی تھی… تبھی ایک موڑ آیا اور موڑ مڑتے هی ایک لڑکی جو روڈ کراس کراس کر رهی تھی اس کی گاڑی کے سامنے آ گئ… اس نے جلدی سے بریک لگاۓ تو گاڑی کے ٹائر چرچراۓ تھے…اور گاڑی رکتے رکتے بھی اس لڑکی کو هٹ کر گئ… لڑکی گاڑی سے ٹکرا کر دوهری هوتی ہوئ گر گئ… “اوه شٹ” سکندر کے منه سے بے ساخته نکلا… پریشان سا وه گاڑی کا دروازه کھول کر باهر نکلا اور تیزی سے لڑکی کی جانب بڑھا… لڑکی کے ماتھے پر کنپٹی کے قریب چوٹ آئ تھی اور خون نکل رها تھا… هاتھ اور کهنیاں بھی چل گئ تھیں… کچھ چوٹ کی وجه سے اور کچھ خوف کے مارے لڑکی بے یوش هو چکی تھی… گرنے سے اسکے ڈارک براؤن کندھوں سے نیچے آتے بال چهرے پر بکھر گۓ تھے… سکندر نے آگے بڑھ کر اسکا هاتھ هلایا “هیلو… مس… آر یو اوکے..¿¿¿” لیکن جواب ندارد… وه هوش میں هوتی تو جواب دیتی… سکندر نے اس کی نبض چیک کی… نبض بھت آهسته آھسته چل رهی تھی… سڑک پر اکا دکا گاڑیاں تھیں اور یه شهر بھی ایسا تھا که لوگ پاس سے دیکھ کر گزر جاتے … کوئ کسی کی مدد نهیں کرتا تھا نه هی کسی کے معاملے میں پڑتا… وه کس سے مدد مانگتا… عجیب سچویشن هو گئ تھی… میٹنگ کی ٹینشن الگ … وه چکرا کر ره گیا… پریشانی سے اس نے پیشانی مسلی…لڑکی کو هلا کر, آوازیں دے کر جگانے کی کوشش کی لیکن کوئ فائده نه هوا… دوسری طرف هنوز خاموشی تھی… ماتھے سے خون بھی مسلسل به کر سڑک کو سرخ کر رها تھا… وه سوچنے لگا که اب کیا کرے… بهرحال وه لڑکی کو اس حالت میں تو چھوڑ کر نهیں جا سکتا تھا…
اس نے لڑکی کو دونوں بازوؤں سے تھام کر اٹھانےکی کوشش کی… اس کے کھینچنے پر لڑکی اس کے بازوؤں کے سهارے اٹھ تو گئ لیکن هوش میں نه هونے که باعث لڑکھڑا گئ… سکندر نے سسے سنبھالنے کی کوشش کی … تبھی لڑکی کا سر سکندر کے کشاده سینے سے آن ٹکرایا… سکندر کے دل کی دھڑکنیں ایک پل کیلیۓ اتھل پتھل هوئیں… اف یه کیا هوا تھا اسے… اس نے گهری سانس خارج کرتے هوۓ سوچا… پھر اپنے خیالات کو جھٹک کر لڑکی کی جانب متوجه هوا… اس لڑکی کا سر سیدھا کیا اور اس کے چهرے سے بال هٹاۓ… پھر اس کا چهره تھپتھپا کر اسے هوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا… لیکن ناکام رها… سکندر کی نظریں اسکے معصوم سے چهرے پر جم کر ره گئیں… وه اس شهر کے ٹاپ بزنس پرسنیلیٹیز میں سے ایک تھا… امیر ترین لوگوں میں شمار تھا اس کا… اسکے حلقه احباب میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور طرحدار لڑکیاں تھیں… اور مرتی تھیں اس پر… لیکن اس نے کبھی کسی کو ایک نظر تک عنایت نه کی تھی… لڑکیوں سے دور هی رهتا تھا وه… اپنے تمام جذبات اس نے ایک هی لڑکی کے لئے سنبھال رکھے تھے جو اس قابل هوتی که وه اسے اپنا لائف پارٹنر بنا سکتا… جو اس کے معیار پر پوری اترتی… اور اب تک اسے ایسی کوئ لڑکی ملی هی نهیں تھی… لیکن آج وه یه ماننے پر مجبور هو گیا تھا که اب تک اس نے جتنی لڑکیاں دیکھیں یه ان سب سے الگ تھی… ساده, بے ریا, چهره تھا اس لڑکی کا… کوئ تو کشش تھی اس لڑکی میں جو سکندر کا دل اپنی جانب کھینچ رهی تھی… سکندر نے سرجھٹکا … اپنے خیالات پر خود کو سرزنش کی لڑکی کواحتیاط سے اٹھا کر گاڑی میں لٹایا… لڑکی کا پرس اور اسکا موبائیل ھو سڑک پر گر گۓ تھے انهیں اٹھا کر گاڑی میں رکھا اور گاڑی کا رخ هاسپٹل کی طرف موڑا… ساتھ هی ساتھ اپنا موبائیل نکالا… سیکرٹری کو کال کر کے کچھ ضروری هدایات دیں اور میٹنگ کو سنبھالنے کی تاکید کرتے یوۓ گاڑی کی رفتار بڑھا دی…
•••
یونیورسٹی کا ٹائم ختم هوا تو سونا اور اسکی چاروں فرینڈز دھیمے قدموں سے مین گیٹ کی طرف آئیں… سردی کا موسم موسم اختتام پر تھا… سورج نے چارسو گرماهٹ پھیلا رکھی تھی جو جسم کو بھلی معلوم هوتی تھی… ھوا بھی چل رهی تھی … ماریه اور عائزه تو اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر چلی گئیں جبکه باقی تینوں یعنی ساره,منزه اور سونا کا اراده لائبریری جانے کا تھا… کچھ نوٹس بنانے تھے… لائبریری 10 منٹ کے فاصلے پر تھی… اسلیۓ وه تینوں پیدل هی باتیں کرتی اور هنستی کھلکھلاتی لائبریری کی جانب چل دیں… ان دونوں کے ساتھ چلتی سونا اس بات سے بے خبرمطمئین سی جا رهی تھی که دور کھڑی گاڑی سے دو نیلی آنکھیں نفرت اور غصے کا بے تحاشااحساس لئے اسے هی دیکھ رهی تھیں… گاڑی میں بیٹھے شاه کے اسٹیرنگ پر جمے دائیں هاتھ کی هتھیلی کے گرد سفید پٹی بندھی تھی… همیشه کی طرح نک سک سے تیار تھا… لیکن چهرے کے تاثرات بھت عجیب تھے… اسکی نگاهوں نے دور تک سونا کا پیچھا کیا تھا… پھر ایک بے بسی بھری نگاه اپنے دائیں هاتھ پر ڈالی… گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی…
•••••
یه هاسپٹل کے کاریڈور کا منظر تھا… اندر ڈاکٹرز اس لڑکی کے ذخموں کا معائینه کر رهے تھے… اور وه باهر بے چینی سے ٹھل رها تھا کبھی یهاں کبھی وهاں… وه خود اپنی حالت کو سمجھنے سے قاصر تھا… ایک پل کهیں چین نهیں تھا… نه جانے کیوں اسے اس انجان لڑکی کی حالت اتنا بے قرار کر رهی تھی… حالانکه آج پهلی بار دیکھا تھا اسے…پھر بھی ایسا کیا جادو تھا اس لڑکی میں که سکندر کے دل کی دنیا پل میں زیر زبر هوئ تھی… ایک ایک پل قیامت کی طرح لگ رها تھا… تبھی ڈاکٹر باهر آۓ…”ڈاکٹر … کیا کنڈیشن هے اب اس لڑکی کی…¿¿¿” اس کے لهجے میں اضطراب تھا…”گھبرانے کی کوئ ضرورت نهیں هے… ان کے ماتھے پر کافی گھرا زخم تھا..اسٹیچز لگا دئیے هیں…ھاتھوں پر معمولی زخم تھے مرهم لگا دیا هے… ابھی تو بے هوش هیں مریضه… تقریبا ایک گھنٹے تک هوش آ جاۓ گا انهیں… آپ ان کے…¿¿¿” ڈاکٹر نے جمله ادھورا چھوڑ کر سوالیه نگاهوں سے سکندر کی جانب دیکھا… ” … میں انهیں نهیں جانتا… میری گاڑی سے ٹکرا گئ تھیں وه… اس لئے هاسپٹل لے آیا….” سکندر نے وضاحتی انداز اپنایا… “اوکے جینٹل مین… ناؤ شی از اوکے… ان کے گھر والوں کو انفارم کر دیں تا که وه آ کر انهیں لے جائیں…ان کا پاؤں بھی زخمی هوا هے… وه ابھی چل نهیں سکیں گی…” “اوکے…” سکندر نے جواب دیا اور باهر پارکنگ میں آیا… گاڑی میں لڑکی کا بیگ رکھا تھا… شاید اس میں سے لڑکی کا کوئ اتا پتا مل جاۓ تو وه اسکے گھر والوں کو انفارم کر دے… یهی سوچ کر وه گاڑی تک آیا اور اس لڑکی کا بیگ کھول کر چیک کرنے لگا… جانتا تھا کسی لڑکی کا ایسے بیگ چیک کرنا معیوب هے لیکن اس کی مجبوری تھی… اسے آفس پهنچنا تھا اور اس سے پهلے وه چاهتا تھا که لڑکی کے گھر والوں کو خبر کر دے… تبھی لڑکی کے بیگ سے ایک چٹ برآمد هوئ جس پر ایک شخص کا نام اور ساتھ دو نمبر لکھے تھے… اب نه جانے وه کون تھا لڑکی سے اسکا کیا رشته تھا… سکندر نے فون ملایا… تیسری بار ٹرائ کرنے پر کال ریسیو کی گئ… سکندر نے جلدی سے فون کرنے کا مقصد بتایا… هاسپٹل کا نام اور روم نمبر بتا کر فورا پهنچنے کو کها… پھر ڈاکٹر کو بتا کر اس لڑکی کا بیگ اس کے روم میں رکھا… وهیں اس کے سر کے قریب کھڑے هو کر غور سے اسکا چهرا دیکھا… خون بهنے کی وجه سے اسکا چهرا زرد سا هو رها تھا… ہوش و خرد سے بیگانه اس کا چھرا اتنا معصوم لگ رها تھا که نظریں ہٹانے کو دل نهیں چاه رها تھا… سکندر نے اپنی اس بے اختیاری پر خود کو ڈپٹا اور نظریں چراتا وهاں سے نکل آیا… پے منٹ کر کے پارکنگ میں آیا اور گاڑی میں بیٹھ کر آفس کی طرف روانه هوا… اس بات سے بے خبر کہ لڑکی کا سیل فون اسکی گاڑی کے ڈیش بورڈ پر هی پڑا ره گیا جو لڑکی کو دینا یاد هی نهیں رها…
••••••
یونی کی طرف سے ٹرپ جا رها تھا پهاڑی علاقوں میں گھومنے پھرنے ایک ھفته کیلیۓ… سونا کی فرینڈز اصرار کر رهی تھیں اور بضد تھیں که سونا بھی ساتھ جاۓ… وه اس گولڈن چانس کو مس نهیں کرنا چاهتی تھیں… ان سب کا کهنا تھا که یه لاسٹ سمسٹر هے… ایگزامز کے بعد سب اپنی اپنی لائف میں بزی هو جائیں گے… نه جانے زندگی دوباره موقع دے یا نه دے ملنے کا… لھذا یه جو موقع مل رها هے کچھ دن اکٹھے رهنے کا, لائف انجواۓ کرنے کا, خوبصورت یادیں اکٹھی کرنے کا اسے گنوایا نه جاۓ… لیکن سونا مسلسل انکار کر رهی تھی… وه کبھی بابا کے بغیر نهیں رهی تھی… اور وه چلی جاتی تو پیچھے بابا اکیلے پڑ جاتے… ایک ویک بھی اسے بابا کے بنا رهنا گوارا نهیں تھا… لیکن اسکی دوستوں نے اسکی ایک نه سنی… اور خود جا کر اس کے بابا سے بات کی اور سونا کو ساتھ لے جانے کی پرمیشن لی… عبدالهادی نے خوشی سے سونا کو جانے کی اجازت دے دی تھی… انهوں نے کبھی بلاوجه سونا پر پابندیاں نهیں لگائ تھیں… جانتے تھے سونا دوستوں کے ساتھ خوش رهتی هے… اور وه چاهتے تھے که سونا اپنی لائف کا هر ایک پل انجواۓ کرے… جاتے وقت سونا جو اپنا خیال رکھنے کی تاکید اور ڈھیر ساری هدایات دی تھیں… سونا ان کی محبت پر مسکرا دی تھی…
آج تیسرا دن تھا ان کے ٹرپ کا… بابا اسے روز کال کرتے اس کا حال چال پوچھتے… سونا انهیں مس تو کرتی لیکن یهاں آ کر وه اپنی زندگی کے یادگار دن گزار رهی تھی… ان خوبصورت دنوں کی بهت سی یادیں انهوں نے اپنے پاس اپنے کیمروں میں محفوظ کی تھیں… اس بات سے بے خبر که سونا کی هر حرکت, هر لمحه کی تصوهریں بڑے خفیه انداز میں کسی اور کے کیمره میں بھی محفوظ هو رهی تھیں.
_______
اس وقت رات کے دس بج رهے تھے… وه سب مری کی اس سڑک پر پیدل چهل قدمی کے سے انداز میں چل رهے تھے… اراده کچھ دور بنے ھوٹل میں ڈنر کرنے کا تھا جھاں کی انهوں نے کافی تعریف سنی تھی… خنکی میں خاصه اضافه هو چکا تھا… سڑک بھی ویران سے لگ رهی تھی… شاید یهاں جے لوگ بستروں میں دبک چکے تھے… وه سب گرم اونی کپڑوں میں ملبوس گپ شپ کرتے هوٹل کی جانب بڑھ رهے تھے… ان میں سونا کا گروپ, کچھ دوسرے کلاس فیلوز جن میں لڑکیاں اور کڑکے شامل تھے اور دو پروفیسرز تھے… سونا کا گروپ سب سے پیچھے تھا اور وه پانچوں مسلسل ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ کر رهی تھیں… تبھی سونا کا موبائیل بجنے لگا… بابا کی کال تھی… سونا مسکرائ… هر لمحه انهیں سونا کی فکر رهتی تھی…”ساره… بابا کی کال آ رهی هے… ایسا کرو آپ لوگ جاؤ باقی سب کے ساتھ… میں بات کر کے آتی هوں پانچ منٹ میں…” سونا رک گئ تھی تو وه چاروں بھی رک گئیں… ” تم سن لو کال… هم ویٹ کر لیتے هیں… ” منزه نے کها تھا جس پر سونا نے منع کر دیا…”نهیں باقی سب کلاس فیلوز جا رهے هیں… تم لوگ بھی جاؤ… سامنے هی تو ھوٹل هے… میں آ جاؤں گی… ڈونٹ وری…” اس کی بات په عائزه هنسی تھی…” تمھارا کیا پتا… اتنی مشکل سے تمهیں لے کر آۓ هیں… کهیں گم گئ تو تمھارے بابا نے همیں زنده دفن کر دینا هے…” اس کی بات پر باقی سب بھی هنس دیں… “اتنی بھی بچی نهیں هوں که گم جاؤں… اور فکر مت کرو… اتنی جلدی جان چھوڑنے والی نهیں میں..” سونا بھی شرارتی هوئ… “اوکے … جلدی آ جانا تم…” ساره نے بات سمیٹی اور وه سب هوٹل هی طرف چل دیں… سونا نے کال اٹینڈ کی… ” اسلام و علیکم بابا” “وعلیکم اسلام… کیسی هے میری گڑیا…¿¿¿” ان کی آواز میں همیشه کی طرح سونا کیلیے نرمی اور محبت تھی…”میں بالکل ٹھیک هوں بابا… آپ کیسے هیں…¿¿¿” سونا هوٹل کی مخالف سمت میں دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی چلتی جا رهی تھی…اور ساتھ بات بھی کر رهی تھی… تبھی اسے محسوس هوا جیسے کوئ اسے فالو کر رها هے…. وه مڑی… پیچھے دیکھا… کوئ بھی نهیں تھا… اس نے اردگرد نگاه دوڑائ لیکن اسے جوئ ایسا شخص نظر نه آیا جو ایسی حرکت کرتا… اس کی نگاه الجھن زده سی واپس پلٹ آئ… جب سے یهاں آئ تھی تب سے بار بار اسے اسکی چھٹی حس احساس دلاتی که کوئ مسلسل اسے اپنی نگاهوں کی زد میں رکھے هوۓ هے… لیکن اردگرد ڈھونڈنے پر بھی اسے ایسا کؤئ شخص نظر نه آتا… اور وه اپنا وهم سمجھ کر ٹال دیتی… لیکن بار بار ایسا هونا وهم تو نهیں هو گا… پھر کون تھا جو اس کا پیچھا کر رها تھا… سامنے بھی نهیں آتا تھا… وه پریشان هو گئ تھی… انهی سوچوں میں گم بے دھیانی میں وه کب روڈ کے درمیان آئ پتا هی نه چلا… خبر تب هوئ جب ایک تیز رفتار گاڑی اس کے سر پر پهنچ گئ… سونا گاڑی کو اتنے قریب دیکھ کر حواس باخته هوئ تھی… اسے سمجھ هی نهیں آیا که کیا کرے… عقل نے کام هی نهیں کیا که سائیڈ پر هو جاۓ… اس سے پهلے که گاڑی آ کر اسے روندتے هوۓ گزر جاتی کسی نے اسکا هاتھ تھام کر تیزی سے اسے اپنی طرف کھینچا… سونا گرتے گرتے بچی… ایک لمحے کیلیے تو سمجھ هی نه سکی که اس کے ساتھ هوا کیا هے…
پھر جب حواس قائم هوۓ تو نظر اٹھا کر سامنے کھڑے اونچے لمبے مضبوط قدوقامت کے شخص کو دیکھا… اگر وه فرشتے کی طرح عین وقت پر آ کر سونا کو نه بچاتا تو نه جانے وه اس وقت کس حال میں هوتی… سوچ کر هی سونا کی روح کانپ اٹھی تھی…اس شخص کا ایک هاتھ ابھی بھی سونا کے بازو پر تھا جس سے اس نے سونا کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا اور اس هاتھ کی هتھیلی کے گرد سفید پٹی بندھی تھی… بلیک جینز پر بلیک اوورکوٹ پهنے… بلیک مفلر کو چھرے کے گرد اس طرح لپیٹ رکھا تھا که پورا چهرا چھپ گیا تھا… آنکھوں پر سن گلاسز تھے جبکه سر پر کیپ پهن رکھی تھی…سونا اس شخص کا شکریه ادا کرنا چاهتی تھی لیکن اسے کچھ کھنے کا موقع دئیے بغیر وه مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا سونا سے دور هوتا گیا…
“بھلا رات کے وقت سن گلاسز کون پهنتا هے… عجیب آدمی هے…” سونا بڑبڑائ تھی… تبھی اس کا موبائیل پھر سے بجنے لگا تھا… اس نے تمام سوچوں کو جھٹکا اور موبائیل کی طرف متوجه هوئ… شاید لائن کٹ گئ تھی اور اب بابا دوباره کال کر رهے تھے… کال ریسیو کرتے هوۓ وه مڑی اور هوٹل کی جانب چل دی… یه جانے بغیر که اس کے مڑتے هی مخالف سمت میں جاتا وه نوجوان بھی مڑا تھا… اور اس کی تلخ نگاهوں نے دور تلک سونا کا پیچھا کیا تھا… پھر اس نے منه سے مفلر کھینچا اور آنکھوں سے گلاسز اتارے… نیلی آنکھیں واضح هوئ تھیں جن میں نفرت بھری تھی… اور منه سے چند زهرخند الفاظ برآمد هوۓ تھے… ” تمهیں اتنی آسانی سے تو نهیں مرنے دوں گا میں… آج اس گاڑی سے تو تهمیں میں نے بچا لیا… لیکن اب تمهیں مجھ سے کون بچاۓ گا…” اس کے لبوں پر تلخی سی بکھری تھی۔
-وه اس وقت نیو یارک کے ایک شاپنگ مال میں تھا… اپنے بیسٹ فرینڈ کا برتھ ڈے گفٹ لینے آیا تھا… پچھلے ایک مهینے سے عجیب سے سچویشن میں تھا وه… جب سے وه لڑکی اسکی گاڑی سے ٹکرائ تھی تب سے اسکا معصوم سا چهرا آنکھوں سے هٹتا هی نهیں تھا…اکثر چیزیں بھولنے لگا تھا…کبھی اس کے ورکرز اس سے آفس سے متعلق کوئ بات ڈسکس کر رهے هوتے تو وه غائب دماغی سے ان کی طرف دیکھے جاتا…اس کے جیسا پروفیشنل شخص جو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے,ایک ایک منٹ کو بے حد قیمتی سمجھتا تھا اس کی اس طرح کی حالت اور حرکتیں دیکھ جر سب حیران تھے…لیکن اس معاملے میں وه بےبس تھا… اس کی یه کیفیت بے اختیاری تھی…
اور اسی کیفیت کیوجه سے وه پچھلے هفتے اپنے جگری دوست کا برتھ ڈے بھی بھول گیا…دونوں همیشه اپنا برتھ ڈے ایک دوسرے کے ساتھ هی سیلیبریٹ کرتے تھے… تھے اور ایک دوسرے کو سب سے پهلے وش بھی کرتے… لیکن اس بار سکندر اسے وش کرنا بھول گیا… اور اسکی اس بھول کو اسکا دوست ریحان معاف کرنے کو قطعا تیار نه تھا… ریحان کا غصه ساتویں آسمان پر پهنچا هوا تھا اور پچھلے تین دن سے اس سے بول چال بھی بند تھی اور ملا بھی نه تھا…لھذا آج وه اپنے دوست کا غصه ٹھنڈا کرنے کا اراده کرتے هوۓ یهاں آیا تھا… گفٹ خرید کر اسے ریحان کے گھر جانا تھا…
اس نے گفٹ لیا اور پے منٹ کر کے گفٹ تھاما… پھر باهر کی جانب بڑھا… وه گلاس ڈور دھکیلتا باهر نکلا هی تھا جب دوسرے دروازے سے اسے وهی لڑکی اندر جاتی هوئ دکھائ دی… وه ایک دم رک گیا… جیسے اسے کسی نے هپناٹائز کر دیا هو… پهلے تو اسے نظر کا دھوکه لگا… وه جلدی سے مڑا اور واپس مال میں داخل هوا… بھاگتا یوا اس لڑکی تک پهنچا…”ایکسکیوز می… مس بات سنیں پلیز…” بھاگنے اور اضطراری کیفیت کی وجه سے اس کا سانس پھول گیا تھا… وهاں بھت سی آوازوں اور رش کیوجه سے شاید لڑکی نے اسکی آواز نهیں سنی تھی تبھی اپنے دھیان میں آگے بڑھتی گئ… سکندر بھاگتے هوۓ ایک دم اس کے سامنے آ گیا تو لڑکی اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی… سر اٹھا کر خشمگیں نگاهوں سے اسے گھورا… “آئ… آئم سو سوری…” سکندر معزرت خواهانه انداز میں بولا… “کیا مسئله هے…¿¿¿” لڑکی کے تیور بگڑے… سکندر کی نظر اسکے ماتھے پر آن رکی… جھاں ابھی بھی زخم کا نشان تھا… “وه… میں آپ کو آواز دے رها تھا لیکن آپ نے سنا نهیں… ایکچوئلی…اس دن آپ میری گاڑی سے ٹکرا گئ تھیں تو میں آپ کو هاسپٹل لے کر گیا تھا… آپ کا پرس تو آپ کے پاس رکھ دیا لیکن آپ کا موبائیل دینا بھول گیا تھا…آپ کو دیکھا تو یاد آیا که آپ کا موبائیل میری گاڑی میں پڑا هے…وه لے لیجئیے…” سکندر کے لهجے میں بے چارگی سی تھی… وه پهلی بار کسے کے سامنے بولتے هوۓ کنفیوز هو رها تھا…اور وه بھی ایک لڑکی کے سامنے… تبھی جلدی جلدی بات مکمل کی مبدا لڑکی چلی هی نه جاۓ… اگر اس کے جاننے والوں میں سے اس وقت کوئ یهاں هوتا اور اسکی یه گھبراهٹ دیکھتا… اس کے بات کرنے کا انداز دیکھتا تو ضرور بے هوش هو جاتا…اپنے حلقه احباب میں وه اکھڑ مزاج مشهور تھا… میٹنگز کے دوران اور بریفنگ کرتے هوۓ کبھی کنفیوز نه هوا تھا… روانی سے بولتا لیکن یهاں سارا معامله الٹ هو رها تھا…
“اوکے … لائیے…” لڑکی کے چهرے کے تاثرات کچھ نرم هوۓ تھے اور اس نے اپنا هاتھ آگے بڑھایا تھا… “وه… میری گاڑی میں هے آپ کا فون… میں ابھی لا دیتا هوں…” اسے لڑکی کے نرم لهجے سے کچھ حوصله هوا … ” هوں… چلئیے میں بھی چلتی هوں…” اس لڑکی نے بھی قدم بڑھا دئیے…
گاڑی کے پاس جا کر سکندر نے اسکا فون اسے تھمایا…”شکریه… فون کیلیۓ بھی… اور اس دن هاسپٹل لے جانے کیلیے بھی…”لڑکی کے چهرے پر مسکراهٹ بھت بھلی معلوم هو رهی تھی… سکندر بے خودی سے اسے تک رها تھا… ” یو ویلکم…” سکندر اس کے اتنا سا بولنے پر بھی خوش هوا تھا… تبھی وه لڑکی مڑی اور مال کے دروازے کی جانب بڑھ گئ… جبکه وه دور کھڑا اسے تب تک دیکھتا رها جب تک وه اوجھل نهیں هو گئ… پھر هولے سے اپنے سر هر چپت لگائ “هاؤ اسٹوپڈ آئ ایم…” اور مسکرا کر گاڑی میں بیٹھ گیا.
•••••
وه پانچوں اس وقت کینٹین میں بیٹھی تھیں… فری پیریڈ تھا لهذا بے فکر هو کر گپ شپ کر رهی تھیں… اور ٹرپ کے دنوں کو یاد کر رهی تھیں… سامنے کوک, سموسے اور چاٹ رکھی تھی…
“اے ساره… تمهارے بھائ بھابھی هنی مون سے واپس آ گۓ کیا…¿¿¿” منزه نے سوالیه نظروں سے ساره کیطرف دیکھا…
“هاں پرسوں آۓ تھے… اور هنی مون کے بعد تو بھابھی اور بھی زیاده نکھر گئ هیں…” مسکراتے هوۓ ساره نے جواب دیا تھا…
” قسم سے یار… بھت مزه آیا تھا تمھارے بھائ کی شادی میں…” ماریه نے بھی گفتگو میں حصه لیا…
“هاں تم لوگ میرے ساتھ تھیں تو میں نے بھی بھت انجواۓ کی بھائ کی شادی…ورنه سچ بتاؤں… تم لوگوں کے بغیر شادی میں بالکل مزه نهیں آنا تھا مجھے… یو نو… میری ریلیٹوز میں سے کسی سے بھی نهیں بنتی…” ساره نے قهقهه لگایا تو وه چاروں بھی مسکرا دیں…
“اے سونا… یو نو… هم نے ساره کے بھائ کی شادی میں ایک بھت هی ھینڈسم نوجوان دیکھا… اور خاص بات یه که آئیز بھی بلیو تھیں اس کی… واه کیا پرسینیلٹی تھی یار…تم اس وقت وهاں هوتی تو تمهیں بھی دکھاتے… بھت مغرور اور اکڑو لگ رها تھا…لیکن اس پر سوٹ بھی کر رها تھا مغرورانه انداز…” عائزه اس منظر میں کھوتے یوۓ بول رهی تھی جب انهوں نے شاه کو دیکھا تھا… عائزه کی بات پر سونا کی آنکھوج میں چھم سے کوئ چهره آن سمایا تھا… کسی کی گھری نیلی آنکھیں, ان کے تاثرات, ان کی سرد مهری, وه الجھن… اس نے سر جھٹک کر خود کو ان سوچوں سے نکالا اور فقط “اچھا کهه کر خاموش هو گئ.
“کیا هوا…¿¿¿ اتنی خاموش کیوں هو… صرف اچھا جیسا جواب دینے والی بات تو نهیں کی تھی میں نے…” عائزه نے سونا کے کندھے پر هاتھ رکھا تو وه مسکرائ..
.”مائ ڈئیر… میں اس بات کے جواب میں اور کیا کهه سکتی هوں… آپ لوگوں نے دیکھا اسے… میں نے تو نهیں نه دیکھا… تو اس کی شان میں قصیدے بھی آپ لوگ هی پڑھو…” اس کی بات پر باقی بھی هنس دیں جبکه عائزه منه بسور کر ره گئ… پھر ماریه ساره کی طرف متوجه هوئ…
“ویسے ساره… اس ڈیشنگ پرسن کا نام تو بتایا هی نهیں تم نے…” اسکی بات پر سب نے سوالیه نظروں سے ساره کی جانب دیکھا… سونا کی نظر بھی بے اختیار ساره کی طرف اٹھی تھی جیسے وه بھی اس سوال کا جواب جاننا چاهتی هو..
. “معلوم نهیں یار…بھائ نے ایک دو بار هی اس کے بارے میں بات کی تھی…اور اس کا نام شاه هی لیا تھا… اب پورا نام کیا هے میں نهیں جانتی…کچھ ماه پهلے هی آیا هے یهاں پاکستان… اس سے پهلے کسی اور ملک میں تھا…اور سنا هے وهاں اس نے اپنا کافی بزنس پھیلا رکھا هے اور کافی نام هے اسکا… بھائ بتا رهے تھے که اسکا بیک گراؤنڈ بھی کافی پاورفل هے…آباؤ اجداد کی بھی کافی جائداد هے… لیکن اسٹڈی کمپلیٹ کرنے کے بعد شاه نے اپنا علیحده بزنس اسٹارٹ کرنے کو ترجیح دی… وه اپنے بل پر کچھ کرنا چاهتا تھا … کچھ بننا چاهتا تھا… بزنس اسٹارٹ کرنے کیلیے اپنے فادر سے هی رقم لی لیکن لون کے طور پر… اور بزنس میں کامیاب بھی رها…اور اپنے فادر کے سارے پیسے لوٹا دئیے…کامیاب ترین اور محنتی بزنس مین هے وه… اور سب سے بڑی بات… اپنی محنت سے اپنا ایک نام, اپنی پهچان بنائ اس نے… ان ڈپنڈنٹ هے… ورنه آج کل کی جنریشن یه چاهتی هے که والدین کمائیں اور وه بیٹھ کر کھائیں اور عیش کریں… انهیں کام نه کرنا پڑے…” ساره نے بھت تفصیل سے شاه کے بارے میں انهیں بتایا تو سبھی متاثر هوئیں… “واؤ… کمال کا بنده هے یار… سپرب… مطلب صرف خوبصورتی هی نهیں اس میں… ٹیلنٹ بھی هے… خود کو منوانے کا… بندے میں دم هے… ایسا هی شخص تو هر لڑکی کا آئیڈیل هوتا هے… پتا نهیں کس کا نصیب هے وه…” ماریه نے ٹھنڈی آه بھری… “هاں وه هر لڑکی کا آئیڈیل هے… لیکن اسے شاید ابھی تک اپنی آئیڈیل لڑکی نهیں ملی… تبھی تو شادی نهیں کی ابھی تک…” ساره نے کها تھا… تبھی سونا اٹھ کھڑی هوئ تو سب نے اس کی طرف سوالیه نگاهوں سے دیکھا… ” گرلز… نیکسٹ لیکچر اسٹارٹ هونے والا هے… چلیں…” اسکی بات پر باقی چاروں بھی اٹھ کھڑی هوئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *