Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24
وہ سونا کے کمرے سے نکل کر ٹیرس پر آ گیا تھا… فیصلہ کر تو لیا تھا… لیکن اس پر عمل کرنا آسان نہیں تھا اس کے لیے… دل میں کہیں درد سا اٹھنے لگا تھا… عجیب سی بے چینی تھی… اضطراب تھا… اسے گھٹن سی ہو رہی تھی… بے بس سا ہو کر وہ اپنا سینا مسلنے لگا… گہرے گہرے سانس لے کر اندر کے حبس اور اضطراب کو کم کرنا چاہا… سختی سے آنکھیں میچیں اور پھر کھولیں… ریلنگ پر دونوں ہاتھ ٹکاۓ وہ سر جھکاۓ کھڑا تھا… اپنی ذندگی کی تلخیوں کو سوچتا… پھر سگریٹ اور لائیٹر نکالا… سگریٹ کو منہ میں دبایا اور لائٹر کو جلا کر شعلہ سا سگریٹ کے قریب کیا… سگریٹ جل اٹھی تھی…. ہلکا سا دھواں اٹھا تھا اس میں اور پھر وہ آہستہ آہستہ راکھ بننے لگی تھی… شاہ نے سگریٹ کے چند کش لیے تھے… لیکن آج سگریٹ بھی ناکام رہی تھی اس کی بے چینی کو ختم کرنے میں… طیش میں آ کر سگریٹ کو منہ سے نکالا اور دور پھینک دیا… بہت دور… غصہ آ رہا تھا اسے… فرسٹریشن سی تھی… نہ جانے کیوں… بے بسی سے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھاما… کنپٹی کو مسلا… لیکن حالت میں کوئ فرق نہ آیا تھا… وہ وہاں سے ہٹ گیا… ٹیرس سے وہ اپنے روم میں آیا… شاور کے نیچے جا کھڑا ہوا… ٹھنڈے پانی نے اس کے وجود کو بھگو دیا تھا… اضطراب کچھ کم ہوا تھا… کافی دیر بعد وہ شاور لے کر باہر آیا… ٹاول سے بال خشک کرتا آئینے کے سامنے آ کھڑا ہوا…گرین ٹراؤزر پر سفید بنیان پہنے خوبصورت سا نوجوان… آئینے میں دکھتے عکس پر نظر جما کر وہ برش پکڑنے لگا تھا جب اس کے ہاتھ تھم سے گۓ… کوئ سوچ ابھری تھی ذہن میں… “میں… کیسے بتاؤں گا صبح اسے… اپنے اس فیصلے کے بارے میں… ” آئینے میں دیکھتے ہوۓ اس نے خود سے ہی سوال کیا تھا… “کیا… کیا ردعمل ہو گا اس کا… کیسے ہوں گے اس کے چہرے کے تاثرات…” وہ اٹک اٹک کر بول رہا تھا… جیسے بولنے میں تکلیف کا سامنا ہو… “کیا میرا فیصلہ درست ہے… کیا میں یہ سب کر پاؤں گا.. ” ان گنت سوال تھے اس کے ذہن میں… لیکن جواب ندارد… بے بسی سے آنکھیں بند کی تھیں.. پھر جب آنکھیں کھولیں تو اسے آئینے میں اپنا آپ نظر آیا تھا… سفید لباس میں…جس کی نظروں میں تمسخر تھا… وہ حیران سا اسے دیکھے گیا… ” خود کو جھوٹی دلیلیں اور تسلیاں دے رہے ہو… تا کہ اپنا کیا گیا فیصلہ بدل سکو…” طنزیہ کہا گیا تھا… شاہ نے بے بسی سے اس عکس کی جانب دیکھا… “مم… میں… نہیں رہ سکتا اس کے بغیر…” آواز میں لرزش تھی… عکس نے قہقہہ لگایا تھا اس کی بات پر… “تو کیا اس کے ساتھ رہ سکتے ہو…¿¿¿” مذاق اڑاتا انداز… شاہ کو ناگوار محسوس ہوا… لیکن برداشت کر گیا… آج ضمیر کی عدالت لگی تھی.. اور اس نے خود اپنے آپ کو ہی کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا… کچھ کہنے کے لیے الفاظ ڈھونڈنے چاہے لیکن آج سارے لفظ روٹھ گۓ تھے… وہ بے بس سا سر جھکا گیا… “تم نے جو فیصلہ کیا وہ بالکل ٹھیک ہے… بخش دو اس لڑکی کو… آزاد کر دو اسے… وہ واپس چلی جاۓ گی… اپنی ذندگی کو پھر سے شروع کرے گی… نۓ سرے سے… نۓ انداز میں… تم کون ہوتے ہو بدلہ لینے والے… بدلہ لینے کا اختیار تو اس پاک ذات کا ہے نا… تو پھر… تم کیوں خدا بنے بیٹھے ہو اس زمین پر… کیوں تکالیف دیتے ہو اس لڑکی کو… ” سخت لہجے میں سوال کیا گیا تھا… “لل… لیکن… مجھے عادت سی ہو گئ ہے اس کی… اسے دیکھے بغیر سکون نہیں ملتا…اس کے بغیر جینے کا سوچتا ہوں تو سانس رکنے لگتی ہے…” شاہ منمنایا تھا… ایک کمزور سی دلیل دی تھی اپنے اس رشتے کو برقرار رکھنے کی… “عادت…¿¿¿ کس عادت کی بات کرتے ہو تم… تمہیں تو یہ عادت بھی ہو گئ ہے کہ ہر پل اسے تکلیف دو… اذیت دو… کیا کچھ نہیں سہا اس نے تمہاری وجہ سے… تم اسے خوش نہیں رکھ سکتے شاہزیب سکندر… کیونکہ تم خود ٹوٹے ہوۓ ہو… اور ایک ٹوٹا ہوا شخص جو خود اپنا آپ گنوا چکا ہو وہ کسی کو کیا دے سکتا ہے…” طنزیہ کرخت لہجے میں بازپرس کی جا رہی تھی… وہ لاجواب ہوا… کچھ تھا ہی نہیں کہنے کو… “تم اس کے ساتھ رہو گے تو اسے دیکھ دیکھ کر اذیت میں مبتلا رہو گے… بھول نہیں پاؤ گے ماضی کو… گزرا کل ہر پل ڈستا رہے گا تمہیں… اور پھر تم غصے میں آ کر اسے بھی تکلیف دو گے… اور خود بھی اذیت کا شکار رہو گے…. چھوڑ دو اسے… تمہیں تو جلنا ہی اس نارسائ کی آگ میں… تاعمر جلنا ہے… تو پھراسے کیوں جلا رہے ہو ساتھ… اس نے تمہارے ساتھ جو کیا اس کا فیصلہ خدا پر چھوڑ دو… اور اسے اس کی زندگی جینے دو… آزاد کر دو اسے… کہ اسی میں تمہاری اور اس کی بھلائ ہے… ” بے دردی سے کہا گیا تھا… شاہ سر جھکاۓ لب کاٹتا رہا… پھر سر اٹھا کر دیکھا… وہ عکس غائب ہو چکا تھا… شاہ نے متلاشی نظروں سے اردگرد دیکھا…. پھر آئینے میں خود کو… سرخ آنکھیں اپنے چہرے پر گاڑ دیں… چہرے سے کچھ دیر پہلے کی بے بسی ختم ہوئ تھی… سختی سی ابھری تھے اور ہونٹ بھنچ گۓ تھے… بالآخر آج آخری فیصلہ ہو گیا تھا… دل جو اس رشتے کو برقرار رکھنا چاہتا تھا وہ آج ہار گیا تھا… دماغ کے سامنے… ضمیر کے سامنے
••••••
صبح ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھا وہ….نک سک سے تیار… چہرہ بے تاثر… رات والا شاہ کہیں غائب ہو چکا تھا… جو ٹوٹ کر بکھرا تھا… جو بے بس سا تھا… یہ شاہ کوئ اور تھا… سپاٹ چہرہ لیا… جسے دیکھ کر کوئ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے… سونا ابھی تک نہیں آئ تھی ٹیبل پر… شاہ ملازم کو بھیجنے ہی والا تھا اسے بلانے جب وہ سیڑھیاں اترتی دکھائ دی… بلیک اور وائٹ امتزاج کے نفیس سے سوٹ میں ملبوس… ہلکے میک اپ میں, لمبے باک پشت پر بکھراۓ چمکتا چہرہ لیے وہ ڈائننگ ہال میں داخل ہوئ… خوشی اور سرشاری اس کے ہر ہر انداز سے واضح تھی… فریش سی وہ لڑکی… تازہ گلاب جیسی لگ رہی تھی… شاید شاہ کے رات کے بی ہیوئیر سے وہ خوش تھی… شاہ نے ایک بے تاثر سی نگاہ اس پر ڈالی اور پھر سر جھکا کر ناشتے کی جانب متوجہ ہوا… چہرہ ابھی بھی سرد سا تھا… “اسلام و علیکم… گڈ مارننگ…” کھنکتی آواز میں سونا نے کہا تھا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ… “مارننگ…” یک لفظی جواب دیا گیا تھا… دیکھنے سے احتراز برتا… آج سے پہلے سونا کو کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا تھا اس نے… وہ ناشتہ کرتے ہوۓ سوچ رہا تھا… سونا بھی ناشتے کی جانب متوجہ ہوئ… ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکان سجی تھی… آنکھیں ستاروں کی مانند چمک رہی تھیں… جیسے دنیا فتح کر لی ہو اس نے… ناشتے کے اختتام پر شاہ نے گلا کھنکارا… جیسے کچھ کہنا چاہا ہو… سونا نے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا… “تم سے ایک بات کرنا تھی…” بے تاثر لہجے میں مخاطب کیا گیا… سونا نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکاۓ… ساتھ ہی نوالہ منہ میں رکھا… شاہ نے ابھی بھی سامنے موجود پلیٹ کو ہی دیکھ رہا تھا… اس کی جانب دیکھنے کی ہمت نہ تھی… کہ اسے دیکھنے کے بعد دل اختیار میں ہی کب رہتا تھا .. اور وہ اپنے ارادے سے ڈگمگانہ نہیں چاہتا تھا… سونا اس کے بولنے کا انتظار کر رہی تھی….ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے… بے فکری سے… لیکن وہ کسی سوچ میں گم لگتا تھا… پھر گہری سانس بھری… ” تم اچھی طرح سے جانتی ہو کہ ہمارے اس رشتے کی کوئ اصلیت نہیں… یہ شادی پیپر میرج کے سوا اور کوئ حیثیت نہیں رکھتی… ” شاہ نے تمہید باندھی تھی اپنی بات کہنے کے لیے… سونا کا دل دھڑکا تھا اس کی بات پر… وہ منتظر سی اسے دیکھے گئ…شاید شاہ اب اس کے اور اپنے اس رشتے کو نارمل میاں بیوی کے رشتے جیسا روپ دینا چاہتا ہے… اپنی اور اس کی زندگی کو نارمل کرنا چاہتا ہے…. اسے اس کا مقام دینا چاہتا ہے… وہ مقام,وہ عزت جو ہر بیوی کی ہوتی ہے اس کے شوہر کے لیے… وہ حسین خیالات میں کھوئ تھی… شاہ نے اس کے چہرے پر اترتے خوبصورت رنگوں سے نظریں چرائیں… اگلی بات کہنے کے لیے بہت ہمت کی ضرورت تھی… کبھی بھی آسان نہیں ہوتا خود اپنے وجود کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دینا… خود کو ریزہ ریزہ کر دینا… اپنے ہی فیصلوں سے روح کو فنا کر دینا… خود کو ذخم دینا… “اس لیے… ” وہ اٹکا تھا… دل نے اودھم مچایا تھا… دہائیاں دی تھیں کہ وہ آگے کچھ نہ بولے… لیکن اس نے… شاہ نے دل کی ہر پکار کو نظر انداز کر دیا… اس کی آہوں, سسکیوں کا گلہ گھونٹ دیا… “اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں تمہیں آزاد کر دوں… تمہیں ڈائیوورس دے دوں… تم پاکستان چلی جانا… اپنی مرضی سے اپنی ذندگی گزارنا… میں تمہیں مزید خود سے باندھ کر نہیں رکھنا چاہتا…” تیزی سے کہہ گیا تھا وہ… آنکھوں میں آئ نمی کو پیچھے دھکیلا… کہ اس کے سامنے وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا… ضبط سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا… جبکہ سونا…. وہ بے یقین سی بیٹھی تھی وہاں… چمچ ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا…. اسے لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے .. اب تو… اب تو سب ٹھیک ہونے جا رہا تھا… اس نے کتنے حسین خواب سجا لیے تھے رات سے لے کر اب تک… اور … یہ… یہ کیا کہہ گیا تھا شاہ… پھٹی پھٹی نظروں سے شاہ کو دیکھتی وہ لڑکی کوئ مجسمہ معلوم ہو رہی تھی…. شاہ میں مزید سکت نہیں تھی اس کا سامنا کرنے کی… اس لیے ہاتھ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا… اس کی طرف دیکھے بغیر وہ وہاں سے نکل گیا تھا آفس کے لیے…. جاتے وقت ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں… قدم من من بھر کے ہو رہے تھے لیکن وہ یہاں سے جلد سے جلد نکل جانا چاہتا تھا.
•••••••
سونا کو جب یقین آیا تو وہ لب بھینچ گئ تھی… اس شخص نے قسم کھا رکھی ہے شاید کے ہر پل مجھے تکلیف دے گا… جب جب میں کچھ اچھا سوچتی ہوں… جب جب کچھ خواب بنتی ہوں تب تب یہ میرے خوابوں کو چکنا چور کر دیتا ہے… لیکن اب بس… بہت ہو گیا… میں نے بھی بہت رو لیا… بہت گڑگڑا لیا… اپنی صفائ پیش کر لی… خود کو… اپنی انا کو اس کے قدموں میں رول دیا… لیکن اب بس… مزید نہیں… مجھے اپنی عزت نفس عزیز ہے… اور اب میں اس کے سامنے نہیں روؤں گی.. کمزور نہیں پڑوں گی… ٹھیک ہے… کرے جو اس کا دل چاہے… میں بھی دیکھتی ہوں کہ مجھے اذیت دینے کی خاطر وہ کس حد تک جاتا ہے… اس کے مظالم کی انتہا کیا ہے… ” وہ بہتے آنسوؤں کو بے دردی سے رگڑتی اٹھی تھی… لب سختی سے بھینچ لیے تھے جیسے اب کبھی نہ کھولنے کا ارادہ ہو… تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی وہ اپنے روم میں آگئ تھی… زور سے دروازہ بند کر دیا تھا… جیسے اس دنیا سے ہی اپنا تعلق ختم کر لینا چاہتی ہو….
•••••••
بہت سے دن ایسے ہی گزر گۓ… سونا خاموش ہو گئ تھی… بالکل خاموش… شاہ لاشعوری طور پر منتظر سا تھا کہ وہ اسے کوئ تو جواب دے گی… یہ کہے گی کہ وہ اسے خود سے جدا نہ کرے… یا یہی کہہ دے کہ ٹھیک ہے دے دیں ڈائیوورس…اور پاکستان بھیج دین مجھے… لیکن اس کا اندازی, اس کی امید غلط ثابت ہوئ تھی… وہ کچھ بھی تو نہ کہہ رہی تھی… کوئ گلہ شکوہ بھی نہیں… اس کے سامنے آنے سے کتراتی بھی نہ تھی… بس خاموشی سےصبح اس کے ساتھ ناشتہ کر لیا… شام کو ایک ہی ٹیبل پر اس کے ساتھ ڈنر کر لیا… اتنا سا تعلق رہ گیا تھا ان دونوں کے درمیان…. شاہ اس کے چہرے کو دیکھتا لیکن اس کا چہرہ بالکل بے تاثر ہوتا… یوں جیسےکوئ بات ہی نہ ہوئ ہو… اس کے تاثرات سے شاہ کے لیے اس کے دل کی بات جاننا مشکل ہو گیا تھا… وہ خود بھی مخاطب نہ کرتا تھا اسے… جب کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں تو اسے مخاطب کر کے کیا کرتا… لیکن سونا کی خاموشی اسے الجھن میں ضرور ڈال گئ تھی…
••••••
یہ کچھ دن بعد کا ذکر ہے… شاہ اس دن آفس نہیں گیا تھا… طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیے آج وہ گھر میں ہی تھا… باہر زور و شور سے بارش برس رہی تھی… دوپہر کا وقت تھا لیکن گہرے بادلوں کی وجہ سے شام کا سا سماں تھا… ایسے میں وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے بے خبر اپنے اپنے روم کی کھڑکی میں کھڑے تھے… بے مقصد باہر دیکھتے… ذہنی کشمکش میں مبتلا… دونوں اس وقت ایک سے حالات سے گزر رہے تھے… پریشان, دکھی… لیکن ایک دوسرے پر ظاہر نہیں کر رہے تھے… شاہ کا موبائیل بجنے لگا… اس نے کال ریسیو کی تھی… دوسری جانب سے کچھ کہا گیا تھا…. “اوکے” سرد سی آواز میں کہہ کر شاہ نے فون بند کر دیا… رگیں تن گئ تھیں… ایک دم دل بے چین ہو گیا تھا…. غصہ آنے لگا تھا… خود پر…. ساری دنیا پر… ہر چیز کو آگ لگا دینے کو دل چاہ رہا تھا… بے بسی سے اس نے فون دیوار میں دے مارا… موبائیل دیوار سے ٹکرا کر بکھر گیا تھا… شاہ نے اذیت سے بالوں کو جکڑا… کچھ دیر پہلے وکیل کا فون تھا… ڈائیوورس پیپرز تیار ہو چکے تھے… یہی بتانے کے لیے کال کی تھی اس نے… نہ جانے یہ سن کر وہ اپ سیٹ کیوں ہوا تھا… جبکہ یہ فیصلہ بھی اس کا اپنا ہی تو تھا… پھر اتنا درد کیوں ہو رہا تھا آج…. جب سوچ ہی لیا ہے کہ خود کو اس سے دور کر لینا ہے تو پھر اب یہ سب کیوں… یہ اذیت, یہ دکھ کیوں… وہ بے بسی سے چلایا تھا… موبائیل توڑ کر بھی غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو کمرے کی چیزیں اٹھا اٹھا کر فرش پر مارنے لگا… دیواروں پر لگی پینٹنگز… گلدان… شیشے کا میز… سب ٹوٹ گیا… کانچ ادھر سے ادھر پورے کمرے میں بکھرچکا تھا… اتنا سب توڑنے کے بعد بھی سکون نصیب نہیں ہوا… تبھی اس کی نگاہ سامنے ٹیبل پر پڑی… وہاں کچھ رکھا تھا… وہ کانچ کو اپنے قدموں تلے مزید توڑتا ہوا اس ٹیبل تک آیا… اور وہ چیز اٹھائ… وہ کوئ ڈسک تھی… ان کی شادی کی مووی… جب اس کی اور سونا کی شادی ہوئ تھی پاکستان میں تب یہ مووی بنائ گئ تھی… شاہ نے سرخ آنکھوں سے اس ڈسک کے ڈبے پر موجود تصویروں کو دیکھا… اس کی اور سونا کی ایک ساتھ لی گئ تین سے چار تصویریں تھیں جو اس کے اوپر کے کور پہ پرنٹ کی گئ تھیں…”جب تم ہی نہیں رہو گی میری زندگی میں تو اس مووی کو میں کیا کروں گا…”تلخی سے کہا تھا…اس کی گرفت مضبوط ہوئ تھی اس ڈسک پر… تیز قدموں سے چلتا ہوا وہ کھڑکی تک آیا تھا… اور اپنی پوری قوت لگا کر اس ڈسک کو پھینکا تھا باہر… جتنی دور وہ پھینک سکتا تھا اتنی دور… سونا جو شور کی آواز سن کر ننگے پیر ہی اس کے کمرے کی طرف آئ تھی… کمرے کے دروازے پر ہی رک گئ… وہ شاہ کے ہاتھ میں مووی کی ڈسک دیکھ چکی تھی اور نفرت سے اسکا وہ ڈسک پھینکنا بھی… “تو… کیا اتنی نفرت کرتا ہے وہ اس سے… کہ اس کی اور اپنی شادی کی مووی کی ڈسک بھی اپنے روم میں برداشت نہیں کر سکتا…” اس نے اپنی سانس رکتی محسوس کی تھی… سینے جلتا ہوا محسوس ہوا تھا… کوئ ابال سا اٹھا تھا ایک دم… وہ خونخوار انداز میں اس کی جانب بڑھی تھی… پیروں میں کانچ کے ٹکڑے گھسے تھے… اس کے سفید پیروں سے خون نکل کر فرش کو رنگین کر رہا تھا لیکن وہاں پرواہ کسے تھی… یہ تکلیف تو بہت چھوٹی تھی اس تکلیف کے سامنے جو ابھی شاہ کی اس حرکت نے اسے پہنچائ تھی…. اس کے نزدیک جا کر غصے سے اسکا بازو تھام کر اسے کھینچا اور اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا… شاہ جو اس کی موجودگی سے بے خبر تھا ایک دم لڑکھڑایا… سونا اس کا گریبان تھام چکی تھی… سلگتی, ضبط سے گلابی ہوتی آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑ دی تھیں…
“کیا سمجھتے ہیں آپ خود کو.. ہاں… کیا سمجھتے ہیں… کوئ خدا ہیں آپ… جب چاہا دوسروں کو اپنی زندگی میں شامل کر لیا… جب چاہا زندگی سے نکال پھینکا… جب چاہا محبت کی بھیک دے دی.. جب چاہا نفرت کرنے لگ گۓ… جب دل کیا اپنا لیا جب دل کیا ٹھکرا دیا… دوسروں کو بپا وجہ سزائیں دیں… پھر ان سے معافی مانگ لی… کیا ہیں آپ… ذرا خوف نہیں أتا أپ کا… اس رب سے… آپ کو کیا لگتا ہے میں انسان نہیں ہوں… میرے سینے میں دل نہیں ہے… کوئ موم کی گڑیا ہوں جسے آپ نے جب چاہا اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیا…. اپنی مرضی کا رخ دے لیا… کیا سمجھتے ہیں آپ کہ آپ کوئ بھی حکم چلائیں گے مجھ پر… کوئ بھی ظلم کریں گے اور میں چپ چاپ برداشت کر لوں گی… نہیں شاہزیب سکندر… اب نہیں… میں آپ کی زندگی سے کہیں نہیں جاؤں گی… یہیں رہوں گی… اس گھر میں… اور آپ کی زندگی میں…. میں بھی دیکھتی ہوں کہ کیسے نکالتے ہیں آپ مجھے اپنے زندگی سے…” وہ مضبوط لہجے میں بول رہی تھی…پچھلے سب دنوں کی فرسٹریشن آج نکال لی تھی اس نے… جبکہ شاہ… وہ تو حیران سا کھڑا اس کا یہ روپ دیکھ رہا تھا… وہ جو اتنا کچھ ہونے پر بھی کبھی نہ چلائ تھی آج ایک معمولی سی ڈسک پھینک دینے پر اتنے غصے میں کیوں آئ آخر… اتنی دیوانگی تھی اس کے لہجے میں…وہ سوچ رہا تھا… نہیں جانتا تھا کہ ہر وہ چیز جو شاہ سے جڑی تھی وہ اس نازک لڑکی کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی… جان سے زیادہ عزیز تھی اسے… اگر اس سے جڑی چیزوں کو وہ اتنی اہمیت دیتی تھی تو شاہ کا کیا مقام ہو گا اس کے دل میں… اس بات سے بے خبر تھا وہ..حیرت سے بھری نظریں اس جگہ جمی تھیں جہاں سے کچھ دیر قبل وہ آندھی طوفان کی طرح گئ تھی… فرش اس کے پیروں سے نکلنے والے خون سے جگہ جگہ سے سرخ ہو رہا تھا… شاہ نے گردن موڑ کر کھڑکی کے پار دیکھا… وہ ویسے ہی ننگے اور زخمی پاؤں لیے لان میں آگے بڑھ رہی تھی… بارش تیز ہونے کی وجہ سے وہ مکمل طور پر بھیگ چکی تھی لیکن اسے پرواہ ہی نہیں تھی… کافی آگے جا کر اسے وہ ڈسک مل گئ تھی… بھیگی آنکھوں سے ڈسک پر موجود اپنی اور شاہ کی تصویر کو دیکھا جس پر پانی کے قطرے تھے… پھر اسے اپنے دوپٹے کے نیچے کرتی وہ واپس ہوئی۔
Episode 24
رات کے ساڑھےبارہ بجے کا وقت تھا… سونا ونڈو کے سامنے کھڑی تھی… منتظر نگاہیں مین گیٹ پر ہی جمی تھی…جیسی کسی کا بے صبری سے انتظار ہو…. شاہ ابھی تک گھر نہیں آیا تھا… سونا کو بے چینی سی ہونے لگی… اسے شاہ سے ضروری بات کرنی تھی اس لیے شام سے ہی اس کس ویٹ کر رہی تھی… لیکن آج… آج وہ معمول سے زیادہ لیٹ ہو گیا تھا… پہلے تو اس وقت تک آ جاتا تھا وہ… آج جانے کیوں اتنی دیر کر دی… سونا نے پھر سے وال کلاک پر نگاہ دوڑائ… تبھی ہارن کی آواز آئ تھی… سونا کی نظریں پھر گیٹ کی جانب اٹھی تھیں… شاہ کی گاڑی اندر داخل ہوئ تھی… سونا نے گہری سانس لی… آج کچھ بھی ہو جاۓ… اسے اپنے اور شاہ کے درمیان موجود غلط فہمیوں کو ختم کرنا تھا… اپنی زندگی کا بہت وقت ان ہی رنجشوں اور مس انڈرسٹینڈنگز کی نظر کر لیا… اب اور نہیں… وہ سوچ رہی تھی… نظریں ابھی بھی گاڑی سے نکلتے شاہ پر تھیں… لیکن… وہ ایک دم چونکی… یہ.. یہ کیا ہوا شاہ کو… غور سے شاہ کی طرف دیکھ رہی تھی… جو گاڑی سے نکل کر اب اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے زور زور سے دبا رہا تھا… بار بار سر جھٹک رہا تھا… وہ پریشان ہوئ ایک دم… دل گھبرایا تھا… شاہ… شاہ کی طبیعت ٹھیک نہیں شاید… وہ تیزی سے مڑی… کمرے سے نکل کر جلدی جلدی سیڑھیاں پھلانگ کر باہر کی جانب آئ… دوپٹے کا کچھ حصہ ایک طرف کندھے پر پڑا تھا جبکہ آدھے سے زیادہ دوپٹہ نیچے رل رہا تھا… گاڑی سے چند قدم کے فاصلے پر وہ رکی… شاہ “روز ولا” کی جانب بڑھ رہا تھا… وہ لڑکھڑا رہا تھا… جیسے ہوش کھو رہا ہو… جیسے چکر آ رہے ہوں… جیسے خود کو سنبھال ہی نہ پا رہا ہو…. یہ… یہ شاہ ہاؤس کی بجاۓ روز ولا کیوں جا رہے ہیں… جبکہ طبیعت اتنی خراب ہے…سونا نے حیرت سے دل ہی دل میں کہا… پھر کچھ سوچتی ہوئ وہ بھی روز ولا کی جانب بڑھی…. “شاہ…” دو تین بار اسے مخاطب کیا تھا لیکن وہ ان سنی کرتا اندر داخل ہو گیا… سونا شاہ کی حالت دیکھتے ہوۓ حواس باختہ سی ہوئ… ابھی داخلی دروازے پر پہنچی ہی تھی جب گارڈز نے اس کا راستہ روک لیا… اس نے غصے سے گارڈز کو گھورا… “یہ کیا بدتمیزی ہے…” لہجے میں سختی تھی… “آئم سوری میم… بٹ آپ اندر نہیں جا سکتیں…” گارڈ نے ادب سے سر جھکاتے ہوۓ کہا تھا… “کیوں… کیوں نہیں جا سکتی میں اندر… تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے…” سونا تڑخی تھی… “میم… یہ سر کا آرڈر ہے… ان کے علاوہ یہاں کوئ نہیں جا سکتا…. اور آپ کے لیے تو سختی سے منع کیا ہے انہوں نے…” گارڈ معزرت کے سے انداز میں کہہ رہا تھا… سونا سلگ اٹھی تھی اس کی بات پر… آنکھوں سے چنگاریاں سی پھوٹنے لگی تھیں… نہ جانے کتنا ذلیل کرے گا یہ شخص مجھے… دل میں سوچا تھا… پھر ضبط سے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے گارڈ کو دیکھا… “دیکھو…. وہ شوہر ہیں میرے…. اور ان کی بیوی ہونے کی حیثیت سے اس گھر پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ان کا… تم مجھے یوں روک نہیں سکتے میرے ہی گھر میں داخل ہونے سے…” چبا چبا کر کہا گیا تھا… گارڈ بے چارگی سے اسے دیکھنے لگا…. “سوری میم… میری جاب کا سوال ہے… میں سر کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا… آپ کو سر سے پرمیشن لینی ہو گی…. سر مجھے کہیں گے تو میں آپ کو اندر جانے دوں گا…” دو ٹوک انداز میں کہا تھا گارڈ نے…. البتہ لہجے میں ابھی بھی احترام سا تھا….”شاہ کی طبیعت خراب ہے… ایڈیٹ… اگر اندر اسے کچھ ہو گیا تو… کون ذمہ دار ہو گا اس کا… مجھے بھی کوئ شوق نہیں ہے اندر جانے کا… لیکن میں اپنے شوہر کے خیال سے ہی جا رہی ہوں… ہٹو راستے سے… ” تلخی سے کہا تھا سونا نے… “آئم سوری میم… بٹ سر جب بھی یہاں آتے ہیں اس حالت میں ہی آتے ہیں… ” گارڈ نے کہا لیکن راستے سے پھر بھی نہیں ہٹا…. سونا کے غصے سے اسے دیکھا… “گو ٹو ہیل… نہ جانے کونسے خزانے دفن ہیں اس روز ولا میں جو مجھے دیکھنے کو اجازت نہیں ہے…” وہ غصے سے کہتی مڑ گئ تھی… جانتی تھی سر کھپانے کا کوئ فائدہ نہیں… یہ سب شاہ کے ملازم تھے… اور شاہ کی کہی بات سے…. اس کے دئیے گۓ حکم سے ایک انچ نہیں ہل سکتے تھے… تن فن کرتی وہ اپنے روم میں چلی گئ…
•••••
اگلے دن شاہ جلدی آفس چلا گیا… ناشتہ بھی نہیں کیا… اور سونا جو اس سے بات کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی… لب بھینچ کر رہ گئ… وہ اسے وقت ہی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کچھ کہہ سکتی…. ناشتے کے بعد وہ وہیں لاؤنج میں ہی بیٹھ گئ… صوفے پر دونوں پاؤں اوپر کر کے… “جینی…” سونا نے جینی کو مخاطب کیا تھا اور جینی جو ٹیبل سے برتن سمیٹ رہی تھی چونکی… “یس میم…” ساتھ ساتھ ہاتھ بھی چلا رہی تھی… “تم یہاں کب سے ہو… آئ مین… کتنا عرصہ ہوا تمہیں یہاں جاب کرتے ہوۓ…” سونا نے ناخنوں سے کھیلتے ہوۓ پوچھا… “تقریبا چھ سال ہو گۓ ہیں… ” جینی کچن میں برتن دھو رہی تھی…سونا بھی اٹھ کر وہیں چلی آئ…
“اچھا ایک بات بتاؤ…” سونا نے غور سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے… “جی پوچھئیے…” جینی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی…. “یہ شاہ کے بارے میں تم جانتی ہو… کہ اسے کیا ہوا ہے… مطلب… یہ اتنا سخت مزاج اور سنجیدہ کیوں ہے…” سونا نے اس سے ہوچھا…. جینی چند لمحے خاموش ہو گئ تھی… بالکل خاموش… “جینی پلیز سچ بتانا… میری ذندگی میں بہت سے سوالات ہیں جن کے مجھے جواب جاننے ہیں… کوئ پہیلی سے بن کر رہ گئ ہے ذندگی…” سونا نے درخواست کے سے انداز میں کہا… جینی نے گہرے سانس بھری… “سر پہلے ایسے نہیں تھے…. سر بہت اچھی نیچر کے مالک تھے… بہت خوش مزاج… بات بات پر مسکرانے والے… ان کے وہ جو دوست ہیں نا ریحان… جو آپ کی موجودگی میں بھی ایک بار یہاں آۓ تھے…. وہ پہلے اکثر آیا کرتے تھے یہاں گھر…. دونوں ہنسی مذاق کرتے تھے…. ایک دوسرے کے ساتھ بہت سا وقت گزارتے…. ان کے ساتھ سر بہت خوش رہتے تھے… اس کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا جب سر کو ہم نے حد سے زیادہ خوش دیکھا… تب مسکراہٹ ان کے لبوں سے جدا ہی نہیں ہوتی تھی…. یوں لگتا تھا جیسے انہیں اپنی ذندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گئ ہو… آنکھیں چمکتی تھیں ان کی خوشی سے… لیکن تقریبا پانچ سال پہلے…. نہ جانے کیا ہوا تھا…. سر کی خوشیوں کو کسی کی بری نظر لگ گئ…. کچھ دن ہم نے سر کو بہت پریشان دیکھا… روتے ہوۓ بھی دیکھا…. پھر ایک دن گھر میں پولیس آئ تھی… کس معاملے میں یہ تو نہیں معلوم…. لیکن بہت سی مشینیں لے کر آۓ تھے وہ یہاں… سر نے ہی بلوایا تھا شاید… اور تب ہی فون کال آئ تھی…. اس فون کو سننے کے بعد ہم نے سر کو روتے ہوۓ سنا… اونچی آواز میں بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوۓ… سر نے پولیس کو بھی بھیج دیا واپس….سر کو کھانے پینے تک کا ہوش نہیں تھا…. انہیں اتنا ہریشان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ہم نے…. اور اس کے چند دن بعد ہی سر ایک روز گاڑی لے کر نکلے تھے… اور گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا کہیں… ایک ہفتے تک سر گھر نہیں آۓ تو ہم نے ریحان سر کو فون کر کے بتایا… اور پھر وہی سر کو گھر لے کر آۓ تھے…. اس ایکسیڈنٹ میں سر کو بہت ذخم آۓ تھے… جب سر گھر آۓ تو ان کی حالت بہت خراب تھی… نہ جانے کیا ہوا تھا… لیکن اس ایکسیڈنٹ کے بعد سر بدل گۓ… اس کے بعد ہم نے سر کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا…. کبھی ہنستے نہیں دیکھا… ذیادہ بولتے نہیں دیکھا…. ریحان سر نے بہت خیال رکھا ان کا اس دوران…. ہر پل ان کے ساتھ رہے… لیکن سر کا رویہ ان کے ساتھ بھی بدل گیا تھا… سر ان سے بات تو کرتے تھے لیکن پہلے کی طرح ہنسی مذاق نہیں… اور پھر تین ساڑھے تین سال بعد سر پاکستان چلے گۓ اپنے پیرنٹس کے ہاں…
جینی نے تفصیل سے سونا کو بتایا تھا… سونا الجھی سی اس کی طرف دیکھے گئ…. ایسا کیا ہوا ہو گا شاہ کے ساتھ کہ وہ پہلے پریشان رہا پھر ایکسیڈنٹ اور پھر یہ سنجیدگی اور دنیا سے بے زاری… وہ سوچ رہی تھی… “اچھا سنو….” سونا نے پھر اسے مخاطب کیا… “جی…” جینی اب برتنوں کو خشک کر کے رکھ رہی تھی…. “یہ جو روز ولا ہے… اس کا کیا راز ہے بھلا… شاہ کے علاوہ کوئ اور کیوں نہیں جا سکتا وہاں… اور یہ بلڈنگ ذیادہ پرانی نہیں لگتی… شاہ ہاؤس کے بعد بنی ہے یہ…¿¿¿” وہ اب اس سوال پر آئ جو وہ کب سے پوچھنا چاہ رہی تھی…. نظریں جینی پر جما رکھی تھیں… “جی یہ شاہ ہاؤس سے کافی عرصہ بعد ہی بنا ہے… پانچ سال پہلے ہی…. یہ سر نے اس وقت ہی بنوایا تھا جب سر بہت ذیادہ خوش رہنے لگے تھے… یہ تو نہیں پتا کہ کیوں بنوایا… لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ سر کسی کو سرپرائز دینا چاہتے تھے….” جینی نے مسکراتے ہوۓ بتایا…. “روز ولا…. عجیب سا نام نہیں ہے یہ…. ” سونا نے ابرو اچکاتے ہوۓ پوچھا تھا… “میم… سر نے جس کے لیے یہ گھر تیار کروایا تھا سرپرائز کے طور پر…. انہیں گلاب بہت پسند تھے…. اور اسی لیے شاہ نے اس گھر کے اردگرد گلاب کے بہت سے پودے لگواۓ… اور پھر اسی مناسبت سے اس کا نام بھی روز ولا رکھ دیا…” جینی اپنا کام ختم کر چکی تھی…. “میم… اور کچھ… جو آپ پوچھنا چاہتی ہوں…” سونا کی بہت دیر تک خاموشی کی وجہ سے جینی نے پوچھا… “ہاں… نن… نہیں… اور کچھ بھی نہیں پوچھنا…” وہ وہاں سے ہٹ گئ تھی… یہاں آئ تھی کچھ گرہیں سلجھانے کے لیے… لیکن آدھی ادھوری باتوں نے اسے اور الجھا کر رکھ دیا تھا….
••••••
یہ اس سے اگلے دن کا ذکر ہے… صبح کے پانچ بج رہے تھے… سونا فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئ تھی…. جاۓ نماز کیبنٹ میں رکھ کر دوپٹا اس نے شانوں پر پھیلایا…. آئینے کے سامنے جا کر بالوں میں برش کرنے لگی… تبھی دستک دے کر کوئ اندر آیا تھا… سونا نے مڑ کر دیکھا…. شاہ داخل ہو رہا تھا… ہاتھ میں کچھ کاغذات پکڑے…. سونا اس کی آمد کا مقصد جان کر لب بھینچ گئ…. لیکن کہا کچھ نہیں… شاہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا… جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو اس سے بات کرنے کو… “یہ پیپرز ہیں… ڈائیوورس پیپرز… انہیں سائن کر دینا… ” آواز میں ہلکی سی لرزش تھی….آگے بڑھ کر شاہ نے وہ پیپر ٹیبل پر رکھے تھے… جب وہ کچھ نہ بولی تو واپسی کے لیے مڑ گیا… “کیا ہمارے رشتے میں اتنی سی بھی گنجائش نہیں ہے کہ ہم اپنے درمیان موجود غلط فہمیوں کو دور کر سکیں…” بے تاثر لہجے میں کہا تھا سونا نے… شاہ رکا اس کی بات پر… “شاید نہیں…” شاہ کا لہجہ بھی سپاٹ ہوا… سونا کا دل ایک پل کو کانپا… آنکھوں میں نمی ابھری… بمشکل خود کو سنبھالتی وہ شاہ کے سامنے آئ… شاہ نے سرخ ہوتی نظریں اٹھا کر بس ایک پل کو اسے دیکھا تھا… اس کے سرخ چہرے کو… پھر نظر چرا گیا… “اتنی سزائیں دے کر دل نہیں بھرا تھا… جو اب یہ سزا چن لی میرے لیے…” بھیگی آواز میں شکوہ کیا گیا تھا… “یہ تمہاری سب سزاؤں کا خاتمہ ہے…. اس کے بعد کبھی تمہیں کوئ تکلیف برداشت نہیں کرنی پڑے گی…خوشیاں تمہاری منتظر ہوں گی…” الفاظ سخت تھے… لیکن لہجہ نرم تھا… جیسے وہ تھک گیا ہو اس پر غصہ کرتے کرتے…”اور اگر میں اس سزا کے بعد کسی اور چیز کے لیے… کسی اور تکلیف کے لیے… یا خوشیوں کے لیے ذندہ ہی نہ بچ سکی تو…”سسک کر کہا گیا تھا… شاہ نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا… جس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا…. “خدا تمہیں میری عمر بھی لگا دے…” بس اتنا ہی کہا گیا تھا اسے…. آنکھوں کی سرخی مزید گہری ہوئ تھی… “شاہ….” سسکتی ہوئ وہ اس کے قدموں میں بیٹھی تھی… “آپ کو مجھے جو سزا دینی ہے دے آپ دے لیں… آپ جیسے کہیں گے میں ویسے ہی رہ لوں گی… مجھ پر جتنا چاہیں ظلم کر لیں شاہ…. میں اف تک نہیں کروں گی…. کوئ گلہ نہ آۓ گا میرے لبوں پر…. لیکن… لیکن پلیز… مجھے بے موت مت ماریں… اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیں شاہ… مم… مجھ سے اپنا نام مت چھینیں…. میں جی نہیں پاؤں گی… پلیز… اپنا نام میرے نام کے ساتھ جڑا رہنے دیں…” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی اس کے پیروں پر ہاتھ رکھے… شاہ دنگ رہ گیا تھا اس کی اس حرکت پر…. جلدی سے دو قدم پیچھے ہوا… اور اس روتی ہوئ لڑکی کی جانب دیکھا … دل چاہا تھا ایک پل میں آگے بڑھ کر اس کو تھام لے… اس ٹوٹی ہوئ لڑکی کو سمیٹ لے.. ساری دنیا کی نظروں سے چھپا کر کہیں محفوظ جگہ لے جاۓ جہاں کوئ تکلیف نہ ہو… لیکن … لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا… اس کے بس میں ہی نہیں تھا…وہ دو قدم آگے آیا…. اسے نرمی سے شانوں سے تھام کر اٹھایا…. سونا امید اور نا امیدی کی کیفیت میں اس کا چہرہ دیکھنے لگی…. کہ شاید اس کا دل پگھل جاۓ… “سونا… ” نرمی سے پکارا گیا تھا… سونا نے پہلی بار اپنا نام اس کے منہ سے سنا تھا… اور اس کے دل کی حالت… ناقابل بیان تھی… ” جو تم چاہ رہی ہو وہ ممکن نہیں ہے… میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا… میرے ساتھ رہ کر تم کوئ خوشی حاصل نہیں کر سکتا… تمہارا چہرہ دیکھ کر مجھے ہر پل ایک ان دیکھی آگ میں جلنا پڑتا ہے… اور اس آگ کی لپیٹیں تمہیں بھی جکڑ لیتی ہیں… تم میرے ساتھ رہو گی تو ایسے ہی روز مر مر کر جیو گی…. تمہیں میں کوئ سکھ نہیں دے سکوں گا… کہ جو شخص خود اپنے آپ سے نفرت کرتا ہو بھلا وہ دوسروں کو کیسے محبت دے… اس لیے… مجھے یہ فیصلہ کرنا ہی پڑا… اور میں اپنے اس فیصلے پر قائم رہوں گا…میرے ساتھ جو ہوا… میں نہیں جانتا کون قصوروار ہے… حقیقت کیا ہے… لیکن اپنا یہ معاملہ میں رب پر چھوڑتا ہوں… تم ابھی جذباتی ہو رہی ہو… لیکن کچھ عرصہ بعد تم سب بھول جاؤ گی…. نئ ذندگی کی شروعات کرو گی…. سہل ہو جاۓ گی تمہاری ذندگی… میں آج آفس کے کام کے لیے آؤٹ آف کنٹری جا رہا ہوں…. دو دن کے لیے… اور میں واپسی پر تمہارا سامنا نہیں کرنا چاہتا….پیپرز کے اندر تمہارا واپسی کا ٹکٹ ہے… اس لیے… اس لیے میرے آنے سے پہلے تم یہ پیپرز سائن کر کے پاکستان واپس چلی جاؤ گی… سنا تم نے… تم پاکستان واپس چلی جاؤ گی..” نرمی سے کہتے ہوۓ آخر میں اس کا لہجہ سخت ہوا تھا… اپنی بات کہہ کر وی کمرے سے نکل گیا تھا… جبکہ پیچھے سونا بے دم سی نیچے زمین پر گر سی گئ تھی… آنسو بہتے چلے جا رہے تھے..
ﺳُﻦ ﻟﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺗﯿﺮﺍ…
ﺍﻭﺭ ﺳﻦ ﮐﺮ، ﺍﺩﺍﺱ ﮨﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ…
ﺫﮨﻦ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺁﻧﮑﮫ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ…
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻢ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩھے…
•••••••
ریحان اس وقت کچھ اور ڈاکٹرز کے ساتھ ایک ہاسپٹل کے وزٹ کے لیے آیا تھا…. پچھلے کچھ عرصہ سے بہت مصروف ہو کر رہ گیا تھا وہ… نیا نیا ہاسپٹل کھولا تھا تو ابھی بہت زیادہ محنت کی ضرورت تھی…. اپنے کھانے پینے کس بھی ہوش نہیں تھا اسے تو آج کل…. شاہ سے بھی بہت کم ملاقات ہوتی تھی… وہ بھی اپنے آفس میں مصروف ہوتا… شاہ کے نیو یارک آنے کے بعد ایک بار وہ شاہ کے گھر گیا تھا…. وہاں سونا سے ملا … سونا اسے پسند آئ تھی… اور ریحان خوش تھا کہ بالآخر شاہ اپنی ذندگی میں آگے بڑھ رہا ہے… اور اسے یقین تھا کہ سونا شاہ کو اس کا ہر غم بھلا دے گی… شاہ نے سونا سے شادی کرنے کا اچھا فیصلہ لیا تھا…
شاہ کے ایکسیڈنٹ کے بعد اس نے شاہ سے پریشے کا تذکرہ نہیں کیا تھا.. اس نے کبھی پریشے کو دیکھا نہیں تھا.. لیکن وہ اچانک سے اس کے دوست کی زندگی سے چلی گئ .. کیوں.. کیسے… وہ نہیں جانتا تھا لیکن اتنا اسے علم تھا کہ شاہزیب سکندر کی اجڑ چکی زندگی کے پیچھے اس کا ہاتھ ہو سکتا ہے..
جب پاکسان میں سکندر نے شادی کا فیصلہ کیا اور ریحان کو بتایا کہ وہ اپنی کسی کزن سے شادی کر رہا ہے تو وہ خوش ہوا تھا کہ اس نے موو آن کر لیا..
اس نے ان دونوں کی شادی کی تصاویر دیکھیں تھیں… لیکن شاہ نے اسے اپنے اور سونا کے رشتے کی حقیقت نہیں بتائ تھی… بالکل ویسے ہی جیسے وہ پری کی حقیقت چھپا گیا تھا اس سے…
ریحان کا ارادہ تھا کہ یہاں سے جا کر وہ شاہ سے ملاقات کرے گا… تقریبا ایک ماہ ہو گیا تھا انہیں ایک دوسرے سے ملے ہوۓ…
اس کے علاوہ تین ڈاکٹرز اور تھے اس وزٹ پر… یہ ہاسپٹل غریبوں کے لیے تھا… وہ جو اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ اچھے ہاسپٹلز میں اپنا علاج کروا سکیں یہاں ان کا مفت علاج کیا جاتا تھا… اور اسی وجہ سے کافی رش بھی تھا وہاں… ریحان اپنے ساتھی ڈاکٹر سے کچھ ڈسکس کرتا آگے بڑھ رہا تھا… ساتھ ہی ساتھ مریضوں پر بھی ایک نظر ڈال لیتا جب وہ ایک دم ٹھٹھکا… سامنے کچھ فاصلے پر ایک بیڈ تھا جس پر کوئ لڑکی آنکھیں بند کیے لیٹی تھی… اس کے چہرے پر کرب کے اثرات تھے… بے حد لاغر اور کمزور جیسے ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو.. اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر بالوں میں جذب ہو رہے تھے… تیحان ٹھٹھکا..
اسے وہ جانی پہچانی لگی…
“اوہ مائ گاڈ… سونا بھابھی.. اس حال میں … اور یہاں …؟”
وہ شاکڈ ہوا
کچھ دن پہلے ہی تو وہ ملا تھا ان سے بالکل ٹھیک تھیں…
ریحان نے اپنے ساتھی ڈاکٹر سے کچھ کہا تو وہ سر ہلاتا آگے بڑھ گیا… ریحان تشویش زدہ چہرہ لیے تیزی سے اس بیڈ تک پہنچا… “بھابھی…” آواز سے بھی پریشانی جھلک رہی تھی…. جب اس لڑکی نے آنکھیں نہ کھولیں تو ریحان نے آہستگی سے اس کا بازو ہلایا… “بھابھی…” پھر سے پکارا تھا… اس لڑکی نے آنکھیں کھولیں… مخاطب کرنے والے کی طرف دیکھا…. کچھ لمحے خالی نظروں سے اسے دیکھے گئ… پھر ایک دم تیزی سےاٹھنے کی کوشش کی… لیکن کراہ کر رہ گئ… ریحان نے أگے بڑھ کر سہارا دیا تھا اور اسے بیٹھنے میں مدد دی… “تت… تم…. ری… ریحان ہو نا… سس… سکندر کے دوست” پری نے انگلی اس کی طرف کی تھی اور اٹکتے ہوۓ اس سے پوچھا جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ وہ وہی ہے جو وہ اسے سمجھ رہی ہے… “جی… میں ریحان ہوں… شاہ کا دوست… لیکن آپ یہاں… اس حالت میں… اور اس ہاسپٹل میں… اور… اور شاہ کہاں ہے بھابھی…” ریحان بے چین ہوا تھا ایک دم….اگر یہ یہاں ہے تو پھر شاہ کہاں ہے… اور بھابھی کو اس ہاسپٹل میں کیوں ایڈمٹ کروایا اس نے… “بھ… بھابھی…” وہ اس کے اس لفظ میں ہی اٹکی… حیران ہو کر اس کا چہرہ دیکھا… وہ اسے بھابھی کیوں کہہ رہا تھا… “کک… کون بھابھی… ” الجھن سے اس کی جانب دیکھا… شاہ اس کی بات پر ناسمجی سے اسے دیکھنے لگا… اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا اسے… “آپ… میرا آپ سے بھابھی کا ہی رشتہ ہے نا… شاہ کی وائف ہیں تو ظاہر ہے میں آپ کو بھابھی ہی کہوں گا…” وضاحت کرنے والے انداز میں کہا تھا… “شاہ کی وائف… لیکن… میری تو… میری تو شاہ سے …شادی ہی نہیں ہوئ…” اٹک اٹک کر جملہ مکمل کیا… بولنے میں بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا… ریحان پریشان سا ہو کر اسے دیکھنے لگا… “یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ… ایک سال پہلے ہی تو شادی ہوئ آپ کی اور شاہ کی… آپ دونوں کی شادی کی پکس بھی دیکھی ہیں میں نے… اور چند ماہ پہلے ہی تو میں آپ سے ملا تھا شاہ کے گھر… ” ریحان نے یاد کروانے کی کوشش کی… “ایک… ایک سال پہلے…” اس نے ریحان کا کہا گیا لفظ دوہرایا… “لیکن شاہ تو… پانچ سال پہلے… ” بڑبڑاتے ہوۓ اس نے جملہ ادھورا چھوڑا… اچھنبے سے ریحان کو دیکھا… “کیا… کیا شاہ… شاہ زندہ ہے…” خوشی اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں پوچھا تھا.. ریحان کو شاک لگا اس کی بات پر… “زندہ ہے مطلب… کیا ہوا شاہ کو… کہاں ہے وہ… بتائیں مجھے بھابھی… شاہ کہاں ہے… کیا ہوا اس کے ساتھ…” مضطرب ہوتے ہوۓ پوچھا تھا… دل ڈر سا گیا تھا ایک دم… “یہ… یہ تو آپ کو معلوم ہو گا… آ… آپ میری ایک بات مانیں گے… شاہ کو فون کر کے یہاں بلا دیں پلیز… میں اس سے ملنا چاہتی ہوں… اس سے… اس سے ضروری بات کرنی ہے… لیکن اسے یہ مت بتائیے گا کہ میں نے… بلایا ہے اسے… وہ کبھی نہیں آۓ گا میرے لیے… آپ… آپ کوئ بھی بہانہ کر کے اسے یہاں بلا دیں پلیز… ” وہ روتے ہوۓ کہہ رہی تھی جبکہ ریحان کا دماغ گھوم کر رہ گیا تھا… کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب چل کیا رہا ہے… ایک نظر اس لڑکی کی طرف دیکھا جو سر جھکاۓ رو رہی تھی… پھر شاہ کا نمبر ملا کر ایک سائیڈ پر آیا… شاہ جو آج نیو یارک آ چکا تھا اور اب گاڑی میں بیٹھ کر آفس کی طرف جا رہا تھا اس نے ریحان کی کال اٹینڈ کی… “شاہ کہاں ہو…” بلا تمہید ریحان نے پوچھا… شاہ حیران ہوا اس کے انداز پر… “آفس جا رہا ہوں… کیوں خیریت…” ساتھ ہی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے کنپٹی کو دبایا… جواب میں ریحان نے اسے ہاسپٹل کا نام بتایا اور جلد از جلد پہنچنے جا کہہ کر اسے کوئ سوال کرنے کا موقع دئیے بغیر فون بند کر دیا… شاہ نے فون کو گھورا… اس کے انداز پر الجھتے ہوۓ گاڑی کا رخ ہاسپٹل کی جانب کر دیا…
