Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13

331K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13

“واٹ¿¿¿ یہ تم کیا کہہ رہی ہو سونا…¿¿¿” سارہ کی حیرت اور بے یقینی میں ڈوبی آواز ابھری تھی… وہ شاکڈ تھی بالکل شاکڈ…”اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے…¿¿¿” سونا نے نارمل انداز میں کہا… وہ اس وقت فون پر بات کر رہی تھی سارہ سے…. اور اسے اپنا اور شاہزیب کا رشتہ طے ہونے کے بارے میں بتایا تھا…تو سارہ کا یہ ردعمل تھا… “آر یو میڈ…¿¿ تم کیسے اس رشتے کو قبول کر سکتی ہو…¿¿ آئ مین… تم ایک شہر کی لڑکی ہو…چند دن گاؤں میں رہنا ایک الگ بات ہے…لیکن وہاں شادی کرنے کا مطلب جانتی ہو تم..¿¿ ساری ذندگی ایک گاؤں میں گزارنی پڑے گی…سونا کیسے ایڈجسٹ کرو گی تم وہاں… انکل کو سوچنا چاہئے تھا… ” سارہ نے حقیقت بیان کی تھی اس کے سامنے… “یار جو لوگ گاؤں میں رہتے ہیں وہ بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں نا… اور میں بابا کو انکار نہیں کر سکی… میں ان سے ان کی خوشیاں نہیں چھین سکتی… کہیں تو شادی کرنی ہی ہے نا… تو پھر وہاں کیوں نہیں جہاں بابا چاہتے ہیں…آخر کچھ تو خاص ہو گا اس لڑکے میں جسے انہوں نے میرے لیے چنا… اور پھر یہاں سب لوگ بہت اچھے ہیں…بہت محبت کرنے والے… ایک اس بات کو ایشو بنا کر انکار کروں میں کہ شہر کی رہائشی ہوں اور گاؤں میں ایڈجسٹ نہیں کر سکتی… نہیں یار..میں نے بابا کو ذندگی مین پہلی بار اتنا خوش دیکھا… اور میں انہیں دوبارہ تنہائ کے برزخ میں نہیں دھکیل سکتی… شاید میری قسمت یہیں لکھی ہے… تبھی تو اتنے عرصے بعد تایا جی آۓ تھے بابا کو منانے… ان سے اپنے تعلقات کو پہلے کی طرح خوشگوار بنانے… کیونکہ انہیں مجھے مانگنا تھا اپنے بیٹے کے لیے… یہ میرے رب کا فیصلہ ہے سارہ… اور میں اس فیصلے کو قبول کر چکی ہوں…” سونا نے اپنے لہجے کی اداسی کو حتی المقدور چھپانے کی کوشش کی تھی… سارہ نے اس کی بات پر گہری سانس بھری… “ہمم… چلو اللہ پاک تمہارے نصیب اچھے کرے… تمہاری قسمت میں ڈھیروں خوشیاں بھر دے…” سارہ نے اسے دل سے دعا دی… “لڑکا کیا کرتا ہے…¿¿¿ کیسا ہے… ہینڈسم تو ہے نا… تمہارے ساتھ جچے گا نا…¿¿¿ پکس سینڈ کرو ذرا اس کی…” سارہ نے بے تابی سے فرمائش کی… سونا نے لب دانتوں تلے دباۓ… اب جسے اس نے خود نہیں دیکھا… اس کی تصویر سارہ کو کیسے دکھاتی بھلا… “سارہ… وہ…میں نے ابھی تک خود نہیں دیکھا اسے…نہ ہی تصویر ہے میرے پاس اس کی…” سونا تھوڑی خجل سی ہوئ… دوسرے جانب سارہ ایک بار پھر حیرت سے چلائ… “سونا… واٹ ڈو یو مین…¿¿¿ تم نے ابھی تک اس لڑکے کو دیکھا تک نہیں… اور بغیر دیکھے ہی رشتے کے لیے ہاں کر دی… ¿¿ یار کس صدی میں جی رہی ہو تم…ہوش کرو… ” سونا کو لتاڑا تھا اس نے … “یار… بابا سمجھ رہے ہیں کہ میری اس سے ملاقات ہو چکی ہو گی… اب میں بابا سے کیسے کہہ سکتی تھی کہ میں نے اسے دیکھا تک نہیں ہے… ” سونا نے بے چارگی سے کہا… ” ہاؤ اسٹوپڈ یو آر…” سارہ نے صدمے اور تاسف سے کہا…”تم ابھی تک ملی بھی نہیں ہو اس سے…¿¿ ایک ہی گھر میں رہتے ہوۓ کبھی آمنا سامنا نہیں ہوا…¿¿ ہاؤ کین اٹ پاسیبل…¿¿?” وہ ماننے سے انکاری تھی… “ہاں یار…بس نہیں ہوا سامنا…وہ ذیادہ تر شہر میں رہتا ہے…یہاں آیا تھا ایک دو بار… لیکن اتفاق ہی ہے کہ میں اسکا چہرہ نہیں دیکھ سکی… ویسے بھی مجھے کوئ انٹرسٹ نہیں ہے اس سب میں… بابا نے دیکھ لیا اسے… یہی کافی ہے…” سونا نے بے زاری سے کہا… وہ سارہ کو یہ نہیں کہہ سکی تھی کہ اس نیلی آنکھوں والے نوجوان کو دیکھنے کے بعد اس کے دل میں کسی اور کو دیکھنے کی چاہ ہی نہیں تھی… “پتا نہیں کیسی لڑکی ہو تم…ذندگی کا اتنا بڑا فیصلہ ہو رہا ہے اور تم نے لڑکے کو دیکھا تک نہیں ہے… بہر حال تمہیں انٹرسٹ ہے یا نہیں… ہمیں انٹرسٹ ہے موصوف کو دیکھنے کا… بابا سے نہیں کہہ سکتی تو اپنی کزنز سے کہہ دو کہ وہ اس کی پکس لا کر دیں تمہیں اور ہمیں سینڈ کرو وہ پکس… ہم بھی تو دیکھیں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جناب میں جو انکل بھی فدا ہو گۓ ان پر…” سارہ نے حکمیہ انداز اپنایا… “اچھا ٹھیک ہے… کہوں گی ان سے…” سونا نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا .. وہ اس موضوع پر مزید بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی… تبھی ٹاپک بدل دیا…
•••••••
پچھلے ایک ہفتے سے پریشے کا کوئ فون نہیں آیا تھا… سکندر نے لاتعداد فون کالز کی تھیں اسے لیکن اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا…وہ پریشان تھا… اذ حد پریشان… اسے لگ رہا تھا وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو جاۓ گا… اس وقت وہ اپنے گھر کے لاؤنج میں سر ہاتھوں میں گراۓ بے بس سا بیٹھا تھا… رف سا حلیہ… سفید شرٹ پر ان گنت سلوٹیں پڑی تھیں… بازو کہنیوں سے اوپر تک فولڈ کیے ہوۓ تھے…بال بے ترتیبی سے ماتھے پر بکھرے تھے…. مسلسل جاگتے رہنے کی وجہ سے آنکھوں میں سرخی چھائ تھی…پچھلے تین دن سے وہ آفس بھی نہیں گیا تھا… کل پریشے کے ریسٹورنٹ گیا تھا جہاں وہ جاب کرتی تھی…لیکن وہ ایک ہفتے سے جاب پر بھی نہیں جا رہی تھی…جس ہاسٹل میں پریشے کی رہائش تھی وہ آج وہاں بھی گیا تھا… لیکن وہاں جا کر اسے جو معلوم ہوا اس نے اس کی پریشانی میں مزید اضافہ ہی کیا تھا… اسے وہاں بتایا گیا تھا کہ وہاں تو کوئ پریشے جہانگیر نام کی لڑکی آئ ہی نہ تھی… کسی پریشے کی رہائش نہیں تھی وہاں… سکندر کو لگا انہیں کوئ غلط فہمی ہوئ ہو گی… دوبارہ چیک کرنے کو کہا لیکن ان کی جانب سے پھر وہی جواب ملا… سکندر شکستہ سا وہاں سے لوٹ آیا…پریشے نے خود اسے بتایا تھا کہ وہ اسی وومین ہاسٹل میں رہتی ہے… بھلا وہ سکندر سے کیوں جھوٹ بولے گی… سکندر اس سے پہلے کبھی اس کے ہاسٹل نہیں آیا تھا… ایک دو بار اس نے پری کو ہاسٹل سے پک کرنے کی بات کی تھی لیکن پریشے نے اسے منع کر دیا تھا ہاسٹل آنے سے… یہ کہہ کر کہ اس کی فرینڈز اور روم میٹ اسے یوں کسی لڑکے کے ساتھ جاتا دیکھ کر کیا سوچیں گی…باتیں بنیں گی… پریشے کا نام بدنام ہو گا… اور سکندر کو پریشے کی عزت اپنی جان سے بڑھ کر عزیز تھی…اس لیے اس نے کبھی فورس نہیں کیا ہاسٹل آنے کو… اسے پریشے پر بھروسہ تھا… لیکن اب جو کچھ ہو رہا تھا اس سب نے اس کا دماغ ماؤف کر کے رکھ دیا تھا.. وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کرے… کہاں ڈھونڈھے پری کو… پریشے نے ہاسٹل کے بارے میں اس سے جھوٹ بولا اس میں کوئ مصلحت ہو گی ورنہ وہ سکندر سے جھوٹ کیسے کہہ سکتی ہے… اس نے اپنے دل کو تسلی دینی چاہی…لیکن وہ آخر گئ کہاں… مجھے بتا کر جانا چاہئے تھا اسے … جانتی ہے میں کتنا پریشان ہو جاتا ہوں اس کے لیے… کہیں… کہیں اسے کچھ ہو تو نہیں گیا… اس کے ذہن میں خیال آیا تھا اور وہ خود لرز کر رہ گیا تھا اس خیال سے… خود ہی اپنے خیال کی نفی کی.
.”نہیں اسے کچھ نہیں ہو سکتا…میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا… میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا… پری کہاں ہو تم… پلیز کم بیک.. پلیز…”
وہ بے بس سا بڑبڑا رہا تھا… تبھی کسی خیال کے تحت وہ اٹھا… گاڑی کی چابی اور موبائیل لیا… اور گھر سے نکل آیا..
••••••••
سونا ابھی فجر کی نماز ادا کر کے اٹھی ہی تھی.. حجاب کھول کر دوپٹا درست کیا… تبھی اس کے روم کا دروازہ کھلا…
سب سے آگے نادیہ تھی… ہیچھے تائ جی… پھر شائستہ , عائشہ , فرح اور طلحہ… “ہیپی برتھ ڈے سونا… مینی مینی ہیپی ریٹرنز آف دا ڈے…” نادیہ آگے بڑھ کر اسے گلے ملی تھی… پھر ہاتھ میں پکڑا بکے اسے تھمایا…باری باری سب اسے ملے اور جنم دن کی مبارک باد دی… تخفے پکڑاۓ…تائ جی نے آگے بڑھ کر محبت سے اس کی پیشانی چومی… خوبصورے سا پیکڈ ڈریس اسے گفٹ کیا اور لمبی عمر کی دعا دی… سونا ان سب کی محبتوں پر مسکرا دی… بابا نے بھی اسے رات 12 بجے وش کیا تھا اس کی چاروں فرینڈز نے بھی… سونا ان چاروں کو بہت مس کر رہی تھی… بابا کی جانب سے ابھی اس کا گفٹ رہتا تھا…
پھر باقی کا دن اس نے کمرے میں ہی گزارا… بابا بھی نہ جانے کہاں مصروف تھے صبح سے… سونا نے اپنی چاروں چڑیلوں سے بات کی… پھر ایک بجے لنچ سے فارغ ہو کر نادیہ اور شائستہ اسے زبردستی باہر کھیتوں میں باغات والی سائیڈ پر لے آئیں… سونا کا موڈ نہیں تھا آنے کا… پچھلی بار کا واقعہ اسے بھولا نہیں تھا ابھی… لیکن شائستہ اور نادیہ نے ایک نہ سنی اس کی… اس وقت وہ آم کے درخت کی گھنی چھاؤں تلے بیٹھی تھی… شائستہ کچھ فاصلے پر کھڑی اوپر درخت کی جانب دیکھ رہی تھی جہاں نادیہ کیریاں اتار رہی تھی کھانے کو… ان دونوں کے انداز میں آج ایک انوکھا سا جوش سا تھا… صرف ان میں ہی نہیں عائشہ بھابھی اور تائ جی بھی آج بہت خوش لگ رہی تھیں… ایک الگ ہی جوش و جذبہ ان سب کے ہر انداز سے جھلک رہا تھا… سونا حیران تھی.. “خیر ہے…¿¿ تم سب آج بہت خوش لگ رہے ہو…” سونا نے اپنے ہاتھوں کے ناخنوں سے کھیلتے ہوۓ ان سے پوچھا… “ہاں بہت بہت خوش ہیں ہم آج… لیکن فی الحال تمہیں نہیں بتا سکتے… خود ہی جان جاؤ گی…” شائستہ نے لہجے میں شرارت سموتے ہوۓ کہا..” بتاؤ گی نہیں تو جانوں گی کیسے…¿¿¿” سونا نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا… “کیوں… بہت بے تاب ہو رہی ہیں جاننے کو… ” کیریاں اتارتی نادیہ کھلکھلائ… ” نہیں… اگر تم لوگ نہیں بتانا چاہتے تو کوئ بات نہیں…اٹس اوکے…” سونا نے سادگی سے کہتے ہوۓ بات ختم کی…شام تک وہ کھیتوں میں ہی رہیں…مغرب کی اذان ہو رہی تھی جب وہ واپسی کےلیے حویلی کی جانب روانہ ہوئیں… “سونا… ادھر آؤ… حویلی کے پچھلے گیٹ سے چلتے ہیں…” شائستہ دوسرے راستے مڑ گئ… “کیوں… سامنے سے کیوں نہیں جانا..” سونا نے حیرت سے سوال کیا… اسے آج ان کی کوئ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی… “ارے ایک تو آپ سوال بہت کرتی ہیں ڈئیر سونا آپی… بس ویسے ہی ادھر سے چلتے ہیں نا…” نادیہ نے اس کی کندھے پر ہاتھ رکھا… سونا خاموشی سے ان کے ساتھ آگے بڑھ گئ… حویلی میں داخل ہو کر وہ اپنے روم میں چلی آئ… آ کر بیڈ پر لیٹ گئ… سر بھاری ہو رہا تھا… ابھی بمشکل دس سے پندرہ منٹ ہوۓ ہوں گے اسے لیٹے ہوۓ جب دروازے پر دستک دے کر تائ جی کمرے میں داخل ہوئیں… ان کے پیچھے عائشہ بھابھی بھی تھیں… دونوں نک سک سے تیار… جیسے کسی فنکشن میں جانے کی تیاری ہو… تائ جی کے ہاتھ میں ایک بہت خوبصورت ریڈ اور بلیک امتزاج کا کامدار سا لباس تھا… جبکہ عائشہ بھابھی کے ہاتھ میں جیولری کے ڈبے اور کچھ اور چیزیں تھیں.. دونوں مسکرا رہی تھیں…جبکہ سونا حیران سی یہ سب دیکھے گئ… یہ سب کیا چل رہا ہے… اس نے سوچا… تائ جی اس کے قریب آئیں.. “سونا… بیٹا ڈریس چینج کر لو.. یہ ڈریس پہن لو… عائشہ تمہیں تیار کر دیتی ہے…اور عائشہ… میں نادیہ یا شائستہ کو بھیجوں گی تو سونا کو لے کر آ جانا تم…” انہوں نے محبت بھری نظروں سے سونا کو دیکھا اور مصروف سے انداز میں کہہ کر باہر چلی گئیں…سونا عائشہ کی جانب متوجہ ہوئ… ” یہ سب کیا ہو رہا ہے بھابھی…¿¿ ہم کہیں جا رہے ہیں کیا…. یہ ڈریس, جیولری, میک اپ… کیا ہے یہ سب.. مجھے تو کسی نے پہلے کچھ بتایا نہیں…” وہ الجھ رہی تھی تبھی سوالیہ نگاہوں سے عائشہ کی جانب دیکھا… عائشہ نرمی سے مسکرائ اس کی بات پر پھر آگے بڑھ کر نرمی سے اس کا گال چھوا… ” پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے چندہ…سرپرائز ہے تمہارے لیے… ایک بہت خوبصورت سرپرائز… کچھ دیر میں پتا چل جاۓ گا… ابھی جاؤ… چینج کر کے آؤ… میں تمہیں تیار کر دوں… وقت کم ہے ہمارے پاس… جاؤ شاباش… ” بھابھی نے اسے ڈریس پکڑایا… سونا الجھتی ہوئ واشروم کی جانب بڑھ گئ…
کچھ دیر بعد عائشہ اسے تیار کر چکی تھی… لائٹ میک اپ میں بھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی… یہ بلیک اور ریڈ کلر اس کے گورے رنگ پر بہت جچ رہا تھا… بھابھی نے اس کے لمبے سیاہ بال کھلے چھوڑ دئیے تھے… بس ماتھے پر ٹیکا سجا تھا… اب بھابھی اس کے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنا رہی تھیں… “بھابھی پلیز.. کتنا اوور لگ رہا ہے.. آپ سب کیا کر رہے ہیں… کچھ بتا بھی دیں… میں نے کبھی چوڑیاں نہیں پہنی… بہت عجیب لگ رہا ہے یہ سب…” وہ روہانسی ہو گئ… عائشہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر بے ساختہ ہنسی… ” یار… کیوں اتنی ٹینس ہو رہی ہو… کہا نا.. سرپرائز ہے… اب خود چل کر دیکھ لینا… عائشہ نے چوڑیاں پہنا کر اس کے بال سنوارے… تبھی نادیہ کمرے میں داخل ہوئ… “بھابھی ماں جی کہہ رہی ہیں سونا کو لے آئیں…” وہ چلتی ہوئ ان کے قریب آئ… آئینے کے سامنے بیٹھی سونا کو دیکھا تو منہ سے بے ساختہ ماشاءاللہ نکلا… “اچھا بس ہو گئ ریڈی… چلو سونا سینڈل پہن لو.. ” عائشہ نے اس کا دوپٹہ سیٹ کیا… سونا اٹھی… جوتا پہنا تو نادیہ اور عائشہ اسے تھام کر باہر کی جانب بڑھ گئیں…
وہ دونوں اسے لان میں لے کر آئ تھیں… لان کی سجاوٹ اور وہاں سبھی گاؤں والوں کو دیکھ کر سونا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں… یہ اتنا انتظام کس لیے کیا گیا تھا بھلا… وہ سمجھنے سے قاصر تھی… اسے اسٹیج پر لے جایا گیا… عبدالہادی نے اس کا ہاتھ تھام کر اسٹیج پر چڑھنے میں مدد دی… سونا نے ان کے چہرے کی جانب دیکھا… ان کا چہرہ چمک رہا تھا خوشی سے… سونا کی نظر سامنے ٹیبل پر پڑی… وہاں بڑا سا کیک پڑا تھا… سونا نے گہری سانس بھری… تو یہ تھا سرپرائز… برتھ ڈے پارٹی… اسے ایویں پریشان کر رکھا تھا… بتا دیتیں تو کیا ہو جاتا… وہ خفگی سے سوچ رہی تھی… تبھی تایا جی اس کے پاس آۓ تھے… محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنے ساتھ لگایا… پھر اسے لیے دادا جی کی جانب بڑھ گۓ… دادا جی نے اس کی پیشانی چومی تھی اور خوش رہنے کی دعا دی…
” آہم آہم…” تایا جی نے کچھ کہنے کے لیے گلا کھنکارا… ” تمام خواتین و حضرات کا بہت بہت شکریہ یہاں آنے کا… اس خوشی کے موقع پر شامل ہونے کا… آج آپ سب کو یہاں بلانے, اکٹھا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج ہماری پیاری سے بیٹی سونا کا جنم دن ہے… اور ہم اس کا جنم دن دھوم دھام سے منانا چاہتے تھے… ” تایا جی نے اس کے کندھے کے گرد بازو پھیلایا…سونا مسکرا دی… ” اس کے علاوہ… اس دن کو مزید یادگار بنانے کے لیے ہم نے ایک اور فیصلہ بھی کیا ہے… بات چیت تو پہلے سے ہو چکی ہے ساری… لیکن آج ہم باقاعدہ طور پر اپنے بیٹے شاہزیب کی منگنی کرنے جا رہے ہیں اپنی بھتیجی سونا کے ساتھ…” عبدالعزیز نے اعلان کیا تھا … سبھی تالیاں بجانے لگے تھے… سونا سن سی ہو گئ… یہ سب کیا سنا تھا اس نے… آج اس کی انگیجمنٹ ہو رہی تھی… اور وہی بے خبر تھی… ہاں ٹھیک ہے کہ اس نے اس رشتے کے لیے رضامندی دے دی تھی لیکن یہ سب اتنا جلدی ہو گا اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا… اف… اسے کسی نے بتانے کی زحمت بھی نہیں کی… سونا نے اذیت سے سوچا…
دل سیکدم خالی سا ہو گیا..
اسے اپنے اندر سناٹے اترتے محسوس ہوۓ…
اسے جھٹکا لگا تھا… بابا نے بھی اسے بتانا گوارا نہیں کیا..اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں ایکدم…. . تو یہ تھا سرپرائز جس کی سب بات کر رہے تھے… وہ اپنی سوچوں میں الجھی تھی… تبھی تایا جی نے کسی کو اس کے برابر لا کھڑا کیا… سونا کی نظریں اس شخص کے ہاتھوں پر پڑیں… پھر اس نے نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا… مقابل بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا…
سونا کے سر پر دھماکہ سا ہوا…
سونا کو لگا جیسے پوری کائنات تھم سی گئ ہو… اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا… کیا وہ کوئ خواب دیکھ رہی تھی… اس نے سر کو جھٹکا… دوبارہ اس کی جانب دیکھا… نہیں یہ خواب نہیں تھا… وہ حقیقت بن کر کھڑا تھا اس کے سامنے… اٹل حقیقت…
وہ نیلی آنکھوں والا شہزادہ… اس سے ہونے جا رہی تھی اس کی انگیجمنٹ…¿¿ اسے پسند کیا تھا اس کے بابا نے اس کے لیے…¿¿ … اف… وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی… ایسا بھی ہوتا ہے کیا… جسے اس کے دل نے بے تحاشہ چاہا تھا… تنہائ میں جسے سوچا تھا بارہا… جسے پانے کی تمنا اس ڈر سے دبا دی کہ وہ اس کی پہنچ سے بہت دور ہے… آج وہی اس کے سامنے کھڑا تھا… ایسے بھی دعاؤں کو قبولیت بخشی جاتی ہے کیا… ایسے معجزے بھی ذندگیوں میں رونما ہوتے ہیں کیا… وہ یک ٹک اسے دیکھے چلی جا رہی تھی… بغیر پلک جھپکے….سانس تھمنے لگی..
بے یقینی سی بے یقینی تھی…
تو کیسا محسوس ہوتا ہے..
اگر تم پا لو اسے…
جو تمہارے لیے ناممکن تھا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *