Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16
تقریبا ایک گھنٹا ان پہاڑی راستوں پر مسلسل ڈرائیو کرنے کے بعد سکندر مطلوبہ جگہ پہنچا… وہ ایک زیر تعمیر عمارت تھی جہاں اسے بلایا گیا تھا…جگہ جگہ سیمنٹ, اینٹیں پڑی تھیں…. کنسٹرکشن شاید کسی وجہ سے روک دی گئ تھی… سکندر نے وہاں چند منٹ رک کر اردگرد نظر دوڑائ… جگہ کا جائزہ لیا… پھر آگے بڑھ گیا… اس بلڈنگ کا گیٹ نہیں تھا… سکندر کی گاڑی باہر ہی کھڑی تھی… گاڑی کی آواز سے شاید وہ لوگ جان چکے تھے کہ سکندر آ چکا ہے… بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی دو لوگوں نے سب سے پہلے اس کی چیکنگ کی تھی کہ کہیں کوئ ہتھیار وغیرہ تو نہیں موجود اس کے پاس… جب کچھ بھی برآمد نہیں ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا… “پیسے کہاں ہیں…¿¿¿” کرخت لہجے میں پوچھا گیا تھا… سکندر کو غصہ بہت آیا تھا اس کے انداز پہ لیکن ضبط کر گیا… “ایک بار پریشے کو میرے حوالے کر دو… پھر دیکھنا کیا حال کرتا ہوں تم سب کا…” دل ہی دل میں انہیں مخاطب کیا تھا… لیکن بولا تو فقط یہ…” پیسے گاڑی میں ہیں… جتنی ڈیمانڈ تھی اتنے ہی لے کر أیا ہوں… لیکن پہلے مجھے پریشے کو دیکھنا ہے.. پھر گاڑی کی چابی ملے گی… ” اس نے قطعیت سے کہا تھا… سامنے کھڑے مرد نے تمسخرانہ نظروں سے اسے دیکھا… پھر اسے اندر کی طرف جانے کا اشارہ کیا… سکندر لب بھینچتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھ گیا… سامنے ایک بڑا سا ہال بنا تھا… ہال کی چھت نہیں تھی… سکندر نے چوکنی نظروں سے اردگرد دیکھا.. وہ رسک لے کر اکیلا آ تو گیا تھا لیکن نہ جانے وہ کتنے لوگ تھے یہاں… اس کی نظریں نے تابی سے اردگرد بھٹک رہی تھیں کہ کہیں پری کو چہرہ نظر آ جاۓ شاید… تبھی ایک مردانہ آواز سنائ دی… ” موسٹ ویلکم… دا رچسٹ بزنس مین… مسٹر سکندر…” تمسخر سے کہا گیا تھا اور پھر زور دار قہقہہ گونجا تھا کسی کا… ساتھ کچھ اور بھی ہنسنے کی آوازیں شامل ہو گئیں…
سکندر آواز کے تعاقب میں آگے بڑھا تو نظر سامنے پڑی… وہ چھ سے سات مرد تھے… توانا,مضبوط جسامت کے مالک… ایک دائرے میں بیٹھے تھے…. درمیان میں آگ جل رہی تھی… لکڑیوں کی آگ سے بلند ہوتے شعلے… اور وہ سب اس آگ پر ہاتھ سینک کر سردی کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے… سکندر مزید آگے أیا تو بولنے والے کا چہرہ واضح ہوا تھا… “سیم…¿¿¿” سکندر کو زوردار جھٹکا لگا تھا…” تو… کیا پریشے کی کڈنیپنگ میں سیم کا ہاتھ تھا…¿¿¿ پریشے کا کزن… او مائ گاڈ…” سکندر ابھی اس جھٹکے سے سنبھل نہیں پایا تھا کہ سیم اٹھ کر اس کے قریب آیا… باقی سب بھی اٹھے تھے اور اس کو گھیرے میں لیا… سیم نے اس کے قریب آ کر غور سے اسکا چہرہ دیکھا….”چچ…چچ…چچ… ایک لڑکی کے پیچھے کیا حکیہ بنا لیا ہے… بالکل مجنوں لگ رہے ہو…” وہ پھر ہنسا تھا…مکروہ ہنسی… سکندر نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں… بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑے اس گھٹیا انسان کو ختم کر دے… “تم لوگوں کے کہنے کے مطابق میں رقم بھی لے آیا ہوں اور بالکل اکیلا اور نہتا آیا ہوں… رقم لو اور پریشے کو میرے حوالے کرو… کہاں ہے پریشے…” سکندر نے ضبط سے کہا تھا… اور ان کے پیچھے نگاہ دوڑائ
لیکن پریشے کہیں نظر نہیں آئ… اس کی بات پر سیم ہنسا تھا… جیسے اس کی حالت سے لطف اندوز ہو رہا ہو…” بہت جلدی ہے اس سے ملنے کی…¿¿¿” طنزیہ پوچھا گیا تھا… “پریشے کہاں ہے…” سکندر نے اپنا سوال دہرایا… “جانتے ہو تمہاری یہ حالت بہت مزہ دے رہی ہے مجھے…” اس نے سکندر کی بات سنی ہی نہ تھی جیسے… “پریشے کہاں ہے….¿¿¿” سکندر کی أواز بلند ہوئ تھی اس بار… “ریلیکس بڈی ریلیکس… حاضر کر دیتے ہیں پریشے کو بھی…. پہلے رقم ہماری حوالے کرو…” اس نے اپنا مطالبہ پیش کیا تھا… “رقم گاڑی میں ہے… لیکن پہلے مجھے پریشے کو دیکھنا ہے… پھر رقم تمہارے حوالے کروں گا…کہاں ہے پریشے…¿¿¿” سکندر نے اٹل لہجے میں کہتے ہوۓ اپنا سوال دہرایا… “اچھا… اور اگر ہم نے اسے ختم کر دیا ہو پھر…¿¿¿” سیم نے مسکراتے ہوۓ اس کی پریشانی,اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھے… اس کی بات پر سکندر آپے سے باہر ہوا تھا… ایک دم سیم کا گریبان پکڑ کر اس کا گلہ دبایا…” میں تمہاری جان لے لوں گا اگر پری کو ذرا سا بھی نقصان پہنچا تو…” سکندر کی آنکھوں میں اس وقت خون اترا تھا… سیم نے اس سے اپنی گردن چھڑانی چاہی تھی لیکن ناکام رہا… سکندر اسے کسی قیمت پر چھوڑنے کو تیار نہ تھا… تبھی پیچھے سے کسی نے وار کیا تھا اس کے سر پر… لوہے کہ کوئ سلاخ سی تھی شاید… سکندر نے ایک دم اپنا سر تھاما… یوں لگا تھا جیسے اس کے سر کو کسی نے چیر کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہو… سلاخ سر کے پچھلے حصے پر لگی تھی… اور سر سے ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں جو ناقابل برداشت تھیں… سکندر مڑا اور اس کی جانب بڑھا جس کے ہاتھ میں سلاخ تھی… اس سے پہلے کہ وہ اس تک پہنچتا پیچھے سے سیم نے اس پر وار کیا تھا….. أگ سے جلتی موٹی سی لکڑی اٹھا کر… وہ لکڑی سکندر کی گردن پر لگی تھی اور اس کی جلد تک کو جھلسا گئ تھی… سکندر نے بے ساختہ گردن پر ہاتھ رکھا… منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں… تبھی سیم نے دوسرا وار اس کے سر پر کیا… سکندر تکلیف سے دہرا ہوتا نیچے گرا… سر چکرا رہا تھا… نظریں دھندلا رہی تھیں… اسے لگا وہ مر رہا ہے…سر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے وہ سجدے کی سی حالت میں بیٹھا تھا…تبھی کوئ نسوانی آواز گونجی… “ہیلو… مسٹر شاہزیب سکندر…” سکندر چونکا…یہ… یہ… پری کی آواز تھی شاید… اس نے سر اٹھانے کی کوشش کی… کنپٹی سے بھی خون نکل رہا تھا… گردن کا زخم بہت تکلیف دے رہا تھا… باوجود کوشش کے وہ سر نہیں اٹھا پایا…. سیم چلتا ہوا اس کے قریب آیا تھا… ایک زوردار ٹھوکر لگائ تھی اسے… وہ بے دم ہوتا زمین پر سیدھا گر گیا… ہوش و حواس آہستہ آہستہ ختم ہو رہے تھے لیکن وہ پری ہو دیکھنا چاہتا تھا… تبھی اپنی پوری ہمت مجتمع کرتا… درد سے کراہتا کھڑا ہوا… دھندلاتی نظروں سے سامنے دیکھا… سامنے وہ کھڑی تھی… اس کی دشمن جان…پریشے جہانگیر… سکندر کی نیلی آنکھوں میں اچھنبا اترا… اس نے سر کو جھٹک کر دوبارہ سامنے دیکھا… اس کی نظر کا دھوکا نہیں تھا یہ… وہ سچ میں اس کے سامنے موجود تھی…بلیک جینز پر بلیک لانگ کوٹ پہنے … اسکارف کو گردن کے گرد لپیٹ رکھا تھا… کھلے بال کندھوں پر بکھرے تھے… ہونٹوں پر ڈارک ریڈ لپ اسٹک… آنکھوں میں کاجل ڈالے… چمکتی نگاہوں سے اسے دیکھتی پریشے…
اسے دیکھ کر کہیں سے بھی دو دن پہلے کی اس ویڈیو کا کوئ نشان نہیں مل رہا تھا… ویڈیو میں تو اس کے چہرے پر ذخم بنے تھے لیکن آج کہیں کوئ خراش تک نہیں تھی… اس کے کسی انداز سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ اسے کڈنیپ کیا گیا تھا… سکندر الجھن بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھے گیا… ساری تکلیف,درد کا احساس کہیں دور جا سویا تھا… یہ سب کیا ہو رہا تھا… اس کی نظروں کے سامنے پری چلتی ہوئ سیم کے ساتھ جا کھڑی ہوئ… “پ… پری….” سکندر کے لبوں سے بمشکل نکلا… جو کچھ سمجھ میں آرہا تھا اس نے اسکی سانسیں تک کھینچ لی تھیں… وہ دعا کر رہا تھا کہ اس سب سے جو اسے سمجھ آ رہا ہے وہ حقیقت نہ ہو.. لیکن کچھ دعائیں قبول ہونے کے لیے نہیں ہوتیں… ” شاہزیب سکندر… ایک مشہور بزنس مین… جس نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا… جس نے کبھی شکست نہیں کھائ… جو کبھی کسی سے ڈرا نہیں… جو بس جیتنا جانتا ہے… آج وہ ایک لڑکی سے ہار گیا… ایک لڑکی سے… پریشے جہانگیر سے… چچ…چچ…چچ…” پریشے نے افسوس بھرے لہجے میں کہا تھا جبکہ چہرے پر مسکراہٹ تھی… أنکھوں میں چمک… بالآخر ان کا پلان کامیاب ٹہرا… سکندر نے کرب سے آنکھوں کو میچا… وہ لڑکی جسے اس نے اپنی ذندگی سے بڑھ کر چاہا تھا وہ اسے دھوکا دے گئ تھی… اس کی محبت… اس کی چاہت ہو رسوا کر گئ تھی… کیسی اذیت تھی جو برداشت کر پانا ناممکن تھی… اس کی آنکھیں کھلی تو نیلی آنکھیں تکلیف کی شدت سے سرخ پڑ چکی تھیں… اسے لگ رہا تھا جیسے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گۓ ہوں… وہ گر گیا تھا… بے بس ہو کر… زندگی نے کس موڑ پر شکست دی تھی اسے… کہاں لا کر پٹخا تھا… پریشے اب مسکراتی ہوئ اس کے سامنے کھڑی اپنا سارا پلان شروع سے بتا رہی تھی اسے… کیسے اسے بیوقوف بنایا تھا اس نازک سے لڑکی نے… جس کا دل شاید پتھر سے زیادہ سخت تھا… جسے اس کی بے پناہ محبت بھی پگھلا نہ سکی تھی… محبت تو دور کی بات… اسے تو ترس بھی نہ أیا تھا سامنے زندہ لاش کی طرح پڑے شخص پر… سکندر کو ان جسمانی زخموں نے نہیں مارا تھا جو اسے یہاں آ کر لگے تھے.. اسے اس نازک سی لڑکی کی بے وفائ سے لگے روح کے ذخم نے مارا تھا… اسے لگا اب وہ کبھی اٹھ نہیں سکے گا… زندہ نہیں رہ سکے گا… سب ختم ہو گیا… سب کچھ…کتنے خواب دیکھے تھے پریشے کو لے کر اس نے … سب خواب چکنا چور ہوۓ تھے آج… اس نیلی آنکھوں والے یونانی دیوتاؤں جیسے شخص کا آج بھروسہ اٹھ گیا تھا… محبت سے… دنیا میں بنے ہر رشتے سے…
تبھی سیم چلتا ہوا اس کے سامنے آن رکا… سکندر کی نظریں اس کے جوتوں کے طرف اٹھی تھیں… “چابی دو…” پاؤں سے اس کی گردن کو دبایا تھا اس نے.. جہاں سے جلد جل گئ تھیں وہاں سے… سکندر چینخا تھا….. لیکن اس نے پیر نہیں ہٹایا… تبھی اس کی نظر سکندر کے وجود کے ساتھ گری چابی پر پڑی… آگے بڑھ کر چابی اٹھائ… اور اپنے ایک ساتھی کو دی…”جاؤ… گاڑی سے پیسے لے کر آؤ… ” حکم دیا تھا .. پھر ایک کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر شاہانہ انداز میں بیٹھا اور سگریٹ سلگائ… پریشے بھی اس کے ساتھ رکھی بیٹھی کرسی پر بیٹھ گئ… سیم نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر آۓ بال پیچھے کیے… “ویل ڈن بے بی… ویل ڈن…بالآخر ہمارا پلان کامیاب ہوا… ڈھیر سارا پیسہ ملے گا… عیش ہوں گے ہمارے…” دونوں نے قہقہہ لگایا تھا… سکندر نے اذیت سے یہ منظر دیکھا… آنکھیں سختی سے میچ کیں… مر جانے کو دل چاہا تھا اس کا اس پل…
تبھی دو آدمی پیسوں کے بیگ لیے داخل ہوۓ… سبھی پیسوں کی جانب متوجہ ہو گۓ… بیگ کھلا تھا اور ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئ تھیں… اتنے پیسے ایک ساتھ پہلی بار دیکھے تھے… سب چمکتی آنکھوں سے پیسوں سے بھرے بیگز کو دیکھ رہے تھے…تبھی ایک شخص اس کی جانب متوجہ ہوا… ” سیم… اس کا کیا کرنا ہے اب…¿¿¿” سیم نے اس کی بات پر مڑ کر سکندر کی طرف دیکھا… مسکراہٹ لبوں پر آن رکی تھی… وہ پھر سے چلتا ہوا اس تک آیا… سگریٹ کا ایک کش لیا اور اسے سکندر کے منہ کے سامنے پھینک کر پیر سے کچلا… “اس کا بھی کرتے ہیں اب دی اینڈ… اندر جو بوتل پڑی ہے وہ لے کر آؤ… ” اس کے کہنے پر ایک شخص اندر کی جانب بڑھ گیا… جبکہ تین لوگوں کو سیم نے اشارہ کیا تو وہ سکنندر کو اٹھا کر باہر کی جانب بڑھے… باقی بھی ان کے پیچھے پیچھے باہر آۓ… سکندر کو اس کی گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا… وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا… اتنے میں وہ شخص بوتل کے کر حاضر ہوا… کوئ مائع شے تھی اس میں…. شراب کی بوتل تھی… نہ جانے وہ لوگ کیا کرنے والے تھے اس کے ساتھ… سیم نے وہ بوتل زبردستی سکندر کے منہ سے کگائ اور شراب اس کے منہ میں انڈیلنے لگا… سکندر نے ہاتھ سے بوتل کو پرے دھکیلنا چاہا… لیکن سیم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا… سکندر کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا… وہ ہوش و حواس سے نے گانہ ہو رہا تھا… سکندر کی آخری نظر دور کھڑی پریشے پر پڑی تھی…. اور اس کی اس آخری نگاہ میں کیا نہیں تھا… شکوہ… شکایت… اذیت… کرن… مان ٹوٹنے کا دکھ… پری کا دل ایک لمحے کو کانپا تھا… سکندر ہوش و خرد سے بیگانہ ہو چکا تھا… سیم نے شراب کی بوتل کو دیکھا… تھوڑی سے شراب رہتی تھی اس میں… سیم نے اسے دور پھینکا… ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ بند کیا… ونڈو سے گاڑی کو اسٹارٹ کر کے خود پیچھے ہٹ گیا… گاڑی دھیمی رفتار سے چلتی جا رہی تھی… پریشے سیم سے کچھ کہنے کو اس کے قریب آ رہی تھی لیکن تب تک گاڑی ان سے کافی آگے جا چکی تھی… اور پھر گاڑی آگے موڑ پر جا کر گہری کھائ میں جا گری… ایک معصوم, بے گناہ شخص کے قتل کے مرتکب ہوۓ تھے وہ سب… “کل ہر نیوز چینل پر یہ خبر چل رہی ہو گی… کہ مشہورومعروف انڈسٹریالٹ مسٹر شاہزیب سکندر نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے ہوۓ گہری کھائ میں گرنے سے جاں بحق…” سیم نے کسی نیوز کاسٹر کی طرح کہتے ہوۓ پری کی جانب دیکھا… جس کے چہرے کا رنگ سفید ہو رہا تھا… اس نے سیم کا ساتھ ضروت دیا تھا… لیکن وہ اسے یوں بے موت مارنا نہیں چاہتی تھی… ” ہے…بے بی… آر یو اوکے…¿¿¿ لیٹس گو… پیسے بانٹتے ہیں آپس میں…” سیم نے بشاشت سے کہتے ہوۓ پریشے کا ہاتھ پکڑا اور وہ اس کے ساتھ گھسٹتی چلی گئ..
_______
” دور کہیں وہی پہلے والی آواز ایک بار پھر سے گونجی تھی…
“پہلی نظر کی سلامتی.. کیسے دے گا وہ.. “
سونا نے نفرت کے پھولوں کے سنگ دی جانے وٹلی اس سلامتی کو ششدر آنکھوں سے دیکھا.. کہ یہ پھول… وہ پہچانتی تھی ان پھولوں کو.. سونا نے سٹمنے بیٹھے شخص کی خوبصورت نیلی آنکھوں میں بے تحاشا نفرت دیکھی.. وہ کاٹ دار آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا .. اور اس نے کانپتے ہاتھوں سے پھولوں پر رکھا کارڈ اٹھایا… “پیلے کے پھول.. کہ تم کبھی نہ بھول سکو.. مجھے تم سے نفرت ہے.. بے تحاشا نفرت… “
سونا کا ہاتھ بے جان ہوا اور کارڈ اس کے ہاتھ سے گر گیا… وہ بے یقینی سے سامنے بیٹھے انسان کو دیکھ رہی تھی…
وہ اس کے قریب ہوا.. اور قریب… بالکل قریب… اس کے کان کے پاس سرگوشی میں.. سانپ کی سی پھنکار میں بولا..
“اس دنیا میں موت کے ساتھ ساتھ جتنی بھی تکالیف ہیں وہ تمہیں میں دوں گا… میں… “
سونا برف سی ہو گئ.. یہ آواز.. یہ الفاظ.. وہ پہلے بھی سن چکی تھی..یہ پھنکار نما سرگوشی وہ سن چکی تھی.. اس کے ذہن میں باغ کا وہ ادن اور وہ حادثہ ایک لمحے میں گھوم گیا..
“پتا ہے کیوں ؟ ” وہ اس کے کان پر جھکا ہوا بولتا گیا… ” کیونکہ مجھے تمہاری یہ شکل.. یہ صورت.. اس سے نفرت ہے.. شدید نفرت…
سونا کی آنکھیں خوف سے پھیلیں تھیں …
دور کہیں اسے سارہ کی آواز سنائ دی تھی…
“پہلی تعریف.. وہ کیا کہے گا سونا تمہارے کان کے قریب سرگوشی میں.. مجھے تمہاری اس من موہنی صورت سے عشق ہے… “
ایسا کیوں نہ ہوا تھا جیسا اس نے سوچا تھا..؟ ایسا کیوں ہوا تھا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا… ؟
اور سکندر
اس کے سینے میں آگ بھڑک رہی تھی… اس نے مٹھیاں بھینچیں تھیں… ضبط کرتا ہوا وہ پیچھے ہٹا اور اس پر دوسری نظر ڈالے بغیر واشروم میں گھس گیا… بار بار منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر اپنے اندر جلتی اس آگ کو کم کرنا چاہا… جس کی تپش اسے جھلسا رہی تھی… بار بار پرانے مناظر نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے… آئینے میں دیکھا… نظر گردن کے ذخم پر پڑی تھی… جلی ہوئ جلد پر نشان بن گیا تھا جو اب شاید ساری ذندگی نہ مٹتا… بالکل اس کے دل کی طرح جو آبلہ پا تھا… گردن کے ذخم کو دیکھتے ہوۓ وہ طیش میں آیا تھا… تیزی سے واشروم سے باہر آیا اور بیڈ کی جانب بڑھا… سونا جو الجھی سی بیٹھی تھی اس کا بازو پکڑ کر اسے گھسیٹا… وہ کسی بے جان گڑیا کی طرح کھنچتی چلی آئ… اس سب کے لیے وہ تیار نہیں تھی تبھی جب شاہ نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا تو وہ لڑکھڑاتی ہوئ صوفہ پر گری تھی… اس اچانک افتاد پر وہ بوکھلا گئ… سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے… سسک کر اپنی کلائ کی طرف دیکھا… شاہ کی سخت گرفت کے باعث اس کی کلائ اس جگہ سے سرخ ہو چکی تھی… آنکھوں میں أنسو أۓ تھے… جھومر بھی بے ترتیب سا بالوں میں الجھا… حیرت اور شکوہ بھری نگاہیں اٹھا کر شاہ کی طرف دیکھا جو خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا…
پری اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ٹھٹھر کر رہ گئ… وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ شاہ کا رویہ ایسا کیوں ہے… “اٹھو…” حکم دیا گیا تھا… وہ ابھی بھی الجھی سی اس کی طرف دیکھے جا رہی تھی… “سنا نہیں تم نے اٹھو…” وہ دھاڑا تھا… سونا ایک دم ڈر کر اٹھ کھڑی ہوئ…
شاہ نے اس کی ٹھوڑی کو دبوچا تھا… انگوٹھے اور انگلیوں کے درمیان… وہ سسک اٹھی تھی اس کے اس وحشیانہ پن پہ… “ایسے کیا دیکھ رہی ہو … ہاں… ایسے میرے انتظار میں بیٹھی تھی جیسے میں تم سے محبت کرتا ہوں اب بھی… اس بھول میں مت رہنا تم… وہ سکندر کب کا مر چکا ہے جو تم سے محبت کرتا تھا… جس نے کبھی تمہیں اپنی ہمسفر بنانے کے خواب دیکھے تھے… اب جو تمہارے سامنے کھڑا ہے نا… وہ شاہزیب ہے… شاہ ہے وہ… جس کے دل میں تمھارے لیے نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں.. جس کی نس نس میں نفرت کا ذہر بھرا ہے… اور یہ زہر تمہارا ہی بھرا گیا ہے… مسز شاہزیب سکندر… اب اس زہر کو میں تمہارے پور پور میں اتاروں گا… ہر روز جلو گی تم میری اس نفرت کی آگ میں… لیکن چھٹکارا نہیں ملے کا تمہیں… میں شاہزیب سکندر بہت مخلص تھا تمہارے ساتھ… لیکن تم نے… تم نے میرے خلوص کو ٹھکرایا… اب ہر دم تڑپو گی تم … لیکن اب کی بار میں بے حس بن جاؤں گا.. جیسے تم بن گئ تھیں… . پھر تمہیں معلوم ہو گا کہ درد کیا ہوتا ہے… اذیت کیا ہوتی ہے… کرب کسے کہتے ہیں…” اس نے کہتے ہوۓ جھٹکا دیا تھا سونا کو… وہ لڑکھڑائ لیکن پتھر ہوئ آنکھوں سے اسے تکتی رہی… ٹھوڑی کی تکلیف کا احساس بھی ختم ہو گیا تھا… لیکن سامنے کھڑے اس دشمن جاں کے الفاظ سانپ کے ذہر سے بھی زیادہ زہریلے تھے… وہ کچھ سمجھ نہ پا رہی تھی… اس کا کہا گیا ایک لفظ نہ سمجھ پآئ تھی… اگر کچھ سمجھی تھی تو صرف اس کی لہجے میں موجود نفرت..بے تحاشا نفرت … جو اس منجمند کر گئ تھی…
“دفع ہو جاؤ یہاں سے.. ” شاہ نے اسے بازو سے کھینچ کر کمرے کا دروازہ کھول کر باہر لا کھڑا کیا… وہ بکھری سی حالت میں مجسمہ بنی اسے دیکھتی رہ گئ…
وہ کمرے میں جا کر کچھ لمحے کھڑا رہا.. پھر پلٹا.. لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے پاس آیا…
سونا کی سانسیں تھم سی گئیں…
نیم اندھیری راہداری سنسان تھی…
“سنو.. کیا تم پہلی نظر کا تحفہ نہیں لینا چاہو گی ؟”
اس کے چہرے پر کچھ عجیب سا احساس تھا… سونا سہم کر دو قدم پیچھے ہوئ
•••••
شاہ نے اس کا بازو پکڑا.. اسے کمرے میں لایا.. اور دروازہ بند کر دیا..
“پہلی رات کا تحفہ.. سب کو ملتا ہی ہے… تم نہیں لو گی لیا.. پہلی نظر.. رونمائ کا تحفہ ؟”
وہ وحشت سے بول رہا تھا.. وہ اسے آئینے کے سامنے لایا.. اس کا چہرہ اپنی طرف کیے.. آئینے میں اس کی پشت کو دیکھا… وہ آنکھوں میں بے تحاشا خوف لیے کسمساتی ہوئ اپنا ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی..
شاہ نے آئینے میں نظر اتے سونا کی پشت کے عکس کو دیکھا.. اور کھینچ کر دوپٹا اس کے سر سے اتار دیا.. بال کھنچےاور بکھرتے چلے گیۓ .. وہ چیخی..
شوہ اس کے کندھے پر جھکا, بائیں ہاتھ سے اس کے بال گردن کی پشت سے ہٹاۓ اور دائیں ہاتھ میں سلگتی سگریٹ کا شعلہ اس کی سفید دودھیا گردن پر رکھ دیا.. سونا کی دردناک چیخ ابھری.. لیکن.. وہ جنونی انداز میں اسے جلاتا چلا گیا..
ذہن میں پرانا منظر چلا رہا تھا.. گرم سلگتی لکڑی سے اس کی گردن پر وار کیا گیا تھا…. وہ زخم اتنے سالوں بعد آج بھی جلتا تھا ..تککیف دیتا تھا.
اس مے شدت درد سے تڑپتی سونا کو جھٹکے سے چھوڑا..
وہ درد اور جلن سے بے حال نیم بے ہوش سی کارپٹ پر گر گئ.. آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا رہا تھا..
اس نے ڈبڈبائ آنکھوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا…
“وہ پہلی رات کا تحفہ.. سونا.. کیا وہ پھولوں کی سی نرمی سے تمہاری ہاتھ تھام کر چوڑی کنگن سے سجاۓ گا.. یا اس ہنس راج سی خوبصورت گردن کے گرد کوئ ہیروں جڑا یار سجاۓ گا… “
سونا نے اپنی سہیلی کی آواز دور سے سنی اور تڑپ تڑپ کر.. سسک سسک کر رو دی…
“آؤ دیکھو.. اس نے مجھے سب کچھ دیا.. نفرت کے پھولوں سے سلامتی.. وہ میری صورت دے نفرت کر کے پہلی تعریف کی… میری گردن اور کلائیوں کو دیکھو تو کیسا زیور دیا.. زخموں کا زیور.. دیکھو اس نے سینے سے لگا کر کیسے اپنی نفرتوں کا دل کھول کر اظہار کیا… میری خواہشوں کے جگنووں کو جلا کر رکھ دیا.. دیکھو میرے ساتھ کیا ہو… “
اس نے سامنے بیڈ پر دراز نیلی آنکھوں والے شہزادے کو دیکھا.. جو رخ موڑے سو چکا تھا..
اور
وہ تڑپتی رہی.. روتی رہی… سسکتی رہی.. رات گزرتی رہی… گردن اور کلائ کی جلن بڑھتی گئ … کچھ جل رہا تھا وہاں…
اور کچھ جل رہا تھا اس کے اندر بھی.. اس کے دل میں.. جلن بڑھتی گئ…
•••••••
اور..
اے آدم کے بیٹے..!
کیوں مسل کر رکھ دیتا ہے تو..
حوا کی بیٹی کو…
اس کے ارمانوں کو…
شادی کی اس خوابوں والی رات..
کبھی رشتے نبھانے کا لیکچر سنا کر..
کبھی پرانی زندگی کا احتساب کر کے..
کبھی اس کے ماضی پر سوال اٹھا کر..
کبھی خود کی پرانی کھو چکی محبت کے سوگ میں…
تو اس نازک لڑکی…
و آئ تھی ہزاروں خواہشیں لیے..
ہر رشتے کو چھوڑ کر..
اک تیری آس پر..
کا پیارا سا دل کیوں توڑ دیتا ہے..
کیوں اے آدم کے بیٹے.. ؟
کیوں..
