Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07

331K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07

پچھلے دو مهینوں میں سونا کے هاں اس کے تایا جی تین بار آ چکے تھے… دو بار تو اکیلے تھے… ایک بار ایک نوجوان کے ساتھ آۓ جو ان کا بیٹا تھا… اس کے ساتھ ساتھ ان کے هاں سے درجنوں فون بھی آ چکے تھے جن میں مسلسل اصرار کیا جا رها تھا که سونا اور عبدالهادی حویلی چکر لگائیں… سونا الجھ کر ره گئ… کهاں تو وه لوگ هماری شکل دیکھنے کے روادار نه تھے… اور اب اتنی اپنائیت دکھائ جا رهی تھی… ایسا کیا هوا که ان کے ذهن بدل گۓ… عبدالهادی چونکه آجکل بھت مصروف تھے اس لیے چاه کر بھی وقت نکال نهیں پا رهے تھے …آج پھر عبدالعزیز اور ان کے والد صاحب کا فون آیا تھا… شکوے شکایات سے بھر پور… حویلی نه آنے کےگلے …. اور سونا کے دادا جی تو رو هی پڑے تھے فون پر… تڑپ رهے تھے اپنے لخت جگر سے ملنے کو… اس لیے عبدالهادی نے آج شام هی حویلی کیلیے روانه هونےکا اراده کیا… سونا کا آخری سمسٹر تھا…اور ایگزام میں ایک ماه ره گیا تھا…اس لیے وه نهیں جا رهی تھی ساتھ…اس نے بابا سے کهه دیا تھا که اس سمسٹر کے ایگزامز ختم هونے کے بعد وه سکون سے, ٹینشن فری هو کر جاۓ گی ان کے ساتھ حویلی… ابھی اسے صرف اور صرف اسٹڈیز اور پیپرز پر هی توجه دینی هے… عبدالهادی اسے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتے گھر سے روانه هو گۓ… ان کے انداز میں جو خوشی اور جوش تھا… اپنوں سے ملنے کا… سونا اسے محسوس کیے بنا نه ره سکی اور مسکرا دی…
——–
سکندر اس وقت اپنے عالیشان آفس میں بیٹھا تھا… سامنے اس کا سیکرٹری بیٹھا تھا جسے سکندر کچھ هدایات دے رها تھا… تبھی فون کی گھنٹی سنائ دی… سکندر نے فائل دیکھتے هوۓ ایک هاتھ سے فون ریسیو کیا… نظریں اور توجه فائل پر هی مرکوز تھیں… دوسری جانب ریسیپشنسٹ کی آواز سنائ دی… “سر… کسی پریشے نام کی لڑکی کا فون هے… آپ سے بات کرنا چاهتی هیں… کهه رهی هیں که ضروری کام هے آپ سے… ” سکندر نے پین پکڑا اور فائل پر کچھ انڈر لائن کرتے هوۓ اس کی بات سنی… “کون پریشے…¿¿¿ اور مجھ سے کیا کام هو سکتا هے انهیں…” وه بڑبڑایا تھا تبھی ریسیپشنسٹ بولی… ” آئ ڈونٹ نو سر… کیا کهوں انهیں… آپ کال لیں گے یا منع کر دوں…¿¿¿” سکندر نے کچھ لمحے سوچا… “اوکے… کال ملائیے…” وه مصروف سا بولا … دوسری طرف سے کال ملا دی گئ… چند لمحوں کے توقف سے فون پر ایک خوبصورت نسوانی آواز ابھری… “”
“هیلو…” “هیلو… سکندر اسپیکنگ…” سکندر نے پین سے فائل پر کچھ اهم پوائنٹس پر نشان لگاۓ… “سر… میں پریشے بات کر رهی هوں…” لڑکی تھوڑی نروس هوئ تھی… “آئ نو… بٹ کون پریشے… آئ مین… میں آپ کو نهیں جانتا… اینڈ مجھ سے کیا کام هے آپ کو…” اب کی بار سکندر کے لهجے میں اکتاهٹ اور بے زاری نمایاں تھی… دوسرے طرف چند لمحوں کیلیے بالکل خوشی چھا گئ… “هیلو مس… آر یو ہیر…¿¿¿” سکندر کو گماں هوا شاید لائن کٹ گئ هے… “ایکچوئلی…. میں وهی لڑکی بات کر رهی هوں جس کا آپ کی گاڑی سے ایکسیڈنٹ هوا تھا اور آپ مجھے هاسپٹل لے کر گۓ تھے…اس کے بعد بھی آپ سے دو تین بار ملاقات هوئ تھی… آپ نے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن میں نے ڈپٹ دیا تھا آپ کو…” پریشے نے لب کاٹتے هوۓ وضاحت دی… “میری گاڑی سے ایکسیڈنٹ… هاسپٹل…” سکندر الجھا تھا… اور پھر ایک دم اسکے ذهن میں وه منظر روشن هوا… اسے خفیف سا جھٹکا لگا… وه تو امید هی چھوڑ بیٹھا تھا که یه لڑکی اس سے رابطه کرےگی… “او مائ گاڈ… آپ… پ.. پریشے بات کر رهی هیں… آئم… آئم سو سوری… میں آپ کو پهچان نهیں پایا … ایکچوئلی مجھے آپ کا نام معلوم نهیں تھا…” سامنے بیٹھے سیکرٹری نے حیرت سے سکندر کو دیکھا… ابھی کچھ دیر پهلے سکندر کا لهجه اکتاهٹ سے بھر پور تھا… وه فن بند کرنا چاه رها تھا اور اب ایکدم سے اس کے لهجے میں دنیا جهان کی خوشی, جوش , بے یقینی سمٹ آئ تھی… تبھی اسکی نگاه سیکرٹری پر پڑی… “ایکسکیوزمی… ویٹ آ منٹ پلیز…” فون پر کها اور پھر سیکرٹری کی جانب متوجه هوا… “حماد… ابھی یه فائل پر میں نے اهم پوائنٹس پر نشان لگا دئیے هیں… انهیں پڑھ لیجیے… باقی انسٹرکشنز میں کچھ دیر بعد دیتا هوں… اوکے… ” “شیور سر…” حماد نے فائل اٹھائ اور دروازه کھول کر باهرچلا گیا..
“یس…” سکندر نے پھر سے فون کان کو لگایا… دوسری طرف خاموشی چھائ رهی… سکندر نے ریسیور هٹا کر ایک نظر دیکھا اور پھر سے کان سے لگایا… “سر… میں آپ سے ملنا چاهتی هوں…” دوسری طرف سے مدعا بیان کیا گیا… سکندر ایک بار پھر حیرت کے سمندر میں ڈوبا…کهاں تو وه لڑکی اس کی شکل تک دیکھنا نهیں چاهتی تھی… اور کهاں اب اچانک سے ملنے کی فرمائش… اس کی خاموشی سے جانے پریشے نے کیا مطلب اخذ کیا تھا تبھی لجاجت سے کهنے لگی… “سر… میں نے آپ سے جو بھی رویه اختیار کیا اس کے لیے بھت معذرت… هو سکے تو معاف کر دیجیے گا… اور مجھے آپ سے ضروری بات کرنی هے… فون پر نهیں کهه سکتی… اگر آپ کے پاس تھوڑی سی فرصت هو تو پلیز مجھ سے مل.لیجیے گا…” لهجه درخواست گزار تھا… “ارے نهیں نهیں… معذرت کی کوئ ضرورت نهیں…آپ نے جو بھی کها اس کے لیے حق بجانب تھیں… اینڈ رهی بات فرصت کی… تو آپ کیلیے میرے پاس فرصت هی فرصت هے… بتائیے … کب اور کهاں ملنا پسند کریں گی…” سکندر کے لهجے میں بشاشت اور سرشاری تھی…پریشے نے وقت اور جگه کا نام بتا کر فون بند کر دیا تو وه مسکراتے هوۓ اس کے بارے میں
سوچنے لگا…
——–
عبدالهادی اس وقت لاؤنج میں صوفه پر بیٹھے ایک فائل پر کچھ کام کر رهے تھے جب سونا پیچھے سے آئ اور ان کے گلے میں بانهیں ڈال کر ان کے کندھے پر سر رکھا… “کیا هو رها هے ڈئیر بابا جانی…” عبدالهادی ایک.لمحے کو چونکے تھے پھر مسکرا کر ایک هاتھ سے سونا کے بالوں کو پیار سے چھوا… “کچھ خاص نهیں… بس آفس کا تھوڑا سا کام تھا وهی کر رها هوں… ” سونا بھی مسکراتی هوئ ان کے ساتھ هی آ بیٹھی… “آهم آهم… جب سے حویلی سے چکر لگا کر آۓ هیں…بھت خوش رهنے لگے هیں آپ بابا… ایسا کیا ملا اس حویلی میں… مجھے بھی تو بتائیں… آپ تو پهلے سے بھی زیاده هینڈسم لگنے لگے هیں…” سونا کے انداز میں شرارت کے ساتھ ساتھ تجسس بھی تھا… اسکی بات پر عبدالهادی هنس دئیے… “اپنوں سے مل کر کون خوش نهیں هوتا میری جان… جیسے تم اپنے بابا سے مل کر, باتیں کر کے خوش هوتی هو… جیسے مجھ سے پیار کرتی هو…بالکل ایسے هی میں بھی اپنے بابا سے محبت کرتا هوں… تو ان سے ملنے کی هی خوشی هے یه… اور رهی بات هینڈسم هونے کی… تو وه تو میں پهلے سے هی هوں… بس تمهیں آج نظر آیا شاید… ” عبدالهادی بھی بات کرتے کرتے آخر میں شرارت پر آماده هوۓ …سونا کھلکھلا دی… تبھی عبدالهادی پھر سے مخاطب هوۓ… “سونا بشیراں سے کهه دو که آج کھانا نه بناۓ…آج ڈنر هم باهر کرنے جائیں گے…اور تم جلدی سے تیار هو جاؤ… کافی عرصه هو گیا میں اپنی گڑیا کو کهیں باهر لے کر نهیں گیا…” انهوں نے سونا کی طرف دیکھا… “اچھا… اور اگر میں جانے سے انکار کر دوں تو… ¿¿¿” سونا نے شرارتی انداز میں ابرو اچکاۓ… “ایز یو وش مائ بے بی…” عبدالهادی فائل پر جھک گۓ جبکه لبوں پر خفیف سی مسکراهٹ تھی… “نهیں نهیں بابا… میں مذاق کر رهی تھی… بھلا ایسا کبھی هو سکتا هے که مجھے آپ کے ساتھ کهیں جانے کا موقع ملے اور میں انکار کر دوں…” سونا جلدی سے بولی مبادا جانے کا پروگرام واقعی کینسل نه هو جاۓ… عبدالهادی نے سر اٹھایا اور محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا… “آئ نو بیٹا جی… تم همیشه ویٹ کرتی رهتی هو که میں تمهیں باهر لے کر جاؤں… دونوں ڈھیر سارا وقت ایک دوسرے کے ساتھ بتائیں… اور آجکل مصروفیت کی وجه سے میں تمهیں پراپر ٹائم نهیں دے پا رها… آفس میں کام بڑھ گیا هے آجکل…. ” انهوں نے فائل پرے کھسکا دی …. ” جانتی هوں بابا… اور مجھے آپ سے کوئ شکایت نهیں هے… بس اپنی ڈھیر ساری مصروفیات میں یه یاد رکھیے گا که آپ کی ایک پیاری سی بیٹی بھی هے… سونا… جو آپ سے بے حد پیار کرتی هے…” سونا نے لگاوٹ سے ان کے کندھے پر سر رکھا تو عبدالهادی نے اس کے ماتھے پر بوسه دیا… پھر اپنا ایک بازو اس کے کندھوں کے گرد پھیلایا… “اپنے اس بے حد پیار میں سے تھوڑا سا حصه کسی اور کے لیے بھی رکھ لو…. سارا پیار مجھے هی دے دو گی کیا…¿¿¿” وه شرارت سے گویا هوۓ …. سونا سیدھی هو کر بیٹھی اور تیکھی نظروں سے ان کی طرف دیکھا…. “کسی اور کیلیے کس کیلیے…¿¿¿” عبدالهادی مسکراۓ “ارے وهی… جو تم سے شادی کر کے… تمهارے بابا سے چرا کے تمهیں دور لے جاۓ گا… تمهارے خوابوں کا شهزاده…”
ان کی بات پر سونا گڑبڑائ تھی ایک پل کو…آج سے پهلے کبھی عبدالهادی نے اسطرح کی بات تو نهیں کی تھی… پھر وه ان کیطرف سے تھوڑا سا رخ موڑ کر بیٹھ گئ… یه خفگی کا اظهار تھا… “کوئ نهیں هے میرے خوابوں کا شهزاده… اور کهیں نهیں جا رهی میں… آپ سے دور تو بالکل بھی نهیں… نه هی مجھے شادی کرنی هے…مجھے همیشه اپنے بابا کے ساتھ رهنا هے…آپ کے پاس… آپ میرے لیے کافی هیں اور میں آپ کیلیے… کسی تیسرے کی هماری لائف میں کوئ گنجائش نهیں…” وه نروٹھے پن سے بولی تھی… بابا کی بات سے دل کو دھچکا سا لگا تھا… آنکھوں میں پانی جمع هونے لگا… “میری گڑیا…کوئ کتنا بھی کیوں نه چاهے…بیٹیوں کو وداع تو کرنا هی پڑتا هے…ایک نه ایک دن تو بیٹی کو شادی کر کے جانا هی هوتا هے اپنے اصل گھر… ” عبدالهادی کے لهجے میں بھی اداسی گھل گئ تھی… “لیکن بابا…” سونا که آواز بھرائ تھی… “لیکن ویکن کچھ نهیں… اس ٹاپک کو ابھی رهنے دو… تم جانتی هو نه مجھے اپنی گڑیا کی آنکھوں میں آنسو بالکل گوارا نهیں… چلو اٹھو شاباش… تیاری کرو… ابھی هم جا رهے هیں باهر ڈنر کیلیے… اٹھو اٹھو…” انهوں نے سونا کے آنسو صاف کرتے هوۓ هاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا… تو وه اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ..
Episode 7
وه پانچوں لائیبریری کی جانب جا رهی تھیں… جب سونا کو عجیب سا احساس هوا تھا… وه اردگرد دیکھنے لگی … آنکھوں میں الجھن تھی… پھر وه مڑی … ان سے کچھ فاصلے پر بلیک کار رکی تھی…لیکن کار سے اترا کوئ بھی نهیں تھا… فاصله هونے کی وجه سے ڈرائیونگ سیٹ پر موجود شخص کا چهره بھی نظر نهیں آ رها تھا…وه الجھی اور بے چین نگاهوں سے گاڑی کی جانب دیکھے گئ… اسے پچھلے کچھ هفتوں سے جانے کیوں یه محسوس هو رها تھا که کوئ اسے مسلسل فالو کر رها هے… جھاں بھی جاتی یهی احساس هوتا که کوئ اسے اپنی نگاهوں کی زد میں رکھے هوۓ هے… یونیورسٹی آتے جاتے… لائیبریری جاتے وقت… یهاں تک که شاپنگ کیلیے گئ تب بھی چھٹی حس بار بار اسے خبردار کرتی رهی… اور جب وه پریشان سی هو کر اردگرد دیکھتی تو کوئ نه هوتا… لیکن کچھ دنوں سے سونا نے نوٹس کیا تھا که جب بھی اسے ایسا محسوس هوتا… یه گاڑی ضرور کهیں آس پاس هوتی… تو کیا اس گاڑی میں موجود کوئ شخص اس کا پیچھا کر رها تھا…¿¿ مگر کیوں …¿¿¿ اس کے ذهن میں کشمکش سی جاری تھی…
اس کے رکنے پر اسکی فرینڈز بھی رک گئیں… اور اس کی جانب متوجه هوئیں… ساره نے جب اسے گاڑی پر نظریں جماۓ دیکھا تو اس کے قریب آئ… “کیا هوا سونا… ایسے اچانک رک کیوں گئی…¿¿¿” اس کے کندھے پر هاتھ رکھ کر اس کے پریشان سے چهرے کو دیکھا… “هاں… ” وه چونکی تھی …ایک نظر ساره کو دیکھا اور پھر گاڑی کو… گهری سانس بھری… “نهیں… کچھ نهیں…” وه پھر سے لائیبریری کی جانب چلنے لگی…”تو ایسے الجھی هوئ سی کیوں هو…¿¿¿” عائزه نے حیرت سے پوچھا… باقی بھی اسکے ساتھ چلنے لگیں… “کچھ نهیں یار… ایسے هی… بابا نهیں هیں نا یهاں… بس انهیں مس کر رهی هوں…” وه اداسی سے بولی تھی… وی واقعی هی اداس کو گئ تھی ان کے بغیر… “ارے یار … فکر کیوں کرتی هو … هم هیں نه تمهاری اداسی دور کرنے کو…” منزه نے کها… سونا هلکا سا مسکرا دی… ذهن ابھی بھی گاڑی میں هی الجھا تھا..
••••••
اس وقت وه پانچوں گراؤنڈ میں موجود تھیں…فری پیریڈ تھا… سامنے بکس کھلی تھیں… کهنے کو وه پڑھ رهی تھیں… لیکن درحقیقت صرف باتیں هی هو رهی تھیں… اور اجک دوسرے کو چھیڑ رهی تھیں… سونا اس وقت ساره کے لیب ٹاپ پر اسائنمنٹ کا کچھ کام کر رهی تھی… ساتھ ساتھ ان سے باتیں بھی کر رهی تھی… کافی فاصلے پر یونی کا گیٹ تھا اور گیٹ سے اندر جی طرف جاتی روش… سونا کی پشت تھی روش کی جانب…
“سونا… کب جا رهی هو حویلی…¿¿¿” ماریه نے سونا کو مخاطب کیا… “ایگزامز کے بعد … مے بی…” نظریں بدستور لیب ٹاپ پر تھیں… “ویسے حیرت هے… تمهارے دادا اور تایا جی کو اچانک تم لوگوں کی یاد کیسے آ گئ…¿¿¿” منزه نے منه میں چپس رکھتے هوۓ سوال کیا… “آئ ڈونٹ نو… که ایسی کیا بات هوئ… جو اتنے عرصے بعد انهیں یاد آیا که ان کا ایک اور بیٹا اور پوتی بھی هیں اس دنیا میں…” سونا کا لهجه بے تاثر تھا… “چلو شکر … دیر آید درست آید…” عائزه نے بات ختم کی… پھر وه کسی اور بات میں مگن هو گئیں… سونا انهماک سے کام میں لگی تھی … تبھی اس کی نظر اسکرین پر ٹھر سی گئ… ٹچ پیڈ پر انگلیاں بھی جیسے جم گئ تھیں…… آنکھوں میں اچھنبا اور بے یقینی ابھری… اسکرین پر پیچھے موجود روش کا عکس ابھر رها تھا… اس میں وهی بلیک کار اندر داخل هوتی نظر آ رهی تھی… سونا تیزی سے مڑی اور روش کی جانب دیکھا… اس کی نظر کا دھوکه نهیں تھا یه… وہ کار واقعی وهاں موجود تھی…اور آگے بڑھ رهی تھی… وه پھر سے اسکرین کو دیکھنے لگی… سر چکرایا تھا… “یه کون هے آخر… اف…یهاں بھی پهنچ گیا…” وه بڑبڑائ تھی… یه سب کیا هو رها تھا اس کے ساتھ… وه سمجھنے سے قاصر تھی… باقی چاروں فرینڈز جو ایک دوسرے کے ساتھ مگن تھیں… اسکے بڑبڑانے پر اسکی جانب متوجه هوئیں… “کیا کهه رهی هو سونا…¿¿¿” عائزه نے پوچھا… سونا نے خالی خالی نگاهوں سے اسکی طرف دیکھا… اس کا چهره سفید پڑ رها تھا… کوئ خوف سا تھا اس کے چهرے پر…وه چاروں سوالیه نگاهوں سے اسے تک رهی تھیں… سونا نے اپنی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کی… “کچھ نهیں… ” مسکرانے کی کوشش کی تھی … پھیکی سی مسکراهٹ… “تم کچھ پریشان سی لگ رهی هو… کیا هوا هے… طبیعت تو ٹھیک هے تمهاری…¿¿¿” ساره نے اس کے ماتھے پر هاتھ رکھا تھا… “ها… هاں… ٹھیک هوں میں… ڈونٹ وری..” وه پھر سے اسکرین کی جانب متوجه هوئ… لیکن اب ذهن بٹ چکا تھا… اس ھے اسکرین پر ابھرتے عکس کو دیکھا… روش اب خالی تھی… گاڑی وهاں سے گزر کر جا چکی تھی..
•••••
سکندر کا آج کا شیڈول بھت مصروف تھا…لیکن پھر بھی وه پریشے کے ایک فون پر اپنے سب کام, سب میٹنگز چھوڑ کر اس کی بتائ هوئ جگه پر پهنچ گیا تھا… پریشے کے بتاۓ وقت سے آدھا گھنٹه قبل وه اس پارک میں موجود تھا جو اس کی خوشی اور ایکسائٹمنٹ کو ظاهر کرتا تھا… اب وه ایک درخت کے نیچے پڑے بینچ پر بیٹھا پریشے کا ویٹ کر تها تھا… فارمل ڈریسنگ کی بجاۓ آج بلیک جینز اور سفید هائ نیک کے اوپر بلیک جیکٹ میں ملبوس تھا… بال هلکے نم تھے جو ماتھے پر بکھرے اس کی وجاهت کو بڑھا رهے تھے… پیروں میں جاگرز تھے… چهره سردی کے باعث سرخ هو رها تھا… سرشاری هر هر انداز سے عیاں تھی… حالانکه اسے یه بھی معلوم نهیں تھا که پریشے کے اسے یهاں بلانے کے پیچھے وجه کیا تھی… سرد سا موسم تھا… بالآخر سورج نے آج اپنی هلکی سی جھلک دکھا هی دی… دھوپ بھت بھلی محسوس هورهی تھی… بینچ پر بیٹھے دھوپ براه راست اس کے چهرے پر پڑ رهی تھی … جس سے چهرا مزید چمک اٹھا تھا… اردگرد لوگوں کی چهل پهل تھی… کهیں کهیں بچے کھیلتے نظر آ رهے تھے…
پھر دور سے اسے پریشے آتی دکھائ دی…اسے دیکھ کر نگاهوں کو راحت ملی تھی… بے چین دل کو جیسے قرار سا آیا تھا… سکندر اٹھ کر کھڑا هو گیا… تعظیم کا ایک انداز تھا یه… پریشے نے دور سے هی اسے دیکھ لیا تھا… ایک نظر اس کی طرف دیکھ کر مسکرائ… پھرنظریں جھکاۓ دھیمے قدموں سے اس کی طرف بڑھنے لگی… بلیک ٹراؤزر پر لائٹ بلیو ٹاپ پهن رکھا تھا… ایک کندھے پر دوپٹه رکھا تھا…شولڈر کٹ سلکی بال کندھوں پر بکھرے تھے… اس خوشگوار سے موسم میں وه نکھری سی لڑکی دل میں هلچل مچا گئ تھی…”هیلو…” اس کے قریب آنے پر سکندر نے خیر مقدمی مسکراهٹ سے اسکا استقبال کیا… “هاۓ…” پریشے بھی مسکرائ… آج اسکا موڈ بھی خوشگوار تھا… ورنه اب تک جتنی بار بھی اس سے ملی تھی سکندر نے اسکا موڈ بگڑا هوا هی دیکھا تھا…. بهر حال اس کے چهرے پر هر تاثر هی جچتا تھا… “کیسے هیں آپ..¿¿¿” سکندر کو مسلسل اپنی جانب تکتا پا کر وه جھجھک سی گئ… تبھی فورأ سوال کر ڈالا… “الحمدالله… بالکل ٹھیک…آپ کیسی هیں…¿¿¿” وه تھوڑا خجل سا هوا… “فائن…” یک لفظی جواب دیا گیا تھا… “بیٹھیں پلیز…” سکندر نے بینچ کی جانب اشاره کیا…تو پریشے ایک سائیڈ پر بیٹھ گئ…اس سے کچھ فاصله رکھ کر سکندر بھی بیٹھ گیا…ان کے پیروں تلے زرد پتے چرمرا کر ره گۓ… کچھ لمحوں تک دونوں کے درمیان خاموشی چھائ رهی… پریشے نروس سی بیٹھی تھی… سکندر نے هی بات شروع کی.. “آپ کو کچھ کهنا تھا شاید…یوں اچانک فون کیا آپ نے…بلیو می…جسطرح سے آپ سے دو تین ملاقاتیں هوئیں مجھے بالکل امید نهیں تھی که آپ مجھے کال کریں گی… ابھی بھی ایک خواب هی لگ رها هے مجھے…” سکندر کے لهجے میں ابھی بھی بے یقینی سی تھی… لیکن آج وه اعتماد سے بات کر رها تھا… پریشے اس کی بات پر خجل سی هوئ… “جی آپ کے ساتھ میرا رویه کافی برا تھا…لیکن جو کچھ بھی هوا اچانک هوا…اور تب حالات هی ایسے تھے که….اس نے بات ادھوری چھوڑی…” اٹس اوکے… آپ کو کوئ کام تھا مجھ سے…¿¿¿” سکندر پوائنٹ پر آیا…پریشے نظریں جھکا کر اپنے گلابی ناخن دیکھنے لگی… سمجھ نهیں پا رهی تھی که کیسے کهے اپنی بات… “میں نے آپ کے پرپوزل کے بارے میں کافی سوچا…” اس نے توقف کیا..
“آپ نے مجھے هی پرپوز کیوں کیا… ¿¿¿” اس نے سوالیه نگاهوں سے سکندر کی طرف دیکھا جو اسی کی جانب دیکھ رها تھا… دونوں کی نگاهیں ایک لمحے کو ملی تھیں… پھر سکندر مسکرا دیا… “مطلب…¿¿¿” وه اسے تنگ کرنا چاه رها تھا… اس وقت پریشے کے چهرے پر جو تاثرات تھے تھے وه ان سے لطف اٹھا رها تھا… گھبرائ, جھجکی سی لڑکی… “مطلب یه که آپ اتنے هینڈسم , ڈیشنگ پرسن هیں… اور پھر آپ کا هائ فائ اسٹیٹس… شهر بھر میں آپ کا نام, آپ کا رتبه ایسا هے که.کوئ بھی لڑکی آپ سے شادی کرنے کیلیے تیار هو سکتی هے… یهاں تک که آپ کئ لڑکیوں کے آئیڈیل بھی هیں…آپ کو اچھے سے اچھی لڑکی مل سکتی هے… پھر مجھے هی کیوں چنا آپ نے… مجھے هی کیوں پرپوز کیا… ” وه الجھ رهی تھی… اور سکندر کی نظروں کے ارتکاز سے کنفیوز بھی هو رهی تھی… سکندر هنسا تھا اس کی بات پر… اور پھر اسکی گھبراهٹ کو محسوس کرتے هوۓ اس سے نظریں هٹا لیں اور سامنے کچھ فاصلے پر فٹ بال کھیلتے بچوں کو دیکھنے لگا… “تو محترمه کافی چھان بین کرنے کے بعد آئیں هیں مجھ سے ملنے…” وه پرلطف سا بولا تھا… پریشے ایک دم گڑبڑا گئ… “نهیں وه میں…” چند بے ربط سے الفاظ اس کے لبوں سے آزاد هوۓ لیکن پھر وه خاموش هو گئ… سمجھ نهیں آ رها تھا که کیا بولے… چهره جھکا لیا تھا جسکی وجه سے بالوں کی لٹیں چهرے کے اطراف میں بکھری تھیں… سکندر نے بھرپور نظروں سے یه منظر دیکھا تھا اور اس کے دل نے شدت سے چاه کی تھی که کاش یه وقت یهیں تھم جاۓ… “اصل میں بات یه هے پریشے… ” سکندر نے کهنا شروع کیا… “یه صحیح هے که میرے پاس دولت هے… شهرت هے… عزت, نام , رتبه وجاهت…. هر چیز هے… بھت سی لڑکیاں میری همسفری کی خواهشمند هیں… لیکن آج تک کوئ بھی لڑکی میری نگاهوں کو جچی هی نهیں… کیونکه مجھے “””
“کوئ بھی” لڑکی نهیں چاهئیے تھی… مجھے خاص لڑکی چاهیئے تھی…جسے دیکھتے هی دل کهے… یهی تو هے وه جس کی برسوں سے تلاش تھی… اور جس دن تمهیں دیکھا ایسیڈنٹ کے وقت تب مجھے یه احساس مل گیا تھا…که میری تلاش ختم هو گئ… تم میں کچھ تو ایسا خاص هو گا جو پهلی نظر میں هی تم مجھے اچھی لگیں…تمهارے کیے جو محسوس کیا کبھی کسی اور کیلیے نهیں کیا…
تمهارے ذهن میں یه بات هو گی که دولت مند لوگ لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کرتے هیں… استعمال کرتے هیں… اور پھر چھوڑ دیتے هیں…کهیں میں ایسا تو نهیں… تو تم اس بارے میں میں بھی چھان بین کر سکتی هو… میرا ماضی بالکل صاف هے… کسی بھی اسکینڈل سے پاک…لڑکیوں سے بھت دور بھاگتا رها هوں میں… لیکن تمهیں دیکھا تو پھر کھونا نهیں چاهتا تھا…اس لیے ڈائرکٹ پرپوز کر دیا… تم نے تب مجھے ڈپٹ دیا… اچھا کیا…یهی تو خاص بات هے تم میں… تم اوروں سے الگ لگتی هو… اور هاں… مجھے جسے اپنا لائف پارٹنر بنانا هے اسے اپنی وجه سے اپنی ذندگی میں لانا هے…نه که اپنی دولت, اسٹیٹس اور رتبے کی بنا پر… تبھی میں نے تم پر اپنی امارت ظاهر نهیں کی … کیونکه.میں چاهتا تھا که تم مجھے قبول کرو تو صرف میری وجه سے…نه که میرے پیسے کی وجه سے… میں کئ لڑکیوں کا آئیڈیل ضرور هوں… لیکن میری آئیڈیل پر صرف تم پوری اتری هو…سو تمهیں پرپوز کیا…اب تمهاری مرضی هے… کوئ زور زبردستی نهیں… ھو تمهارا فیصله هو گا… مجھے قبول هو گا
سکندر نے وضاحت سے بولتے هوۓ پریشے کی ساری الجھنوں کو دور کرنا چاها…پریشے جو نظریں اپنے پاؤں پر مرکوز کیے خاموشی سے اسے سن رهی تھی بات ختم هونے پر اس کی جانب دیکھنے لگی… “اور اگر میں انکار کر دوں تو…¿¿¿” اس نے جاننا چاها تھا… “آپ کا فیصله سر آنکھوں پر مادام…یه بنده پھر آج کے بعد کبھی آپ کے پیچھے نهیں آۓ گا… کبھی آپ کو تنگ نهیں کرے گا…” سکندر نے سر کو خم دیا… البته دل میں کچھ بے چینی سی هوئ تھی… “اور اگر میرا جواب هاں میں هو تو… ¿¿¿” پریشے کے انداز میں شرارت جھلکی تھی… سکندر نے بے یقین نظروں سے اسکی طرف دیکھا… “تو یه میری خوش قسمتی هو گی… اور میں یهی کهوں گا که تم اپنے رب کی کون کون سے نعمت جو جھٹلاؤ گے… ” سکندر سرشار سا بولا تھا… آواز میں کھنک سی تھی… اسے پریشے کے چهرے سے اس کا جواب مل گیا تھا… پریشے هنس دی اور پھر اس کی هنسی کی آواز میں سکندر کی هنسی کی آواز بھی شامل هو گئ… دور کسی درخت پر کوئل نے سر اٹھا کر اس خوبصورت لمحے میں ان کی خوبصورت هنسی کو رشک سے دیکھا اور پھر لمبی اڑان بھرتی نگاهوں سے اوجھل هو گئ..
••••••
اس دن پھر یونی کی ٹائمنگ ختم هونے کے بعد وه گیٹ سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی… اسے منزه کے ساتھ جانا تھا اور منزه دس منٹ کا کهه کر اپنی کسی کلاس فیلو کے پاس گئ تھی… کچھ کام سے…وه اسی کا ویٹ کر رهی تھی جب ایک جونئیر اسٹوڈنٹ اس کے سامنے آن کھڑا هوا… “ایکسکیوزمی…” لڑکے نے اسے اپنی جانب متوجه کیا…سونا نے سوالیه نگاهوں سے اس کی طرف دیکھا… تبھی اس لڑکے نے اپنا هاتھ سامنے کیا جو پهلے اس نے اپنے پیچھے چھپا رکھا تھا… اس کے هاتھ میں پھولوں کا ایک گلدسته تھا… پیلے رنگ کے پھول… سونا نے الجھ کر اسے دیکھا اور هھر پھولوں کو…
“یه فلاورز آپ کیلیے… وه سامنے جو شخص هے نه… اس نے دیے اور کها که آپ تک پهنچا دوں…” لڑکے نے وہ پھول اسکی طرف بڑھاۓ… لڑکے کے اشاره کرنے پر سونا نے اس طرف دیکھا… اب وہ شخص گیٹ سے باہر جا رها تھا… بلیک جینز پر بلیک هاف سلیوز ٹی شرٹ پهنے… اسکی پشت تھی سونا کی جانب… سونا اسکا چهره نهیں دیکھ سکی…
وه آهسته قدموں سے چلتا باهر رکی اپنی بلیک کار میں جا بیٹھا… “بٹ وه هے کون… اور مجھے کیوں فلاورز بھیجے اس نے … ” سونا کی نظر فلاورز کے درمیان رکھے کارڈ پر پڑی… اس نے گلدسته پکڑا… “آئ ڈونٹ نو… ” لڑکے نے کندھے اچکاۓ اور وهاں سے چلا گیا… سونا نے کارڈ کھولا…
“تمہارے لیے… کہ تم کبھی نہ بھول سکو.. مجھے تم سے نفرت ہے… بے حد نفرت .. فرام $ “
سونا حیرت سے ان الفاظ کو دیکھتی ره گئ. اور ایک نظر پھولوں کو دیکھا پیلے نفرت کی علامت دیتے پھول… وہ اندر تک کانپ کر رہ گئ…
..”کون تھا جو اس سے نفرت کرتا تھا… یه کون تھا جو اس کے پیچھے هر جگه آ جاتا تھا… پهلے تو وه اس سب کو اپنا وهم سمجھ جر ٹالتی آئ تھی لیکن اب شک کی کوئ گنجائش نه رهی تھی… اب یقین هو چلا تھا که اسے فالو کیا جا رها هے… لیکن کیوں… کیا چاهتا تھا وه شخص اس سے … اور اس بے بنیاد نفرت کی کیا وجه تھی آخر… وه ایک دم بے تحاشه پریشان هو گئ تھی..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *