Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02
وه راھداری میں آیا اور پهلے کمرے کا دروازه کھول کر اندر داخل هوا… کمره بالکل خالی تھا… وه اندر داخل هوا هی تھا که لائٹ چلی گئ… جنریٹر لان میں تھا سو وهاں لائٹس آن تھیں … گھر کے اس حصے میں لائٹ جانے کی وجه سے اندھیرا چھا گیا تھا… “یه لائٹ بھی ابھی جانی تھی…” وه بڑبڑایا…. آواز میں کوفت اور بے زاری نمایاں تھی… وه اندھیرے میں هی اندازے سے بیڈ کی طرف آیا اور تھوڑا جھک کر بیڈ پر هاتھ مار کر موبائیل تلاشنے کی کوشش کی لیکن بے سود… موبائیل نهیں ملا… وه سیدھا هوا اور اپنا موبائیل نکال کر اس کی ٹارچ آن کی…
ٹارچ آن کر کے اس نے ابھی بیڈ کی طرف کی هی تھی جب اٹیچ باتھ کا دروازه کھلا اور وهاں سے کوئ باهر آیا… “ارے ساره… تم یهیں هو ابھی تک…میں نے کها تھا که تم چلی جاؤ میں آ جاؤں گی…” وه سونا تھی اور اندھیرے کے باعث لڑکی یا لڑکے کی پهچان نه کر کے مقابل کو ساره سمجھ بیٹھی تھی… لڑکی کی آواز سن کر شاه,جو که دوباره موبائیل کی تلاش میں بیڈ کی طرف جھکا تھا ایک دم سیدھا هوا… سونا جو اب بیڈ سے دوپٹا پکڑنے کیلئے آگے بڑھی تھی شاه کے سیدھا هونے پر ٹارچ کی روشنی میں اس کا چهره دیکھا….ساره کی جگه ایک اجنبی کو اپنے سامنے دیکھ کر اس کے منه سے بے ساخته چینخ نکلی تھی… شاه نے جب اسے دیکھا تو پھرتی کا مظاهره کرتے هوۓ اس نے سونا کے منه پر اپنا بھاری هاتھ جما کر اس کی چینخ کا گلا گھونٹا تھا…سب اتنا اچانک هوا که کچھ سمجھنے کا موقع هی نه ملا… خوف اور ڈر سے سونا کی آنکھیں ابلنے کو تھیں…وه اس وقت دیوار سے لگی تھی… اس کا ایک بازو شاه کے گرفت میں تھا جب که لبوں په شاه کا مضبوط هاتھ جما تھا… جس هاتھ سے شاه نے سونا کا بازو پکڑا تھا اسی هاتھ میں شاه کا موبائیل بھی تھا… تبھی ایک دم لائٹ آئ اور پورا کمره روشنی میں نها گیا…
جیسے هی کمرے میں روشنی پھیلی… دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ٹھٹھکے تھے… سونا نے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھا اور اسے یوں لگا جیسے وه ان نیلی آنکھوں میں ڈوب سی گئ هو… کوئ طلسم تھا ان نیلی آنکھوں کا جس نے سونا کو اپنے حصار میں لیا تھا… وه نیلی آنکھوں کی شیدائ تھی… اسے نیلی آنکھیں بھت فیسی نیٹ کرتیں لیکن پهلی بار ایسا هوا تھا که وه نیلی آنکھوں کو اتنے قریب سے دیکھ رهی تھی… سحرزده هو گئ تھی وه…
دوسری جانب شاه کے تاثرات بھت عجیب تھے… ایسا کیسے هو سکتا هے… یه سوچ اس کے زهن میں بار بار ابھر رهی تھی…
اس کے چھرے پر پهلے حیرت تھی… پهر الجھن, پهر اضطراب اور بے چینی ابھری تھی… اور پھر بے تحاشه غصه اور وحشت… اس کےهاتھ کی گرفت سونا کے لبوں سے ڈھیلی هوئ تھی… لیکن اس کی نظریں سونا کے چهرے سے نهیں هٹی تھیں… جبکه بازو پر اسکی گرفت بھت سخت هو گئ تھی… سونا کو بے خد تکلیف کا احساس هوا… اس نے نظریں جھکا کر اپنے بازو پر جمے اس کےهاتھ جو دیکھا… شاه کی انگلیاں جیسے سونا که بازو کے گوشت میں پیوست ہو رهی تھیں… اتنی وحشت تھی اس کی نیلی آنکھوں اور اس کے انداز میں که سونا کی منجمند سی هو گئ… تکلیف کی شدت سے وه سسک اٹھی تھی…
“چھوڑو میرا بازو… مجھے درد هو رها ھے…” اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر اسکے رخسار په بکھرے تھے… اسکی سسکتی هوئ آواز سے شاه چونکا تھا جیسے کسی خواب سے جاگا هو… ایک پل میں اس کی آنکھیں هر احساس سے عاری هوئ تھیں… چهرے کا رنگ بدله تھا… اس نے سونا کا بازو چھوڑا اور مٹھیاں بھینچ لیں جیسے ضبط کرنے کی, خود کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رها هو… وه ابھی بھی سونا کے سامنے هی کھڑا تھا… غائب دماغی کی حالت میں… سونا اگر وهاں سے هٹنا چاهتی تو اس سے ٹکراؤ لازمی تھا… وہ اس کی راہ میں دراز قد.. کسی دیوٹر کی مانند حائل تھا
” مسٹر… ایسے بت بن کے کیوں کھڑے هیں… راسته چھوڑیں…” سونا که چهرے اور انداز میں ناگواری تھی… تبھی شاه نے پھر اس کے چھرے کی طرف دیکھا… بے حد عجیب نظروں سے… اور پھر بغیر کچھ کهے, بغیر موبائیل لیۓ هونٹوں کو سختی سے بھینچتا بھت تیزی سے مڑا اور اسی تیزی سے کمرے سے نکل گیا… اس کی چال میں هلکی سی لڑکھڑاهٹ تھی… سونا ناسمجھی سے دروازے کی طرف دیکھے گئ جہاں سے ابھی وه گیا تھا…
” پتا نهیں کون تھا… کتنا عجیب بے هیویر تھا… لیکن اسکی وه نیلی آنکھیں… اف … گهری نیلی آنکھیں…” وه بڑبڑائ تھی…تبھی باهر سے ساره کی آواز آئ
“سونا… کیا کر رهی هو… داغ هوا صاف یا نهیں… آجاؤ یار… کتنی ریر لگا دی هے…”
“بس آ رهی هوں…” سونا نے تیزی سے زمین پر گرا اپنا دوپٹا اٹھایا جو اس کے هاتھ سے گرا تھا… کندھے پر اسے سیٹ کیا… سر پر حجاب کو درست کیا اور باهر نکل گئ… جبکه معیز کا موبائیل بیڈ پر اسی جگه پڑا تھا جهاں پهلے سونا کا دوپٹا تھا.
——-
وه اپنے ماما بابا کی اکلوتی اولاد تھی… اس کے مامابابا نے لو میریج کی تھی… اور جیسا همیشه سے هوتا آ رها هے… ان دونوں کے گھر والے اس شادی کیلیۓ راضی نهیں تھے… دونوں پر بھت پابندیاں لگائ گئیں… لیکن وه دونوں ایک دوسرے کے بغیر رهنے کو تیار نهیں تھے… اور نه هی پیچھے ھٹنے والوں میں سے تھے… اتنی مخالفت کے باوجود دونوں نے ایک دوسرے کو اپنایا اور شادی کر لی… سزا کے طور پر دونوں کے گھر والوں اور سبھی رشته داروں نے ان سے قطع تعلق کر لیا… دونوں نے اپنے اپنے گھر والوں سے معافی بھی مانگی اور ان کے اس رشتے کو قبول کرنے کی درخواست بھی کی لیکن وه سب اس رشتے کو قبول کرنے کو تیار نه تھے… ان سے ملنے کی شرط یهی رکھی گئ که وه دونوں اس نیۓ رشتے اور تعلق کو همیشه کیلیے توڑ دیں…
بھت کوششوں کے باوجود جب دونوں کے گھر والے ان کے اس رشتے کو اپنانے کو تیار نه هوۓ تو سونا کے بابا عبدالهادی اس کی ماما کو لے کر شهر آ گۓ اور یهاں چھوٹا مگر خوبصورت سا آشیانه بنا لیا… عبدالهادی نے اپنے ایک دوست کی مدد سے اپنا الگ کاروبار شروع کر لیا جو کامیاب رها اور یوں زندگی کی گاڑی چلنے لگی… پھر ان کی زندگی میں سونا آئ… انهوں نے ایک بار پھر گھر والوں کو منانے کی کوشش کی لیکن ناکام هوۓ… پھر انهوں نے کوشش چھوڑ دی اور اپنی زندگی میں, اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ مگن هو گۓ…
خدا کو نه جانے کیا منظور تھا که سونا جب چار سال کی تھی تب اسکی ماما ایک رات دل کی دھڑکن رک جانے کی وجه سے موت کا شکار هو گئیں… سونا اور اسکے بابا اکیلے ره گۓ… کافی عرصه تو عبدالهادی اس صدمے سے سنبھل نه سکے…لیکن پھر سونا کیلیۓ انهوں نے خود کو سنبھالا… ایسے کٹھن حالات میں ان کے دوست اور بزنس پارٹنر نے بھی ان کا بھت ساتھ دیا… اور بالآخر زندگی پهر سے ٹریک پر آ گئ… سونا آهسته آهسته بڑی هونے لگی… عبدالهادی اسے دیکھ کر جینے لگے… انهوں نے دوباره شادی نهیں کی… وه سونا کو سوتیلی ماں کے حوالے نهیں کرنا چاهتے تھے…
انهیں اپنی بیٹی بھت عزیز تھی… اور اب وهی ان کی زندگی کا مرکز تھی… مالی حالات بھت اچھے نهیں تھے لیکن برے بھی نهیں تھے… انهوں نے سونا کی پرورش بھت اچھے طریقے سے کی… اسے اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائ… اسکی هر خواهش کو پورا کیا… سونا کو یاد نهیں تھا که اسنے کبھی اپنے بابا سے کوئ فرمائش کی هو اور انهوں نے پوری نه کی هو… دونوں کے درمیان باپ بیٹی سے زیاده دو دوستوں کا رشته تھا… دونوں اپنی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی ایک دوسرے سے شئیر کرتے…
سونا سے اسکے بابا نے اپنے ماضی کی کوئ بات نهیں چھپائ تھی…
اسے بتایا گیا تھا که اسکی ماما اپنے پیرنٹس کی اکلوتی اولاد تھیں… اسکے نانا نانی اب وفات لا چکے تھے… جبکه سونا کے بابا عبدالهادی کے ایک بڑے بھائ تھے جن کی ان سے پهلے هی شادی هو چکی تھی… سونا کے دادا ابھی حیات تھے جبکه دادی بھی وفات پا چکی تھیں… عبدالهادی کا تعلق جاگیردار گھرانے سے تھا… جن کی جدی پشتی جاگیریں تھیں… وه ایک گاؤں سے تعلق رکھتے تھے لیکن پھر عبدالھادی تعلیم کے سلسلے میں شهر آۓ اور وهیں انهیں سونا کی ماما پسند آئیں… مخالفت کے باوجود دونوں نے شادی کر لی جس کی پاداش میں انهیں گھر سے نکالا گیا اور جائیداد سے بھی عاق کر دئیے گۓ… سونا کے دادا جی کا شمارملک کے نامور لوگوں میں هوتا تھا لهذا عبدالهادی کو ان کے بارے میں جاننے میں کبھی کوئ مشکل نه هوئ… وه ان سے دور ضرور تھے لیکن کبھی ان سے بے خبر نه رهے تھے… سونا کے سامنے اس کے بابا اکثر اس کی ماما کی باتیں کرتے…اپنے بچپن کے قصے سناتے … اپنی شرارتیں بتاتے اور یوں بولتے بولتے کبھی ان کی آنکھیں بھر آتیں… ایسے میں سونا هی تھی جو ان کے آنسو پونچھتی….. جب کبھی اسے ماں کی کمی محسوس هوتی تو وه بابا سے باتیں کرتی… دونوں پرانی باتیں یاد کرکے خوب ھنستے… اس دنیا میں وه دونوں هی ایک دوسرے کا سهاره تھے… نه اور کوئ رشته دار تھا نه جاننے والا… بس ایک بابا کے دوست تھے جو ان کے بزنس پارٹنر تھے اور ان کی بیٹی منزه سونا کی دوست تھی…دونوں ایک هی یونیورسٹی اور ایک هی ڈیپارٹمنٹ میں تھیں… تین دوستیں اور تھیں ان کی… عائزه, ماریه اور ساره… بس یهی سونا کی دنیا تھی… سونا کو الله نے خوبصورتی سے نوازا تھا… حسن کی فراوانی تھی اسکے پاس اور دل اس سے بھی کهیں زیاده خوبصورت… سادگی پسند تھی اور سادگی میں بھی قیامت ڈھاتی تھی که اس کی جانب اٹھتی نظر چند پل رکنے پر مجبور هو جاتی… لیکن اسے اپنے حسن کی نمائش کا کوئ شوق نهیں تھا… باقی اسٹوڈنٹس کی طرح ماڈرن ڈریسز نهیں پهنتی تھی… لمبے بال همیشه حجاب میں ڈھکے هوتے… حجاب کے هالے میں مقید اسکا چهرا چاند کی مانند لگتا… اس کے هر هر انداز سے وقار جھلکتا… اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی… ان پانچ لڑکیوں کا هی گروپ تھا…اور وه بس ان کے ساتھ فرینک تھی… یونیورسٹی میں بهت سے لڑکے لڑکیوں نے اس کی طرف بڑھنے اور اس سے دوستی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے لئے دیے انداز پر پیچھے هٹ گۓ تھے…
صرف حسن هی نهیں ذهانت میں بھی سب سے آگے تھی… همیشه اعلی گریڈز سے پاس هوتی رهی… غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی نمایاں هوتی… ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کی من پسند لڑکی تھی… جس سے بات کر لیتی وه اپنے لئے اعزاز سمجھتا…هر خوبی موجود تھی اس لڑکی میں… وه محبت کے قابل تھی… صرف محبتیں سمیٹنے کو پیدا هوئ تھی.. هر جگه سے محبت ملتی اسے… پھر بھی غرور نهیں تھا اس میں… اس کے هر انداز میں عاجزی هوتی… سب اس سے مرعوب رهتے… اپنے خوابوں کی دنیا میں رهنے والی معصوم سی لڑکی تھی وه… جو اس بات سے بے خبر تھی که زندگی اس کے تمام خوابوں کو چکنا چور کر کے اس سے بهت کڑا امتحان لینے والی تھی…
•••••
اسکی گاڑی اسوقت بهت اسپیڈ سے سڑک پر جا رهی تھی… اتنی ریش ڈرائیونگ پهلے کبھی نهیں کی تھی اس نے… دو بار ایکسیڈنٹ هوتے هوتے بچا… لیکن وه اسپیڈ کم کرنے کی بجاۓ بڑھاتا هی جا رها تھا… اسکی گهری نیلی آنکھوں میں اسوقت خون اترا هوا تھا… معیز کی شادی میں وه بهت خوشی سے گیا تھا… معیز اسکے قریبی دوستوں میں سے تھا…کافی عرصے بعد دونوں ملے تھے ایک دوسرے سے اور معیز کے بے حد اصرار پر شاه کو اسکی شادی پر جانا هی پڑا… اسے بالکل اندازه نهیں تھا که وهاں یوں اچانک وه لڑکی اس کے سامنے آ جاۓ گی… وه لڑکی جس سے اس نے بےتحاشا, بے حد محبت کی تھی … وه لڑکی جس سے اب وه بے تحاشا, بے حد نفرت کرتا تھا… اتنی نفرت که اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کو بھی کھلا دیتا تب بھی اسے سکون نه ملتا…اتنی نفرت که اسے اپنے هاتھوں سے شوٹ کر دیتا تب بھی بے دل برباد کو قرار نه آتا… اتنی نفرت جتنی کبھی دنیا میں کسی نے کسی سے نه کی هو گی… محبت کرنے کی بهت بڑی سزا ملی تھی اسے…اور اس لڑکی کی نفرت میں بھی وه خود کو هی اذیت دیتا تھا… کتنا عجیب تھا نه یه سب… اسے زندگی میں ایک هی لڑکی سے محبت هوئ اور اسی لڑکی سے نفرت بھی…اور وه نه اس محبت کو ختم کرنے په قادر تھا نه هی اس نفرت کو… وه اتنا بڑا بزنس مین , کروڑوں کا مالک, دنیا کی هر شے جس کے قدموں میں تھی… اسکا اپنا هی دل اس کے اختیار میں نه تھا..
مهندی کے فنکشن کو ادھورا چھوڑ کر وه وهاں سے نکل آیا تھا… ریش ڈروئیونگ کے بعد فارم هاؤس پهنچا… گاڑی کا دروازه کھول کر باهر نکلا اورتیزی سے کمرے کی جانب بڑھا… چال میں بدستور لڑکھڑاهٹ تھی…کمرے میں داخل هوتے هی دروازه بند کر لیا…سر کو دونوں هاتھوں سے تھام کر بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا…آنکھوں کو سختی سے میچ لیا… اور سر کو جھٹک کر پرانی یادوں جو جھٹکنے کی ناکام کوشش کی… وه یاریں جو اس کی روح پر ناسور بن کر ره گئ تھیں…
جن سے آج بھی ویسی هی ٹیسیں اٹھتی تھیں جیسے دو سال پهلے… اس نے آنکھیں کھولیں… نیلی آنکھوں میں سفیدی کی جگه سرخی چھانے لگی تھی… پتا نهیں غصه تھا, بے چینی یا ضبط…اس کا هاتھ بے ساخته اپنی گردن کی بائیں جانب جا ٹھرا… جھاں زخم کا نشان بنا تھا… زخم تو ٹھیک هو چکا تھا لیکن چار سال گزرنے کے باوجود وه نشان نهیں مٹ پایا تھا… بالکل اس کی یادوں کی طرح… اس کی محبت کی نشانیاں… جو صرف اذیت دیتی تھیں…
وه ضبط کرتے کرتے بے حال هوا جا رها تھا…اضطراب کی کیفیت میں اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا هوا…
کھڑکی کھول کر تازه هوا میں گهرے گهرے سانس لینے لگا که شاید اندر کی گھٹن کچھ کم ہو… لیکن بے سود… باهر گھپ اندھیرا چھایا تھا… هر چیز ویران لگ رهی تھی بالکل اس کے دل کی طرح… دل و دماغ قابو میں هی نهیں آ رهے تھے… پرانی یادیں, پرانی سوچیں ڈسنے لگی تھیں اسے…اسنے غصے سے سامنے پڑے میز کو
ٹھوکر رسید کی… شیشے کا میز تھا… ٹھوکر لگتے هی ایک طرف کو لڑھکا اور گر کر چکنا چور هو گیا… پھر ایسے هی کمرے کی بھت سی چیزیں ٹوٹیں… کسی اور کا غصه ان بے جان چیزوں پر نکالتا رها… وه لمبا چوڑا مضبوط جسامت کا مرد اس وقت کسی چھوٹے بچے کی طرح چیخ چیخ کر رو رها تھا اور کمرے کے درودیوار اس خوبصورت سے نوجوان کی آنکھوں سے نکل کر بے مول هونے والے آنسوؤں کو خاموشی سے تکتے رهے… جب وه چیزیں توڑ توڑ کر تھک گیا تو بے دم سا آئینے کے سامنے جا کھڑا هوا… آئینے میں اپنا حلیه دیکھا… بکھرے بال… آنکھوں میں چھائ سرخی…. بے ترتیب لباس… ضبط اور غصے سے سرخ پڑتا چهره… کپڑوں پر پڑی بے شمار سلوٹیں…اسے دیکھ کر کون یقین کرتا که یه کامیاب ترین بزنس مین بھی زندگی کے ایسے موڑ سے گزرا هے که جس کے بعد اس میں جینے کی خواهش هی ختم هو کر ره گئ…
کچھ گھنٹے پهلے وه فنکشن میں جانے کیلئے بڑی نک سک سے تیار هوا تھا… لیکن اب کیا حال ہو گیا تھا اس کا… اس نے بے دردی سے آنکھوں کو رگڑا تھا… ٹائ کی ناٹ کو کھینچ کر ڈھیلا کیا تو نظر پھر آئینے میں سامنےدکھتےگردن کے زخم کے نشان پر پڑی… اور ایک لمحے کا توقف کئے بغیر شاه نے مکا مار کر اس آئینے کو توڑ ڈالا جس میں اس کا عکس ابھر رها تھا… اور آئینه کرچی کرچی هو کر زمین پر بکھر گیا… اس کی ذات کی طرح…اس کے هاتھ پر گهرا زخم آ گیا تھا…خون بھت تیزی سے بهه رها تھا لیکن وه بالکل لاپرواه اور بے نیاز بنا کھڑا تھا..
وہ خود کو جتنی بھی اذیت دیتا اسے کم لگتی…آنکھوں سے وخشت جھلک رهی تھی… اس کا بس نهیں چل رها تھا که خود کو هی ختم کر ڈالتا… وه بے بس سا هو کر وهیں دیوار سے ٹیک لگاۓ بیٹھتا چلا گیا اور پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا… اس وقت بھت قابل رحم لگ رها تھا وه… لیکن اسے خود اپنی حالت پر ذرا سا بھی ترس نهیں آتا تھا… مسلسل خون بهنے کیوجه سے اس پر نقاهت طاری هونے لگی تھی… آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا… اس نے سر جھٹک کر اردگرد دیکھنا چاها تھا لیکن ناکام رها… اور پھر کب وه هوش و خرد سے بےگانه هوا اسے کچھ خبر نه هوئ… هاتھ سے مسلسل بھتا خون فرش کو رنگین کرتا جا رها تھا…
