Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12
سکندر اور پریشے اس وقت لنچ کیلیے آۓ تھے…پریشے نے آرڈر نوٹ کروایا اور اردگرد دیکھنے لگی… “پری… ایک بات کهوں… اگر برا نه مانو تو…¿¿¿” سکندر نے اجازت لینا چاهی… پریشے اسکے جانب متوجه هوئ… “هاں کهو…” کهتے هوۓ پریشے نے دونوں هاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسائیں اور ان پر ٹھوڑی ٹکائ… نگاهیں سکندر کے چهرے پر جمی تھیں… “یار میں چاهتا هوں که تم جاب چھوڑ دو…” اس نے هچکچاتے هوۓ مدعا بیان کیا مباده کهیں وه ناراض نه هو جاۓ… “کیوں وجه…¿¿¿ ” تیکھے لهجے میں دریافت کیا گیا… یقینااسے یه بات ناگوار گزری تھی… “یار… تمهیں کیا ضرورت هے ایک ویٹرس کی معمولی سی جاب کرنے کی… مجھے اچھا نهیں لگتا …” سکندر نے نرم سے لهجے میں اسے سمجھانا چاها… پریشے نے هاتھ باندھے اور پیچھے هو کر بیٹھی… “ذندگی گزارنے کیلیے بھت سی چیزوں کی ضرورت هوتی هے جناب… اور چیزوں کیلیے پیسوں کی… ضروریات ذندگی کوئ پلیٹ میں رکھ کر پیش نهیں کرتا آپ کو… اگر ذنده رهنا هے تو اس کے لیے کام اور محنت تو کرنا پڑے گی… میرے لیے یه معمولی سی جاب بھی بھت ناگزیر هے… کیونکه اتنی کوالیفیکیشن نهیں که تمهارے آفس جیسے بڑے بڑے آفیسز میں جاب کر سکوں…” اس کا انداز تلخ اور کچھ حد تک تمسخرانه هوا تھا… جیسے اپنا هی مذاق اڑا رهی هو… “تو میں کس لیے هوں… میرا پیسا, میری دولت کس دن کام آۓ گی… میرے پیسوں سے اپنی ضروریات پوری کرو… میں نے اب تک جو کمایا اور جو کما رها هوں وه کس لیے هے… دن رات محنت میں اپنے لیے اور اس کیلیے کر رها هوں جو میری شریک حیات بنے گی… اور جب تمهیں همسفر بنانے کا فیصله کر هی چکا هوں میں تو پھر میرے پیسے استعمال کرنے میں کیا قباحت هے…” سکندر نے اسے قائل کرنا چاها… “اچھا… سوچ سمجھ کر آفر کیا کرو… کهیں ایسا نه هو که میں ایک هی دن میں تمهارے سارے اکاؤنٹس خالی کر دوں…” پریشے هنسنے لگی… “میم… میرے اکاؤنٹس میں اتنی رقم هے که تم ساری ذندگی دونوں هاتھوں سے لٹاتی رهو گی تب بھی ختم نهیں هو گی… اور میں اف تک نهیں کروں گا…” سکندر نے مسکرا کر کها.. “خیال رکھنا… کهیں کوئ ڈاکا هی نه ڈال لے… تم سے چھین کر هی نه لے جاۓ ساری دولت… ” پریشے نے طنزیه کها… وه اسکا ردعمل جاننا چاهتی تھی اس بات پر… “وه تو پھر رب کی مرضی هے… اگر اس نے اتنا نوازا هے تو چھیننا بھی اسی کے اختیار میں هے… ” سکندر نے برا مانے بغیر کها تھا… “بهر حال تم میری بات کا جواب دو… ” اس نے پھر پریشے کو موضوع کی طرف لانا چاها… پریشے اسکی بات پر چند لمحے خاموش رهی… وه اس پر یه ظاهر نهیں کرنا چاهتی تھی که وه اسکی دولت اور امارت کی وجه سے لالچ میں اسکی جانب متوجه هوئ تھی… اسے سکندر کو هر حال میں یه احساس دلانا تھا که اسے اسکی دولت میں کوئ دلچسپی نهیں… چند لمحے کچھ سوچنے کے بعد وه گویا هوئ… ” دیکھو سکندر… تم اپنی جگه پر بالکل ٹھیک هو… لیکن تم میری بات سمجھنے کی بھی کوشش کرو… میری خوددار اور انا پرست طبیعت یه گوارا نهیں کرتی که میں شادی سے پهلے تمھارے احسانات لوں… هاں ٹھیک هے شادی کے بعد میں تمهاری هی ذمه داری هوں گی اور تب میں جاب چھوڑ بھی دوں گی… لیکن شادی سے پهلے میں اپنی ذمه داریاں خود اٹھانا چاهتی هوں… اور پلیز تم اس بارے میں دوباره مجھے فورس مت کرنا…” اس نے قطعیت سے کها…
سکندر اسکی بات پرمایوس سا هوا… “لیکن پری…ریسٹورنٹ میں آنے والے لوگ نه جانے تم کیسی کیسی نگاهوں سے دیکھتے هوں گے…سوچ کر میرا خون کھولتا هے… مجھے اچھا نهیں لگتا یه سب…”اس کے لهجے میں بے چینی تھی… پریشے نے اسکی آنکھوں میں دیکھا… اور مسکرائ “”
“تمهیں مجھ پر, میری قابلیت پر بھروسه نهیں هے کیا… مجھ میں اتنی ابیلٹی تو هے که اپنی جانب غلط نگاه سے دیکھنے والوں اور غلط بات کرنے والوں کو منه توڑ جواب دے سکوں… تم پریشان مت هو… یه سب میں هینڈل کر سکتی هوں… ” اسکی بات پر سکندر چپ هو گیا… جانتا تھا وه اس کی بات نهیں مانے گی… پریشے کے پاس هزاروں دلائل هوتے تھے اپنی منوانے کے…
•••
سونا اس کے روم کے دروازے کے سامنے پهنچی…لاحول پڑھ کے گھری سانس بھری اور دستک دے… “کم ان…” بھاری مردانه آواز گونجی تھی… سونا نے دروازه کھولا اور اندر جھانکا… سامنے هی کھڑکی کے قریب وپ کھڑا تھا… دروازے کی جانب پشت کیے… بلیک شلوار کرتا پهنے… پیروں میں چپل تھی… مضبوط قدوکامت کا مالک… دونوں بازو سینے په باندھے… اسکی نظریں کھڑکی سے باہر جمی تھیں… باهر لان میں… جهاں کچھ دیر پهلے وه سب کھیل رهے تھے… سونا کے اندر داخل هونے پر بھی اس نے مڑ کر ایک نظر اسکی طرف دیکھنا گوارا نهیں کیا تھا کپ اس کے روم میں کون آیا هے… شاید وه پهلے هی باخبر تھا اس کی آمد سے… سونا هچکچائ… که کن الفاظ میں اپناقصد بیان کرے… اردگرد نگاه دوڑائ تھی اس نے لیکن بال کهیں نظر نهیں آئ… اس نے همت مجتمع کی… حلق کو تر کیا… “ایکسکیوزمی… وه… بال آئ تھی یهاں آپ کے روم میں…” اسکی بات پر اگلے کئ لمحوں تک مقابل نے خاموشی اختیار کیے رکھی… سونا خجل سی هوئ… اسے لگا جیسے سامنے موجود شخص نے اسکی بات سنی هی نه هو… “بیڈ کے دائیں طرف ٹیبل کے دراز میں پڑی هے.. ” اسے گھمبیر لهجے میں مطلع کیا گیا تھا… سونا کو اعتراف کرنا پڑا که اس سے پهلے اس نے اتنی خوبصورت مردانه آواز نهیں سنی… وه جلدی سے آگے بڑھی… دراز کھول کر بال لی اور فٹ سے دروازے کی جانب بڑھی… “سنو…” اسے مخاطب کیا گیا تھا… اس کے قدم بے اختیار رکے تھے… صرف گردن گھما کر اسکی پشت کو دیکھا… “آئنده میرے روم میں آنے کی غلطی مت کرنا… کهیں ایسا نه هو… میں اپنا ضبط کھو بیٹھوں…” ٹھنڈے, برفیلے, بے تاثر لهجے میں کها گیا تھا… سونا کو دھچکا لگا… وه هکا بکا ره گئ… توهین کے احساس سے اسکا چهره سرخ هوا تھا… گال سلگ اٹھے… “مجھے بھی کوئ شوق نهیں هے آپ کے روم میں آنے کا… بس بال لینے آگئ… اینی ویز بتانے کا بھت شکریه…” وه تلخ لهجے میں کھه کر جھٹکے سے مڑی اور تیزی سے باهر نکل گئ… جبکه کھڑکی میں کھڑے اس شخص کی نیلی آنکھوں میں ضبط کے مارے سرخی چھائ هوئ تھی… هونٹ سختی سے بھینچ رکھے تھے…
واپس آ کر سونا کا کھیلنے کو دل نهیں چاها تو وه اپنے روم میں آگئ… اسے غصے کے ساتھ ساتھ بے تحاشه رونا آ رها تھا… اس شخص کی بات پر… اس کے بات کرنے کے انداز پر… اس کے لهجے پر… مهمانوں سے کوئ ایسے پیش آتا هے بھلا… بار بار وه آوز اس کے کانوں میں گونج رهی تھی… اور احساس توهین شدت اختیار کرتا جا رها تھا… “هونهه… جیسے یه محترم ڈونلڈ ٹرمپ هو گۓ… اور میں پاکستان.. جس نے ان سے اربوں کا قرض لیا هے اور اب مجھے اپنے سامنے دیکھ کر ضبط کھو بیٹھیں گے… ایسی کی تیسی ان کے ضبط کی…” وه بڑبڑائ تھی… غصے میں اوٹ پٹانگ هی سوچے چلی جا رهی تھی… نه جانے اسے اتنا غصه کیوں آ رها تھا اس کی بات پر… ورنه بھت نرم طبیعت کی مالک تھی وه…
شاید اس لیے که اس حویلی میں موجود هر آنکھ اور دل میں اس نے اپنے لیے محبت پائ تھی… پھر اسی حویلی کے ایک فرد کی طرف سے ایسے الفاظ وه برداشت نهیں کر پا رهی تھی… “حویلی کے سب لوگ اتنے اچھے هیں… یه موصوف نه جانے کس پر چلے گۓ… هونهه کھڑوس انسان…” سونا نے سلگتے هوۓ اسے کئ القابات سے نوازا…پھر خود هی اپنی بے تکی باتوں پر هنس دی…
••••••
وه پچھلے کچھ دن بهت مصروف رها تھا… آفس کے سلسلے میں اور کچھ گھر میں… اس لیے پریشے کو بھی وقت نهیں دے پایا… لیکن آج اس کا اراده تھا پریشے کے ساتھ لمبا وقت گزارنے کا… اسی سلسلے میں اس نے پریشے کو کال ملائ… “کهاں هو پری…¿¿¿” اس نے پری سے پوچھا… “میں اس وقت ریسٹورنٹ میں… جاب پر… کیوں خیریت…¿¿¿” پریشے نے حیرت سے پوچھا… “هاں… سنو… میں تمهیں پک کرنے آ رها هوں… کهیں لے جانا هے تمهیں…” سکندر نے اسے آگاه کیا تو وه گڑبڑائ… “نهیں سکندر… باس پرمیشن نهیں دیں گے… ابھی ایک گھنٹه باقی هے ڈیوٹی میں…” اس نے اسے ٹالنا چاها تھا… اسکا موڈ نهیں تھا سکندر کے ساتھ جانے کا… “ان سے میں خود بات کر لوں گا… بس تمهیں انفارم کرنا تھا… کوئ بهانه نهیں چلے گا آج…” سکندر نے قطعیت سے کها… دوسری جانب خوشی چھا گئ… “هیلو…” سکندر نے اسے پھر سے پکارا… “اچھا ٹھیک هے میں بات کرتی هوں سر سے… آ جاؤ تم…” پریشے نے کهتے هوۓ کال ڈس کنیکٹ کر دی… سکندر سرشار سا اٹھا…
اگلے پندره منٹ میں سکندر اسکے ریسٹورنٹ کے سامنے تھا… پریشے کا نمبر ملایا هی تھا جب سامنے سے پریشے آتی دکھائ دی… لائٹ بلیو ڈریس میں… چهرے پر تھکاوٹ کے اثرات تھے… سکندر نے اتر کر اس کے لیے گاڑی کا دروازه کھولا… هلکی سی مسکراهٹ چهرے پر سجاۓ وه گاڑی میں بیٹھی… اپنی ناگواری وه سکندر پر ظاهر نهیں کرنا چاهتی تھی… سکندر نے گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی… “هم کهاں جا رهے هیں…¿¿¿” سوالیه نظروں سے اسے دیکھتے هوۓ پریشے نے اپنے بالوں میں هاتھ پھیر کر بال سنوارے… “سرپرائز هے … تمهارے لیے…” سکندر نے مسکراتے لهجے میں بتایا…تو وه خاموش هو گئ…
سکندر نے گاڑی ایک شاپنگ مال کے سامنے روکی… دروازه کھول کر باهر نکلا اور پریشے کو بھی اترنے کو کها… پریشے گومگو کی کیفیت میں تھی… شاپنگ مال میں سرپرائز…¿¿ وه حیرت سے سوچ رهی تھی… “اے… چلو نا… ایسے اسٹیچو بن کے کیوں کھڑی هو… ¿¿” سکندر نے اسکی آنکھوں کے سامنے هاتھ لهرایا… تو وه اس جے همراه آگے بڑھی… “هم یهاں کیوں آۓ هیں…¿¿¿ ” پریشے نے دوباره سے اسے پوچھا… وه اس کی ایکسائٹمنٹ کی وجه نهیں جان پا رهی تھی.. “شش… بس چپ… آج کوئ سوال نهیں… بس جو میں کهه رها هوں وه کرتی جاؤ…” سکندر نے اسے خاموش کروایا… پھر اس نے پریشے کو اپنے لیے ڈریسز سلیکٹ کرنے کو کها… تو وه نفی میں سر هلانے لگی… “کم آن یار…لڑکیوں کو اتنا کریز هوتا هے شاپنگ کا… اور تمهیں تو آفر مل رهی هے فری میں شاپنگ کی… فائده اٹھاؤ اس آفر سے… ” سکندر کے لهجے میں هلکی سے شرارت جھلکی تھی… اس کے کهنے پر پریشے نے اپنے لیے تین ڈریسز لیے… سکندر نے آگے جا کر اپنی پسند سے ایک ڈریس اس کیلیے سلیکٹ کیا… وائٹ کلر کی نیٹ سے بنی میکسی… بالکل ساده لیکن بھت خوبصورت… سکندر نے پری کو ڈریس ساتھ لگانے کو کها اور پھر اسکی آنکھوں میں ستائش ابھری تھی… اس نے سب ڈریسز پیک کرواۓ اور پے منٹ کرتا باهر آیا… پریشے نروس سی اسکے پیچھے چل رهی تھی… نه جانے کیا چل رها هے سکندر کے دماغ میں… وه انهی سوچوں میں الجھی تھی…
پھر سکندر نے اسے ایک پارلر کے سامنے ڈراپ کیا… “تمهاری اپائنمنٹ هے یهاں دس منٹ بعد کی… اور ایک گھنٹے بعد میں تمهیں یهاں سے پک کروں گا… جاؤ…” سکندر نے اسے وائٹ ڈریس پکڑایا… پری الجھی سی پارلر میں داخل هوئ… یه سب کیا هو رها هے بھلا… سکندر آج اتنا خوش کیوں هے… اور کیا سرپرائز هو سکتا هے میرے لیے… کهیں مجھے اپنے پیرنٹس سے ملوانے تو نهیں لے جا رها… نهیں نهیں… اگر ایسا هوتا تو پهلے وه مجھے بتاتا ضرور… اف خدایا کیا راز هے یه… وه کشمکش میں تھی…
••••••
ایک گھنٹے بعد سکندر اسے لینے آیا تھا… بلیک پینٹ کے ساتھ وائٹ ڈریس شرٹ پهنے… شرٹ کے اوپر بلیک کوٹ اور ٹائ تھی… تیکھے نکوش کا مالک وه بھت دلکش لگ رها تھا… پری کو پارلر سے نکل کر گاڑی کی جامب بڑھتے دیکھا تو وپ مسحور سا هو گیا… کوئ اتنا خوبصورت بھی هو سکتا هے کیا… وه بے خود سا اسے تک رها تھا… بلاشبه سفید لباس میں وه آسمان سے اتری کوئ حور لگ رهی تھی… هلکے میک اپ نے اسکے حسین چهرے کو مزید حسین بنا دیا تھا… اسے اپنی قسمت پر رشک آ رها تھا… وه گاڑی سے اترا… هونٹوں پر خوبصورت مسکان سجی تھی…گھوم کر دوسری طرف آیا اور دروازه کھول کر پری کو بیٹھنے کا اشاره کیا… پری گاڑی میں بیٹھی تو سکندر نے گاڑی آگے بڑھائ… “یو آر لکنگ سو بیوٹی فل…” سکندر نے کھلے دل سے اسکی تعریف کی… پریشے نے اضطراری انداز میں دونوں هتھیلیاں آپس میں رگڑیں… اور نظریں جھکا گئ…
سکندر بے اب گاڑی کو ایک سینیما هال کے سامنے روکا… پری نے حیران هو کر اردگرد دیکھا…
یوں اسے اتنا تیار کروا کے وه اسے سینیما هال لے کر آیا تھا… حد هی هو گئ… اس نے نے خفگی سے سر جھٹکا… سکندر نے اسکی طرف کا دروازه کھولا … اور هاتھ اسکی جانب بڑھایا… پریشے حیران هوئ… آج سے پهلے اس نے کبھی پریشے کا هاتھ تھامنے کی کوشش نهیں کی تھی… وه ایک پل کو هچکچائ پھر اپنا هاتھ اس کے هاتھ پر رکھ دیا…گاڑی سے باهر آئ…وه اس کا هاتھ تھامے هوۓ سینیما کی جانب بڑھ گیا… مین ڈور سے وه لوگ اندر داخل هوئ تو پریشے کی آنکھیں پھیل گئیں… اس نے حیرت سے سکندر کی جامب دیکھا جو مسکراتا هوا اسے هی دیکھ رها تھا اور پھر بے یقینی سے سامنے دیکھا… ان کے سامنے ایک کاریڈور تھا… جو کچھ دور جا کر ختم هو جاتا… کاریڈور میں قالین بچھا تھا اور قالین کے دونوں اطراف دیواروں کے ساتھ مناسب فاصلے پر بھت سے چھوٹے چھوٹے جلتے هوۓ دئیے رکھے تھے… رات کا وقت تھا اور راهداری میں صرف ان دئیوں کی پر فسوں سی روشنی پھیلی تھی… ان دونوں کے علاوه وهاں اور کوئ نهیں تھا… وه بے خود سی آگے بڑھنے لگی… یه سرپرائز واقعی بھت خوبصورت تھا… وه دونوں اندرونی دروازے پر پهنچے… وهاں جا کر کاریڈور ختم هو رها تھا اور آگے هال نظر آ رها تھا… جونهی انهوں نے دروازے میں قدم رکھا… بھت سی گلاب کے پھولوں کی پتیاں ان دونوں پر نچھاور هوئیں… “واؤ اٹس امیزنگ… ” پری پر شوق نظروں سے اردگرد دیکھ رهی تھی… “سکندر… یه سب… تم نے کیا… میرے لیے…¿¿¿” وه بے یقین سی سکندر کی طرف رخ کر کے پوچھنے لگی… “یس… اٹس جسٹ فار یو… مائ لیڈی…” وه اسکے سامنے تعظیما تھوڑا سا جھکا تھا ایک هاتھ سینے پر رکھے… اس کے اس انداز پر پریشے کھلکھلائ…
” ملکه خوش هوئ…” ایک ادا سے کها گیا تھا… “نوازش… ملکه عالیه…” سکندر بے بھرپور نظروں سے اسکے جگمگاتے چهرے کو دیکھا… وه پھر سے هنسی… “آگے چلیں… اور بھی بھت سی چیزیں هماری منتظر هیں…” سکندر نے کهتے هوۓ قدم بڑھاۓ… پریشے بھی اسکے همراه چلنے لگی… هال میں داخل هوۓ تو پریشے نے اردگرد مظر دوڑائ… پورے هال میں اندھیرا چھایا تھا… بالکل خالی تھا هال… پرسکون… خاموش… ان کی آهٹ بھی واضح سنائ دے رهی تھی… سامنے اسکرین تھی جو تاریک تھی… اسکرین کے آگے اسٹیج بنا تھا… اسٹیج کے چاروں طرف بھی دئیے جلا کر رکھے گۓ تھے جبکی درمیان میں سفید روشنی کا ایک دائره سا تھا… بس اتنی سی روشنی تھی وهاں… سکندر پریشے کو اسٹیج پر لے آیا… پس منظر میں جادوئ سا, مدھم سا, دل پر چھاتا ہوا میوزک بج رہا تھا….
سکندر نے اس کی جانب هاتھ بڑھایا… “گو می یور لیفٹ هینڈ…” نرمی اور محبت بھرے لهجے میں کها گیا… پریشے نے اپنا هاتھ اس کے هاتھ پر رکھا… وه دونوں اس وقت روشنی کے اس سفید دائرے میں کھڑے تھے… چاندنی جیسی سفید روشنی…
سکندر نے پاکٹ سے ایک چھوٹی سے ڈوری نکالی… اور اسے پریشے کے بائیں هاتھ کی تیسری انگلی پر باندھا… پریشے ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی… پھر سکندر نے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک ڈبیا نکالی… چھوٹی سی ڈبیا… ڈبیا دیکھ کر پریشے بھرپور انداز میں مسکرائ… وه جان گئ تھی که آگے کیا هونے والا هے… سکندر نے ڈبیا سے ایک خوبصورت سی ڈائمنڈ رنگ برآمد کی… ڈوری کو کناره اس رنگ میں سے گزارا اور ڈوری کو اوپر کی جانب کیا… ڈوری ڈھلوانی شیپ میں هوئ تو رنگ خودبخود پھسلتی هوئ پریشے کی انگلی میں چلی گئ… پریشے بے آختیار هنسی تھی… واؤ… لبوں سے برآمد هوا تھا…”شش” سکندر نے اسے چپ کروا دیا…. ڈوری کھولی….. پھر گھٹنے کے بل اس کے سامنے بیٹھا… هاتھ میں گلاب تھا… جو پریشے کی طرف بڑھا رکھا تھا… “ول یو میری می…¿¿¿” محبت سے پوچھا گیا… پریشے هنسی اس پاگل پن په… “یس… آفکورس…” اس نے پھول کو تھام لیا… “تھینک یو سو مچ… پرپوزل ایسیپٹ کرنے کیلیے… اور میری لائف میں آنے کیلیے…” سکندر مسکراتا هوا اٹھا… “اینڈ تھینک یو سو مچ… اتنا اچھا سر پرائز دینے کیلیے… ” پریشے بھی اسی کے انداز میں بولی… “ویسے پرپوز کرنے کا طریقه کافی اچھا تھا… آئ لائک اٹ…” اس نے اپنے هاتھ میں موجود رنگ پر هاتھ پھیرا…
“هاهاها… یه سب میرے دوست کا کمال هے… اسی نے آئیڈیا دیا تھا یه… رنگ پهنانے کا طریقه…. اور یه طریقه اس نے ایک مووی میں دیکھا… وه بضد تھا که میں تمهیں ایسے هی رنگ پهناؤں…” سکندر نے هنستے هوۓ اسے بتایا… تو پریشے بھی مسکرائ…
سکبدر اسٹیج سے نیچے اترا اور پریشے کا هاتھ پکڑ کر اسے اترنے میں مدد دی… اسکے هر هر انداز سے ریسپیکٹ, عزت و احترام جھلک رها تھا… سکندر نے اسے سامنے پڑی چئیرز میں سے ایک پر بٹھایا اور ساتھ والی چئیر پر خود بیٹھ گیا… “دئیر از این ادر سرپرائز فار یو مائ ڈئیر…” اس نے مسکراتے هوۓ کها… تبھی اسکرین روشن هوئ تھی… اور اسکرین کو دیکھ کر پریشے کو پھر سے حیرت کا جھٹکا لگا… سامنے اسکرین پر اسکی تصویریں ابھر رهی تھیں… بھت سی تصویریں… اس کے هر انداز… چهرے کے مختلف تاثرات… وه حیرت سے سکندر جو دیکھنے لگی… پھر اسکرین کو دیکھا… کر تصویر میں اسکا انداز الگ تھا… کپیں هنس رهه تھی, کهیں سنجیده… کهیں شرارتی مسکراهٹ لبوں پر… کپیں خفا سی صورت… اس کے چهرے کو بے خودی سے تکتے سکندر کی تصویریں… ان دونوں کی ایک ساتھ لی گئ کئ تصویریں… “اٹس امیزنگ…” پریشے بڑبڑائ تھی… وه آج واقعی خوش تھی… بے تحاشه خوش… آج اسے سکندر کے دل میں اپنے مقام کا اندازه هوا تھا… اور اپنی منزل بھت قریب نظر آ رهی تھی…
Episode 12
رات دس بجے کا وقت تھا… سونا روم میں لیٹی تھی.. هاتھ میں موبائیل تھا جس میں وه تصویریں دیکھ رهی تھی… اپنی اور اپنی دوستوں کی تصویریں… بابا کے ساتھ اس کی تصویریں… ساره کے بھائ کی شادی پر لی گئ سیلفیز… ٹرپ کے دوران مختلف مقامات پر لی گئ تصویریں… وه تصویریں دیکھتے هوۓ ذیر لب مسکرا رهی تھی… ان چاروں کی شرارتیں یاد آ گئ تھیں… وه پرانے مناظر میں کھو سی گئ… تبھی دروازے پر دستک هوئ… وه سیدھی هو کر بیٹھی… اس وقت کون آ گیا… بڑبڑائ اور پھر اندر آنے کو کها… دروازه کھلا اور عبدالهادی روم میں داخل هوۓ… “کیا کر رهی هو سونا… میں نے ڈسٹرب تو نهیں کیا اپنی گڑیا کو…” وه چلتے هوۓ بیڈ کی جانب آۓ اور سونا کے مقابل بیٹھ گۓ… “ارے نهیں بابا… ایسی کوئ بات نهیں… میں بس پکس دیکھ رهی تھی…” سونا نے موبائیل کو سائڈ پر رکھا اور ان کی جانب متوجه هوئ… “کیسا لگ رها هے یهاں آ کر…¿¿ بور تو نهیں هوتی… کیسے لگے حویلی کے افراد… ¿¿¿” عبدالهادی نے عام سے لھجے میں سوال کیا… “بھت اچھے هیں سب بابا… بھت محبت کرنے والے… پر خلوص…” سونا نے دل سے ان کی تعریف کی… عبدالھادی مسکراۓ… “آپ تو یھاں آ کر مجھے بھول هی گۓ هیں بابا… اپنی فیملی مل گئ تو اب بیٹی کو بھی ٹائم نهیں دیتے…” سونا کا انداز شکایتی تھا… “ارے نهیں بیٹا… میں تمهیں کیسے بھول سکتا هوں… بس بھائ صاحب کے ساتھ زمینوں کی طرف چلا جاتا تھا…اور پھر تمهارے ساتھ شائسته, نادیه اور عائشه بھی تو تھیں… ان کے ساتھ انجواۓ نهیں کیا…¿¿¿” عبدالھادی نے نرم سا لهجه اپنایا… “وه تو تھیں… لیکن آپ کی کمی کوئ پوری تو نهیں کر سکتا نا…” سونا نے منه بسورا… عبدالهادی کے چهرے پر مسکراهٹ بکھری… “آؤ نیچے لان میں چلتے هیں… باپ بیٹی کچھ وقت ساتھ گزاریں گے…اور تم سے کچھ ضروری بات بھی کرنی هے…” وه اٹھ کھڑے هوۓ… سونا بھی ان کی بات پر اٹھی اور دونوں باهر کی جانب بڑھ گۓ.
باہر لان میں اندھیرا چھایا تھا… ایسے میں فوارے کے گرد لگی ننھی نھنی سی لائٹیں اپنی مدھم روشنی سے اندھیرا مٹانے کی کوشش کر رہی تھیں…سونا اپنے بابا کے ساتھ ایک بینچ پر بیٹھی تھی… دونوں کی نظریں سامنے فوارے پر جمی تھیں… سونا منتظر تھی کہ عبدالہادی اپنی بات اسٹارٹ کریں… جبکہ عبدالہادی اس سوچ میں گم تھے کہ کن الفاظ میں سونا سے اپنی بات کہیں…آج پہلی بار وہ سونا سے کوئ بات کہتے ہوۓ ہچکچا رہے تھے…پھر گہری سانس لی اور گویا ہوۓ… “سونا…تم سے ایک بات پوچھنی تھی… “نظریں بدستور فوارے پر جمی تھیں… سونا نے گردن گھما کر ان کی جانب دیکھا… پھر نظریں واپس فوارے پر جما دیں… ” جی پوچھیں بابا…” وہ حیران سی تھی کہ أج بابا اتنے کنفیوز کیوں ہیں… “دیکھو بیٹا… تمہاری ماما زندہ ہوتیں تو آج وہ تم سے یہ بات کرتیں… لڑکیاں اپنی فیلنگز ,اپنے جذبات و احساسات باپ سے زیادہ ماں سے کھل کر شئیر کر پاتی ہیں… لیکن اب مجھے تم سے یہ سب باتیں کرنا پڑ رہی ہیں… سنو! تم مجھے اس وقت ایک باپ کی بجاۓ اپنی ماں اور بیسٹ فرینڈ سمجھ کر اپنے دل کی بات سچ سچ بتانا…ہچکچانا نہیں… جھجھکنا اور ڈرنا بھی نہیں…تمہارا فیصلہ… تمہاری خواہش میری لیے ہر صورت میں مقدم ہو گی… سمجھ رہی ہو میری بات… ” سونا نے ان کی بات پر رخ ان کی جانب موڑا…اور ان کی آنکھوں میں جھانکا… “بابا… ایسی کیا بات ہے جو آپ کو اتنی لمبی تمہید باندھنی پڑ رہی ہے…اور آپ جانتے ہیں نا اچھی طرح…کہ میں آپ سے اپنے دل کی ہر بات شئیر کر لیتی ہوں… بلا جھجھک…پھر اب کیوں آپ کو ایسا لگ رہا ہے کہ میں اپنی فیلنگز آپ کے ساتھ شئیر نہیں کروں گی… ¿¿¿” اس نے نرمی سے بابا کا ہاتھ تھام کر اپنی ہتھیلی پر رکھا اور دوسرا ہاتھ بھی ان کے ہاتھ پر رکھ دیا…
حوصلہ افزا انداز میں ان کی جانب دیکھا تا کہ وہ ایزی ہو کر اپنی بات کہہ سکیں… عبدالہادی نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا… “میرے بچے… میں اچھی طرح جانتا ہوں یہ سب…لیکن یہ بات ہی ایسی ہے کہ جس پر ہر لڑکی جھجھک جاتی ہے…خیر میں موضوع کی جانب آتا ہوں…” انہوں نے سونا کی آنکھوں میں دیکھا جہاں ڈھیروں سوالات تھے… “سونا… تمہیں کوئ پسند تو نہیں ہے نا… آئ مین… تم کسی میں انٹرسٹڈ تو نہیں ہو… ایز آ لائف پارٹنر…¿¿¿” انہوں نے نرمی سے اپنا سوال اس کے سامنے پیش کیا…سونا پہلے تو ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھتی رہی جیسے ان کی بات سمجھ نہ پائ ہو… پھر جب سوال سمجھی تو بے اختیار نظریں جھکا گئ… چہرے پر سرخی چھائ تھی… وہ خاموش ہو گئ… تصور میں کہیں دو نیلی آنکھیں ابھری تھیں… حسین ترین نیلی آنکھیں… “بتاؤ بیٹا…آج تم کھل کر اپنے دل کی بات کر سکتی ہو مجھ سے… ایک دوست سمجھ کر… اور یقین رکھو… میرے لیے تمہارا فیصلہ سب سے آگے ہو گا…” عبدالہادی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دینا چاہا…سونا نے تصور میں ابھرتی ان نیلی آنکھوں کو جھٹکا… “
وہ میری قسمت میں کہاں ” سونا نے سوچا اور سر اٹھا کر عبدالہادی کی جانب دیکھا…
“بابا اگر ایسا کچھ ہوتا تو میں ضرور آپ سے شئیر کرتی…لیکن میری لائف میں ایک آپ کے سوا کوئ مرد نہیں ہے… اور میں کسی میں انٹرسٹڈ کیسے ہو سکتی ہوں…وہ بھی کسی نامحرم میں… جب آپ نے میری تربیت ہی ایسی نہیں کی… مجھے آپ کی اور اپنی عزت کا بہت خیال ہے…اور میں کبھی بھی کوئ ایسا قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتی جس سے آپ کی عزت, آپ کے مان کو ٹھیس پہنچے…” سونا نے بہت سادہ اور پروقار طریقے سے اپنی بات ان تک پہنچائ…عبدالہادی مسکرا دیے… “تو کیا ایک اجازت مل سکتی ہے…¿¿¿” عبدالہادی نے بشاش سے لہجے میں سونا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا…سونا کی آنکھیں پھیلیں… چہرے پر خفگی ابھری… “بابا… آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں… آپ کو بھلا مجھ سے کسی بات کیلیے اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے…” لہجہ بھی خفا سا تھا…عبدالہادی اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر کھل کر مسکراۓ…سونا نے چہرہ پھیر لیا… خفگی کا اظہار… “ارے سنو تو میری بات… ” عبدالہادی نے اس کا چہرہ اپنی جانب موڑا…سونا کچھ پل خاموش رہی پھر بولی…”جی کہیے..” عبدالہادی بھی سنجیدہ ہوۓ… “بیٹا… کیا مجھے یہ حق مل سکتا ہے کہ میں تمہارے لیے لڑکا ڈھونڈوں…¿¿¿ تمہارا رشتہ اپنی مرضی سے طے کر سکوں… ¿¿¿” عبدالہادی نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا… سونا کے دل میں ان کیلیے عزت و اخترام کچھ اور بڑھ گیا… لوگ تو بیٹیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح رخصت کر دیتے تھے… ان سے پوچھنا تو دور بتانا تک گوارا نہیں کیس جاتا تھا…لیکن اسے فخر ہوا اپنے بابا پر…جنہوں نے کبھی کوئ چیز, کبھی کوئ بات اس پر زبردستی مسلط نہیں کی تھی.. ہر فیصلے میں اس کی راۓ لیتے تھے…
“بابا… یہ حق شروع سے آپ کا تھا…آپ کا ہے… اور آپ کا ہی رہے گا…ماں باپ اولاد کو پیدا کرتے ہیں… پڑھاتے لکھاتے ہیں…پرورش کرتے ہیں…اتنا بڑا کرتے ہیں…تو کیا اس کے بدلے اولاد انہیں اتنا بھی حق نہیں دے سکتی کہ وہ اپنی مرضی سے ان کا رشتہ طے کر سکیں…ہم لڑکیاں تو نادان ہوتی ہیں بابا.. ہمیں اچھے برے لوگوں کی پہچان کہاں… لیکن ماں باپ نے تو ایک عمر گزاری ہوتی ہے…ان کے پاس تجربہ ہوتا ہے لوگوں کو پرکھنے کا… اور کوئ بھی پیرنٹس اپنی اولاد کیلیے کبھی غلط فیصلہ نہیں کر سکتے.. کبھی اپنی اولاد کا برا نہیں چاہ سکتے… اینڈ بلیو می بابا…آپ میرے لیے جو بھی فیصلہ کریں گے مجھے دل و جان سے قبول ہو گا… کیونکہ مجھے آپ پر بھروسہ ہے… آپ کی محبت پر اعتماد ہے…” سونا نے تفصیل سے کہتے ہوۓ ان کے ہاتھوں کو تھام کر آنکھوں سے لگایا… یہ ان کیلیے عقیدت اور محبت کا اظہار تھا… عبدالہادی نے فرط جذبات سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا… ” جیتی رہو میری گڑیا… مجھے تم پر فخر ہے… تم رشتوں کا مان رکھنا جانتی ہو… ” سونا مسکرائ…
“اچھا سنو…ابھی سب سے اہم بات بتانے جا رہا ہوں میں…” عبدالہادی نے سسپنس پھیلاتے ہوۓ ڈرامائ انداز میں کہا… سونا کھلکھلائ…”عرض کیجیے حضور…” شرارتی لہجے میں کہا گیا…پھر دونوں ہنس دیے…کچھ دیر کے توقف سے عبدالہادی پھر گویا ہوۓ… “سونا…تمہارے تایا جی نے اپنے چھوٹے بیٹے شاہ زیب کا رشتہ پیش کیا ہے تمہارے لیے…” عبدالہادی نے بڑے آرام سے دھماکہ کیا…سونا بے یقینی سے ان کی جانب دیکھنے لگی… ذہن میں وہ کھڑوس انسان… اس کی بات… اسکا انداز ابھرا تھا… اور اپنی توہین بھی… وہ خاموش ہو گئ… جبکہ عبدالہادی کہہ رہے تھے… ” پچھلے کچھ عرصے سے میں بہت پریشان تھا سونا…جانتی ہو لوگ بیٹیوں کے پیدا ہونے سے نہیں ڈرتے… لوگ ڈرتے ہیں تو بیٹیوں کے نصیب سے… مجھے بھی بہت ڈر لگنے لگا تھا… آخر تمہیں کسی کے ساتھ تو وداع کرنا تھا نا… یہی سوچ بار بار ڈراتی کہ میں نے اپنی گڑیا کو اتنے لاڈ پیار سے پالا ہے…نہ جانے آگے سسرال میں کیسے لوگوں سے واسطہ پڑے گا…” عبدالہادی کے لہجے میں اداسی گھل گئ… سونا خاموشی سے ہتھیلیاں مسلتی انہیں سن رہی تھی…
“جب میں پہلی بار یہاں آیا تو شاہزیب سے ملا تھا…پہلی ہی ملاقات میں وہ مقابل کو اپنا دیوانہ بنا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے… میں بھی امپریس ہوا تھا اس سے…اس جیسے لڑکے شاذونادر ہی ہوتے ہیں… پھر بعد میں بھی اس سے میری کئ ملاقاتیں ہوئیں…مجھے اسکا ہر انداز پسند آیا… اٹھنے بیٹھنے, کھانے پینے, چلنے پھرنے, بات کرنے کے انداز میں وقار جھلکتا ہے…بلاشبہ وہ جس کا بھی نصیب ہوگا وہ لڑکی بہت خوش نصیب ہو گی… شاہزیب سے مل کر, اسے دیکھ کر میرے دل نے بہت چپکے سے یہ دعا کی تھی کہ کاش یہ میری بیٹی کا نصیب بن جاۓ… لیکن میں خود بھائ صاحب کے سامنے دامن نہیں پھیلا سکتا تھا… بیٹی کا باپ جو ٹہرا… لیکن چند روز پہلے بھائ صاحب اور بابا سائیں نے مجھ سے تمہارا رشتہ مانگا شاہزیب کیلیے… میں سن کر شاکڈ رہ گیا کہ دعائیں ایسے بھی قبول ہوتی ہیں کیا… بے شک رب ہمارے دلوں کے بھید خوب جانتا ہے… اس نے میری بھی سن لی… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شاہزیب نے تمہیں خود پسند کیا… اس کے کہنے پر ہی بھائ صاحب نے یہ رشتہ پیش کیا… میں نے ابھی ان سے وقت مانگا ہے… وہ جلد از جلد ہمارا جواب جاننا چاہتے ہیں… لیکن مجھے تم سے بات کرنی تھی… تمہاری رضا کے بغیر میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا تھا… مجھے تو شاہزیب تمہارے لیے ہر طرح سے پرفیکٹ لگا ہے… تم بھی اس سے مل چکی ہو گی… بتاؤ تمہاری کیا راۓ ہے… تمہاری کیا مرضی ہے…¿¿¿ اور سنو… تمہارا جو بھی فیصلہ ہو گا میں تمہارے ساتھ ہی ہوں گا… ” عبدالہادی نے بات مکمل کر کے اسکی جانب دیکھا… سونا کے چہرے پر الجھن تھی… “بابا… ابھی آپ نے کہا کہ شاہزیب نے مجھے خود پسند کیا اور اسکی خواہش پر ہی تایا جی نے آپ سے یہ بات کی… لیکن شاہزیب نے مجھے کہاں دیکھا…” وہ سوالیہ نگاہوں سے ان کی طرف دیکھے گئ.. “معلوم نہیں بیٹا… کہیں دیکھا ہو گا اس نے تمہیں… ” سونا کے ذہن میں پھر سے وہ ملاقات تازہ ہوئ… شاہزیب کے کمرے میں جب وہ بال لینے گئ تھی… شاہزیب کے انداز کچھ اور کہتے تھے اور ابھی بابا کچھ اور بتا رہے تھے… الجھن کا کوئ سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا… وہ کشمکش میں مبتلا ہوئ کہ کیا جواب دے… بابا کے چہرے پر اس وقت بے تحاشہ خوشی تھی… وہ اس خوشی کو برباد نہیں کرنا چاہتی تھی… لیکن اس کھڑوس سے شادی…اف… اتنے عرصے بعد بابا کے اپنی فیملی سی تعلقات بہتر ہوۓ تھے… ان کی وہ خوشی, وہ سرشاری اس سے چھپی تو نہیں تھی نا…اور یہ رشتہ تایا جی اور دادا جی نے پیش کیا تھا… انکار کی صورت میں کہیں وہ پھر سے بابا سے اپنا رشتہ ختم نہ کر لیں… سونا کے انکار کا اثر بابا اور ان کی فیملی کے ریلیشن شپ پر پڑ سکتا تھا.. اور وہ بابا کو پھر سے تنہا نہیں کرنا چاہتی تھی… شاہزیب کے حوالے سے اس نے خود کو یہ سوچ کر مطمئین کرنے کی کوشش کی کہ پہلی ملاقات پر ہی کسی کو جج نہیں کیا جسلا سکتا کہ وہ کیسا ہے … کسی کو سمجھنے کےلیے اسے وقت دینا پڑتا ہے… ہو سکتا ہے جیسا سونا نے اسے سمجھا ویسا نہ ہو… آخر اسکی تربیت بھی تو اس گھر میں ہی ہوئ تھی پھر وہ اس گھر کے لوگوں سے مختلف کیسے ہو سکتا ہے… سونا خود سے ہی الجھتی رہی پھر بابا کی طرف دیکھا… وہ پرامید نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہے تھے… اس نے ایک پل میں فیصلہ کیا تھا ان کی امید کو نا توڑنے کا فیصلہ… ” بابا اگر آپ کو شاہزیب اتنا پسند آیا ہے میرے لیے… پرفیکٹ لگا ہے ہر لحاظ سے… تو آپ ہاں ہر سکتے ہیں… مجھے کوئ اعتراض نہیں… آپ نے جو بھی سوچا میرے لیے بہتر ہی سوچا ہو گا… مجھے آپ کا ہر فیصلہ منظور ہے…” کہہ کر وہ نظریں جھکا گئ… دل کی دہائیوں, اور بار, بار آنکھوں کے سامنے ابھرتی ان نیلی آنکھوں کو نظر انداز کر دیا… بہر حال اس کے لیے اپنے بابا سے بڑھ کر کچھ بھی عزیز نہیں تھا… اپنا دل بھی نہیں.
_______
سکندر اور پریشے اس وقت پارک میں بیٹھے تھے… اسی پارک میں جہاں پریشے نے پہلی بار سکندر کو ملنے کے لیے بلایا تھا…
“میری مانو کیسی ہے اب…¿¿” پریشے نے سکندر سے پوچھا… نظریں سامنے کچھ فاصلے پر کھیلتے بچوں پر جمی تھیں… ” اب تو کافی بہتر ہے…” سکندر نے مسکرا کر جواب دیا…
دو دن پہلے وہ دونوں ہلانگ ڈرائیو کیلیے نکلے تھے…تبھی پریشے نے ایک دم سکندر کو گاڑی روکنے کو کہا… سکندر نے جلدی سے بریک پر پاؤں رکھا اور سوالیہ نظروں سے پریشے کو دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ کیا ہوا… ریشے جلدی سے گاڑی سے اتری اور پیچھے کی جانب بھاگی… سکندر حیران سا اس کے پیچھے ہی چلا آیا… یہ سوچتے ہوۓ کہ اچانک کیا ہوا پری کو… قریب جا کر دیکھا تو روڈ کی سائیڈ پر ایک بلی تھی… جس کی ٹانگ زخمی تھی… اور پریشے نے جاتے ہی اسے گود میں اٹھایا… اس کے چہرے پر پریشانی تھی… اس نے غور سے بلی کی ٹانگ کو دیکھا… بلی درد کی وجہ سے عجیب و غریب آوازیں نکال رہی تھی… “بے حس ظالم لوگ… بے زبان جانوروں کو بھی اپنی گاڑیوں تلے کچل کر رکھ دیتے ہیں…” وہ مسلسل بلی کی جانب متوجہ تھی… اسے شروع سے ہی بلیاں بہت پسند تھیں… اور یہ بلی تو تھی بھی بہت خوبصورت.مم بڑے بڑے سفید بالوں والی… سکندر خاموشی سے کھڑا پریشے کے چہرے کے تاثرات ملاحظہ کر رہا تھا..
اسے فخر ہو رہا تھا اپنی محبت پہ… کہ جو اتنی نرم دل تھی کہ جانور کی تکلیف پر بھی تڑپ اٹھی تھی… تبھی پریشے نے چٹکی بجا کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا… ایک ہاتھ سے بلی کو اٹھا رکھا تھا… “میں پوچھ رہی ہوں کہ گاڑی میں فرسٹ ایڈ باکس ہے کیا…¿¿¿ اس کی ٹانگ پر بینڈیج کر دیتے ہیں… بے چاری کیسے تڑپ رہی ہے تکلیف سے…” سکندر نے اسکی بات پر سر اثبات میں ہلایا… “ہاں ہے… آؤ..” کہہ کر وہ گاڑی کی جانب بڑھ گیا… دونوں نے اسکی مرہم پٹی کی… پھر سکندر اسے اپنے گھر ہی لے گیا… گھر جا کر ایک ملازم کو اس بلی کا خیال رکھنے کا کام سونپا… ان دو دنوں میں اسے بھی انسیت سی ہو گئ تھی اس سے… جس کیلیے پری اتنی پریشان تھی وہ اسکا خیال کیوں نہ کرتا… اسے کیسے سڑک پر یوں مرنے کو چھوڑ دیتا…ابھی بھی پریشے اسی بلی کے بارے میں پوچھ رہی تھی…
سکندر نے گلا کھنکارا… “پریشے تم سے ایک بات کرنی تھی…” سکندر نے بات شروع کی… پریشے نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے نگاہ بچوں پر جما دی.. “کہو…” اجازت دی گئ تھی… “سنڈے کو میرے پیرنٹس آ رہے ہیں نیو یارک… سو میں تمہیں اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں ان سے ملوانے…اور وہاں ایک بہت خوبصورت سرپرائز بھی تمہارا منتظر ہے…” سکندر نے مدعا بیان کیا… پریشے ایک دم گڑبڑائ… “لیکن سکندر…” اس نے کوئ بہانہ بنانا چاہا…. ” لیکن ویکن کچھ نہیں پری… میں سمجھ نہیں پا رہا… جب ذندگی ساتھ گزارنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر اعتراض کیسا… آخر دیر کرنے کی وجہ کیا ہے… یہ ہچکچاہٹ یہ انکار کیوں…¿¿¿” سکندر آج طے کر کے آیا تھا کہ پری کو ہر حال میں منا کر ہی دم لے گا… “سکندر…میں کنفیوزڈ ہوں… ڈر لگتا ہے… نہ جانے وہ مجھے قبول کریں گے یا نہیں… کہیں انکار ہی نہ کر دیں… میں ڈرتی ہوں تمہیں کھونے سے…” پری نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوۓ کہا… جبکہ دل ہی دل میں وہ پریشان ہو چکی تھی… سکندر کے انداز سے جان گئ تھی کہ اب کی بار وہ اس کے انکار کو کوئ اہمیت نہیں دے گا… “کیوں نہیں کریں گے قبول تمہیں…تم میری پسند ہو پری… اور میری پسند کو وہ کبھی ریجیکٹ نہیں کریں گے…” سکندر نے نرمی سے اسے سمجھانا چاہا… “لیکن سکندر…تمہارے اور میرے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے… وہ کیسے ایک ایسی لڑکی کو اپنی بہو کے طور پر قبول کریں گے جو ان کے ہم پلہ نہ ہو… جس کے ماں باپ , کوئ رشتہ دار اس کے ساتھ نہ ہو…” پری نےایک اور عذر تراشنا چاہا… وہ کسی بھی طرح سکندر کو ٹالنا چاہتی تھی بس… جو ایک معمولی سی جاب کرتی ہو”وہ سب تم مجھ پر چھوڑ دو… میں خود ہینڈل کر لوں گا… ڈونٹ وری… بس اس سنڈے تم میرے ساتھ جا رہی ہو میرے گھر… اینڈ اٹس فائنل… ” سکندر نے بات ختم کرتے ہوۓ کہا… پریشے لب بھینچ ہر رہ گئ.
•••••••
پریشے اس وقت سیم کے فلیٹ میں موجود تھی…سکندر کی آج کی باتوں نے اسے ٹینس کر دیا تھا… وہ ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتی مضطرب سی صوفہ پر بیٹھی تھی… تبھی سیم اندر داخل ہوا… “کیسی ہو بے بی…¿¿¿” سیم نے چمکتی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتے ہوۓ پوچھا… “ٹھیک ہوں..” مدھم سے لہجے میں جواب دیا گیا تھا… سیم نے اس کے ساتھ رکھے دوسرے صوفہ پر بیٹھتے ہوۓ بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھا… “کیا ہوا…¿¿ کچھ پریشان سی لگ رہی ہو… سب خیریت تو ہے نا… ” پریشے نے اس کی بات پر سر اٹھایا… ” ہاں پریشان ہوں… سیم …سکندر مجھے مسلسل شادی کے لیے فورس کر رہا ہے… تمہارے مائنڈ میں کیا ہے اب… کب تک اس سب ڈرامے کو ختم کرنے کا ارادہ ہے.. پلیز میں مزید یہ سب نہیں کر سکتی… جتنا جلد ہو سکے میری جان چھڑاؤ اس سے…” وہ روہانسی ہوئ تھی… “ریلیکس یار….کیا ہو گیا ہے….. ” سیم کا لہجہ ابھی بھی پرسکون تھا… “سیم… وہ اس سنڈے مجھے اپنے پیرنٹس سے ملوانے لے جا رہا ہے… میں نے بہت کوشش کہ ٹالنے کی بٹ اب وہ میری نہیں سنے گا… اور میں اس سب جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتی… مجھے نہیں ملنا اسے کے پیرنٹس سے…تمہیں جو بھی کرنا ہے جلدی کرو بٹ اس سب کو ختم کرو اب…” اس کی بات پر سیم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی.. شاطرانہ مسکراہٹ… “اوہ… مطلب اس ڈرامے کے ڈراپ سین کا وقت آ گیا ہے اب… ڈونٹ وری جان… تمہیں اس کے پیرنٹس سے ملنا نہیں پڑے گا… اب بہت جلد اس کھیل کا اور سکندر صاحب کا دی اینڈ کر دیا جاۓ گا… ” وہ کمینگی سے بولا تھا… آنکھوں میں شیطانی مسکراہٹ تھی… اس کی بات سن کر پریشے کا دل ایک لمحے کو کانپا…” تم کیا کرنے والے ہو سیم… تمہیں نہیں لگتا کہ ہم یہ سب غلط کر رہے ہیں… مم… میرا مطلب… سکندر ایک بہت اچھا انسان ہے… مخلص…یوں اسے دھوکا دینا.. کیا یہ ٹھیک ہے…¿¿” پریشے الجھی سی بولی تھی… سیم نے اسکی بات پر غور سے اسکی طرف دیکھا… “اوہ کم آن ڈارلنگ… یہ جو امیر لوگ ہوتے ہیں نہ… ان کی دولت ہی ان کی دشمن ہوتی ہے… اور پھر وہ اتنی دولت کا کیا کرے گا… قبر میں تھوڑی لے جاۓ گا… ہمارا بھی تو حق بنتا ہے نہ اسکی دولت پر تھوڑا سا…بس ایک بار ہمارا پلان کامیاب ہو جاۓ… پھر یہاں سے کہیں دور چلے جائیں گے..م شادی کریں گے… تم ہو گی میں ہوں گا اور پیسہ ہو گا….عیش کریں گے عیش…” وہ اسے سہانے خوب دکھا رہا تھا… پریشے خاموش رہی تو وہ اس کی طرف دیکھنے لگا.. “اس کے ساتھ رہ کر کہیں تم بھی تو اس سے محبت نہیں کر بیٹھی…¿¿” سیم نے گھٹیا انداز میں آنکھ دبائ اور دوبارہ سے ہنسنے لگا…پری نے خفگی سے اسکی جانب دیکھا… “محبت صرف ایک بار ہوتی ہے… اور میں تم سے کر چکی ہوں محبت… تمہارے سوا کسی اور کی گنجائش نہیں میری ذندگی میں…” خفا سے لہجے میں کہا گیا.. “اوہ… سو سویٹ بے بی… چلو اسی خوشی میں آج کا ڈنر میری طرف سے… ” اس نے مسکراتے ہوۓ کہا… پریشے بھی پھیکا سا مسکرائ… دل میں کچھ کھٹک رہا تھا… کوئ احساس جرم… بے چینی اضطراب… لیکن اس نے اپنے ضمیر کی آواز کو نظر انداز کر دیا۔
