Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Last updated: 2 June 2026
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor
وه اپنے ماما بابا کی اکلوتی اولاد تھی... اس کے مامابابا نے لو میریج کی تھی... اور جیسا همیشه سے هوتا آ رها هے... ان دونوں کے گھر والے اس شادی کیلیۓ راضی نهیں تھے... دونوں پر بھت پابندیاں لگائ گئیں... لیکن وه دونوں ایک دوسرے کے بغیر رهنے کو تیار نهیں تھے... اور نه هی پیچھے ھٹنے والوں میں سے تھے... اتنی مخالفت کے باوجود دونوں نے ایک دوسرے کو اپنایا اور شادی کر لی... سزا کے طور پر دونوں کے گھر والوں اور سبھی رشته داروں نے ان سے قطع تعلق کر لیا... دونوں نے اپنے اپنے گھر والوں سے معافی بھی مانگی اور ان کے اس رشتے کو قبول کرنے کی درخواست بھی کی لیکن وه سب اس رشتے کو قبول کرنے کو تیار نه تھے... ان سے ملنے کی شرط یهی رکھی گئ که وه دونوں اس نیۓ رشتے اور تعلق کو همیشه کیلیے توڑ دیں...
بھت کوششوں کے باوجود جب دونوں کے گھر والے ان کے اس رشتے کو اپنانے کو تیار نه هوۓ تو سونا کے بابا عبدالهادی اس کی ماما کو لے کر شهر آ گۓ اور یهاں چھوٹا مگر خوبصورت سا آشیانه بنا لیا... عبدالهادی نے اپنے ایک دوست کی مدد سے اپنا الگ کاروبار شروع کر لیا جو کامیاب رها اور یوں زندگی کی گاڑی چلنے لگی... پھر ان کی زندگی میں سونا آئ... انهوں نے ایک بار پھر گھر والوں کو منانے کی کوشش کی لیکن ناکام هوۓ... پھر انهوں نے کوشش چھوڑ دی اور اپنی زندگی میں, اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ مگن هو گۓ...
خدا کو نه جانے کیا منظور تھا که سونا جب چار سال کی تھی تب اسکی ماما ایک رات دل کی دھڑکن رک جانے کی وجه سے موت کا شکار هو گئیں... سونا اور اسکے بابا اکیلے ره گۓ... کافی عرصه تو عبدالهادی اس صدمے سے سنبھل نه سکے...لیکن پھر سونا کیلیۓ انهوں نے خود کو سنبھالا... ایسے کٹھن حالات میں ان کے دوست اور بزنس پارٹنر نے بھی ان کا بھت ساتھ دیا... اور بالآخر زندگی پهر سے ٹریک پر آ گئ... سونا آهسته آهسته بڑی هونے لگی... عبدالهادی اسے دیکھ کر جینے لگے... انهوں نے دوباره شادی نهیں کی... وه سونا کو سوتیلی ماں کے حوالے نهیں کرنا چاهتے تھے...
انهیں اپنی بیٹی بھت عزیز تھی... اور اب وهی ان کی زندگی کا مرکز تھی... مالی حالات بھت اچھے نهیں تھے لیکن برے بھی نهیں تھے... انهوں نے سونا کی پرورش بھت اچھے طریقے سے کی... اسے اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائ... اسکی هر خواهش کو پورا کیا... سونا کو یاد نهیں تھا که اسنے کبھی اپنے بابا سے کوئ فرمائش کی هو اور انهوں نے پوری نه کی هو... دونوں کے درمیان باپ بیٹی سے زیاده دو دوستوں کا رشته تھا... دونوں اپنی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی ایک دوسرے سے شئیر کرتے...
سونا سے اسکے بابا نے اپنے ماضی کی کوئ بات نهیں چھپائ تھی...
اسے بتایا گیا تھا که اسکی ماما اپنے پیرنٹس کی اکلوتی اولاد تھیں... اسکے نانا نانی اب وفات لا چکے تھے... جبکه سونا کے بابا عبدالهادی کے ایک بڑے بھائ تھے جن کی ان سے پهلے هی شادی هو چکی تھی... سونا کے دادا ابھی حیات تھے جبکه دادی بھی وفات پا چکی تھیں... عبدالهادی کا تعلق جاگیردار گھرانے سے تھا... جن کی جدی پشتی جاگیریں تھیں... وه ایک گاؤں سے تعلق رکھتے تھے لیکن پھر عبدالھادی تعلیم کے سلسلے میں شهر آۓ اور وهیں انهیں سونا کی ماما پسند آئیں... مخالفت کے باوجود دونوں نے شادی کر لی جس کی پاداش میں انهیں گھر سے نکالا گیا اور جائیداد سے بھی عاق کر دئیے گۓ... سونا کے دادا جی کا شمارملک کے نامور لوگوں میں هوتا تھا لهذا عبدالهادی کو ان کے بارے میں جاننے میں کبھی کوئ مشکل نه هوئ... وه ان سے دور ضرور تھے لیکن کبھی ان سے بے خبر نه رهے تھے... سونا کے سامنے اس کے بابا اکثر اس کی ماما کی باتیں کرتے...اپنے بچپن کے قصے سناتے ... اپنی شرارتیں بتاتے اور یوں بولتے بولتے کبھی ان کی آنکھیں بھر آتیں... ایسے میں سونا هی تھی جو ان کے آنسو پونچھتی..... جب کبھی اسے ماں کی کمی محسوس هوتی تو وه بابا سے باتیں کرتی... دونوں پرانی باتیں یاد کرکے خوب ھنستے... اس دنیا میں وه دونوں هی ایک دوسرے کا سهاره تھے... نه اور کوئ رشته دار تھا نه جاننے والا... بس ایک بابا کے دوست تھے جو ان کے بزنس پارٹنر تھے اور ان کی بیٹی منزه سونا کی دوست تھی...دونوں ایک هی یونیورسٹی اور ایک هی ڈیپارٹمنٹ میں تھیں... تین دوستیں اور تھیں ان کی... عائزه, ماریه اور ساره... بس یهی سونا کی دنیا تھی... سونا کو الله نے خوبصورتی سے نوازا تھا... حسن کی فراوانی تھی اسکے پاس اور دل اس سے بھی کهیں زیاده خوبصورت... سادگی پسند تھی اور سادگی میں بھی قیامت ڈھاتی تھی که اس کی جانب اٹھتی نظر چند پل رکنے پر مجبور هو جاتی... لیکن اسے اپنے حسن کی نمائش کا کوئ شوق نهیں تھا... باقی اسٹوڈنٹس کی طرح ماڈرن ڈریسز نهیں پهنتی تھی... لمبے بال همیشه حجاب میں ڈھکے هوتے... حجاب کے هالے میں مقید اسکا چهرا چاند کی مانند لگتا... اس کے هر هر انداز سے وقار جھلکتا... اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی... ان پانچ لڑکیوں کا هی گروپ تھا...اور وه بس ان کے ساتھ فرینک تھی... یونیورسٹی میں بهت سے لڑکے لڑکیوں نے اس کی طرف بڑھنے اور اس سے دوستی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے لئے دیے انداز پر پیچھے هٹ گۓ تھے...
صرف حسن هی نهیں ذهانت میں بھی سب سے آگے تھی... همیشه اعلی گریڈز سے پاس هوتی رهی... غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی نمایاں هوتی... ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کی من پسند لڑکی تھی... جس سے بات کر لیتی وه اپنے لئے اعزاز سمجھتا...هر خوبی موجود تھی اس لڑکی میں... وه محبت کے قابل تھی... صرف محبتیں سمیٹنے کو پیدا هوئ تھی.. هر جگه سے محبت ملتی اسے... پھر بھی غرور نهیں تھا اس میں... اس کے هر انداز میں عاجزی هوتی... سب اس سے مرعوب رهتے... اپنے خوابوں کی دنیا میں رهنے والی معصوم سی لڑکی تھی وه... جو اس بات سے بے خبر تھی که زندگی اس کے تمام خوابوں کو چکنا چور کر کے اس سے بهت کڑا امتحان لینے والی تھی...
اسکی گاڑی اسوقت بهت اسپیڈ سے سڑک پر جا رهی تھی... اتنی ریش ڈرائیونگ پهلے کبھی نهیں کی تھی اس نے... دو بار ایکسیڈنٹ هوتے هوتے بچا... لیکن وه اسپیڈ کم کرنے کی بجاۓ بڑھاتا هی جا رها تھا... اسکی گهری نیلی آنکھوں میں اسوقت خون اترا هوا تھا... معیز کی شادی میں وه بهت خوشی سے گیا تھا... معیز اسکے قریبی دوستوں میں سے تھا...کافی عرصے بعد دونوں ملے تھے ایک دوسرے سے اور معیز کے بے حد اصرار پر شاه کو اسکی شادی پر جانا هی پڑا... اسے بالکل اندازه نهیں تھا که وهاں یوں اچانک وه لڑکی اس کے سامنے آ جاۓ گی... وه لڑکی جس سے اس نے بےتحاشا, بے حد محبت کی تھی ... وه لڑکی جس سے اب وه بے تحاشا, بے حد نفرت کرتا تھا... اتنی نفرت که اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کو بھی کھلا دیتا تب بھی اسے سکون نه ملتا...اتنی نفرت که اسے اپنے هاتھوں سے شوٹ کر دیتا تب بھی بے دل برباد کو قرار نه آتا... اتنی نفرت جتنی کبھی دنیا میں کسی نے کسی سے نه کی هو گی... محبت کرنے کی بهت بڑی سزا ملی تھی اسے...اور اس لڑکی کی نفرت میں بھی وه خود کو هی اذیت دیتا تھا... کتنا عجیب تھا نه یه سب... اسے زندگی میں ایک هی لڑکی سے محبت هوئ اور اسی لڑکی سے نفرت بھی...اور وه نه اس محبت کو ختم کرنے په قادر تھا نه هی اس نفرت کو... وه اتنا بڑا بزنس مین , کروڑوں کا مالک, دنیا کی هر شے جس کے قدموں میں تھی... اسکا اپنا هی دل اس کے اختیار میں نه تھا..
مهندی کے فنکشن کو ادھورا چھوڑ کر وه وهاں سے نکل آیا تھا... ریش ڈروئیونگ کے بعد فارم هاؤس پهنچا... گاڑی کا دروازه کھول کر باهر نکلا اورتیزی سے کمرے کی جانب بڑھا... چال میں بدستور لڑکھڑاهٹ تھی...کمرے میں داخل هوتے هی دروازه بند کر لیا...سر کو دونوں هاتھوں سے تھام کر بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا...آنکھوں کو سختی سے میچ لیا... اور سر کو جھٹک کر پرانی یادوں جو جھٹکنے کی ناکام کوشش کی... وه یاریں جو اس کی روح پر ناسور بن کر ره گئ تھیں...
جن سے آج بھی ویسی هی ٹیسیں اٹھتی تھیں جیسے دو سال پهلے... اس نے آنکھیں کھولیں... نیلی آنکھوں میں سفیدی کی جگه سرخی چھانے لگی تھی... پتا نهیں غصه تھا, بے چینی یا ضبط...اس کا هاتھ بے ساخته اپنی گردن کی بائیں جانب جا ٹھرا... جھاں زخم کا نشان بنا تھا... زخم تو ٹھیک هو چکا تھا لیکن چار سال گزرنے کے باوجود وه نشان نهیں مٹ پایا تھا... بالکل اس کی یادوں کی طرح... اس کی محبت کی نشانیاں... جو صرف اذیت دیتی تھیں...
