Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08
Rate this Novel
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 01 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 02 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 03 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 04 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 06,07 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08 (Watching)Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 09 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 11,12 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 13 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 14 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 15 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 16 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 17,18 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 19 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 20 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 21 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 22 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 23,24 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 25 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Last Episode
Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 08
سونا کے ایگزامز ختم هو چکے تھے… وه اس بار بھی پر امید تھی که کالج میں ٹاپ کرے گی… اس وقت وه اپنے کمرے میں پیکنگ کر رهی تھی…تایا جی اور دادا جی کے بے حد اصرار پر اور عبدالهادی کے کهنے پر وه بالآخر ان کے ساتھ حویلی جانے کیلیے تیار هو گئ تھی… اسے حویلی جانے پر کوئ اعتراض نهیں تھا… بس ایک جھجھک سی تھی… اس سے پهلے کبھی یوں کسی رشته دار کے هاں نهیں گئ تھی… بھت ساده سی ذندگی گزاری تھی اس نے… نه جانے اس کے رشته دار کیسے تھے… ان کا مزاج کیسا تھا…ان کا رهن سهن , ان کے طور اطوار… اور نه جانے حویلی میں کون کون رهتا تھا… کتنے افراد تھے… کچھ بھی تو نه جانتی تھی وه ان کے بارے میں… یهی سوچیں ابھر رهی تھیں اس کے ذهن میں ابھی بھی… ساتھ هی ساتھ دل میں تجسس بھی تھا… حویلی دیکھنے کا… گاؤں کی ذندگی دیکھنے کا… اس سے پهلے اس نے کبھی گاؤں نهیں دیکھا تھا… شهر کی وهی بھاگ دوڑ والی ذندگی دیکھی…. گاؤں کی پر سکون ذندگی کے بارے میں سوچا ضرور تھا لیکن پهلی بار اسے گاؤں دیکھنے کا موقع مل رها تھا… وه اور عبدالهادی کچھ دن کیلیے جا رهے تھے گاؤں رهنے کیلیے… لھذا سونا اپنی اور عبدالهادی کی ضروری اشیاء کی پیکنگ کر رهی تھی..
•••••••••
گاڑی سبک رفتاری سے سڑک پر دوڑ رهی تھی … اور وه پرشوق نظروں سے اردگرد کے مناظر کو دیکھ رهی تھی… “تو یه هے بابا جانی آپ کا آبائ گاؤں…” وه پر جوش سی تھی… گاؤں کی هریالی اور تازه هوا… اف کیا کمال کا منظر تھا… جب سے گاڑی گاؤں کی حدود میں داخل هوئ تھی سونا کے چهرے پر بچوں کا سا اشتیاق تھا… وه چهک رهی تھی… اس کے چهرے اور آنکھوں سے خوشی جھلک رهی تھی… اور عبدالهادی اسے خوش دیکھ کر خوش هو رهے تھے… “بابا جانی…” سونا ھو مسلسل کھڑکی سے باهر دیکھ رهی تھی عبدالهادی کی جانب مڑی تو عبدالهادی بھی اس کی طرف متوجه هوۓ… “میں نے تو گاؤں کی ذندگی کے بارے میں جو کچھ سنا اور پڑھا یه گاؤں اس سے کافی چینج هے… آئ مین گاؤں کے نام سے هی میرے مائنڈ میں ایک ایسا امیج بن گیا تھس که گاؤں کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اور گندی هوتی هیں… وهاں جگه جگه گندگی کے ڈھیر هوتے هیں… لیکن یهاں تو ایسا کچھ بھی نهیں… پکی کشاده سڑکیں هیں جو صاف هیں… ابھی تک جو راهگیر دیکھے میں نے وه بھی صاف ستھرے هی تھے… هے نا…”
اس کی بات پر عبدالهادی مسکراۓ… “بیٹا جی … دور بدل.گیا هے … تو اس لحاظ سے گاؤں میں بھی تو تبدیلیاں آتی هیں نا… پهلے کبھی یه گاؤں بھی ایسا هوتا تھا… لیکن اب یهاں کے لوگوں میں بھی شعور آ چکا هے…اور رهی بات سڑکوں کی… تو کچھ عرصه پهلے هی یهاں کافی تعمیراتی کام هوا هے … گاؤں والوں نے اور آپ کے دادا جی نے مل کر کوششیں کر کےپکی سڑکیں بنوائ هیں… اس کے علاوه اور بھی بھت سی سهولیات لے کر آۓ هیں…” سونا شاید اور بھی کچھ کهتی لیکن اب گاڑی ایک بڑے سے آهنی گیٹ کے سامنے کھڑی تھی…
عبدالهادی نے گاڑی کے هارن پر هاتھ رکھا… چوکیدار نے باهر جھانکا اور پھر گیٹ کھول دیا گیا… گیٹ کھلتے هی سونا کی نظر سامنے قدیم و جدید طرز کی پرشکوه اور عالی شان عمارت پر پڑی… اور بے ساخته اس کے لبوں سے ستائش سے بھرپور لفظ “واؤ” نکلا…چهرے کی ایکسائٹمنٹ میں اضافه هوا تھا…
گاڑی گیٹ سے اندر داخل هوئ… عبدالهادی نے روش کے ایک جانب گاڑی روکی… پھر سونا اور عبدالهادی گاڑی سے باهر آۓ…سونا نے اطراف میں نظر دوڑا کر جائزه لیا… سامنے پکی اینٹوں سے بنی سرخ لمبی روش تھی… ھو کافی فاصلے پر جا کر ختم هو رهی تھی… اور اس کے اختتام پر حویلی کا اندرونی دروازه تھا… روش کے دونوں اطراف میں لان بنے تھے … سر سبز گھاس سے بھرے لان…. جسکی تراش خراش کی گئ تھی… حویلی کی بیرونی دیوار کے ساتھ ساتھ درخت تھے… اونچے سروقد گھنی چھاؤں والے درخت… روش کے بائیں جانب لان کے درمیان میں بڑا سا فواره نصب تھا… فوارے کے ساتھ لائیٹنگ کی گئ تھی…اور اردگرد بھت سے رنگ کے پھولوں کے پودے تھے جو نگاهوں کو تازگی بخش رهے تھے..
کچھ فاصلے پر درختوں کی چھاؤں میں ایک دوسرے سے برابر فاصلے پر سنگی بینچ رکھے تھے… دائیں طرف کے لان کو شاید کھیل کے لیے مختص کیا گیا تھا… سونا کے مزاج پر اچھا اثر پڑا تھا یهاں آ کر… بے شک حویلی کے لوگ اعلی ذوق کے مالک تھے… سونا نے حویلی کے اندرونی حصے کی جانب دیکھا… تین منزله حویلی… جو دیکھنے میں هی بھت اعلی لگ رهی تھی…تبھی حویلی کا اندرونی دروازه کھلا اور وهاں سے کچھ افراد باهر آۓ… سونا دور سے هی ان کی آنکھوں میں جھلکتی خوشی دیکھ سکتی تھی… سونا اور عبدالهادی چهروں پر مسکراهٹ لیے هوۓ اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گۓ.
وهاں کھڑے افراد میں تین نوجوان لڑکیاں تھیں… ایک بڑی عمر کی خاتون… اور ایک بزرگ جو وهیل چئیر پر تھے… سونا اور عبدالهادی نے قریب جا کر سب کو سلام کیا…
بابا نے سب کے ساتھ اس کا تعارف کروایا… سب سے پهلے اسے وهیل چئیر پر تشریف فرما بزرگ تک لے کر گۓ… “سونا… یه تمهارے دادا جی هیں…” سونا جھکی تھی … تو دادا جی نے اس کے سر پر هاتھ رکھا اور اس کی پیشانی چومی… سونا کی آنکھوں میں آنسو آۓ تھے… اتنا عرصه وه اپنے ان رشتوں سے دور رهی تھی… پھر اس کے بابا اسے لیے بڑی عمر کی خاتون کے پاس آ ٹھرے… “یه تمهاری تائ جی هیں… عبدالعزیز بھائ صاحب کی شریک حیات…” انهوں نے سونا کو گلے سے لگایا تھا… اسکے ماتھے پر بوسه دیا… اور پھر ایک هاتھ میں پکڑی میرون اونی شال اس کے کندھوں کے گرد محبت سے پھیلائ … “همارے هاں جب بھی کوئ رشته دار پهلی بار آتا هے تو اسے یوں هی چادر دی جاتی هے… دوسرے لفظوں میں اسے عزت دینا سمجھا جاتا هے… یه یهاں کی ایک رسم هے…” تائ جی شیریں لهجے میں اس سے مخاطب هوئ تھیں… سونا نے مسکرا کر سر کو خم دیا… پھر وه آگے بڑھی… “یه هیں عائشه… راشد کی بیوی… رشتے میں تمهاری بھابھی هیں… دو بچے بھی هیں ان کے… ایک بیٹا اور ایک بیٹی… وه شاید اندر هوں گے…” سونا اسے گلے ملی تھی اور گال سے گال ملایا.. “اور یه شائسته هے بھائ صاحب کی بڑی بیٹی اور یه چھوٹی نادیه… شائسته پڑھائ سے فارغ هو کر گھر میں هوتی هے… گھر داری سیکھ رهی هے… جبکه نادیه ابھی پڑھ رهی هے…” سونا باری باری دونوں سے ملی تھی… سونا کی طرح ان کے بھی هر هر انداز سے خوشی جھلک رهی تھی… تبھی اندر سے دو بچے بھاگتے هوۓ آۓ تھے…” لیں آ گۓ دونوں… آفت کی جڑ…” عبدالهادی هنسے تھے… تبھی دونوں بھاگتے هوۓ عبدالهادی کی ٹانگوں سے لپٹ گۓ… کافی مانوس لگ رهے تھے ان سے… “سونا یه هے طلحه اور یه فرح… راشد کے بچے هیں… بھت شرارتی هیں دونوں…” عبدالهادی مسکراۓ تھے… سونا نے سامنے کھڑے تقریبا 5 اور سات سال کے بچوں کو دیکھا… پھر انهیں اپنے پاس آنے کو کها… دونوں بچے جھجکتے هوۓ اس کے پاس آۓ تھے… سونا نے جھک کر دونوں سے هاتھ ملایا… پھر نرمی سے ان کے گال چھوۓ تو بچے شرماتے هوۓ اندر بھاگ گۓ… سب ان کی اس حرکت پر هنس دئیے…
“اس کے علاوه تین اور افراد هیں اس گھر کے…تمھارے تایا جی… جن سے تم مل هی چکی هو… اور دو ان کے بیٹے…” عبدالهادی نے سونا کے کندھوں کے گرد بازو پھیلایا… “بھابھی وه تینوں کهاں هیں…” وه سونا کی تائ جی سے مخاطب هوۓ تھے… “راشد اور اسکے بابا تو زمینوں کی طرف گۓ هیں… اچانک کچھ مسئله پیدا هو گیا تھا وهاں… جبکه چھوٹے کا تو آپ کو معلوم هی هے… وه یهاں کب ٹکتا هے… اسکا زیاده وقت شهر میں هی گزرتا هے…” زرمین بیگم مسکرائ تھیں… نرم سی مسکراهٹ… سونا نے بغور ان کی جانب دیکھا…ڈھلتی عمر کی خاتون تھیں وه… لائٹ پنک کلر کا کڑھائ شده نفیس سا سوٹ زیب تن کر رکھا تھا… ایک کندھے پر گرین کلر کی چادر ڈال رکھی تھی…وهی حلیه جو عموما چوهدرائن کا هوتا هے… رعب دار پرسنیلٹی… “ارے بھائ صاحب… یهیں کھڑے کھڑے هی سب باتیں کر لیں گے کیا… آئیے اندر تشریف لائیے…” وه مسکراتی هوئیں ایک سائیڈ پر هوئیں تھیں… سب اندر کی ھانب بڑھ گۓ…
______
“هاۓ بڈی… کیا هو رها هے…” سکندر فون پر جهکا تھا… اس کی آواز, اس کے هر هر انداز سے خوشی ظاهر هو رهی تھی… وه اپنی فیلنگز, اپنے احساسات اپنے بیسٹ فرینڈ سے شئیر کرنے کو بے چین تھا… تبھی ریحان کو فون ملایا تھا… “کچھ نهیں… هم بے چارے ڈاکٹرز کی قسمت میں اور هے هی کیا… بس مریض هی مریض هیں… دوشیزائیں تو تم جیسے بزنس مینز کے حصے میں آ جاتی هیں…” ریحان نے بے چارگی سے کهتے هوۓ ٹھنڈی آه بھری جبکه لهجے سے شرارت جھلک رهی تھی… “کمینے انسان… تم کبھی مت سدھرنا… هر وقت لڑکیوں کے بارے میں هی سوچتا رهتا هے…” سکندر نے اسے ڈپٹا جس پر اس کا قهقهه بڑا بے ساخته تھا… “میری چھوڑو… تم اپنی سناؤ جگر… بھت خوش اور پر جوش لگ رهے هو… کیا قارون کا کوئ خزانه هاتھ آ گیا…¿¿¿” ریحان ٹیبل سے اپنا موبائیل, گلاسز اور کیز اٹھا کر باهر کی جانب بڑھا… اراده گھر جانے کا تھا… “گیس کرو…” سکندر زیر لب مسکرایا… “آهاں… آج تو میرے یار کے مزاج کافی اچھے لگ رهے هیں… چلو اب پهیلیاں مت بجھواؤ… جلدی بتاؤ کیا بات هے..” ریحان نے پارکنگ میں پهنچ کر اپنی گاڑی کا دروازه کھولا…اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا… “بتاتا هوں.. بتاتا هوں… صبر کرو… پهلے یه بتاؤ که تم اس وقت کهاں هو… ¿¿¿” سکندر نے دیوار گیر الماری کا پٹ کھولا… اورهینگ کیےهوۓ مختلف سوٹ الٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگا… “میں اس وقت هاسپٹل سے باهر آیا هوں… پارکنگ میں هوں.. گھر کیلیے نکل رها هوں…” ریحان کانوں میں هینڈز فری لگا کر اب گاڑی ریورس کرنے لگا… “ایسا کرو… تم ابھی گر مت جاؤ… مون لائٹ ریسٹورنٹ پهنچو… میں بھی آ رها هوں وهاں… ساتھ ڈنر کرتے هیں…” سکندر نے بلیک تھری پیس سوٹ چنا اور اسے نکال کر بیڈ پر رکھا… ساتھ هی ریحان کو پروگرام بتایا… ریحان نے گردن جھکا کر اپنا حلیه دیکھا… وائٹ شرٹ پر هلکی هلکی سلوٹیں پڑی تھیں… “یار سارا دن هاسپٹل میں گزارنے کے بعد اب حلیه نگڑا هوا هے… پهلے بتاتے میں جلدی اٹھ جاتا… گھر جا کر فریش هونا چاهتا هوں…” اس نے بے چارگی سے کها… جانتا تھا که سکندر اس کی ایک نهیں سنے گا… “تم کونسا لڑکی پسند کرنے جا رهے هو وهاں…اور اگر حلیه ٹھیک بھی هوتا تب بھی کونسا تمهیں کسی لڑکی نے پسند کر لینا تھا… بهانے بازی مت کرو… چلو شاباش… گاڑی کا رخ ریسٹورنٹ کی جانب موڑو…” سکندر نے اس پر چوٹ کرتے هوۓ کها…تبھی ریحان برا مان گیا …”اب ایسا تو مت کهو…بھت سی لڑکیاں مرتی هیں تیرے بھائ پر بھی….وه الگ بات … میں هی کسی کو زیاده لفٹ نهیں کرواتا… اور نه ان چکروں میں پڑنا چاهتا هوں…” اس کی بات پر سکندر هنسا تھا… “اچھا بس… باقی باتیں بعد میں… ریسٹورنٹ پهنچو… میں بھی آ رها هوں…” اس نے بات ختم کرتے هوۓ کها … “اوکے باس… آپ کا حکم سر آنکھوں پر…” ریحان نے گھری سانس لی اور کال ڈسکنیکٹ کرتے هوۓ گاڑی کو ریسٹورنٹ کی جانب موڑا..
•••••
حویلی آنے سے پهلے سونا جس گومگو کیفیت کا شکار رهی تھی …وه ساری جھجھک, نۓ رشتوں سے ملنے کا عجیب سا خوف اور ڈر اب ختم هو گیا تھا… حویلی کے سبھی لوگ بهت اچھے تھے… جاگیر داروں کے بارے میں سونا نے جو جچھ سنا تھا که وه بھت سخت طبیعت کے مالک هوتے هیں… ان کے هاں پابندیاں بھت هوتی هیں خصوصا لڑکیوں پر … یهاں آ کر اس نے ایسا کچھ نهیں دیکھا تھا… سب کچھ اس کے برعکس تھا… یهاں سب لوگ بھت ملنسار, بھت محبت کرنے والے تھے… اور سونا کو تو خاص پروٹوکول دیا جا رها تھا… سونا رب کی شکرگزار تھی که اب تک وه جن رشتوں جو ترستی رهی تھی وه رشتے اس پاک ذات نے اچانک اس سے ملا دیے تھے… تائ جی بھت محبت کرنے والی خاتون تھیں… بھت نرمی سے بات کرتیں… بالکل ماں کی طرح… ٹھنڈی پرسکون چھایا… عائشه, شائسته اور نادیه کے ساتھ بھی اس کی دوستی هو گئ تھی… اور تو اور دونوں بچے فرح اور طلحه بھی سونا کے دیوانے هو گۓ تھے… دو هی دن میں وه سونا سے مانوس هو گۓ تھے که جیسے سونا همیشه سے یهیں تھی ان کے پاس… هر وقت اس کے آگے پیچھے رهتے… تایا جی کے بڑے بیٹے راشد بھائ بھی بھت اچھے طریقے سے ملے تھے اس سے… بڑے بھائ کی طرح اسے ساتھ لگایا تھا… اس کے سر پر هاتھ رکھا اور حال احوال دریافت کیا تھا…اتنا مان سمان دینے پر سونا کی پلکیں بھیگی تھیں… اگر اسکا کوئ بڑا بھائ هوتا تو شاید راشد بھائ جیسا هی هوتا… راشد نے اسے سونا کی بجاۓ گڑیا کهه کر بلانا شروع کر دیا… سونا کو بھت اچھا لگا… آخر اسکے بھائ نے اتنے پیار سے اسے یه نام دیا تھا… سب افراد بھت اچھے تھے… بھت مخلص… البته اس گھر کے چھوٹے بیٹے سے سونا کا ابھی تک سامنا نهیں هوا تھا… دو دن میں هی سونا اس گھر میں اس کی اهمیت اور اس کے مقام کو جان گئ تھی… اکثر گھر میں اسکا ذکر چھڑ جاتا…
“چھوٹے صاحب ایسے ہیں
چھوٹے صاحب ویسے ہیں
اور هر کوئ اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا… جو بھی اس کے بارے میں بات کرتا لهجے میں ایک خاص عزت و احترام کا جذبه جھلکتا… اب تک جس کے بھی منه سےسونا نے اس کا ذکر سنا چھوٹے کے نام سے هی سنا… شاید اسکا نک نیم رکھا گیا تھا چھوٹا… اب اسکا اصل نام کیا تھا الله هی جانے… سونا نے بھی کسے سے پوچھنا گوارا نهیں کیا… اے زیاده دلچسپی محسوس نهیں هوئ تھی اس کے بارے میں… ٹھیک هے… جب آئیں گے تو مل لوں گی ان سے بھی… دیکھ لوں گی … ایسی بھی کیا توپ چیز هیں یه چھوٹے صاحب… “اس نے سوچتے هوۓ کندھے اچکاۓ.
••••••
ریحان ٹیبل کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھا تھا… بار بار گھڑی پر نظر ڈال کر پھر دروازے کی جانب دیکھنے لگتا… ساتھ ساتھ سامنے رکھی کافی گھونٹ گھونٹ پی رها تھا… تبھی اس کی نگاه سکندر پر پڑی… جو ابھی دروازے سے داخل هوا تھا اور پھر اردگرد نظر گھما کر ریحان کو تلاشنے لگا… بلیک تھری پیس سوٹ میں, بالوں کو جیل سے اچھے سے سیٹ کیے کلائ میں قیمتی گھڑی پهنے, ایک هاتھی میں موبائیل اور کیز پکڑے وه چمکتے چھرے کے ساتھ ریحان کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھا… چهره خوشی سے تمتما رها تھا جبکہ هونٹوں پر خوبصورت سی مسکان سجی تھی… ریحان اٹھ کھڑا هوا…سکندر کے قریب آنے پر اس سے گلے ملا “ماشاءالله… الله نظر بد سے محفوظ رکھے میرے یار کو…” ریحان نے اس کے کندھے کو تھپکتے هوۓ کها…اور پھر اس سے الگ هوا… “بس الله تیری نظر سے بچا لے… باقی سب خیر هے…” سکندر نے شرارت سے کهتے هوۓ موبائیل اور کیز ٹیبل پر رکھیں… “کمینے… چوٹ کرنے سے باز مت آیا کر تو…” سکندر کی بات کا بدله لینے کو ریحان آگے بڑھا… جب سکندر نے دونوں هاتھ اٹھاۓ… “بس بس… دور ره… میرا ڈریس خراب هو جاۓ گا…” انداز میں ابھی بھی شرارت تھی… ریحان نے منه بسورا..”اچھا… تو اب دوست سے زیاده مابدولت کو ڈریسز عزیز هو گۓ هیں… بے وفا دوست…” دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے…”هاں تو… ڈریسز پر تو رقم خرچ هوتی هے… دوست تو مفت میں مل جاتے هیں… تو ظهر هے… ڈریسز هی عزیز هوں گے…” سکندر اسے تنگ کرنے اور چڑانے کے موڈ میں تھا… اور ریحان چڑ بھی گیا تھا اس کی باتوں پر… ” جاؤ مجھ سے بات مت کرو تم… میری تو کوئ قدر هی نهیں…” کهتے ساتھ هی اس نے ریحان کی طرف سے رخ موڑا تھا… ناراضگی کی اظهار کے طور پر… اس کے اس معصوم سے انداز پر سکندر هنسا…پھر اس کا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا… ریحان نے تیکھی نظروں سے اسکی طرف دیکھا… “اے میری روٹھی هوئ محبوبه… سوری میرے روٹھے هوۓ محبوب… مذاق کر رها تھا میں…تم اچھی طرح جانتے هو که تم کتنی اهمیت رکھتے هو میرے لیے…میری لائف میں کبھی کوئ تهاری جگه نهیں لے سکتا… سمجھے… اگر تمهاری قدر نه هوتی تو میں اپنی ذندگی کی سب سے نڑی خوشخبری سب سے پهلے تم سے شئیر کرنے کیلیے تمهیں یهاں کیوں بلاتا…” سکندر کے لهجے میں محبت تھی… اپنے جان سے عزیز دوست کیلیے… اور اسکی یهی بات تو ریحان کو پسند تھی… اپنی ذندگی میں… اپنے دوستوں اور رشتوں سے بھت مخلص تھا وه…ظاهری خوبصورتی تو تھی هی اسکے پاس لیکن اسکا دل اس سے کهیں زیاده خوبصورت تھا… ریحان کو فخر تھا اس کی دوستی پر… “اچھا چل… ڈرامت بند کر… اور بتا بھی دے اب… کب سے انتظار کروا رها هے… کونسی بات بتانی تھی…¿¿¿” ریحان نے ویٹر کو بلایا اور آرڈر نوٹ کروایا پھر سکندر کی طرف متوجه هوا… سکندر کے چهرے پر موجود خوشی کی وجه جاننے کو بے چین تھا وه… بے شک آج سے پهلے اس نے سکندر کو اتنا خوش کبھی نهیں دیکھا تھا…
“کین یو بلیو اٹ…¿¿¿ پریشے نے خود مجھے کال کی… ” سکندر کی آواز میں خوشی محسوس کی جا سکتی تھی… “پریشے…¿¿¿ کون پریشے…¿¿¿” ریحان الجھا… “ارے یار وهی ایکسیڈنٹ والی لڑکی…” سکندر نے اسے یاد دلایا…”اچھا اچھا…وه… تو میڈم کا نام پریشے هے… پریشے صاحبه… جس نے میرے دوست کو عشق کی انوکھی راهگزر پر ڈال دیا… نائس نیم…” ریحان نے چئیر کی بیک سے ٹیک لگائ…اور هاتھ باندھے پوری توجه سےسکندر کو دیکھنے لگا… سکندر کی آنکھوں میں اس وقت انوکھی سی چمک تھی… “هاں پریشے نام هے اسکا… اس نے خود مجھے کال کی… ملنے کو بلایا… اییڈ یو نو… اس نے میرے پرپوزل کیلیے هاں کر دی… میرے چارہ گر پرپوزل کو ایکسیپٹ کر لیا اس نے… مجھے ابھی تک اپنی خوش قسمتی پر یقین نهیں آ رها… میں سمجھ نهیں پا رها که اپنی خوشی, اپنی فیلنگز کو کیسے شئیر کروں… آئم سو هیپی… ” پریشے کے نام اور اسکے ذکر سے هی سکندر کے لهجے میں اس کے لیے خودبخود احترام آ گیا تھا… بھت اونچا مقام حاصل کر گئ تھی وه لڑکی اس کے دل میں… “وه تو دکھ هی رها هے میرے شهزادے… که تجھ سے اپنی خوشی چھپائ نهیں جارهی … بھت بھت مبارک هو… الله تمهیں همیشه ایسے هی خوش رکھے… تم صرف نام کے هی سکندر نهیں هو… قسمت بھی سکندر والی لکھوا کر آۓ هو… جو چاهتے هو اسے پا بھی لیتے هو…” ریحان نے صدق دل سے اسے دعا دی تھی… “کوئ شک نهیں… اور میں رب کا جتنا شکر ادا کروں کم هے… ” سکندر کا لهجه عاجزی بھرا تھا… ریحان نے اس کی طرف دیکھا اور پھر نظر جھکا لی… مباده سکندر کی خوشیوں کو کهیں اس کی هی نظر نه لگ جاۓ… تبھی ویٹر نے آ کر کھانا سرو کیا تو دونوں کھانے کی طرف متوجه هو گۓ.
••••••
گاؤں میں رات جلدی اترتی تھی… اور لوگ جلدی کھانا کھا کر سو جاتے تھے… حویلی کے سبھی لوگ بھی اس وقت اپنے اپنے کمروں میں گهری نیند میں تھے… جبکه سونا رات 1 یا 2 بجے سوتی تھی… اسی وجه سے یهاں آ کر بھی اس کی عادت نهیں بدلی تھی… سب سو چکے هوتے اور وه تنها اپنے ساتھ وقت بتاتی… اپنے بارے میں… اپنی ذندگی کے بارے میں, اپنے خوابوں کے بارے میں نه جانے کیا کچھ سوچتی رهتی… اب بھی هر طرف گهرا اندھیرا چھایا تھا… رات 12 بجے کے قریب کا وقت تھا لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی… وه اپنے روم کی کھڑکی میں سامنے نظر آتے مکمل چاند پر نگاہ جماۓ کھڑی تھی… ذهن مختلف سوچوں میں گھرا تھا… چاند کو دیکھتے هوۓ اچانک کسی کی نیلی آنکھیں تصور میں ابھری تھیں… جیسے چاند بھت حسین تھا دل چاهتا که هاتھ بڑھا کر اسے چھو لیں… لیکن پکڑ سے بھت دور … ویسے هی وه نیلی آنکھیں بھی تو کتنی حسین تھیں نا… کئ بار خوابوں میں اس نے اپنے هاتھوں سے ان نیلی آنکھوں کو چھوا تھا…
لیکن حقیقت میں وهی نیلی آنکھیں بھت دور تھیں… اس کی دسترس سے بھت دور… نه جانے کون تھا وه اجنبی … نیلی آنکھوں والا … کیاں رهتا تھا … کیا کرتا تھا… لیکن یه سچ تھا که وه اسے دیکھ کر اپنا دل هار بیٹھی تھی… جانتی تھی وه بھی چاند کی طرح هے… اس سے کوسوں دور… جسے پانے کی چاهت تو کی جا سکتی هے… لیکن یه چاهت صرف ایک حسرت هی بن کر ره جاۓ گی… تبھی اس نے اپنے دل کو بار بار اس شخص کو سوچنے په ڈپٹا تھا… وه ایسے خواب سجانا نهیں چاهتی تھی جن کی کوئ تعبیر هی نه هو… کیونکه جب خواب ٹوٹتے هیں تو ان کی کرچیاں آنکھوں کو لهو لهان کر دیتی هیں… وه اس راه پر چلنا نهیں چاهتی تھی جو کانٹوں بھری تھی… لا حاصل کی راه… لیکن اس کا دل بار بار اسے مجبور کرتا اس اجنبی کو یاد کرنے کو… اور اس معاملے میں وه خود کو بے بس پاتی تھی… اسکا دل مچلتا تھا پھر سے اسے ایک نظر دیکھنے کو لیکن شادی میں تو وه اتفاقیه ملا تھا… اور اتفاق روز روز تھوڑی هوتے هیں… وه اپنی بے ترتیب سی سوچوں میں الجھی تھی جب اس کی نظر سامنے نظر آتے لان میں پڑی… لان میں پڑے بینچ پر کوئ مردانه وجود تھا… اسے حیرت هوئ… اس وقت تک تو سبھی سو چکے هوتے تھے … پھر یه کون هے بھلا… اندھیرے اور فاصلےکے باعث سونا اسکا چهره دیکھنے سے قاصر تھی… لیکن اتنا ضرور جان گئ تھی که وہ جو کوئ بھی تھا سگریٹ په سگریٹ پھونک رها تھا… انداز میں بے چینی اور اضطراب تھا… وه الجھی… جهاں تک اسے پتا تھا راشد بھائ اور تایا جان دونوں هی سگریٹ نهیں پیتے تھے… پھر یه کون هو سکتا هے بھلا… وه حیران تھی… تبھی شاید اسکی نظروں کی تپش محسوس کرتے هوۓ اس وجود نے تھوڑا سا چهره موڑ کر اوپر دیکھا تھا کھڑکی کی جانب… چونکه سونا کے کمرے کی لائٹ آن تھی اس لیے روشنی میں کھڑکی میں کھڑی سونا اس کی نگاهوں میں آ گئ تھی… ایک نظر اس پر ڈال کر اس نے دوباره رخ موڑ لیا اور سر جھٹکا پھر اٹھ کر وهاں سے چلا گیا… .. سونا کی نظروں نے اس کا پیچھا کیا تھا…وه ابھی بھی اسکا چهره نه دیکھ پائ تھی… “نه جانے کون هے …” وه الجھتی هوئ کھڑکی سے هٹ گئ اور لائٹ آف کر کے سونے کیلیے لیٹ گئ…
